مدھیہ پردیش کسانوں و مزدوروں کی حالت زار پانچ برسوں میں 5231 نے کی خود کشی

6جون کو مندسور گولی کانڈ کے ایک سال پورے ہو چکے ہیں، جس میں ’ کرشی کرمن ایوارڈ ‘ کے کئی تمغے حاصل کر چکی مدھیہ پردیش کی سرکار نے کسانوں پر گولیاں چلوانے کا خطاب بھی اپنے نام درج کروا لیا ہے۔ تمام کوششوں کے بعد بھی مدھیہ پردیش کے کسان مندسور گولی کانڈ کے زخم کو بھول نہیں پارہے ہیں۔ ریاست میںکسان آندولن ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے۔ کسان تنظیموں نے یکم تا 10 جون پوری ریاست میں پوری طرح سے گرام بند ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کسان اپنی پیداوار کی فروختگی نہیں کریں گے۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھی 6 جون کو ہی مدھیہ پردیش میں اپنے انتخابی مشن کی شکل میں چنا ہے ۔ انتخابی سال میں کسانوں کا یہ غصہ اور تیور شیو راج سرکار کے لئے بڑا چیلنج پہلے سے ہی تھا، ادھر راہل گاندھی کی مندسور ریلی نے اس پریشانی کو اور بڑھا دیاہے۔
وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ کے لئے مندسور گولی کانڈ ایک ایسا حادثہ ہے، جس نے ان کے کسان بیٹے ہونے کی شبیہ کو خراب کردیا ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران تمام دھمکیوں، پچکار اور فریب کے باوجود کسانوں کاغصہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ مندوسور گولی کانڈ کے بعد سب سے پہلے احتجاج کرنے والوں کو اینٹی سوشل ایلی منٹ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جب معاملہ ہاتھ سے باہر جاتا ہوا دکھائی دیا تو خود وزیر اعلیٰ دھرنے پر بیٹھ گئے۔ بعد میں یہ تھیوری پیش کی گئی کہ کسان آندولن کو افیما اسمگلروں نے بھڑکایا اور پُرتشدد بنایا۔
شیو راج چوہان کچھ بھی دعویٰ کریں، کوئی بھی تمغہ حاصل کر لیں لیکن مدھیہ پردیش میں کسانوں کی بدحالی کو جھٹلایا نہیں جاسکتاہے۔ حالت یہ ہے کہ مدھیہ پردیش میں پچھلے پانچ سالوںکے دوران 5231 کسانوں اور زرعی مزدوروں نے خود کشی کی ہے۔ ریاست میں کسانوں کی حالت پست ہے، قرض اور فصل کا صحیح بھائو نہ ملنے کی دوہری مار سے وہ بدحال ہیں۔ بدحال سسٹم نے انہیں پیاز ایک سے لے کر تین روپے کلو تک بیچنے کو مجبور کردیاہے۔ ریاست بھر کے سبھی حصوں سے کسانوں کے ذریعہ اپنے مسائل کو لے ر احتجاج کرنے کی خبریں لگاتار آرہی ہیں۔
ان سب کے درمیان کسانوں کو لے کر بی جے پی لیڈروں کے بیان زخم پر نمک چھڑکنے والے ثابت ہو رہے ہیں۔ اسی طرح کا تازہ بیان اجین کے بی جے پی لیڈر حاکم سنگھ انجانا کا ہے۔ وہ پچھلے دنوں وائرل ہوئے ایک ویڈیو میں کسانوں کے لئے بہت ہی توہین آمیز اور نازیبا زبان کا استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔وہ ویڈیو میں کسانوں کو حرامی، بے ایمان اور چور کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حالانکہ بعد میں پارٹی نے انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا لیکن تب تک ان کا ویڈیو لوگوں کے موبائل تک پہنچ چکا تھا۔
ان حالات میں یکم سے 10 جون تک کے دوران کسانوں کی گرام بند ہڑتال ، مندسور گولی گانڈ اور راہل گاندھی کی مندسور میں ریلی نے ریاست کی سیاست میں ابال لا دیا ہے۔ کانگریس اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے اس موقع کو بھنانے کی کوشش میں ہیں۔ اس سے شیو راج سرکار کی نیند اڑی ہوئی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے مد نظر کانگریس صدر کا مدھیہ پردیش میں یہ پہلا پروگرام ہے، جسے کامیاب بنانے کے لئے کانگریس سنگٹھن نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ اس میں دو لاکھ کسانوں کو جمع کرنے کا ہدف رکھا گیاہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کانگریس کی اس پالیسی سے بی جے پی کتنی بے چین ہے، اسے راہل کی ریلی کو لے کر اس کے رد عمل سے سمجھا جاسکتاہے۔ سب سے پہلے ضلع انتظامیہ کے ذریعہ راہل گاندھی کو ریلی کرنے کی اجازت 19طرح کی شرطوں کے ساتھ دی گئی۔ پھر وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے اعلان کیا کہ وہ راہل گاندھی کی ریلی سے پہلے 30مئی کو کسانوں کا حال جاننے کے لئے مندسور جائیںگے۔ اس دوران کئی کسانوں نے سامنے آکر مندسور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ راہل کی ریلی میںشامل ہونے کو لے کر انہیںدھمکایا جارہاہے۔ مقامی انتظامیہ کے ذریعہ کئی کسانوں اور کانگریس لیڈروں کو رسٹریکٹیو نوٹس بھی جاری کئے گئے ہیں۔
شیوراج سرکار کے اس رویے پر مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر کمل ناتھ نے کہا ہے کہ کتنا شرمناک ہے کہ ریاست کا کسان بیٹا چیف ، جو کسانوںکو بھگوان اور خود کو پجاری کہتاہے، اس کی سرکار انہی بھگوان سے بدنام مجرم کی طرح امن کو نقصان پہنچانے کے بانڈ بھروا رہی ہے۔ مندسور گولی کانڈ میں مرنے والے کسانوںکے رشتہ داروں تک کو نوٹس بھیج دیئے گئے ہیں۔
ادھر کانگریس اے بی پی نیوز اور لوک نیتی – سی ایس ڈی ایس کے سروے کو لے کر بھی جوش ہے، جس میں اس کے ووٹ شیئر میں 2013 کے مقابلے 13فیصد کا اضافہ دکھایا گیاہے۔ سروے کے مطابق اس بار مدھیہ پردیش میں کانگریس کو 49 فیصد ووٹ شیئر مل سکتاہے، جبکہ بی جے پی کو 34 فیصد ووٹ شیئر ہی مل سکتا ہے۔ ظاہر ہے سروے کے مطابق کانگریس کو بڑی بڑھت مل رہی ہے۔ بی جے پی کے ووٹ فیصد میں بھاری گراوٹ بی جے پی کے لئے خطرے کی گھنٹی کی طرح ہے۔
اس دوران سابق وزیراعلیٰ دگ وجے سنگھ بھی غیر سرکاری طور پر مدھیہ پردیش کی سیاست میں سرگرم ہو چکے ہیں۔ انتخاب کے مد نظر انہیں کورآرڈینیشن کمیٹی کا چیئر مین بنایا گیاہے جو ایک طرح سے اہم کردار ہے۔ دراصل کانگریس کا بنیادی مسئلہ ہی لیڈروںاور ان کے پیروکاروں کے بیچ کورڈینیشن کی کمی رہی ہے۔اب دگ وجے سنگھ جیسے لیڈر کو اس کی ذمہ داری ملنے سے اس میں سدھار دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اس دوران ان کی سیاسی یاترا کے لئے نئی تاریخوں کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے جو 31 مئی سے 31اگست تک چلے گی۔ اس دوران وہ اپنے کو آرڈینیشن کمیٹی کے ساتھ ہر ضلع کا دورہ کرکے ریاست بھر میں کارکنوں اور لیڈروں کو متحد کرنے کی کوشش کریںگے۔ حالانکہ پچھلے دنوں ریاستی ورکنگ کمیٹی کے اعلان ہونے کے بعد سے ہی جس طرح سے آپسی تنازع کھل کر سامنے آئے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ کانگریس اب بھی آپسی گٹ بازی کی پرانی بیماری سے چھٹکارا نہیں پائی ہے۔
بہر حال بی جے پی کے خلاف حکومت مخالف لہر، اپنی نئی ٹٖیم ، اے بی پی نیوز اور لوک نیتی سی ایس ڈی ایس کے سروے اور کسان مسئلہ جیسے زمینی ایشوز کو اٹھا کر کانگریس میدان میں ہے۔ کانگریس نے انگد کی طرح پیر جمائے شیو راج چوہان اور ان کی سرکار کو بیک فٹ پر جانے کو مجبور کر دیا ہے۔ اب وہ اپنی سرکاری کی حصولیابیوں، خود کے چہرے کے بجائے سنگٹھن کے سہارے الیکشن لڑنے کی راگ الاپ رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *