بندشوں سے نکلنے کا راستہ تلاش کررہا ہے قطر

قطر کے صحرا میں ایئر کنڈیشنڈ باڑے کے اندر موجود تمام سہولیات سے لیس خودکار پلیٹ فارم پر گائیں کھڑی ہوتی ہیں تاکہ اس کے تھنوں کے ساتھ دودھ دوہنے والی مشین کو لگایا جا سکے۔ایک سال قبل قطر کے پاس ڈیری نظام موجود نہیں تھا اور اسے سعودی عرب سے درآمد کیے جانے والے دودھ پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔لیکن اب ’بلادنا‘ نام کے فارم میں دس ہزار جانور موجود ہیں۔ ان میں زیادہ تر امریکہ کی اعلیٰ نسل کے جانور ہیں۔خلیج میں شروع ہونے والے بحران اور قطر کے پڑوسی عرب ممالک کی جانب سے پابندیوں کے آغاز کے ایک ماہ بعد لائی جانے والے گائیں قطر ایئر ویز کے ذریعے لائی گئیں۔
یقینا اتنے بڑے فارم کا اتنے کم وقت میں تیار کرلینا خود انحصاری کی جانب یہ قدم قطر کے لیے قومی فخر کا نشان بن گیاہے۔خیال رہے کہ گذشتہ سال 5 جون کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر سے تمام سفارتی، تجارتی اور سفری تعلقات ختم کر دیے تھے۔قطر پر دہشت گردی کی حمایت کرنے، خطے کو غیر مستحکم کرنے اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
قطر ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس نے مطالبات کی ایک طویل فہرست جس میں الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کو بند کرنا بھی شامل ہے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔اس کے بعد اس پر پابندیوں کا سلسلہ دراز کردیاگیا۔قطر نے سعودی عرب کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی سمندری حدود میں موجود گیس کے ذخائر کو اپنی ’تنہائی‘ دور کرنے کے لیے استعمال کیا اور اس بائیکاٹ کو اپنی سا لمیت کے خلاف چیلنج کے طور پر لیا۔قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا بنیادی مقصد خطے میں طاقت کی نمائش کرنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جو بھی ان ممالک سے اختلاف کرتا ہے تو وہ اس پر دہشت گردی کا الزام لگانا شروع کردیتے۔

 

 

 

 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سعودی عرب اور قطر کے مابین اس دشمنی کا سرا کہاں ہے؟ قطر الزام لگاتا ہے کہ یہ بحران اس کی سرکاری نیوز ایجنسی پر سائبر حملے کے بعد گذشتہ سال شروع ہوا جب حکمران امیر منصوب کا ایک بیان شائع کیا گیا۔ان کے حوالے سے حزب اللہ کے لیے ہمدردری کے ساتھ ساتھ یہ دعویٰ بھی شائع کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ زیادہ عرصے تک صدر نہیں رہیں گے۔لیکن یہ تو سرسری سی بات ہے ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بے یقینی کی جڑیں کافی پرانی ہیں۔’یہ وہ مسئلہ ہے جسے 20 سال تک بوتل میں بند رکھا گیا لیکن گذشتہ سال وہ باہر آ ہی گیا۔دراصل قطری امیر کے والد اپنے دور اقتدار میں سعودی شاہی افراد کے خلاف منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں اور تب سے ہی دونوں حکمرانوںمیں اندرونی طور پر ایک خلش کا ماحول بنا ہوا تھا جو اب دھیرے دھیرے کھل کر باہر آرہا ہے۔
بہر کیف اس وقت تو قطر زمینی بندش سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔البتہ قطر نے طے شدہ منصوبے سے قبل ہی خلیجی ساحل پر سات ارب ڈالر کی لاگت سے نئی بندرگاہ کھول دی ہے جس کا مقصد اپنی معیشت کو پڑوسیوں کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
اس بندرگاہ کا استعمال اب 2022 فٹبال ورلڈ کپ کے اسٹیڈیم کی تعمیر کے لیے عمارتی مواد درآمد کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، تاکہ تعمیراتی کام جاری رہے۔تاہم قطر اس طرح سے ایران کے قریب کر دیا گیا ہے۔ ایران کے ساتھ اس کی ساحلی سرحدیں ملتی ہیں اور وہیں اس کے سب سے بڑے گیس کے ذخائر بھی ہیں۔ قطری طیاروں کا انحصار اب ایرانی فضائی حدود پر ہے۔
قطر کے شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کا کہنا ہے کہ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے۔ ہمیں ہر حال میں اس کے ساتھ تعاون اور بات چیت رکھنی ہے۔ ہم خطے میں ان سے پالیسیوں پر اختلاف رکھتے ہیں لیکن مقابلہ کرنا یا آمنے سامنے آنے سے مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔دوسری طرف امریکہ جس نے آغاز میں اس تنازع پر سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کی حمایت کی تھی لیکن حال ہی میں اس نے بھی عرب خلیجی ممالک کے درمیان اتحاد پر زور دیا ہے کیونکہ وہ ایران پر نئی پابندیاں لگانے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔بہر کیف سعودی عرب جوں جوں قطر پر پابندی سخت کرنے کی تدبیر کرتا ہے ،قطر اپنے لئے ایک نیا راستہ تلاش کرلیتا ہے اور اس طرح سے سعودی عرب اب تک قطر کو گھیرنے میں ناکام ہوتا رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *