مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات او بی سی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے

مدھیہ پردیش کی سیات میںیو پی ، بہار کی طرح نہ تو ذاتوں کا غلبہ ہے اور نہ ہی ذات کی بنیاد پر سیاسی اتحاد دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ان دنوں ریاستی سیاست میں او بی سی کے نام پر ابال دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بی جے پی چوتھی بار اقتدار میںآنے کے لیے شیوراج سنگھ چوہان کی قیادت میںاوبی سی کارڈ کھیلنے جارہی ہے۔ وہیں کانگریس میںارون یادو کو ریاستی صدر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے ان میںاور ان کے حامیوں میںبے اطمینانی ابھی بھی قائم ہے۔
راہل کے نام کمل ناتھ کا خط لیک
گزشتہ دنوں کمل ناتھ کے ذریعہ راہل گاندھی کو لکھے گئے ایک خط کے لیک ہونے کے بعد سے دونوں پارٹیوں میںپچھڑی ذاتوں کے ’سمان‘ کے نام پر رسہ کشی کا ایک نیا دور شروع ہوگیا ہے، جس کے مرکز میںارون یادو ہیں۔ دراصل کمل ناتھ نے یہ خط کھرگون ضلع کے کسراوت میں ارون یادو کے والد اور کانگریس کے بڑے او بی سی لیڈر آنجہانی سبھاش یادو کی برسی پر منعقد پروگرام میںراہل گاندھی کو مدعو کرنے کے لیے لکھا تھا۔ اس خط میں انھوں نے اس بات کا اشارہ کیا تھا کہ الیکشن کی نظر سے نماڑ- مالوہ علاقہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اس علاقے کے آنجہانی سبھاش یادو مدھیہ پردیش کے بڑے او بی سی لیڈر رہے ہیں۔ ان کی برسی کے پروگرام میںبھاری تعداد میں او بی سی طبقہ کے لوگوں کے شامل ہونے کا امکان ہے۔
خط لیک ہونے کے بعد بی جے پی نے کانگریس پر پسماندہ طبقے کی توہین کرنے اور ان کے ساتھ امتیاز برتنے کا الزام لگایا۔ بی جے پی کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ کمل ناتھ آنجہانی سبھاش یادو کو صرف ووٹ بینک کے طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں اور ان کی برسی کا انعقاد سیاسی فائدے کے لیے ہی کیا جارہا ہے۔ خط لیک ہونے کے بعد ایک ویڈیو بھی سامنے آیاجس میںارون یادو کسی سے کمل ناتھ کے خط کو عام کرنے کو لے کر بات کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالانکہ اس کے بعد ارون یادو نے اس پورے معاملے میںصفائی دیتے ہوئے کہا کہ ’کانگریس کے اتحاد سے خوفزدہ بی جے پی مایوس ہوکر تلملا رہی ہے۔ کل تک میںبی جے پی کی آنکھوںکی کرکری تھا، اب آنکھوںکا تارہ کیوں بن گیا؟ کمل ناتھ جی پارٹی کے مکھیا ہی نہیں، میرے خاندان کے سرپرست بھی ہیں اور میری ہی گزارش پر انھوں نے راہل گاندھی کو یہ خط لکھا تھا۔‘
اچانک اور اعتماد میںلیے بغیر ہی ریاستی صدر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے ہی ارون یادو کی ناراضگی سامنے آرہی ہے۔ عہدے سے ہٹائے جانے کے فوراً بعد انھوں نے اعلان کر دیا تھا کہ اب وہ کوئی بھی الیکشن نہیںلڑیںگے اور سنگٹھن میںکام کرتے رہیںگے۔ کمل ناتھ کے چارج سنبھالنے کے وقت بھی ان کی ناراضگی کھلے طور پر سامنے آئی تھی،جس میںانھوں نے کہا تھا کہ’’ میں کسان کابیٹا ہوں، فصل کے بارے میںجانتا ہوں کہ وہ کیسے تیار ہوتی ہے۔ اب چونکہ فصل تیار ہے، اس لیے کاٹنے کے لیے سبھی منچ پر ہیں۔‘‘ریاستی صدر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ابھی تک انھیںپارٹی میںکوئی قابل قدر کردار نہیں مل سکا ہے۔ گزشتہ دنوں ریاستی صدر کمل ناتھ کے ذریعہ آئندہ الیکشن کو دھیان میںرکھتے ہوئے جن کمیٹیو ں کی تشکیل کی گئی ہے، ان میں بھی ارون یادو کو چھوڑکر تقریباً سبھی اہم لیڈروں کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ حالانکہ جیوترا دتیہ سندھیا نے انھیں اپنی صدارت والی انتخابی تشہیر کمیٹی کا ممبر بنا لیا ہے، لیکن ارون یادوکے قد کو دیکھتے ہوئے یہ ناکافی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

ارون یادو سب سے بڑا او بی سی چہرہ
ارون یادو نہ صرف مدھیہ پردیش کے سب سے بڑے اوبی سی چہرہ ہیں بلکہ وہ آنجہانی سبھاش یادو کی وراثت بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ اگر آگے بھی ان کی یہ ناراضگی لمبے وقت تک کھینچی تو پھر کچھ ہی مہینوںبعدہونے والے الیکشن میںکانگریس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے۔ بی جے پی جو پہلے بھی کانگریسی چھترپوں کی آپسی گٹ بازی کا فائدہ اٹھاتی رہی ہے، اس بار بھی ارون یادو کی ناراضگی کو بھنانا چاہتی ہے۔ ارون یادو کے ریاستی صدر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد تو بی جے پی لیڈر پربھات جھا نے انھیںبی جے پی میںآنے کا آفر تک دے دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ آنجہانی سبھاش یادو سے اچھا تعلق رہا ہے،ارون یادو ان کے چھوٹے بھائی جیسے ہیں اور اگر وہ پارٹی میںآنا چاہیںتو بی جے پی ان کا خیر مقدم کرے گی۔ اس پر ارون کمار نے جواب دیا تھا کہ’’ میرے اور میرے خاندان کی رگ رگ میں کانگریس کا ہی خون بہتا ہے، لہٰذا خون سے سیاسی تجارت کرنے والی پارٹی اور اس کے نظریہ کی کسی بھی دعوت کی مجھے ضرورت نہیںہے۔ ‘‘ لیکن اس کے ساتھ ہی ارون یادو لگاتار کانگریس پارٹی کو بھی یہ احساس دلانا نہیںبھول رہے ہیں کہ پارٹی کے لیے انھیںنظر انداز کرنا مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ گزشتہ 20مئی کو ’اکھل بھارت ورشیہ یادو مہا سبھا‘ کے ذریعہ بھوپال میںیادو مہا کمبھ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میںارون یادو کے ساتھ سی ایم شیوراج سنگھ چوہان، بابو لال گورشامل ہوئے تھے لیکن اس میںکمل ناتھ یا کانگریس کے کسی دیگر سینئر لیڈر کو مدعو نہیںکیا گیا تھا۔ اس دوران مہا سبھا کے ریاستی صدر جگدیش یادو نے منچ سے کہا کہ یادو سماج تو ارون یادو کو ریاست کے مستقبل کے سی ایم کے طور پر دیکھ رہا تھا لیکن ساڑھے چار سال کی جدوجہد کے بعد جب الیکشن کا وقت آیا تو کانگریس نے انھیںریاستی صدر کے عہدے سے ہی ہٹادیا۔ ایسا پہلی بار نہیںہوا ہے۔ ارون یادو کے والد آنجہانی سبھاش یادو کو بھی ایسے ہی ہٹایا گیا تھا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ کا تبصرہ بھی کافی اہم تھا، جس میںانھوں نے کہا کہ یادو سماج بہت ہی سوابھیمانی سماج ہے، یہ سماج کسی کے ٹکڑوں پر نہیں پلتا بلکہ اپنے ایفرٹس سے لگاتار آگے بڑھ رہا ہے۔
بی جے پی کی کوشش
بی جے پی ہر طرح سے کانگریس کو پسماندہ مخالف ثابت کرنے کی کوشش میں ہے۔کانگریس کے ذریعہ کمل ناتھ کو ریاستی صدر اور جیوترادتیہ سندھیا کو انتخابی تشہیری کمیٹی کی کمان دیے جانے کے بعد پربھات جھا نے کہا تھا کہ کانگریس اب صنعت کاراور محلوں کی پارٹی ہوگئی ہے۔ اس کا ریاست کے غریب عوام اور کسانوں سے کوئی واسطہ نہیںہے ۔ اپنے بھوپال دورے کے دوران امت شاہ نے ’پچھڑاورگ آیوگ‘ کو لے کر دگوجے سنگھ پر نشانہ سادھا تھا۔ انھوں نے دگ وجے سنگھ کو پسماندہ مخالف بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی وجہ سے ہی ’پچھڑا ورگ آیوگ‘ کو آئینی درجہ دینے سے متعلق کانسٹی ٹیوشن امینڈمنٹ بل منظور نہیںہو سکا تھا۔ ادھر شیوراج کی سرکار پسماندہ طبقے کے لیے او بی سی مہا کمبھ کر رہی ہے۔ چھ ڈویژنل ہیڈ کوارٹروں، بندیل کھنڈ میںساگر، مرکزی علاقے میںہردا، مالوہ میںاندور ، مہا کوشل میںجبل پور، چمبل میںگوالیار اور وندھیہ انچل کے شہڈول میںاو بی سی مہا کمبھ کا انعقاد ہونا ہے۔ اس کے لیے بی جے پی او بی سی مورچہ کے ساتھ ساتھ ضلعوںکے کلیکٹروں کو بھیڑ جٹانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ حالانکہ یہ انعقاد سرکار کی اسکیموں کے بارے میں جانکاری دینے کے نام پر کیا جارہا ہے۔ کانگریس نے اس پر اعتراض جتاتے ہوئے اسے سرکاری مشینری کا بے جا استعمال بتایا ہے۔
غور طلب ہے کہ 6 مئی کو ساگر میںپہلے اوبی سی مہا کمبھ کا انعقاد ہوچکا ہے، جس میںخود وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور ریاستی سرکار کے قریب سات وزیر شامل ہوئے تھے۔ حالانکہ بی جے پی کی ان انتخابی کاوشوں سے الگ حقیقت یہی ہے کہ شیوراج سنگھ چوہان خود پچھڑے طبقہ سے ہونے کے باوجود ہمیشہ سے ہی پرموشن میںریزرویشن کے خلاف رہے ہیں اور اب یہی بات ان کے خلا ف جاسکتی ہے۔ مدھیہ پردیش کے اقتدار میںدگ وجے سنگھ کے بعدسے ہی یہاںاو بی سی کے لیڈروںکا غلبہ رہا ہے۔ دگ وجے سنگھ کے بعد سے ریاست میںتین وزیر اعلیٰ ہوچکے ہیں،اوما بھارتی، بابو لال اور شیوراج سنگھ چوہان۔یہ تینوں ہی بھاجپائی ہیں اور اتفاق سے تینوں ہی پسماندہ طبقے سے ہیں۔ حال میںوزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان خود او بی سے طبقے سے ہیں۔ نئے ریاستی صدر راکیش سنگھ بھی اسی طبقے سے آتے ہیں۔ کانگریس میں2011 سے 2018 کے بیچ ریاست کی کمان آدیواسی اور پچھڑے طبقے کے لیڈروں کے ہاتھ میں تھی ، ارون یادو سے قبل کانتی لال بھوریہ ریاستی صدر تھے لیکن اب تصویر بدل چکی ہے۔ اب پارٹی میںکمل ناتھ ، دگ وجے سنگھ اور جیوترادتیہ سندھیا کا غلبہ ہوگیا ہے۔ مدھیہ پردیش میںقریب 52 فیصد او بی سی آبادی ہے اور اگر یہ طبقہ ایک خاص پیٹرن میںووٹنگ کرے تو یہاں او بی سی فیکٹر فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ اس لیے دونوںہی پارٹیاںانھیںسادھنا چاہتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *