ضمنی انتخابات کے نتائج کے مابعد نئے تیر کی تلاش میں بی جے پی

23 مئی کو کرناٹک کے نئے وزیر اعلیٰ کمار سوامی کی حلف برداری تقریب میں اپوزیشن لیڈروں کی بھیڑ دیکھ کر بی جے پی کی بد انتظامی سے ناراض جن لوگوں نے بھاری راحت کی سانس لی تھی ،وہ یقینی طور پر 31 مئی کو آئے چار لوک سبھا اور دس ودھان سبھا سیٹوں کے ضمنی انتخابات کا نتیجہ دیکھ کر کافی خوش ہوئے ہوں گے۔
مشکل میں بی جے پی
اس میںکوئی شک نہیںکہ ان انتخابی نتائج نے خاص طور سے کیرانہ، نور پور اور جوکی ہاٹ کے نتائج نے ’مودی مکت بھارت‘کے امکان کو روشن کردیا ہے۔ اس لیے کیرانہ لوک سبھا کی فاتح تبسم حسن کا یہ بیان کسی کو بھی فالتو نہیںلگا کہ کیرانہ میںبی جے پی دفن ہوگئی ہے۔ بی جے پی چار لوک سبھا میںایک اور دس ودھان سبھا سیٹوں میںمحض ایک سیٹ جیتنے میںکامیاب رہی۔ اگر اپوزیشن اپنے چھوٹے چھوٹے مفاد کو تیاگ کر اسی طرح منظم ہوکر لڑا تو بی جے پی کی جیت کا یہی تناسب 2019 میںبھی سامنے آسکتا ہے۔ اس کا اندازہ تمام لوگ لگا رہے ہوںگے، جو غلط بھی نہیںہے۔
بہر حال عام بی جے پی مخالف بھلے ہی 2019 میںمودی راج کے آسانی سے ختم ہونے کا تصور کریں لیکن اپوزیشن کے ذمہ دار لیڈروں کو اس جیت سے پوری طرح مطمئن نہیںہونا چاہیے۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو 2019میںغچّا کھا سکتے ہیں۔
وجہ، ابھی بھی بی جے پی کے ساتھ سادھو سنتوں، قلم کاروں،سیلیبریٹیوں، میڈیا اورسرمایہ داروں کی 90 فیصد سے زیادہ حمایت ہے۔ ابھی بھی اس کے پاس سنگھ جیسی دنیا کی وسیع اور ڈیڈیکیٹیڈ آرگنائزیشن ہے جو 2019 میںبی جے پی کی رخصتی کو دیکھتے ہوئے اور شدت کے ساتھ سرگرم ہوگی۔ یہی نہیں ا سکے ترکش میںابھی دو ایسے خاص تیر ہیں جو اپوزیشن کو چاروںخانے چت کرسکتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ان میںپہلا ہے رام مندر جو اسے اقتدار دلانے میںآج بھی پہلے کی طرح مؤثر ہے۔ یوپی جیسی فیصلہ کن ریاست میںیوگی کی تاج پوشی اسی کے استعمال کے لیے ہوئی تھی اور یوگی نئے سرے سے اس کے لیے خود کو تیار کریںگے۔ یہ بات اپوزیشن اپنے ذہن میںجتنی جلد بٹھالے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ لیکن بی جے پی کے ترکش میںابھی ایک ایسا مارک تیرہے جسے جھیلنے کے لیے اپوزیشن شاید تیار نہیںہوگا۔ لیکن اگروہ اسے بیکار نہیںکرپاتا ہے تو جن دلت، پچھڑوں اور اقلیتوں کی سوشل ایکوئیشن کے ذریعہ وہ مودی راج کے خاتمے کا حساب تیار کر رہا ہے، وہ گڑبڑا سکتاہے۔
اپوزیشن کی سوشل ایکوئیشن کو خراب کردینے والا وہ تیر ہے: اوبی سی ریزرویشن کا کلاسیفکیشن جو دلت ریزرویشن کے کلاسیفکیشن تک بھی پرسارت ہوسکتا ہے۔ بی جے پی کی امیدیں
چونکہ یہ نوٹیفکیشن 1993 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہوگا، اس لیے اس کے تحت کسی قانونی پچڑے میںپڑنے کی گنجائش بھی نہیںرہے گی۔ ہوسکتا ہے کہ اس نوٹیفکیشن سے او بی سی کی ان ذاتوں میںکچھ ناراضگی پھیلے جنھیں ابھی ریزرویشن کا فائدہ ان کی آبادی کے تناسب سے کہیںزیادہ مل رہا ہے۔ لیکن وہ باقی او بی سی ذاتیاں ضرور خوش ہوں گی جن کا حق مارا جاتا رہا ہے۔
ظاہر ہے کہ اس کا سیاسی فائدہ بی جے پی کو ملے گا اور اسے اپنا ووٹ فیصد 31 سے 50 فیصد کرنے میںآسانی ہوگی۔ او بی سی ریزرویشن میںکلاسیفکیشن کا اچھا خاصا اثر جن ریاستوںمیںدیکھنے کو مل سکتا ہے، ان میںاتر پردیش اور بہار اہم ہیں۔ ان دو ریاستوں میںلوک سبھا کی کل 120 سیٹیں ہیں۔ یہ دونوں ریاستیں ریزرویشن کے لحاظ سے بھی حساس ہیں۔ 2015 میںبہار ودھا ن سبھا کے الیکشن کے وقت ریزرویشن پر کچھ بیانوں نے بی جے پی کو نقصان پہنچایا تھا۔ ابھی بھی بی جے پی مخالف پارٹیاںکہتی رہتی ہیںکہ مودی سرکارریزرویشن ختم کرنا چاہتی ہے لیکن اگروہ ریزرویشن کا کلاسیفکیشن کردیتی ہے تو مخالف پارٹیوں کے من میںپچھڑے طبقوںکے من میںشک پیدا کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ان کے پاس اس سوال کا جواب بھی نہیںہوگا کہ انھوں نے اب تک یہ کام کیوں نہیں کیا؟
بی جے پی کے آئندہ اقدامات
بہرحال 31 مئی کو آئے ضمنی انتخاب کے نتائج سے مودی کی رخصتی طے سی دکھائی دے رہی ہے۔ مودی سرکار ریزرویشن کے کلاسیفکیشن کے ذریعہ بہوجنوں کے اتحاد کو تقسیم کرنے اور مودی کو سماجی انصاف کے نئے مسیحا کی شکل میںقائم کرنے کی سمت میںمضبوطی سے آگے بڑھے گی ہی۔ ایسا کرنے پر یقینی طور پر اپوزیشن کے لیے بی جے پی کی کاٹ مشکل ہوجائے گی، خاص طور سے یوپی اور بہار میں۔ جہاںکی سیاست ملک کی سمت طے کرتی ہے، مضبوط ہتھیار ذاتوں کا حساب ہے۔
ان انچلوںمیںدلت،پچھڑے اور اقلیتوں کی تعداد کی طاقت بی جے پی پر بھاری پڑے گی۔ لیکن ریزرویشن سے کم مستفید ذاتوں کی بی جے پی کے حق میںگول بندی سے اپوزیشن کا حساب گڑبڑا سکتا ہے۔ ایسے میںضروری ہے کہ ان ذاتوں کو اپنے پالے میںبنائے رکھنے کا ٹھوس ایجنڈا لے کر آگے بڑھے۔ اس کے لیے اپوزیشن کو دو کام کرنے پڑیںگے ۔پہلا، انھیںاس بات کو حقائق کے ساتھ ثابت کرنا پڑے گا کہ بی جے پی نے 24 جولائی 1991 کو نرسمہا راؤ کے ذریعہ لاگو نیو لبرل اقتصادی پالیسی کو ہتھیار بناکر ریزرویشن کو محض کاغذوں کی رونق بنا دیا ہے۔
اس لیے ریزرویشن کے کلاسیفکیشن سے انھیںکوئی فائدہ نہیں ہونے جارہا ہے۔ یہ حقیقت بتانے کے ساتھ وسرا جو سب سے اہم کام کرنا ہوگا، وہ ہے ہر جگہ ریزرویشن کا اعلان۔ اس کے تحت انھیں اپنے منشور میںیہ بات مضبوطی سے اٹھانی ہوگی کہ اقتدار میںآنے پرعدلیہ، ملٹری سمیت نجی اور سرکاری سیکٹر کی سبھی طرح کی نوکریوں، سپلائی ،ڈیلر شپ، ٹھیکوں، پارکنگ، ٹرانسپورٹ، فلم میڈیا وغیرہ پیسہ کمانے کے سبھی ذرائع میںریزوڈ کٹیگریز کو تعدادی تناسب میں ریزرویشن دلائیںگے۔
آج جبکہ تمام بیدار لوگوںکو پتہ چل چکا ہے کہ سرکاری نوکریاں دلانے والا ریزرویشن محض کاغذوں کی زینت بن چکی ہے۔ ایسے میںواحد ہر جگہ ریزرویشن ہی وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعہ اپوزیشن ریزرویشن سے کم مستفید ذاتوںکو اپنے پالے میںبنائے رکھ سکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ الیکشن کو پوری طرح سماجی انصاف پر مرکوز بھی کرسکتا ہے۔ اور سب کو پتہ ہے ، الیکشن جب سماجی انصاف پر مرکوز ہوتا ہے، بی جے پی کے سامنے ہار’ ورن‘ کرنے کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیںبچتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *