دارالعلوم دیوبندکے نئے فتویٰ سے چھڑسکتی ہے نئی بحث

darul-uloom
دیوبند:ایشیاکی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبندایک بارپھراپنے ایک فتوے کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔دراصل ،اس بار دارالعلوم دیوبند نے شیعہ اورسنیوں کولیکرایک فتوی جاری کیاگیاہے۔فتوے میں سنیوں کوشیعہ مسلمانوں کے یہاں روزہ افطاریاشادی کی تقریب میں جانے سے منع کیاہے۔
’’دراصل، محلہ بڑضیا الحق کے رہائشی سکندر علی نے دارالعلوم میں واقع فتوی محکمہ کے مفتی حضرات سے تحریری طور پر سوال پوچھاہے کہ شیعہ حضرات رمضان المبارک میں روزہ افطار کی دعوت کرتے ہیں، کیا سنی مسلمان کا اس میں شریک ہونا جائز ہے؟ ۔دوسرا سوال پوچھا ہے کہ شیعہ حضرات کے یہاں شادی وغیرہ کے موقع پر جانا اور وہاں کھانا کیسا ہے؟اس سوال کے جواب میں دارالعلوم کے مفتیوں کی تین رکنی بینچ نے کہا ہے کہ دعوت چاہے افطار کی ہو یا شادی بیاہ کی ہو، شیعوں کی دعوت میں سنیوں کوکھانے سے پرہیزکرناچاہئے‘‘
fatwa
بہرکیف دارالعلوم نے جاری فتوے میں کہاہے کہ سنی مسلک کے لوگوں کوشیعہ مسلک کے یہاں ہونے والی افطارپارٹی سمیت کسی بھی دعوت میں شریک ہونے سے پرہیزکرناچاہئے۔واضح ہوکہ فتوے کی کاپی ملنے کے بعد نمائندہ‘ چوتھی دنیا‘کوفون پرسکندر علی ولدشکیل احمدنے بتایاکہ یہ فتوی دارالعلوم دیوبندسے 5جون 2018کوجاری کیاگیاہے۔انہو ں نے کہاکہ چنددن پہلے میں نے تحریری طورپردارالعلوم دیوبندکے دارالافتاء سے سوال پوچھا تھا۔

غورطلب ہے کہ پہلے سے ہی شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اسلامی مسائل کو لے کر تنازع چلا آ رہا ہے۔ اب ایسے وقت میں دارالعلوم سے جاری فتوے میں صاف کہاگیاہے کہ دعوت چاہے افطارکی ہویاپھرشادی وغیرہ کی ہو ،سنی مسلمانوں کوشیعہ سماج کی دعوت میں کھانے پینے سے بچناچاہئے۔دارالعلوم سے آئے اس فتوے کے بعد شیعہ کمیونٹی میں دیوبندی علماء کے خلاف غصہ پایاجارہا ہے،جس کے بعد شیعہ اورسنی مسلمانوں کے بیچ آئے اس فتوے پر ایک نئی بحث چھڑنابھی لازمی ہے۔بہرحال دارالعلوم سے جاری ہوئے اس فتوے پر مفتیوں نے شریعت کا حوالہ دیتے ہوئے صاف کہا کہ سنی مسلمانوں کو ان کے یہاں جانے سے گریز کرنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *