جھارکھنڈ میں نکسلی وصول کر رہے ہیں 2ہزار کروڑ روپے لیوی

رانچی سے سٹے ہوئے ٹنڈوا کے باشندے رامیشور بھوئیاں نے جب اپنے پندرہ سالہ بیٹے سے یہ پوچھا کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے تو اس نے بغیر سوچے سمجھے جواب دیا کہ ہم ’اگر وادی‘ بننا چاہتے ہیں۔ ویسے’ اگروادی ‘ یا نکسلی کیا ہوتے ہیں،یہ اسے معلوم نہیں لیکن وہ اتناضرور جانتا ہے کہ جھارکھنڈکے نکسلی کروڑ پتی ہیں اور ان کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیںہے۔ اس نے اخبار میںبدنام زمانہ نکسلی کندن پاہن کے سرینڈر کے بارے میںپڑھا تھا کہ اسے ہیرو کی طرح پولیس نے سرینڈر کرایا تھا۔ ویسے اس بات سے انکار نہیںکیا جاسکتا ہے کہ جھارکھنڈ کے نکسلی اب کروڑ پتی ہی نہیں بلکہ ارب پتی بن رہے ہیں۔
نکسلی بن رہے ہیںدولت مند
مہا نگروں میںتو ان کی پراپرٹی ہے ہی، ان کے بچے بھی غیر ممالک میںپڑھ رہے ہیں۔ پولیس ہمیشہ نکسلیوں کے صفائے کی بات کرتی ہے لیکن اس کے برعکس ریاست میںنکسلیوں کی طاقت روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی آمدنی کے ذرائع بھی بڑ ھتے جارہے ہیں۔ بدنام زمانہ نکسلی کندن پاہن کو ہیرو کی طرح سرینڈر کرائے جانے پر ہائی کورٹ نے خود نوٹس لیتے ہوئے پولیس افسروںکو پھٹکار لگائی تھی اور یہ کہا تھا کہ اس طرح سے سرینڈر کرانے سے ریاست کے نوجوانوں میںبھی بھٹکاؤ آسکتا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ رگھوور داس اور پولیس ڈائریکٹر جنرل ڈی کے پانڈے نے دو سال پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جھارکھنڈ نکسل سے آزادریاست ہوگی لیکن نکسلیوںکے خاتمے کی مدت بڑھتی گئی۔ آج عالم یہ ہے کہ نکسلیوں کو تقریباً 600 کروڑ روپے کی کمائی ہو رہی ہے۔ نکسلی لیوی وصول کرتے ہیں۔ نکسلی کوئلے کے غیر قانونی کاروبار سمیت کوئلے کی لوڈنگ سے ایک مقررہ رقم لیوی کے طور پر وصول کرتے ہیں۔ نکسلی تنظیموں کی اجازت کے بغیر یہاں نہ تو کوئلے کا اٹھان ہوسکتا ہے اور نہ ہی لوڈنگ۔اقتصادی طور پر مضبوط ہورہی نکسلی تنظیمیں اپنی ناجائز کمائی سے جدید ترین ہتھیار خرید رہی ہیں۔ یہاں تک کہ نکسلیوںکے پاس مورٹار بھی ہے، جس کا استعمال نکسلی پولیس کی گھیرا بندی کے دوران کرتے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ آج چھوٹے چھوٹے مجرم بھی منظم ہوکر نکسلی تنظیم بنا رہے ہیں او رعلاقوںمیں غلبہ قائم کرنے کی کوشش میںلگے ہوئے ہیں۔ غلبہ کو لے کر نکسلی تنظیموںکے بیچ ہمیشہ تشدد کی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق نکسلی پوری ریاست سے تقریباً دو ہزار کروڑ لیوی وصول کرتے ہیں۔ نکسلیوںکی اس کمائی کی جانکاری ریاستی سرکار کے پاس بھی ہے اور کچھ نکسلیوں کے بارے میںپختہ جانکاری بھی محکمے نے جمع کی ہے۔ نکسلیوں کی پراپرٹی کی ضبطی کے لیے ریاستی سرکار نے جہاںسخت قانون بنایا ہے، وہیںاب نکسلیوں کی جانچ این آئی اے کرے گی۔ ریاستی سرکار نے این آئی ے کو ذمہ داری سونپی ہے اور جلد ہی ریاست میںاین آئی اے کا دفتر بھی کھل جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اگر کوئلانچل کو چھوڑ دیںتو رانچی ، چترا، ہزاری باغ،گڑھوا اور لاتیہار ضلع کی کانوںپرنکسلی تنظیموںنے اپنی پوری پکڑ بنالی ہے۔ چترا میں پولیس و انتظامیہ کی ناک کے نیچے سے کوئلہ اٹھانے والے ٹرکوں سے کمیٹی (ٹی پی سی) کے نکسلی نقل مکانی کے نام پر 13 ہزار ایکڑ میں پھیلے مگدھ اور آمرپالی پروجیکٹ بھی بنایا گیا۔ اس کے بعد وصولی کے لیے منظم طریقے سے نکسلیوں کا نیٹ ورک کام کرنے لگا۔ پورے علاقے میںنکسلیوں کا غلبہ قائم ہوگیا۔ آکرمن جی عرف رویندر، کملیش گنجھو اور امر سنگھ بھوکتا جیسے بڑے نکسلی لیڈر چھوٹے چھوٹے مجرموںکو تحفظ دیتے ہیں اور ان لوگوں سے لیوی کی وصولی کراتے ہیں۔ 2017-18میںٹی پی سی نکسلی تنظیم کے لوگوںنے سی سی ایل سے 81.8 لاکھ ٹن ڈسپیچ کیے جانے والے کوئلے کے ذریعہ تقریباً 599 کروڑ روپے وصول کیے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کوئلہ لوڈنگ ہوتی ہے نکسلیوں کے اشارے پر
سی آئی ڈی نے بھی ریاستی سرکار کو جو رپورٹ دی ہے، اس میںیہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ نکسلی تنظیمیں صرف کوئلہ کانوں سے لیوی کے طور پر ہزاروںکروڑ روپے کی وصولی کرکے اربوںکی پراپرٹی بنا رہی ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر جب لیوی کے وصولی ہورہی ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا بٹوارہ بھی ہوتا ہوگا۔ نکسلیوں کی لیوی کی رقم سیاستداں، پولیس اور صحافیوںکے بیچ بھی بٹتی ہے۔ سیاستدانوں اور پولیس کا تحفظ ملے بنا نکسلی تنظیمیں کھلے عام لیوی وصول نہیں کرسکتیں۔ نکسلی تنظیمیں الیکشن کے وقت ہر طرح سے سیاسی پارٹیوںکو فائدہ بھی پہنچاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لیوی کا دھندا ریاست میں خوب پھل پھول رہا ہے۔ نکسلی تنظیمیں لیوی وصول کرتی ہیں، اس کی بھی جانکاری ضروری ہے۔ چھ جگہوں پر ایک ٹرک سے 3130 روپے کی وصولی ہوتی ہے۔ اس میں 20 روپے این ایچ سے مائنس کے راستے میںداخل کرتے ہی 60 روپے مائنس ایریا میںداخل کرنے سے پہلے ،150 روپے کنڈی گیٹ پر دیتے ہیں۔ یہاںپر انھیںپچاس روپے کی رسید ملتی ہے۔1200روپے کمیٹی آفس میںمائنس ایریا میں11 سو روپے کمیٹی کے نام پر اور 600 روپے اَن لوڈنگ کے نام پر وصول کرتے ہیں۔ ہر ٹرک کے لیے ڈی او ہولڈر کمپنی 254 روپے فی ٹن کوئلے کے حساب سے کمیٹی کو دیتی ہے اور ایک ٹرک میںکم سے کم 20 ٹن کوئلہ ہوتا ہے یعنی 5080 روپے فی ٹرک۔ اس طرح ایک ٹرک سے 8210 روپے کی وصولی ہوتی ہے اور یہاں سے ہر روز 2000 ٹرک نکلتے ہیں۔ اس طرح نکسلی تنظیمیں روزانہ تقریباً پونے دو کروڑ روپے کی وصولی کرتی ہیں اور ایک سال میںتقریباً 600 کروڑ روپے کی وصولی نکسلی تنظیمیں کرتی ہیں۔
دراصل نکسلی تنظیم اس کا فائدہ بھی کئی اسباب سے اٹھارہے ہیں۔ آدھونک اسٹیل،ہنڈالکو،بجاج گروپ، بی کے جی، اے آر انٹر پرائزیز ، سوریہ لکشمی انٹر پرائزیز ، ماںانٹر پرائزیز، بھارت کول ٹریڈنگ،گن گوپال انٹر پرائزیز اور راہل کاربن سمیت کئی کمپنیاں مگدھ اور آمر پالی پروجیکٹ سے کوئلہ خریدتی ہیں۔ مگر لوڈنگ اور ڈھلائی کا کام یہ کمپنیاں نہیںکرتی ہیں۔ نکسلی تنظیم کے طے لوڈر اور ٹرانسپورٹر سے ہی کا م کرانا ہوتا ہے۔نکسلی ہی کمپنی کو لوڈنگ سلپ جاری کرتے ہیں۔ اس سے قبل ڈی او ہولڈر کمپنی 254 روپے فی ٹن کے حساب سے کمیٹی کو نقد پیسے دیتی ہے۔ تب کمیٹی لوڈنگ کی جانکاری دیتی ہے یہ بھی اسی پر منحصر ہے کہ کوئلہ لوڈ ہوگا کہ نہیں۔ ان کی حمایت کے بعد ہی پاس جاری کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ صاف ہوگا کہ کوئلہ لوڈنگ اور ٹرکوںکا نکلنانکسلیوںکے اشارے پر ہوتا ہے۔ نکسلی تنظیمیںاب دوسری جگہ کے کوئلے کانوںکا رخ کرنے لگی ہیں۔غلبہ قائم کرنے کو لے کر دوسری کوئلہ کانوںمیںتشدد کی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ نکسلی تنظیموں نے اب آسانی سے روپے کمانے کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔
نکسل مہم کے ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل آرکے ملک کا ماننا ہے کہ ٹی پی سی نکسلیوںکے خلاف لگاتار مہم چلا رہا ہے۔ 50 سے زیادہ لوگوںکو جیل بھیجا جاچکا ہے۔ 56 بینک کھاتوںکی جانچ ہورہی ہے جو نکسلیوںاور متعلقین سے متعلق ہیں۔کئی نکسلیوں کی پراپرٹی بھی ضبط کی گئی ہے۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ لیوی وصول کرنے کا کھیل کب بند ہوگا تو انھوںنے کہاکہ اب پہلے جیسی صورت حال نہیںہے۔ کھلے عام ہونے والی وصولی اب بند ہے، اس میںسے کئی فرار ہیں۔کچھ مہینوں میںچوری چھپے ہونے والی وصولی بھی بند ہوجائے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ جو لوگ لیوی وصولنے میںنکسلیوںکوتحفظ دیتے ہیں،ان کی بھی پہچان کرلی گئی ہے۔ان لوگوںکے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی۔
سرمایہ کاری کر رہے ہیں نکسلی
مرکزی وزار ت داخلہ کے افسروں نے بھی اقرار کیا ہے کہ جنگلوںمیںرہ کر سرکار کے خلاف مہم چلانیوالے نکسلی خاصے مالا مال ہیں ۔ وہ زمین، مکان، دکان وغیرہ میںبھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں چھاپوں کے دوران ان کے پاس سے بڑی تعداد میںنقدی بھی برآمد کی گئی ہے۔ نکسل لیڈروں کی اربوں روپے کی پراپرٹی بھی ضبط کی گئی ہے۔ پراپرٹی ضبطی میںانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے کئی افسر لگے ہوئے ہیں۔ نکسلی پردیومن شرما کے پاس سے 68لاکھ کی پراپرٹی ضبط کی گئی ہے۔اس کے پلاٹ اور مکان بھی سیل کردیے گئے ہیں۔سندیپ یادو کے 86 لاکھ کے ساتھ ہی دہلی میںواقع دوارکا میںایک فلیٹ بھی ضبط کیا گیا ہے۔ اسی طرح روہت یادو اور ستیہ نارائن یادو سے 25-25 لاکھ روپے نقد، کملیش گنجھو سے 36لاکھ نقد، امر سنگھ کا دو منزلہ مکان، سنتوش سے سات ایکڑ زمین اور سنتوش جھا سے کولکاتا کے دو فلیٹ ضبط کئے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق نکسلیوںکی کمر توڑنے کے لیے ان کے مالیاتی ذرائع پر بھی چوٹ کی جا رہی ہے۔
حال میںرانچی دورے پر آئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے یہ کہا تھا کہ جھارکھنڈ میںنکسلی مسئلہ جلد ہی ختم ہوجائے گا۔ اس کے لیے مرکزی سرکارہر طرح سے مدد کے لیے تیار ہے۔ انھوںنے کہا کہ نکسلی تشدد چھوڑیںتو ان سے بات کی جاسکتی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ رگھوور داس کا یہ دعویٰ ہے کہ نکسلواد ختم کرنے والی پہلی ریاست جھارکھنڈ ہوگی۔ریاستی سرکار نکسل متاثرہ علاقوںمیںترقی کو ترجیح دے رہی ہے۔ انتہائی پسماندہ ضلعوں پر فوکس کیا جارہا ہے۔عوام اور حکومت کے بیچ اعتماد بڑھا ہے۔
ایسا دیکھا جارہا ہے کہ پولیس کی نکسل مخالف مہم کے باوجود نکسلیوں کا حوصلہ بلند ہے۔مئی 2018 میںدس دنوںمیںنکسلیوںنے ایک درجن بڑے واقعات کو انجام دیا۔ سینٹرل فنڈنگ اور تعاون ملنے کے بعد بھی ریاستی سرکار پوری طرح سے ناکام ہے۔ ریاستی سرکار بھلے ہی بڑے بڑے دعوے کرے، مرکزی وزیر داخلہ سے اپنی پیٹھ تھپتھپالیں لیکن سچائی کچھ اور ہی ہے۔ ریاست کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہوگا،جہاںنکسلیوںکی دھمک نہیںہے۔اب دیکھنایہ ہے کہ ریاستی سرکار اپنے اعلانات پر کتنا عمل کرتی ہے اور جھارکھنڈ کو نکسل سے آزاد ریاست بنانے میںکب کامیاب ہوتی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *