ضرورت ہے اقلیتوں کے عدم تحفظ کو دور کرنے کی

ریاست اترپردیش کے کیرانہ، نورپور اور بھنڈارا-گونڈیا کے ساتھ ساتھ بہار میںبی جے پی کی شکست فاش میں متحد اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اقلیتوں و دیگر کمزور طبقات کا بھی اہم اور زبردست کردار ہے۔ نتائج کی جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں، ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی ان حالیہ ضمنی انتخابات میں اپنا جلوہ اس لیے نہیں دکھا پائی کہ جہاں تما م اپوزیشن نے اتحاد کا مظاہرہ کیا، وہیں اقلیتوں سمیت دیگر کمزور طبقات بشمول مسلمان، دلت، پسماندہ برادریاں اور جاٹ بھی بی جے پی کے خلاف ایک جٹ ہوگئے اور جم کر کام کیا۔
یہ بی جے پی کے لیے سوچنے کی بات ہے کہ ایک ایسے وقت جب افراط زر کم ہے اور گروتھ 7.7 فیصد اونچائی پر ہے، کمزور طبقات بالخصوص اقلیتیں اس کی ایک دم مخالف کیوںہوگئیں؟ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ حال کے دنوں میں مسلم اور عیسائی کمیونٹیوں سے منسلک اہم شخصیتوں سابق نائب صدر جمہوریہ ہندمحمد حامد انصاری،دہلی کے آرک بشپ اینل کاؤٹو اور ممبئی کے ’سپرکاپ‘ (پولیس افسر) جولیوریبیرو کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی شہرت یافتہ ناول نگار دانشور اروندھتی رے کا یہ کامن تاثر کہ یہ دونوںکمیونٹیاں عدم تحفظ کی شکار ہیں۔ انھیں ہر وقت یہ خوف ستاتا رہتا ہے کہ کہیں انھیں کچھ ہو نہ جائے۔
علاوہ ازیں سہارن پور کے علاقے میں اونچی ذات راجپوت اور دلتوں کے درمیان مستقل کشیدگی اور دیگر مقامات پر دلتوں کی بھی لنچنگ نیز دلتوں کے مشہور رہنما چندر شیکھر آزاد (راون) کے غیر مدت تک قید وبند میںرہنے نے انھیںبرسر اقتدار ایلائنس سے بدظن کردیا ہے۔
مذکورہ بالا کمیونٹیوں کی آبادی کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اگر ریاست اترپردیش کی 14.2 فیصد مسلم آبادی ، 16.6فیصد دلت آبادی اور 2.3 فیصد عیسائی آبادی کسی بھی پارٹی کی مخالف ہوجائے تو اس کی انتخابی جیت کے امکانات بہت ہی کم ہو جاتے ہیں۔یہاں 2014 میںتو بی جے پی نے اس لیے بازی مارلی کہ اس وقت نریندر مودی سے عام عوام کو اچھے دن اور روزگار کے تعلق سے ان کے کیے گئے وعدوںسے بہت سی توقعات وابستہ ہو گئی تھیں۔ ویسے دلیل کے طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگر موجودہ گروتھ شرح برقرار ہے تو امیدوں کو جاری رکھا جاسکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ محمد حامد انصاری ، عیسائی پادری اینل کاؤٹو اور اروندھتی رے کی اقلیتوں کے تعلق سے اٹھائی گئی عدم تحفظ کی باتوں کا جواب کیا ہوگا؟ نوکریاں بھی ملنی شروع ہوجائیںتو اس کے باوجود بھی ممبئی پولیس کے ہر دلعزیز اور مقبول چہرے جولیور یبیرو کے اٹھائے گئے اس سوال کا جواب کیا ہوگا کہ اقلیتیں اس ملک میںاپنے آپ کو دوسرے درجے کا شہری ماننے لگی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ محض نوکریاں ان لوگوںکو مطمئن نہیںکر سکتی ہیںجو اب ملک کے موجودہ ماحول میںخود کو سیکنڈ کلاس کا شہری ماننے لگے ہیں۔

 

 

 

 

اترپردیش کے کیرانہ میںجو ہوا، وہ سب کو معلوم ہے۔ وہاںمتحد اپوزیشن نے مل کر مسلمانوں، دلتوں، پسماندہ برادریوں اور جاٹوں کا ووٹ مانگا، پھر تو بی جے پی کے خلاف عمومی ماحول بن گیا اور اس کا ہندوتو کارڈ بے اثر ثابت ہوا۔ نور پور میں بھی یہی حال ہوا جہاں سماجوادی امیدوار کو دیگر اپوزیشن پارٹیوںکی حمایت ملی اور بھنڈارا-گونڈیا میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس نے بی جے پی کو اکھاڑ پھینکا۔
اس طرح بی جے پی کے خلاف یہ فارمولہ کہ ’متحد ہوجاؤ یا ختم ہوجاؤ‘ کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ یہ صحیح ہے کہ اگر اس پر ٹھیک سے عمل کیا جائے تو آئندہ تمام انتخابات میں بی جے پی مخالف قوتوں کو کامیابی سے ہم کنار ہونے سے کوئی روک نہیںسکتا۔ جیسا کہ بہار میں لالو یادو کی راشٹریہ جنتا دل کی تین اسمبلی سیٹوں ارریا، جہان آباد اور جوکی ہاٹ میںشاندار کامیابی کی شکل میںدیکھا گیا۔اگر بی جے پی مہاراشٹر کے پال گھر میںشیو سینا کے خلاف اپنی جیت کو درج کرابھی پائی تو ایسا اس لیے ہوا کہ شیو سینا کا اوور کانفی ڈینس اسے لے ڈوبا اور اس نے ’اکیلا چلو‘ کے نعرے پر بھروسہ کر لیا۔ اب تو شیو سینا لیڈر ادھو ٹھاکرے بھی بی جے پی کے خلاف اپوزیشن اتحاد کی باتیں کرنے لگے ہیں۔
حالیہ ضمنی انتخابات میںتو متحد اپوزیشن اور متحد اقلیتوں و دیگر کمزور طبقات نے اپنا کرشمہ دکھادیا مگر سوال یہ ہے کہ کامن نظریات اور اصول کی عدم موجودگی میںصرف بی جے پی یا نریندر مودی کا خوف انھیںکیا 2019 تک جوڑے رکھ سکے گا؟ اس لحاظ سے ابھی تو بہت وقت ہے۔ پورے ملک میںمختلف سمتوں میں منقسم اقلیتیں خصوصاً مسلمان کیا یہ نظیر آئندہ بھی قائم کر پائیں گے؟ اور وہ بھی ایسی حالت میںجب کرناٹک میںبھی بی جے پی نے ان کا 5 فیصد ووٹ حاصل کیا ہے اور ان کے مسلم ووٹ فیصد کی شرح پہلے سے بڑھتی جارہی ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *