بریسٹ کینسرمتاثرہ خواتین کے لئے راحت بھری خبر

women-breast-cancer
لاس اینجلس: بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین کے لئے ایک راحت بھر ی خبر ہے۔ اب بریسٹ کینسر متاثرہ خواتین کی ابتدائی مرحلہ میں کیمو تھریپی کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
آل انگلینڈ جنرل میں شائع ایک تحقیق کے مطابق، امریکہ میں بڑے پیمانے پر بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین پر کئے گئے تجربہ کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ اس بیماری کے بار بارسامنے آجا نے کی وجہ سے کی جانے والی کیمو تھریپی کے عمل کو نذرانداز کیا جا سکتا ہے ۔ اس تحقیق کو ‘ٹیلر ایکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے ذریعہ اس کی اسپانسر کی کی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچارکے مطابق،اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں کینسر کے ماہر الیسن کورین نے کہا کہ وہ اس طرح کے نتائج کی لمبے وقت سے انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب علاج میں ردوبدل کرنے جا رہے ہیں اور اس طرح کی غیر یقینی صورتحال کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر رہے ہیں۔ اس طرح کاایک تحقیقی کام خطرے والے مریضوں پر پہلے بھی کیا گیا تھا، جس میں جینومک ٹیسٹ کے بعد میں کیمو تھریپی سینجات حاصل کرنے کی بات کی گئی تھی۔

حال ہی میں آنے والے نتائج کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بریسٹ کینسر سے متاثرہ ایک ہی طرح کی بیماریوں کی بنیاد پر70 فی فیصد خواتین کے دو گروپس بنائے گئے تھے۔ ان میں کچھ خواتین پہلے سے ہی کیمو تھریپی کو نذراندازکر رہی تھیں۔تب اس پر زیادہ گہرائی سے تحقیق نہیں ہوئی تھی لیکن اب وہ اعتماد کر سکتی ہیں۔ کینسر کی بیماری ہارمون سے پھیلتی ہے، جو نہ ہی لینف نوڈ کو بیماری سے متاثر کرتا ہے اور نہ ہی ایچ ای آر ۔2 پروٹین اس میں پایا جاتا ہے۔ پھر سرجری کے بعد مریض انڈوکرائن تھریپی بھی لے لیتا ہے۔ اس تموکس فین تھریپی میں کینسر کی بیماری سے پیدا ہونے والے وائرس کو روکنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
امریکی کینسر سوسائٹی کے چیف میڈیکل افسر اوٹیس برالی نے بھی اس تحقیق کی تعریف کی ہے۔ اس سے ہر سال امریکہ میں 85 ہزار اور دنیا میں لاکھوں خواتین کو کیمو تھریپی سے نجات ملے گی۔اس سلسلہ میں گزشتہ 12 برسوں میں ان دس ہزار خواتین پر تجربے کئے گئے جن کے بریسٹ کینسر کے آپریشنز ہو چکے تھے۔ ان نتائج کو امریکی سوسائٹی آف کینسر میں اتوارکے روز بھیج دیا گیا تھا۔
بریسٹ کینسر کے مریض عام طور پر ایک سوال پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بیماری جسم کے کسی دوسرے حصے میں تونہیں پھیل جائے گی؟ اس کے لئیمحققین کا کہنا ہے کہ اکثراس طرح کے مریضوں کی عمر کی لمبی ہوتی ہے۔ 50 سال تک خواتین کو اس سے الگ زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ان میں کیمو تھریپی کے اچھے نتائج آئے ہیں۔ کیمو تھریپی کے استعمال میں کمی کی وجہ لیمف ناڈ پر کینسر کا اثر نہیں ہونا ہے۔ اس سے 2013 ء میں 26.6 فی صد افراد پرکیمو تھریپی ہوتی تھی، وہ کم ہو کر 2015 میں 14.1 فیصد رہ گئی ہے۔مشیگین یونیورسٹی میں ایک محقق اسٹیفن کاٹز کہتے ہیں کہ کیمو تھریپی زہریلی ہے، یہ مریض کو توڑ دیتی ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *