پی ایم مودی اپنے وعدوں میں ناکام، اصل ہدف میں کامیاب

اچھے دن لانے اور ہر ایک کے کھاتے میں سو دن کے اندر 15 لاکھ روپے جمع کرانے اور ہر سال نوجوانوںکو دو کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے وزیر اعظم نریندر مودی کی مدت کار کے چار سال پوری طرح بیکار رہے ہیں۔ وہیںانسانی ترقی اور خوشحالی کے معاملے میںہندوستان کو نچلے پائیدان پر پہنچانے کی وجہ سے انھوں نے 2019 میںاپنی رخصتی کی زمین بھی تیار کر لی ہے۔ اس بنیاد پر ان کا تجزیہ کرتے ہوئے زیادہ تر لوگ انھیں ناکام قرار دے سکتے ہیں۔ لیکن مودی کا اصل ہدف یہ تھا بھی نہیں۔ اصل ہدف تھا سنگھ کا خفیہ ایجنڈا پورا کرنا، جس میں وہ امید سے کہیںزیادہ کامیاب رہے۔ یہاں تک کہ سوئم سیوی اٹل بہاری واجپئی کو بھی اس معاملے میںکافی پیچھے چھوڑ دیے ہیں۔اسے سمجھنے کے لیے پہلے سنگھ کا خفیہ ایجنڈا جان لینا ہوگا۔
اصل ہدف
اکثر سنگھ مخالف شور مچاتے رہے ہیں کہ سنگھ اپنا خفیہ ایجنڈا پورا کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ لیکن وہ محض اشاروںکی بنیاد پر لوگوںمیں جو تاثر تیار ہوا ہے، وہ یہ کہ بابری مسجد کے انہدام پر رام مندر کی تعمیر، ہندوستان کو ہندو راشٹر کا اعلان کرنا اور کشمیر میںسیکشن 370 کا خاتمہ ہی اس کا خفیہ ایجنڈا ہے لیکن اگر یہی اس کا خفیہ ایجنڈا ہے تو سنگھ وقت کے مطابق خود ہی اس کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ ایسے میںکیسے مان لیا جائے کہ یہی اس کا خفیہ ایجنڈا ہے ۔ لیکن سنگھ کا تو سچ مچ خفیہ ایجنڈا ہے اور اسے تبھی جانا جاسکتا ہے جب ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس کا سروکار مختلف ہندوستانی کمیونٹی کے کن لوگوں سے ہیں۔اور جہاں تک سروکار کا سوال ہے یہ جگ ظاہر ہے اور اس کا ہدف برہمنوں کی قیادت میںبرہمن، چھتریہ اور ویشیوں پر مشتمل اس اعلیٰ ذات کے سماج (سورن)کے مفادات کی حفاظت کرنا ہے، جس کا ہندو دھرم کے اہم کاسٹ سسٹم کی اکانومکس کے ’سوجنیے‘ سے صدیوں سے سور س آف پاور (اقتصادی-سیاسی -تعلیمی، مذہبی – ثقافت وغیرہ ) پر عام طور پر 90 فیصد قبضہ رہا ہے۔ بہرحال ہندوستانی سماج کے جن پیدائشی استحقاقی طبقوں کی پاور کے سورس پر عام طور سے اجارہ داری رہی، ان کے سامنے 7 اگست 1990 کو شائع منڈل کی رپورٹ نے ایک بڑا بحران کھڑا کردیا تھااور اس بحران کے شروع ہوتے ہی استحقاق والے طبقے کے دانشور، میڈیا، سادھو سنت، طلبہ اور ان کے سرپرست اپنی اپنی ذمہ داری قائم کر لیے۔ اپنی ذمہ داری قائم کرنے میں 1925 میںقائم سنگھ نے بھی دیر نہیں لگائی اور ستمبر 1990 سے سوئم سیوی اڈوانی کی قیادت میں وہ تمام طاقت سے سرگرم ہو اٹھے۔
منڈل کی سفارشوں نے ایسا نہیں کہ اعلیٰ طبقوں کو صرف سروس کے شعبے کے 27 فیصد مواقع سے محروم کردیا تھا۔ نوکریوں کے شعبے میں تو نقصان ہوا ہی، ’ویدک منیشیوں ‘ کے ذریعہ نفرت و تعصب کی جو دیوار کھڑی کی گئی تھی،اسے ’اتیکرم ‘ کر کے دلت- آدیواسی -پچھڑے اور ان سے کنورٹ طبقے برادری کے ساتھ بہوجن سماج میں تبدیل ہونے لگے۔ یہی نہیں ڈرامائی طور پر بہوجنوں کے ذات کے شعور کی سیاست کا عمل اتنا تیز ہوا کہ برہمن، چھتریہ، ویشیوں کی ذات کے نام پر الیکشن جیتنا مشکل ہوگیا۔ ایسے میں سالوںسے چپ چاپ کام کر رہے سنگھ کو دو اہداف کو دھیان میں رکھ کر سنگھ کو مستعد ہونا پڑا۔ یہ اہداف تھے اقتدار اور نوکریوں میںاعلیٰ ذات کے سماج کے ہوئے نقصان کی بھرپائی کرنا کہنا نہ ہوگا ان ہی اہداف کے لیے سنگھ منڈل کے خلا ف مذہب کو ہتھیار بناکر ایک سے زیادہ بار مرکزکی سیاست پر قبضہ کیا اور ہر بار اس کے ٹرینڈلوگ ان اہداف کو مکمل کرنے میں اپنی اپنی شراکت دی۔ اس معاملے میںسب سے مشکل چیلنج کا سامنا پہلے سوئم سیوی پی ایم اٹل بہاری واجپئی کو کرنا پڑا تھا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

سورن سماج قسمت والا
منڈل سے متاثرہ سورن سماج‘ قسمت والا تھا جو اسے جلد ہی نیو لبرلائزیشن کا ہتھیار مل گیاجسے 24 جولائی 1991 کو نرسمہا راؤ نے آسانی سے چن لیا۔ اس کے خلاف دتّوپنت ٹھینگڑی کی قیادت میں اٹل – اڈوانی-مودی وغیرہ نے یہ کہہ کر شور مچانا شروع کیا تھا کہ اب جو اقتصادی حالات بنیں یابنائے جارہے ہیں، اس کے نتیجے میں ملک اقتصادی طور غیر ممالک کا غلام بن جائے گا۔ پھر ہمیں جدو جہدا ٓزادی کی طرح غیر ملکیوںسے اقتصادی غلامی کے خلا ف ایک نئی لڑائی لڑنی پڑے گی۔ لیکن یہ جانتے ہوئے بھی کہ راؤ کی نیو لبرل پالیسیوںکے نتیجے میں ملک اقتصادی طور پر غیر ملکیوں کا غلام بن جائے گا۔ ملک کی باگ ڈور ہاتھ میں لیتے ہی واجپئی جی محض سنگھ کے خفیہ ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے نرسمہا راؤ کو بونابنانے کی سمت میں آگے بڑھے۔ ریزرویشن کے خاتمے کے مورچے پر سنگھ کے خفیہ ایجنڈے کو پورا کرنے کا ان میں اتنا تیز لالچ تھا کہ وزیر اعظم کی اپنی 13 روزہ پہلی پالی میں آناً فاناً میںاینران کو کاؤنٹر دے دی۔ اسی لالچ میں دو سال کا وقت رہتے ہوئے بھی انھوں نے29 14 اشیاء پر سے مقداری پابندی ہٹالی۔ لیکن سنگھ کے خفیہ ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے انھوںنے جو سب سے بڑا قدم اٹھایا، وہ تھا ڈس انویسٹمنٹ۔ جن پبلک ’اپکرموں‘ میںریزروڈ کٹیگری کو ریزرویشن ملتا ہے،انھیںبیچنے کے لیے انھوںنے باقاعدہ ایک آزاد وزارت ہی بنادی۔ جس کا چارج ارون شوری جیسے شاطر امبیڈکر مخالف کو سونپا۔ شوری نے بڑی بے رحمی سے فائدے اور سیکورٹی تک سے جڑے سرکاری اپکرموں کو تیزی سے ٹھکانے لگانے کا کام انجام دیا۔ یہ کام انھیں دو درجن پارٹیوں کی گھیرا بندی توڑکر انجام دینا پڑا تھا۔ اس کے لیے انھوں نے ممتا بنرجی، شرد یادو ، جارج فرنانڈیز، نتیش کمار وغیرہ کی اناپ شناپ شرطوں کو ماننا پڑا تھا۔ حالانکہ ایسا کرنے کے سلسلے میں انھوںنے ان کی سماجی انصاف کی تصویر بھی ختم کر دی تھی۔ لیکن 2014 میں بھاری جیت کے ساتھ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے نریندر مودی کے سامنے واجپئی جیسی کوئی مجبوری نہیںرہی۔ اس لیے ریزرویشن کے خاتمے اور استحقاق کو اور طاقتور بنا نے، جو کہ سنگھ کا اہم ہدف ہے ، کی سمت میںکانگریسی نرسمہا راؤ اور ڈاکٹر منموہن سنگھ اور سنگھی واجپئی نے جتنا کام بیس سالوں میںکیا، اتنا مودی نے چار سال میںکردکھایاہے۔
گزشتہ چار سالوں میںمودی کا سارا دھیان صرف اور صرف ریزرویشن کے خاتمے اور استحقاق و طاقتور بنانے پر رہا۔ اس کی بڑی قیمت راشٹر کو چکانی پڑی ہے۔ صرف سنگھ کے خفیہ ایجنڈے پر سارا دھیان لگانے کے نتیجے میں ان کی مدت کار میںملک لگاتار انسانی ترقی کے معاملے میں ہر سال نچلے پائیدان پر جانے کا ریکارڈ قائم کرتا گیا۔ ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ مودی راج میں خوشحالی کے معاملے میںسال در سال گراوٹ ہوئی ہے۔ 2017 میں11پائیدان نیچے پھسلتے ہوئے ہندوستان 133 ویں نمبر پر آگیا ہے اور اس معاملے میں ملک کمزور سمجھے جانے والے ملکوں پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال سے بہت پیچھے ہوگیا ہے۔ ایسا اس لیے ہوا ہے کہ مودی کی پالیسیاں صرف ’وشیش ادھیکار والے‘ کم لوگوںکو خوش حال بنانے پر مرکوز رہیں۔ اکثریتی لوگوں کی خوش حالی چھیننے کی حکمت عملی کے تحت ہی مودی راج میں لیبر قوانین کو لگاتار کمزور کرنے کے ساتھ ہی مزدوروں کی جگہ ٹھیکیداری کے رواج کو فروغ دے کر کمزور بہوجنوں کو استحصال کی دلدل میں پھنسانے کا کام زور شور سے ہوا۔ اکثریتی سماج کو ریزرویشن سے محروم کرنے کے لیے ہی ایئر انڈیا ، ریلوے اسٹیشنون اور ہاسپٹلوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں دینے کی شروعات ہوئی۔ ریزرویشن کے خاتمے کے منصوبے کے تحت ہی سیکورٹی سے جڑے اپکرموں میں 100فیصد ایف ڈی آئی کی منظوری دی گئی۔ ریزروڈ کمیونٹی کے لوگوں کو بدحال بنانے کے لیے 62 یونیورسٹیوں کو خود مختاری فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایسا بندوبست کردیا گیا ہے کہ ریزروڈ کیٹیگری ، خاص طور سے ایس سی ، ایس ٹی کے لوگوں کا یونیورسٹیوں میں اساتذہ کے طورپر تقرری پانا ایک خواب بن گیا ہے۔ کل ملاکر مودی راج میںریزرویشن کوکاغذوں کی شوبھا بنانے کا کام تقریباً پورا کرلیا ہے۔
آکسفام کی رپورٹ
اب جہاں تک استحقاقی طبقوں کو اور طاقتور بنانے کا سوال ہے ، مودی نے سنگھ کے اس خفیہ ایجنڈے کو پورا کرنے میںکتنی کامیابی حاصل کرلیے،اس کا ثبوت 22 جنوری 2018 کو شائع آکسفام کی رپورٹ ہے۔ آکسفام کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ٹاپ کی 1 فیصد آبادی یعنی ایک کروڑ 35 لاکھ لوگوں کے دھن دولت پر 73فیصد قبضہ ہوگیا ہے۔ اس میں مودی سرکار کے اشتراک کا پتہ اسی بات سے چلتا ہے کہ سن 2000 میں1 فیصد والوں کی دولت 37 فیصد تھی جو 2016 میںبڑ ھ کر 58.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ یعنی 16 سال میںان کی دولت میں 21 فیصد کا اضافہ ہوالیکن ان کی 2016کی 58.5 فیصد دولت صرف ایک سال کے وقفے میں 73فیصد ہوگئی یعنی صرف ایک سال میں15 فیصد کا اضافہ ہوگیا۔شایدہی دنیا میںکسی روایتی طبقے کی دولت میںایک سال میںاتنا اضافہ ہوا ہو۔ لیکن مودکی اعلیٰ ذات پرست پالیسیوںسے ہندوستان میںایسا چمتکار ہوگیا۔ ایک فیصد ٹاپ والوںسے آگے بڑھ کر اگر ٹاپ کی 10 فیصد آبادی کی دولت کا تجزیہ کیا جائے تو نظر آئے گا کہ ملک کی ٹاپ 10 فیصد آبادی ، جس میں 99.9 ’سرون ‘ ہوںگے، کا ملک کی دھن دولت پر 90فیصد سے زیادہ قبضہ ہوگیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں روایتی استحقاق والے فائدہ حاصل کرنیوالے طبقے کا ملک کے دھن دولت پر اتنا زیادہ قبضہ نہیںہے۔ لیکن مودی نے یہ کمال کردکھایا ہے۔ ایسے میںکہا جاسکتا ہے کہ نریندر مودی نے سنگھ خفیہ ایجنڈوںکو پورا کرنے میںبہت زیادہ کامیابی پالی ہے۔ مودی راج میں سرونوں کا دھن دولت اقتدار پر امید سے کہیںزیادہ دبدبہ قائم ہوا ہے۔ آج کی تاریخ میں جتنی ریاستوں میںبی جے پی کا اقتدار ہے، وہ آزادی ہندوستان کا ایک ریکارڈ ہے۔ ان ریاستوں میں’الپ جن ‘ آرام دہ طبقے کے لوگ سی ایم، گورنر، وزیر وغیرہ بن کر اقتدار کا بھر پور مزے لے رہے ہیں۔ایسے میںکیا یہ دعویٰ کرنا زیادتی ہوگا کہ ملک بھلے ہی پچھڑ گیا ہولیکن مودی سنگھ کاایجنڈا پورا کرنے میںامید سے زیادہ آگے نکل گئے ہیں۔
(مصنف بہوجن ڈائیورسٹی مشن کے صدر ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *