آدھار سے سب سے زیادہ غیر محفوط اقلیتیں و دیگر کمزور طبقات

ابھی حال میں ایک معروف بین لاقوامی نیوز اور اوپنین ویب سائٹ اور بلاگ کے انڈیا ایڈیشن نے یہ انکشاف کرکے دنیا کو چونکا دیا ہے کہ ہندوستان میں آدھار نے اقلیتوںو دیگر طبقات کو مزید غیر محفوظ بنا دیاہے اور ا ن پر کبھی بھی کوئی ایسی آفت ٹوٹ پڑسکتی ہے جو ان کے وجود کو خطرے میںڈال دے۔
مذکورہ ویب سائٹ اور بلاگ کے مطابق حکومت آندھرا پردیش کے زیر اہتمام ایک ویب سائٹ کے سرکاری آن لائن ڈیش بورڈ کا استعمال انٹرنیٹ کنکشن سے لیس کوئی بھی شخص اس ریاست کے 13اضلاع میں 51 لاکھ 66 ہزار 698 خاندانوں کے گھروں کے ’مذہب ‘ یا ’ذات برادری ‘ کا پتہ لگانے کے لئے کرسکتا ہے۔
اس کمزور پہلو کا اندازہ سب سے پہلے ایک سیکورٹی ریسرچر سرینواس کوڈالی کو ہوا۔ مذکورہ بین الاقوامی ویب سائٹ اور بلاگ کے انڈیا ایڈیشن نے ڈیش بورڈ کے استعمال سے فوراً ہی ان گھروں کا طول بلد (لیٹی چوڈ) اور عرض بلد ( لانگی چوڈ ) معلوم کرلیا جن میں مسلم خاندان ،دلت خاندان ، ہندو خاندان اور زرتشی خاندان رہتے ہیں۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ پھر سے ڈاٹا بیس چیک کرنے پر یہ بات سامنے آئی کہ لسٹ میں اس دوران موجود خاندانوں میں اضافہ ہوگیا تھا جس کا مطلب صاف طور پر یہ تھا کہ ڈاٹا بیس کو مستقل اپڈیٹ کیا جارہا تھا اور پرائیویسی یا رازداری کے مضمرات ہر گھنٹے بڑھتے جارہے تھے۔
دراصل اس پورے عمل میں ڈیش بورڈ آدھار نمبروں کا استعمال یونیک آئیڈینٹی فائر یعنی منفرد شناخت کنندہ کے طور پر کرتاہے تاکہ کھلے طور پر مشتہر سرکاری سبسڈی پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں کے بارے میں تفصیلی معلومات جمع کی جاسکے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ سرکاری طور پر دستیاب اس ڈیش بورڈ سے کوئی شخص بھی جس کے پاس انٹرنیٹ کنکشن ہے، وہ مذہب اور ذات و برادری کی بنیاد پر کسی طبقہ کو سرچ اور جیو لوکیٹ کرسکتا ہے یعنی اس کا پتہ لگا سکتا ہے۔
آندھرا پردیش کے اس عجیب و غریب معاملے سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ ریاستی حکومتوں کے لئے آڈھار کی اصل اہمیت بایو میٹرک اتھینٹی کیشن یا تصدیق نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتاہے بلکہ خود آدھار نمبر ہے اور کسی شہری کی رازداری کو درپیش اصل خطرہ یو آئی ڈی اے آئی کے ڈاٹا بیس کی سیکورٹی نہیں ہے بلکہ انکم ٹیکس، پراپرٹی ریکارڈ، بینک کے قرضے،بینک اکائونٹس جیسے منافع والے ریکارڈ ز سمیت ہر ایک منفرد ڈاٹا بیس میں آدھار نمبروں کی لگاتار اور غیر محفوظ بیج کنی یا سیڈنگ ہے ۔ پرائیویسی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ آدھار سیڈنگ دراصل آدھار کو اس لائق بنا دیتا ہے کہ بڑے ، مفصل اور شہری کو سرچ کرنے والی ڈاٹا بیس کو تیار کیا جاسکے اور پھر وہ اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ کس طرح ہندوستان کے بڑے ڈاٹا گورننس انقلاب کو غیر محفوظ اور کمزور طبقات کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے ؟
کویتا سریواستو جنہوں نے پیپلز پونین فار سول لبریٹیز ( پی یو سی ایل ) کی قومی سکریٹری کے طور پر متعدد فرقہ وارانہ فسادات کی جانچ و پڑتال کی ہیں ، کہتی ہیں کہ اقلیتوں کا سرکاری، سرچیبل اور ڈیجیٹل پروفائل بنانا ان کے لئے زبردست خطرات پیدا کرتا ہے۔ ان کے خیال میں اس طرح کے ڈاٹا بیس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی شخص فسادیوں کو متاثرین کے گھروں کی چوہدی وہاٹس ایپ آسانی سے کرسکتا ہے۔

 

 

یہ مزید کہتی ہیں کہ ’’ ماضی میں فسادی کسی کو ٹارگٹ کرنے کا سیدھا طریقہ استعمال کرتے تھے جس کے سبب کچھ نہ کچھ متاثرین جائے وقوع سے بھاگنے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ مثال کے طور پر 1984 میں سکھ مخالف فسادات کے دوران متعدد سکھ خاندانوں نے بچنے کے لئے اپنے گھروں کے باہر لگے اپنے نام کے پلیٹس ہٹالئے تھے۔ 2002 کے گجرات فسادات کے وقت بھی مسلم گھروں کی پہچان کے لئے فسادی انتخابی فہرستوں کو لے کر مختلف جائے وقوع پر ہتھیار سے لیس ہوکر گئے تھے۔
ان مثالوںکے ساتھ کویتا سریواستو کا کہنا ہے کہ’’ آندھرا پردیش کی طرح کے مواقع کسی ڈیجیٹل، جیوٹیگڈ اور سرکاری ڈاٹا بیس جس سے مذہب اور ذات و برادری کا پتہ لگ سکے، کے لئے کسی بھی ممکنہ متاثرین کو ٹارگٹ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔لہٰذا اس طرح کے فرقہ وارانہ پولرائزڈ دور میں عوامی طور پر کسی ڈاٹا بیس کو کھولنا احمقانہ قدم ہے۔ علاوہ ازیں 1984 اور 2002 کی مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے حالات میں سرکاری انتظامیہ پر بھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے ‘‘۔
حکومت آندھرا پردیش کے ڈیش بورڈ کا جائزہ لینے پر ڈاٹا بیس کی فہرست میں شامل ہوئے لوگوں کے فون نمبر، بینک اکائونٹ نمبر اور آی آئی ایف ایس سی کوڈس بھی آسانی سے معلوم ہوگئے۔ اس پورے معاملے کو بے نقاب کرنے والے سیکورٹی آفیسر کو ڈالی کے مطابق اس ویب سائٹ نے تقریب اایک لاکھ لوگوں کے آدھار نمبر شائع کئے تھے جبکہ آدھار نمبروں کو کہیں شائع کرنا آدھار ایکٹ کے تحت جرم ہے۔ اس سلسلے میں کوڈالی کا واضح طور پر کہنا ہے کہ انہوں نے یونیورسل آئیڈنٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا، نیشنل کریٹیکل انفارمیشن انفراسٹرکچر پروٹیکشن سینٹر اور حکومت ہند کے سائبر رسپانس سیل سی ای آر ٹی ان (CERT-In) کو پہلے ہی خبردار کردیا تھا۔ کوڈالی نے انکشاف کیا کہ جیسے ہی انہوں نے متعلقہ ذمہ داروں کو اس تعلق سے لکھا تو انہوں نے آدھار نمبروں پر ماسک لگا کر اسے چھپا لیا۔ مگر تب بھی ویب سائٹ پر اس وقت 50لاکھ فون نمبر موجود رہ گئے۔ کوڈالی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’متعلقہ ذمہ داران ہر بار ڈاٹا کو اپڈیٹ کرتے وقت آدھار نمبروں کو ماسک لگانا بھول جاتے ہیں، اس طرح ویب سائٹ پر اب بھی دستیاب ڈاٹا اس طرح سے ایکسپوز ہوئے لوگوں کے بینک اکائونٹوں کو صاف کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں‘‘۔
ویسے آدھار کی نگرانی کرنے والی ایجنسی یو آئی ڈی اے آئی کا دعویٰ ہے کہ آدھار کو شہریوں کی پروفائلنگ کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتاہے۔ مگر دشواری یہ ہے کہ مذکورہ ایجنسی تو صرف بنیادی ڈیموگرافک اطلاعات اور بایو میٹریکس کو جمع کرتی ہے اور اس کی اتھینٹی کیشن سروس تو صرف ’ ہاں یا نہیں ‘ جواب کوفراہم کراتی ہے۔ گزشتہ برس جولائی میں سپریم کورٹ میں پیش کئے گئے ایفی ڈیوٹ میں اتھارٹی نے کہا کہ ڈیزائین کے اعتبار سے یو آئی ڈی اے آئی کی تکنیکی بناوٹ ان کی سرگرمیوں کو ٹریک کرنے کے لئے افراد کی پروفائلنگ کے امکانات تک کو ختم کردیتی ہے۔ متعلقہ اتھارٹی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سرکاری ایجنسیاں کبھی بھی اپنے خریداروں یا فائدہ اٹھانے والے لوگوں میں سے کسی کا 360 ڈگری جائزہ لینے کی اہل نہیں ہوسکتی ہے۔ یو آئی ڈی اے آئی اعلانیہ طور پر یہ بھی کہتی ہے کہ آدھار کی اطلاعات ’فیڈربیٹیڈ‘ ہیں یعنی ڈاٹا بیسیز میں پھیلی ہوئی ہیں اور وہ ایک جگہ مرکوز نہیں ہیں۔

 

مگر پرائیویسی محققین اس دعوے سے بالکل اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی عوامی دلچسپیوں پر نگاہ رکھنے والے ریسرچ گروپ ورلڈ پرائیویسی فورم کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر پام ڈکشن کی وضاحت یہ ہے کہ ’’ اگر آپ ایک یونیک شناختی نمبر کو لے سکتے ہیں اور پھر اسے مختلف سیکٹروں میں ڈاٹا کو تلاش کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں تو فیڈریٹیڈ ڈاٹا بیس اپنی معنویت کو کھودیتے ہیں‘‘۔
ایک سرکاری آفیسرکا دعویٰ ہے کہ آندھرا پردیش میں متعلقہ ذمہ داران نے پیپلز ہب نام سے ایک سافٹ ویئر پلیٹ فارم بنایا جس نے آدھار نمبر کو 29 مختلف محکمات سے ڈاٹا کو کراس واک کرنے یا ملانے کے لئے یونیک شناخت کے طور پر استعمال کیا۔ ان محکمات میں سے کسی نے اسکول اسکالر شپ ڈاٹا بیس میں ایک شہری کی ذات برادری کے بارے میں اطلاع ڈالی جبکہ دیگر محکمات کے پاس پنشن سے متعلق ڈاٹا تھے اور دیگر کے پاس مذہب سے متعلق ڈاٹا تھے۔ اس طرح حکومت نے ایک ’اسمارٹ پلس ‘ سروے کرلیاجس میں انہوں نے سبھی سرکاری اسکیموں کے فائدہ اٹھانے والوںکے گھروں کا جیوٹیک کیا اور پھر اسے ہر ایک گھر کے باشندوں کے آدھار نمبروں سے جوڑ دیا۔ اس لحاظ سے غور کیا جائے تو آدھار نمبر ایک ایسا ذریعہ بن گیاجس نے ان تمام الگ ڈاٹا بیسیز کو پگھلا دیا یا فیوز کردیا۔ اس سے متعلقہ اتھارٹیز کو ایک ہی کلک میںکسی بھی متعین سرچ کرائٹیریا کو استعمال کرتے ہوئے ڈاٹا بیس کو سرچ کرنے کی اجازت مل گئی، چاہے وہ ذات برادری ہو یا مذہب، جنس ،عمر یا جسمانی لوکیشن۔اس طرح عوام تک ڈاٹابیس کی پہنچ بنا دینے سے انہوں نے انٹر نیٹ سے لیس کسی بھی شخص کو یہ اختیار دے دیا۔
سچ تو یہ ہے کہ یو آئی ڈی اے آئی کا رڈ ہمیں نازیوں کی یاد دلاتا ہے۔ 1933 میںجرمنی میں ہوئے ہولوکاسٹ میں اس طرح کے شناختی کارڈ کا بڑا اہم کردار تھا۔ ان دنوں جرمنی کے طاقتور حکمراں ایڈولف ہٹلرنے ملک میں مردم شماری کرائی تھی۔ یہ مردم شماری آئی بی ایم کمپنی نے کی تھی۔ اس کمپنی نے جرمنی میں نہ صرف مردم شماری کی بلکہ مذہب پر مبنی مردم شماری بھی کی اور ساتھ ہی لوگوں کو شناختی کارڈ بھی دیا۔ اس وقت جن لوگوں کی مردم شماری ہوئی، ان میں یہودی بھی شامل تھے۔ اس مردم شماری میں ایک مخصوص مشین ’’ ہولورتھ ڈی- II‘‘کا استعمال کرکے شناختی کارڈ کو چھانٹا گیا اورپھر یہودیوں کی آسانی سے شناخت کرلی گئی اور ان کا ٹھکانا معلوم کرلیا گیا۔
یہ بدنام زمانہ مشین آج بھی امریکہ واشنگٹن ڈی سی میں یو ایس ہولوکاسٹ میموریل میوزیم میںیہودیوں کے قتل عام سے متعلق دیگر اشیاء کے ساتھ رکھی ہوئی ہے۔ اسے آئی بی ایم کمپنی نے دوسری عالمی جنگ سے قبل بنایا تھا ۔یہ بات طے ہے کہ اگر یہ مشین نہ ہوتی تو یہودیوں کی جرمنی میں اس وقت شناخت نہیں ہو پاتی اور وہ خوفناک اور دل دہلا دینے والا ہولوکاسٹ بھی نہیں ہوتا۔
1933 اور 2018 میںتو ایک بہت بڑا فرق ہے۔وہ فرق یہ ہے کہ اس وقت ہٹلر کے پاس یہودیوں کے گھروں کے پتے تھے جبکہ آج یو آئی ڈی اے آئی کے ذریعے محض پتہ نہیں بلکہ سب کچھ معلوم ہے، کوئی تفصیل چھپ ہی نہیں سکتی۔ سوال یہ ہے کہ کیامرکزی یا ریاستی سرکار دعوے کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہے کہ ہندوسان میں یو آئی ڈی اے آئی کا اقلیتوں و دیگر کمزور طبقات کے خلاف غلط استعمال نہیں ہوگا۔ آندھرا پروسیس کے تعلق سے مذکورہ بالا معاملہ ہم سب کے لئے چشم کشا ہے۔یہ ہمیں چونکانے کے لئے اور احتیاطی اقدام اٹھانے کے لئے کافی ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *