کشمیر:بات چیت کے لئے ہم خیال ہونا ضروری نہیں ، صحیح الدماغ ہونا ضروری

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ 7جون کوسرینگر پہنچنے کے بعد ائر پورٹ سے سیدھے شیر کشمیر انڈور سٹیڈیم پہنچے جہاں پر جوش نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھی۔ یہ منظر دیکھ کر وہ اپنی خوشی کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں ہی وہاں پر موجود وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ، ” محبوبہ جی ، میں کشمیر کئی بار آیا ہوں لیکن یہ منظر مجھے پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے۔ ایسا نظارہ آج تک میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ان بچوں کے جوش کو دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ نوجوان نہ صرف جموں کشمیر بلکہ بھارت کی تقدیر کو بدل سکتے ہیں۔“
در اصل شیر کشمیر انڈور سٹیڈیم میں ” جموں کشمیر سپورٹس کنکلیو2018“ کا انعاد ہورہا تھا ، جہاں وزیر داخلہ نے اُن نوجوانوں کو انعامات اور اعزازات سے نوازا۔ راج ناتھ سنگھ نے اپنی تقریرمیں خاص طور سے اُن کشمیری نوجوانوں کا تذکرہ کیا ، جو یہاں فورسز پر پتھراؤ کررہے ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے اپنے بچے ہیں ، جو جانے انجانے میں غلطیاں کررہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ترقی اور تباہی میں سے ترقی کو چُن لیں۔
جموں وکشمیر میں جنگ بندی کے اثرات
لیکن وزیر داخلہ کی ان مثبت باتوں کے باوجود صحافی محض اس انتظار میں تھے کہ وہ جموں کشمیر میں جاری نئی دہلی کی جنگ بندی کو جاری رکھنے یا نہ رکھنے اور حریت کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کیا کہیں گے ۔ ظاہر ہے کہ یہی وہ دو باتیں ہیں ، جن پر آنے والے دنوں میں کشمیر کے حالات کا دار مدار ہے۔
شام کو وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کنارے پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر کے بند ہال میں اعلیٰ سطحی افسران سے اب تک کی جنگ بندی کا فیڈ بیک حاصل کیا۔ اس میٹنگ میں ریاستی گورنر این این ووہرا اور وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی موجود تھیں۔ تمام سیکورٹی ایجنسیوں اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے میٹنگ میں شرکت کی۔باو ثوق ذرائع نے ”چوتھی دُنیا “ کو بتایا کہ وزیر داخلہ کو حالات کی تمام تفصیلات سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ مختصر الفاظ میں بتایا گیا کہ یہاں 16مئی سے جاری جنگ بندی کے نتیجے میں تشدد کی وارداتوں میں 70فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے حکام نے اُنہیںڈیجیٹل پرزنٹیشن کے ذریعے ریاست کے موجود حالات کی مکمل جانکاری دی۔
راج ناتھ سنگھ نے فیڈ بیک حاصل کرنے کے بعد کوئی فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا ، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینگر میں حکام نے انہیں جنگ بندی کے حوالے سے جو فیڈ بیک دیا ہے ، اس کا یقینی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ مرکزی سرکار جنگ بندی میں مزید توسیع کا اعلان کردے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ انڈور سٹیڈیم میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی اپنی تقریر کے دوران وزیر داخلہ سے جنگ بندی میں توسیع کرنے کی گزارش کی ۔محبوبہ نے اپنی تقریر میں وزیر داخلہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا،”آپ نے یہاں فورسز کے آپریشنز کو بند کرنے کا جو اعلان کیا ہے ، اسے جاری رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچوں کو پر امن ماحول میسر ہو۔جب سے جنگ بندی ہوئی ہے، کشمیریوں نے چین کی سانس لی ہے۔“
وزارت داخلہ کی جانب سے رمضان کے مہینے میں جنگ بندی کرنے کے فیصلے کا اعلان 16مئی کو کیا گیا تھا۔اگرچہ یہاں متحرک جنگجوؤں نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا تاہم حکومت ہند کی اس یکطرفہ جنگ بندی کا زمینی حالات پر صاف اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وادی کے اسپتالوں میں پہنچائے جانے والے زخمیوں کی تعداد میں 80فیصد کمی واقع ہوگئی ہے۔ سرینگر کے صدر اسپتال ، جہاں عام طور سے وادی کے مختلف علاقوں میں پر تشدد واقعات میں شدید زخمی ہوجانے والوں کو لایا جاتا ہے ، کے حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اب تک کے تین ہفتوں میں اسپتال پہنچائے جانے والے زخمیوں کی بہت کم تعداد دیکھنے کو ملی ہے۔ صدر اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم ٹاک کا کہنا ہے کہ مئی کے ابتدائی ہفتے میں یعنی جنگ بندی سے پہلے ایک ہفتے میں یہاں 99شہریوں کو داخل کیا گیا ، جو گولیوں اور پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے تھے۔ ان میں سے کئی ایسے زخمی بھی تھے ،جو پیلٹ لگنے سے اپنے آنکھوں کی بینائی جزوی یا مکمل طور کھوچکے تھے۔لیکن جنگ بندی کے بعد کے تین ہفتوں میں اس اسپتال میں محض 21زخمیوں کو لایا گیا ۔
یہ ہے وہ صورتحال ، جس کو دیکھ کر وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا کشمیر کے زمینی حالات پر صاف طور دیکھنے کو ملا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 8جولائی 2016کو جنوبی کشمیر میں معروف جنگجو کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد اب تک وادی کے مختلف علاقوں میں گولیوں ، پیلٹ ، ٹیر گیس شلنگ اور تشدد کی دیگر وارداتوں میں شدید طور زخمی ہوجانے والے 3500شہریوں کو سرینگر کے صدر اسپتال میں علاج و معالجے کے لئے داخل کیا گیا۔ ان زخمیوں میں بعض دم توڑ بیٹھے جبکہ درجنوں اپنی آنکھوں کی روشنی عمر بھر کے لئے کھو بیٹھے۔اس لحاظ سے یہ ایک بڑی بات ہے کہ اگر تشدد کی وارداتوں میں زخمیوں اور مرنے والوں کی تعداد میں 80فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حریت کے ساتھ متوقع بات چیت
وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ایک بار پھر حریت لیڈروں کے ساتھ بات چیت کا عندیہ دیا ۔ انہوں نے سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ” بات چیت کے لئے ہم خیال ہونا ضروری نہیں لیکن صیح الدماغ ہونا ضروری ہے۔“ انہوں نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ، ”ہم اس مسئلے کو طویل عرصے تک لٹکائے نہیں رکھنا چاہتے ہیں۔ تمام متعلقین سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں….میں نے حریت کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں دوٹوک بیان دیا ہے، میں لگتا ہے کہ اسے دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 26مئی کو یعنی جموں کشمیر میں جنگ بندی کے اعلان کے ٹھیک دس دن بعد راج ناتھ سنگھ نے نئی دلی میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ اگر حریت بات چیت کےلئے تیار ہے تو مرکزی سرکار بھی بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے۔تین دن بعد سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے ایک میٹنگ میں وزیر داخلہ کے اس بیان پر غور خوص کیا اور حکومت ہند سے بات چیت کے ایجنڈے کی وضاحت کرنے کےلئے کہا۔
در اصل راج ناتھ سنگھ کی جانب سے حریت کے ساتھ مذاکرات پراظہار آمادگی کے بعد دلی میں کئی سینئر بھاجپا لیڈروں نے کچھ ایسے بیانات دیئے ، جو وزیر داخلہ کی پیشکش سے متضاد اور متصادم بھی تھے ۔ اتنا ہی نہیں جموں کشمیر میں بھی بی جے پی کے کئی بڑے لیڈروں نے بھی حریت کے ساتھ متوقع بات چیت سے متعلق متنازعہ بیانات دیئے ۔ پرائم منسٹرس آفس میں تعینات وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے یکم جون کو ادھمپور، جہاں سے وہ الیکشن جیت کر گئے ہیں، میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ” حریت لیڈر بھارتی شہریوں کی حیثیت سے کبھی بھی بات چیت کےلئے آسکتے ہیں۔ لیکن انہیں کوئی دعوت نامہ نہیں دیا جائے گا۔بھارت کا کوئی بھی شہری سامنے آکر اپنی بات پیش کرسکتا ہے۔
اس سے ایک دن قبل یعنی 31مئی کو بے جے پی کے ریاستی صدر رویندر رینا نے ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حریت والے بات چیت کے لئے سامنے آتے ہیں تو انہیں پتھراؤ بند کرانے اور الیکشن لڑنے کےلئے کہا جائے گا۔ اسی دن بی جے پی کے ایک اور ریاستی لیڈر اور جموں کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتانے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ حریت کو بات چیت کا موقعہ دیکر ان پر احسان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ” حریت کو ایک موقع دیا گیا ہے ، اسے اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔“
راج ناتھ سنگھ کی جانب سے حریت کو بات چیت کی پیشکش کے بعد بھاجپا لیڈران کے ان متنازعہ بیانات نے ایک کنفوژن پیدا کردیا ۔ 7جون کو حزب اختلاف کے لیڈر اورسابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ میں پارٹی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی لیڈروں کی متضاد بیان بازیوں پر انہیں لتاڑتے ہوئے کہا، ” حریت لیڈران مجوزہ بات چیت کا مثبت جواب کیسے دے سکتے ہیں، جب خود بی جے پی کے لیڈران اس بارے میں بانت بانت کی بولیاں بول رہے ہیں۔
اب جبکہ راج ناتھ سنگھ کو وادی کے دورے کے دوران جنگ بندی پر ریاستی حکومت اور سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے مثبت فیڈ بیک ملا ہے اور انہوں نے خود بات چیت کی پیشکش دہرائی ، یہ اُمید پیدا ہوگئی ہے کہ آنے والے دنوں میں نئی دلی کی جانب سے نہ صرف جنگ بندی میں توسیع کا اعلان ہوگا بلکہ حریت کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کےلئے اقدامات کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو کہا جاسکتا ہے کہ مودی سرکار نے اب تک کے چار سال میں پہلی بار کشمیر مسئلے کے پر امن حل اور یہاں کے حالات بہتر بنانے کےلئے عملی اقدامات شروع کئے ہیں، جو اس حکومت کے رویہ میں ایک مثبت تبدیلی کا صاف عندیہ ہوگا۔ یہ مودی سرکار عید پر کشمیری عوام کو خوشی کی یہ نوید سنائے گی ؟ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *