ہندو-مسلم تھے جوڑے،پاسپورٹ آفیسر نے درخواست کردی خارج،جانئے کیاہوا

hindu-muslim-couple
اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ایک جوڑے کے ساتھ پاسپورٹ آفس میں عجیب وغریب اوربھیدبھاؤ کا معاملہ سامنے آیاہے ۔دراصل جوڑے ہندو-مسلم ہیں۔بتایاجارہاہے کہ پاسپورٹ آفیسر نے اس بنیادپردرخواست خارج کردی ،کیونکہ جوڑے ہندو۔ مسلم ہیں۔اتناہی نہیں،آفیسرنے شوہرکوہندومذہب اپنانے کا مشورہ بھی دے ڈالا۔بہرکیف لکھنؤ میں جوڑے کاپاسپورٹ جاری کرنے سے انکارکرنے والے پاسپورٹ آفس کے ملازم کا تبادلہ کردیاگیاہے۔جوڑے نے اس معاملے کولیکر وزیرخارجہ سشماسوراج سے بھی فریادکی تھی۔اب وزارت خارجہ نے لکھنؤپاسپورٹ آفس سے جواب مانگاہے۔دراصل، ملازم نے جوڑے کا پاسپورٹ بنانے سے یہ کہہ کرانکاکردیاتھاکہ اس کا مذہب الگ الگ ہے۔انس صدیقی اورتنوی سیٹھ کوپاسپورٹ ملازم نے کہاتھاکہ الگ الگ مذہب میں شادی کرنے کی وجہ سے پہلے آپ کواپنا نام بدلنا ہوگا،اس کے بعدہی پاسپورٹ بن سکتاہے۔جوڑے نے ملازم پربدسلوکی کا بھی الزام لگایاتھا۔حالانکہ معاملہ سامنے آنے کے بعد لکھنؤ کے ریجنل پاسپورٹ آفیسر نے ملازم کی غلطی مانی اورجوڑے کوپاسپورٹ جاری کردیاگیاہے۔
لکھنؤ کے ریجنل پاسپورٹ افسرنے بتایاکہ ان کے پاسپورٹ جاری کردےئے گئے ہیں۔افسرنے بتایاکہ جس ملازم کی غلطی تھی اس کے خلاف ایک نوٹس جاری کیاگیاہے اورکارروائی بھی کی جائے گی۔متاثرہ شوہرانس صدیقی نے کہاکہ مجھ سے اپنا مذہب بدلنے کیلئے کہاگیا۔ وہیں بیوی نے کہاکہ ہمیں امیدہے کہ یہ کسی اورکے ساتھ نہیں ہوگا۔شادی کے 11سال میں ہم نے کبھی اس کا سامنانہیں کیا۔انہو ں نے کہاکہ افسروں نے معافی مانگی ہے اورہمیں ہمارے پاسپورٹ مل گئے ہیں۔
بہرکیف اترپردیش کی راجدھانی لکھنو میں ایک پاسپورٹ آفیسر نے ایک جوڑے کی عرضی اس لئے خارج کردی، کیونکہ وہ الگ الگ مذہب سے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ پاسپورٹ آفیسر نے ہندو مسلم جوڑے کی درخواست خارج کرنے سے پہلے پاسپورٹ ملازم نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اورانہیں شرمندہ بھی کیا۔اتناہی نہیں ، ملازم نے شوہر کو اپنا مذہب تبدیل کرکے ہندو بننے کی نصیحت بھی دے ڈالی۔ جوڑے نے مرکزی وزیر سشما سوراج اور پی ایم او کو ٹوئٹ کرکے اس کی اطلاع دی ہے اور معاملے میں مداخلت کرنے کا مطالبہ بھی کیاہے۔
اطلاعات کے مطابق محمد انس صدیقی نے سال 2007 میں لکھنو میں تنوی سیٹھ سے شادی کی تھی۔ ان کی ایک 6 سال کی بیٹی بھی ہے۔ انس صدیقی نے 19 جون کو اپنے اور اپنی بیوی کے پاسپورٹ کے لئے درخواست دی تھی۔ 20 جون کو لکھنو کے پاسپورٹ آفس میں ان کا اپائنٹمنٹ تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ جوڑے نے انٹرویو اسٹیج اے اور بی کلیئر بھی کرلیا تھا۔ سی اسٹیج میں پوچھے گئے سوالات کو لے کر پریشانی سامنے آئی۔
صدیقی نے ایک میڈیاہاؤس کوبتایا کہ مجھ سے پہلے میری بیوی کی باری آئی۔ وہ سی 5 کاونٹر پر گئی، تو وکاس مشرا نام کا ایک آفیسر اس کے دستاویز چیک کرنے لگا۔ جب اس نے شوہر کانام کالم میں محمد انس صدیقی لکھا دیکھا تو میری بیوی پر چلانے لگا۔ آفیسر کا کہنا تھا کہ اسے (میری بیوی کو) مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ میری بیوی رو رہی تھی، جس کے بعد آفیسر نے اس سے کہا کہ وہ سارے دستاویز میں سدھار کرکے دوبارہ آئے۔انس صدیقی نے بتایا کہ میری بیوی تنوی نے آفیسر سے کہا کہ وہ نام نہیں تبدیل کرانا چاہتی، کیونکہ ہمارے اہل خانہ کو اس سے پریشانی نہیں ہے۔ یہ سنتے ہی پاسپورٹ آفسیر نے اس سے کہا کہ وہ اے پی او آفس چلی جائے، کیونکہ اس کی فائل اے پی او آفس بھیجی جارہی ہے۔انس صدیقی کے مطابق ،اس کے بعد پاسپورٹ آفیسر وکاس مشرا نے مجھے بلایا اور میری بے عزتی کرنے لگا۔ اس نے کہا کہ میں ہندو مذہب اپنالوں، ورنہ میری شادی نہیں مانی جائے گی۔ اس نے نصیحت دی کہ ہمیں پھیرے لے کر شادی کرنی چاہئے اور مذہب تبدیل کرلینا چاہئے۔
یادرہے کہ یہ واقعہ پیش آنے کے بعدانس صدیقی کی بیگم تنوی سیٹھ نے وزیرخارجہ کوٹویٹ کیاتھا۔اس میں تنوی سیٹھ نے لکھاتھاکہ ’ہیلو میم، انصاف اورآپ پربھروسے کے ساتھ ساتھ کافی غصے میں میں یہ ٹویٹ ٹائپ کررہی ہوں۔ ایک مسلم شخص سے شادی کرنے اوراپنا نام نہیں بدلنے کی وجہ سے جس طریقے سے لکھنؤ پاسپورٹ آفس میں میرے ساتھ وکاس مشرابدسلوکی کی، اس سے میرے من میں کافی غصہ ہے۔اس نے مجھ سے بہت بے رخی سے بات کی۔میرے معاملے پربحث کے دوران ان کی آوازاتنی تیزتھی کہ دوسرے لوگ پوری بات چیت سن رہے تھے۔پہلے کبھی اتنابے عزتی محسوس نہیں کیا۔پاسپورٹ آفس کے دوسرے ملازمین نے بھی ان کی بے رخی کی بات مانی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *