ضرورت ہے ملک کو بچانے کی

کوئی نئی سرکار جب اقتدار میںآتی ہے تو اس کی پالیسیاں سب سے پہلے انتخابی منشور میںاور سرکار بننے کے بعد پارلیمنٹ میںدکھائی دیتی ہیں۔ اقتصادی پالیسی کا اعلان عام طور پر پہلے بجٹ میںہوتا ہے۔ ہم نے کئی سرکاروں کو آتے جاتے دیکھا ہے۔ کسی کی پالیسی دائیںبازو نظریہ پر مبنی ہوتی ہے، کسی کی دائیں بازوپر، تو کوئی بیچ کا راستہ اپناتی ہے۔ موجودہ مودی سرکار پہلی سرکار ہے،جسے یا تو اپنی پالیسیوں کا پتہ نہیں ہے یا جان بوجھ کر لوگوں کو گمراہ کرنے والے اعلانات کرتی ہے۔
موجودہ سرکار کئی پارٹیوںکا ’گٹھ بندھن‘ اتحاد ہے لیکن اسے لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہے۔بی جے پی ایک دائیں بازو پارٹی ہے۔ جن سنگھ نے سوتنتر پارٹی (جو ایک سرمایہ دار پارٹی تھی) کے ساتھ 1967میںگٹھ بندھن کیا تھا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی کی عام پالیسی سب کو معلوم ہے۔ 2014 میںجب پارٹی اقتدار میںآئی تو تاجروں کے بیچ میںجوش کا ماحول تھا۔ لیکن گزشتہ چار سالوں میںجو ہوا، وہ ابھی بھی راز بنا ہوا ہے۔ سرکار نے تجارت کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔
سرکار نے میک اِن انڈیا، اقتصادی ترقی، روزگار کی بڑی بڑی باتیںکی تھیں لیکن زمینی سطح پر کچھ بھی نہیںہوا۔ میک ان انڈیا کا مطلب ہے کہ نئی انڈسٹریز آئیںگی جو بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کریںگی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی فیکٹری نہیںلگی۔ اگر ایکسپورٹ کو بڑھاوا دینے کی بات کریں تو ایک بار پھر کچھ بھی نہیں ہوا ۔ہاں، امپورٹ کو بڑھاوا ضرور ملا ہے۔ چین اپنی مشینری ہمیں ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ ہمارا فارن ایکسچینج متاثر ہو رہا ہے۔ سیلفون اور دیگر الیکٹرانک آلات، جس میںکوئی اعلیٰ تکنیک کی ضرورت نہیںہوتی، وہ بھی ہم چین سے امپورٹ کرتے ہیں۔ مجھے شک ہے کہ سرکار کو ابھی بھی پتہ نہیںکہ ہو کیا رہا ہے؟ وزیر اعظم مودی سوچتے ہیںکہ ذاتی طور پر وہ مقبول ہو کر پارٹی سے بڑے بن جائیںگے۔ اندرا گاندھی نے یہ کام 1971 میںکیا تھا۔ 1967 کے الیکشن میںجب انھوںنے دیکھا کہ کانگریس کی مقبولیت کم ہورہی ہے تو انھوں نے 1969 میںپارٹی کو تقسیم کردیا۔ ان کی قیادت والا حصہ بائیںبازو نظریہ کا حامی ہوگیا۔ بینکوںکا نیشنلائزیشن ہوا، دیسی رجواڑوں سے ’پریوی پرس‘ واپس لے لیے گئے۔ 1971 میں انھوں نے غریبی ہٹاؤ کا نعرہ دیا اور بھاری اکثریت سے سرکار بنائی۔ اس وقت جن سنگھ لیڈروں، اڈوانی جی اور اٹل جی نے تنقید کی کہ انفرادیت جمہوریت کے لیے ٹھیک نہیںہے۔ ان کے حساب سے کانگریس بنام سوتنتر پارٹی بنام جن سنگھ ایک بات تھی لیکن اندرا گاندھی بنام سبھی کا مقابلہ ملک کے لیے ٹھیک نہیںتھا۔ بعدمیںوہ صحیح ثابت ہوئے کیونکہ دو تین سال بعد اندرا گاندھی نے ایمر جنسی لاگو کرکے سب کو جیل میں ڈال دیا۔ اس کے بعد اندرا گاندھی الیکشن ہار گئیں۔ حالانکہ وہ دوبارہ اقتدر میںآئیں لیکن یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ دراصل انفرادیت (انڈیویجول ازم) کچھ وقت کے لیے فتحیاب ہوسکتا ہے لیکن لمبے وقت کے لیے یہ کام نہیں کرسکتا۔ اس بات کو مودی یا ان کے حامی بھی مانیںگے کہ وہ اندرا گاندھی سے قدآور لیڈر تو ہرگز نہیںہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

ڈھائی سال تک سرکارٹھیک ٹھاک چلانے کے بعد وزیر اعظم نے اچانک نومبر 2016 میں نوٹ بندی کا اعلان کردیا۔ انھوں نے سوچا تھا کہ ملک کے نجات دہندہ بننے کے لیے یہ ایک ٹرمپ کارڈ ہے لیکن ایسا ہو نہیںسکا۔ نوٹ بندی کی وجہ سے بزنس کو کرارا جھٹکا لگا۔ معیشت نیچے کی طرف جانے لگی۔ تانا شاہی مزاج کے لوگ غلطی قبول نہیںکرتے ۔ محترمہ اندرا گاندھی میں بھی یہی ٹینڈنسی تھی۔ وہ اچھے خیالات سننے کو تیار نہیںہوتی تھیں۔ مودی جی بھی ایسے ہی ہیں۔ انھوں نے بغیر تیاری کے جلد بازی میںجی ایس ٹی لاگو کردی۔ نتیجتاً بزنس اور صنعت،جو پہلے سے ہی نوٹ بندی کی مار جھیل رہی تھیں، اور زیادہ متاثر ہو گئیں۔ نومبر2016 سے آج تک بزنس بری طرح متاثر ہے۔
اس سرکار نے دیوالیہ قانون منظور کیاجو اس کے حساب سے بینکوں اور بیمار صنعتوں کو بچانے کا واحد طریقہ ہے۔ یہ قانون امریکی قانون کی نقل ہے۔ امریکہ میںجب کوئی شخص دیوالیہ ڈکلیئر کرنے کے لیے درخواست دینے جاتا ہے تو اسے اپنی کمپنی کو سدھارنے کے لیے دو سال کا وقت دیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں کوئی کمپنی بیمار ہوئی نہیں کہ اسے نیلام کرنے کے لیے نوکر شاہ بے چین ہو جاتے ہیں۔ دیوالیہ قانون ایک سخت قانون ہے۔ یاتو اسے فوراً ختم کردینا چاہیے یا اس میں تبدیلی کی جانی چاہیے۔ یہ صحیح ہے کہ کسی بیمار کمپنی کو بحال کرنا ایک تھکانے والا عمل ہے لیکن کسی کا سر قلم کردینا حل نہیں ہے۔ یہ سرکار الہام کی سرکار ہے۔ الہام کا مطلب ہے آسمان سے کوئی پیغام اترنا۔ سرکار کا رویہ یہ ہے کہ ہم نوکر شاہی سے مشورہ نہیںکریںگے، صنعت سے جڑے لوگوںکی رائے نہیںلیںگے، سمجھ دار لوگوںکی نہیں سنیںگے۔ بس الہام ہو گیا، اس لیے مجھے اسے کرنا ہے۔ الہام ہوا نوٹ بندی، الہام ہوا جی ایس ٹی۔ اسے لاگو کردیا۔ الہام ہوا دیوالیہ قانون اور لاگو کردیا۔ کسی جمہوریت میں الہام کام نہیںکرسکتا۔
پیوش گوئل وزارت خزانہ کا عارضی چارج سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہوتا ہے کسی کو نہیںمعلوم۔ بہرحال وہ کہتے ہیںکہ ہر ایک بینک کی ایک سبسڈی ہوگی، جس میںبیڈ لون ٹرانسفر کیے جائیںگے۔ اس تجویز پر پہلے بھی ملک میں غور ہوچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کسی بینک کا بیڈ لون کسی دیگر بینک میںٹرانسفر کردینے سے مسئلے کا حل کیسے ہوگا؟ اگر کسی بینک کے لیجر میںکسی کمپنی کے این پی اے کی انٹری ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کمپنی اچھا نہیں کر رہی ہے۔ اس کا کوئی حل نکالنا چاہیے۔ بینکوںکے افسروں کو پتہ ہوتاہے کہ کون سا پروموٹر ٹھیک ہے، کون سا مینجمنٹ اچھا ہے، کون سا برا۔ سب کو ایک ہی ڈنڈے سے ہانکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہندوستان جیسی جمہوریت میںفٹ نہیںبیٹھتی ہے اور سب سب سے بڑھ کر یہ کہ بی جے پی کی فطرت میںتو بالکل فٹ نہیںبیٹھتی۔ اس معاملے میںسب سے زیادہ خسارہ بی جے پی کو ہی ہونے والا ہے۔
غریب کاروباری بی جے پی سرکار سے اتنا ڈرا ہوا ہے کہ کچھ نہیںبول سکتا۔ این سی ایل ٹی بیمار کمپنیوں کو چند کاروباری گھرانوں کے ہاتھوں بیچ رہی ہے۔ بھوشن اسٹیل کو ٹاٹا نے لے لیا، کچھ ادانی کے پاس جا رہا ہے، کچھ انل اگروال کے کھاتوںمیںجارہا ہے۔ ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ ملک میںدس کاروباری گھرانے ہوںگے اور وہ پورے ملک کو خرید لیںگے۔ سرکار عوام سے دکھاوا کر رہی ہے کہ وہ میک ان انڈیا کو بڑھاوا دے رہی ہے لیکن ہو کیا رہا ہے؟ کاروباریوںکو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی کمپنی پانچ سیٹھیا(سیٹھوں) کے ہاتھوں بیچ دے۔ دراصل یہ سیٹھیا سرکار بن گئی ہے۔ یہ جاگنے کاوقت ہے الیکشن سر پر ہے۔ اب بہت کچھ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کم سے کم لوگوں کو ڈرانا بند کیا جاسکتا ہے۔ پیوش گوئل کہتے ہیںکہ ہم ٹیکس ٹیررزم ختم کریںگے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹیکس ٹیررزم اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے بڑی تعداد میںممبئی کے کاروبارویوں کو نوٹس بھیجا ہے۔ گزشتہ 10 سالوںمیںاتنی تعداد میں نوٹس نہیں جاری کیے گئے تھے۔ یہ سرکار کے کہنے پر ہو رہا ہے اور یہ اس طرح کا ٹیررزم صرف امیر لوگوں تک محدود نہیں ہے۔ سرکار عام لوگوں کو بھی ڈرا رہی ہے۔ اگر اس طرح کی پالیسی جاری رہتی ہے تو ہندوستان کی ترقی کبھی نہیںہو سکے گی۔ فی الحال جو 7.7 فیصد شرح ترقی دکھائی جارہی ہے، وہ بیس ایئر میںبدلاؤ کے سبب ہوئی ہے۔ پرانے بیس ایئر کے حساب سے تو یہ 5 فیصد ہونی چاہیے اور پانچ فیصد ترقی ہمیںکہیں نہیں لے جائے گی۔ اس پالیسی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ مودی جی نے چار سال میں بہت کچھ کر دیا۔ اب کسی اور کو موقع دینا چاہیے، بھلے ہی وہ بی جے پی سے کیوںنہ ہو۔ ملک کو بچانے کی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *