مندسور : سرکار بنی تو 10دنوں میں کسانوں کا قرض معاف کریں گے : راہل گاندھی 

rahul
مدھیہ پردیش کے مندسور میں کسانوں پر پولیس فائرنگ کی پہلی برسی کے موقع پرآج راہل گاندھی مندسورمیں ہیں۔اس دوران راہل گاندھی کسانوں کے بیچ ایک ریلی کوخطاب کیا۔ کانگریس نے اس ریلی کو کسان سمردھی ریلی کانام دیاہے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے نوجوانوں اورخواتین سے کہاکہ جب بھی کوئی پریشانی ہو، آپ کمل ناتھ جی اورسندھیاجی سے ملیں۔کہاکہ میں راہل گاندھی نے بی جے پی حکومت کوآڑے ہاتھوں لیا۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت بننے پر 10 دنوں کے اندار کسانوں کے قرض معاف کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ راہل گاندھی نے پولیس فائرنگ میں مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیااور متاثرین سے ملاقات کی۔
راہل گاندھی نے حملہ بولتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے کسانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ کسانوں سے جھوٹ بولا گیا ، مگر سب سے بڑا دھوکہ ملک کے نوجوانوں کے ساتھ کیا گیا۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ مودی جی نے کسی کو روزگار دیا ، آج جس طرف بھی دیکھیں مید ان چین سامان ملتا ہے۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ نریندر مودی ہوں یا شیوراج سنگھ چوہان ، وہ کسانوں کی بات نہیں سنتے ، میں آپ سے من کی بات نہیں کروں گا ، آپ کے من کی بات سنوں گا ، ہم آپ کے من کی سرکار بنائیں گے۔انہوں نے کہاکہ اب کانگریس پارٹی ایک ہوکر، ٹیم بن کر، سب کے سب مل کر الیکشن لڑرہی ہے ، اس کا احساس آپ کوہوگیاہوگا۔ میری ذمہ داری سب سے پہلے ہندوستان کے عوام ، نمبردوپرکانگریس کارکنان اورتیسرے نمبرکانگریس کے لیڈرہیں۔غورطلب ہے کہ ریاستی کانگریس کے صدر کمل ناتھ کے کمان سنبھالنے کے بعد راہل گاندھی کی مدھیہ پردیش میں یہ پہلی ریلی ہے۔ ریاست میں اس سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ کانگریس 2003 سے یعنی 15 برسوں سے اقتدار سے باہر ہے۔ کانگریس مسٹر کمل ناتھ کی قیادت میں اس بار انتخابی میدان میں سامنے آئی ہے جبکہ بی جے پی وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان کی قیادت میں اس بار پھر اسمبلی انتخاب میں پارٹی کا پرچم لہرانے میں کسی قسم کی کمی نہیں کر رہی ہے۔
بتایاجارہاہے کہ راہل گاندھی کی ریلی میں قانون وانتظام بنائے رکھنے کے پختہ بندوبست کئے گئے ہیں ۔قریب پچاس پولس افسران، سیکوریٹی اہلکاروں کی پانچ کمپنیاں، 600اضافی جوانوں کی تعیناتی ہے۔بہرحال ایک سال پہلے ریاست میں خاص طور سے مغربی حصہ میں کسانوں کی تحریک کے دوران پرتشدد افرادپر قابو پانے کے لئے پولیس نے فائرنگ کی تھی۔ جس میں 6 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ آج اس کی پہلی برسی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *