میرٹھ میں سیکڑوں مسلم کنبوں نے نقل مکانی کا اعلان کیا،جانئے کیوں

poster
اترپردیش کے میرٹھ میں فرقہ وارانہ کشیدکے بعدایک کمیونٹی کے 100سے زائدلوگوں نے گاؤں سے نقل مکانی کا اعلان کردیا۔دراصل ، میرٹھ کے لساڑی گاؤں میں 21جون کوبائک سے ٹکرکولیکردوسماج کے لوگوں کے بیچ تنازعہ ہواتھا۔اس واقعہ کے بعدپولس نے ایک فرقہ کے دولوگوں پریکطرفہ کاررائی کرتے ہوئے جیل بھیج دیااوردوسرے فرقے کے لوگوں کوتھانے سے ہی چھوڑدیا۔پولس کی اس یکطرفہ کارروائی سے ناراض دوسرے فرقے کے لوگوں نے اپنے گھروں کے باہر’یہ مکان بکاؤ ہے‘ کا پوسٹرچسپاں کرگاؤں چھوڑنے کا اعلان کردیاہے۔
میڈیارپوٹس کے مطابق،میرٹھ کے لساڑی گاوں کے تقریبا 100 مسلم کنبوں نے انتظامیہ پر یکطرفہ کارروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے گاوں سے نقل مکانی کا اعلان کیا ہے۔ لوگوں نے باضابطہ طور پر اپنے گھروں کے باہر نقل مکانی اور مکان برائے فروخت کا پوسٹر بھی چسپاں کردیا ہے۔ نقل مکانی کی بات سامنے کے بعد پولیس انتظامیہ میں افرا تفری مچ گئی۔
پولیس کی اس یکطرفہ کارروائی سے پریشان دوسرے فریق کے لوگوں نے اپنے گھروں کے باہر ’یہ مکان برائے فروخت ہے ، یہاں چھوٹی چھوٹی باتوں کو فرقہ وارانہ رنگ دیدیا جاتا ہے ‘کے پوسٹر چسپاں کردئے ہیں اور گاوں کے تقریبا 100 سے زیادہ گھروں نے یہاں سے نقل مکانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ یا تو وہ لوگ ان کے مکانات کو خرید لیں یا پھر دوسرے فرقہ کے لوگ ان کے مکان خرید لیں۔ تاکہ یہ لوگ کہیں اور جاکر امن سے رہ سکیں۔
مسلم سماج کے لوگوں نے اپنے اپنے مکانوں پربینرلگادیے ہیں۔ حاجی نورسیفی، حاجی گل محمد، رئیس الدین، سعیدالدین ، علاء الدین ، جان محمدونوشادوغیرہ نے کہاکہ گاؤں میں ذرا-ذراسے تنازعہ کولیکرفرقہ وارانہ رنگ دے دیاجاتاہے۔پولس بھی یکطرفہ کارروائی کررہی ہے۔ان کی تحریربھی نہیں لی گئی ہے۔اب وہ گاؤں میں نہیں رہیں گے، مکان بیچ کریہاں سے چلے جائیں گے۔
ادھر،پولس انتظامیہ کومعاملے کی بھنک لگی توہڑکمپ مچ گیا۔اس تعلق سے ایس پی سٹی رن وجے سنگھ کا کہناہے کہ معاملے کی جان کی جائے گی اورجوبھی قصوروارہوگااس پرکارروائی ہوگی۔نقل مکانی کسی کونہیں کرنے دیاجائے گا۔دونوں فریق کوانصاف دلایاجائے گا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *