مسجدکے صحن میں خواتین نے کیاڈانس، ویڈیووائرل،سیاحوں کے داخلہ پر پابندی

malaysia-mosque-female-danc
ملیشیاکی ایک مسجدنے اپنے یہاں ٹوریسٹ (سیاح)کے آنے پرپابندی لگادی ہے۔یہ فیصلہ مسجدکے سامنے دوخاتون ٹورسٹ کا ڈانس کا ویڈیووائرل ہونے کے بعد لیاگیاہے۔دراصل،ملیشیا میں سوشل میڈیا پر دو خواتین کی مسجد کی عمارت کے سامنے ناچنے والی ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد اس مسجد میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔کوٹاکنابالوشہرمیں واقع مسجدکے باہرایک دیوارپرتنگ کپڑوں میں ڈانس کرتے ہوئے دوخواتین کا ویڈویوبنالیاگیا۔ وہ مشرقی ایشیائی ریاست اورغیرملکی سمجھی جارہی ہے۔یہ جگہ سیاحوں کیلئے کافی مشہورہے۔اس ویڈیو میں دو خواتین کو گھٹنے سے اوپر لباس پہنے ہوئے اور کھلے پیٹ کے ساتھ ملیشیا کے جزیرے بورنیو میں قائم کو’ٹا کنابالو مسجد‘ کے سامنے ناچتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
حکام ان دونوں خواتین کی شناخت کے لیے کاروائیاں کر رہی ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ دونوں غیر ملکی تھیں اور ان کا تعلق مشرق بعید کے ممالک سے ہے۔یواین آئی کے مطابق،فیس بک پر اس ویڈیو کو اب تک 270000 بار دیکھا جا چکا ہے۔

بی بی سی کے مطابق ملیشیا کی ریاست صباح میں وزارت سیاحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’’اس ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان عبادت گزاروں کے تضحیک کی گئی اور مقامی مہمان داری کا مذاق اڑایا گیا ہے‘‘۔
اتوار کو مسجد کے چئیرمین نے کہا کہ عوامی ٹرانسپورٹ کو سیاحوں کو مسجد کی عمارت تک لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مزید کہا کہ سیاحوں کو لانے والی کمپنیوں سے بھی گفتگو کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ پیش آئیں۔ملیشیا میں غیر ملکیوں کو عام طور مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مذہبی مقامات اور مساجد جاتے ہوئے سادہ لباس پہنیں۔
ادھروزیرسیاحت کرسٹینالیونے ’دی اسٹار‘اخبارسے کہاکہ اس جوڑی کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔کیونکہ وہ اپنی حرکتوں کی سنجیدگی سے واقف نہیں تھے ۔لیکن افسران ان کا پتالگاناچاہتے ہیں ، تاکہ انہیں بتایاجاسکے کہ جسے وہ ’مزہ ‘ سمجھتے ہیں وہ دراصل غلط حرکت ہے اوراسے بہترنہیں ماناجاتاہے۔ غورطلب ہے کہ مسلم اکثریت ملک ملیشیامیں سیاح عام طورپرمساجدکودیکھنے جاتے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *