مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریت، انسانیت اور جمہوریت میں ہی ممکن

مئی میں میں 9دنوں تک سیاح کی شکل میں کشمیر میں رہا۔اس دوران میں بنیادی طور سے تین جگہوں پر گیا۔ چونکہ میں بھی سیاست سے جڑا ہوا ہوں، اس لئے لوگوں سے بات کرتا رہتا ہوں۔ میں نے وہاں جو دیکھا ،وہ آپ سے شراکت کرنا چاہتا ہوں ۔نوکری پیشہ عام آدمی، وہ چاہے ٹیکسی ڈرائیور ہو، ہوٹل کا ملازم ہو، یا شکارا والا ہو، انہیں ہندوستان -پاکستان سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی جی رہے ہیں۔ جسے ہم لوگ’ ا تیتھی دیو بھو ہ ‘ کہتے ہیں، وہ کشمیر میں اصل میں ہیں۔ کشمیر کی جو صوفیانہ وراثت ہے، اس میں یہ ہمیشہ سے رہا ہے کہ مہمان کی اچھی سے اچھی مہمان نوازی کرو۔ کشمیر بہت اچھی ریاست ہے اور یہاں بہت اچھے لوگ ہیں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کشمیر کی وادیوںکو دیکھنے جانا چاہئے۔ وادی میں گھومنے کے بعد آپ کو ایک اچھا احساس ملے گا۔
ڈیڑھ سال پہلے میں سیاسی لوگوں سے ملنے کشمیر گیا تھا۔ انہیں پتہ ہے کہ ہم ہندوستان کی طرف ہیں، پھر بھی ہر آدمی نے گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا۔ کشمیر کا ماحول باقی ہندوستان سے بالکل الگ ہے۔ لیکن آج میڈیا جس طرح سے کشمیر کے بارے میں رپورٹنگ کر رہا ہے، اس سے لوگ ڈر گئے ہیں اور وہ کشمیر نہیں جانا چاہتے ۔لیکن میں گیا۔سری نگر ہوائی اڈے پر لوگوں کا میلا لگا ہوا ہے۔ یکدم ممبئی اور دہلی کی طرح۔ حالانکہ تھوڑی پولیس ہے، سیکورٹی بندوبست ہے لیکن وہاں پر ویسی کوئی دہشت نہیں ہے۔ ایسا ماحول ہے ،پتھر پھینکنے والے طلبائ، ملی ٹینٹوں اور فوجی دستوں کے بیچ۔ عام آدمی کو ان سب سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ عام لوگ یکدم سکون سے ہیں۔ وہ بیچارے غریب ہیں۔ ایسے ہوٹل والے، شکارے والے چاہتے ہیں کہ لوگ وہاں جائیں۔
کام صرف بات سے نہیں ہوگا
میں سری نگر، پہلگام اور گلمرگ بھی گیا۔ سب جگہ لوگوں نے بہت کھلے دل سے استقبال کیا۔ لوگ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سیلانی کشمیر آئیں۔ لوگ پرانے کشمیر، فلم شوٹنگ وغیرہ کے بارے میں یاد کرتے رہتے ہیں۔ وہاں لوگ بتاتے رہتے ہیں کہ یہاں اس فلم کی شوٹنگ ہوئی تھی۔ لوگ ہندی سمجھیں یا نہیں،لیکن شمی کپور، دیوا نند کو سب جانتے ہیں۔ ان ہوٹلوں کی بھی الگ پہچان ہے، جہاں راجیش کھنہ کبھی ٹھہرے تھے۔ کشمیر میں ایک الگ ہی ماحول ہے اور ہمیں اسے بچانا چاہئے۔ سیز فائر تو ہوگا نہیں، آپس سے جھگڑا ختم ہوگا نہیں، پاکستان سے آپ بات کرنا نہیں چاہتے ، آپ صرف جملے بازی کریں گے کہ بم اور بات چیت ایک ساتھ نہیں ہو سکتی۔ بم اور بات چیت ساتھ ہی ہوتی ہے نہ۔ سندر کانڈ میں لکھا ہوا ہے کہ ’ بھے بن ہوئے نہ پرتی ‘۔ جس کو بھی امن لانا ہے، اس کو ڈر تو دکھانا پڑے گا۔ لیکن یہ تو سیاست اور سفارت کا کام ہے، یہ اپنا کام نہیں ہے۔
پرویز مشرف دو بار آئے۔اٹل جی تقریباً تقریباً سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے تھے، لیکن آر ایس ایس کے کہنے پر اڈوانی جی نے اسے تڑوا دیا۔ مشرف دوبارہ منموہن سنگھ کے وقت میں آئے۔ تقریباً تقریباً سمجھوتہ ہو گیاتھا، لیکن پھر اس میں اڑنگا لگ گیا۔ یہ دونوں ملکوں کی بدقسمتی ہے ۔کشمیرجانے پر سمجھ میں آتا ہے کہ مسائل کا حل ہو چکا ہے، صرف دستخط کرنا باقی ہے۔ وہاں کے مقامی لوگ چاہتے ہیں کہ ہماری جان آپ چھوڑیئے۔ میں تو ہر ایک سے بات کرتا ہوں۔ وہاں کے طلباء مل گئے۔ دو لڑکیاں ملیں۔ ایک لاء میں جانا چاہتی ہیں، ایک کاروبار میں جانا چاہتی ہیں۔ جیسے باقی ہندوستان ہے، ویسے ہی کشمیر بھی ہے ۔لیکن کشمیر ایک مثال بن سکتا ہے کہ باقی ہندوستان کیسا ہو ۔کشمیر میں امن اور چین ہے۔ وہاں پر بد تمیزی ہے ہی نہیں۔ ہم تو دہلی ممبئی میں رہتے ہیں،یہاں ہر آدمی چلانے کو تیار ہے، سب کوئی جھگڑا کرنے کو تیار بیٹھا ہے۔ ہم جتنی جلدی کشمیر معاملے کا حل کرلیں، اتنا ہی اچھا ہوگا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

1958 میں ایوب خاں نے پاکستان کو ٹیک اُور کیا تھا۔ انہوں نے 1959 میں اس برصغیر کے جوائن ڈیفنس کو لے کر جواہر لال نہرو کو آفر دیا تھا لیکن اس وقت نہرو کا چین سے بہت لگائو تھا۔ انہوں نے آفر ٹھکرا دیا۔ جنرل تھمیا آرمی چیف تھے۔ انہوں نے استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ آپ نے غلط فیصلہ لیا۔ لمحے خطا کرتے ہیں اور صدیاں سزا پاتی ہیں۔ خیر، وہ موقع تو گیا۔ اس کے بعد دو اور مواقع آئے جسے بھی ہم نے کھو دیا۔ آج بھی پاکستان کے ساتھ کاروبار ہوتا ہے۔جہاں پابندی لگائی گئی تھی، وہاں بھی ہوتی ہے۔ ہمیں پوری پاکستانی پالیسی اور کشمیر پالیسی پر دوبارہ سے سوچنا چاہئے ۔ اس کے لئے سبھی پارٹیوں کو ملا کر بات چیت کرنی چاہئے۔ آج کوئی اور اقتدار میں ہے، کل کوئی اور آئے گا،لیکن یہ سب کا مسئلہ ہے۔ جب بھی موقع ملے، جو بھی وزیر اعظم ہوں، اس ایشو کو ترجیحی بنیاد پر لے کر پاکستان سے بات چیت کرنی چاہئے۔ ہم اپنا زیادہ پیسہ تعلیم، صحت اور ترقی کے دیگر ذرائع پر خرچ کریں،نہ کہ ایک دوسرے کو گولی مارنے میں، بندوقیں اور ٹینک خریدنے میں۔
میں تو ان میں سے ہوں جو چاہتے ہیں کہ ہندوستان و پاکستان کے درمیان سے ویزا ہٹا دینا چاہئے۔ ویزا کے قانون اتنے مشکل ہیں کہ آج لکھنو میں رہنے والا کوئی پوتا، لاہور میں رہنے والی اپنی دادی سے نہیں مل سکتا۔ جنہیں یہاں آکر توڑ پھوڑ کرنا ہے، وہ تو ہماری سرکار سے ویزا مانگتے ہی نہیں ہیں،وہ تو سمندر کے راستے آکر اپنا کام کرکے چلے جاتے ہیں۔ دشواری انہیں ہوتی ہے،جو شریف لوگ ہیں، جن کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے کہ وہ لکھنو کے پاس کے گائوں سے لاہور پہنچ کر اپنی خالہ پھوپھی یا دادی سے مل سکیں۔ ان میںکیا دشمنی ہوسکتی ہے۔ اسے انسانیت کی نظر سے دیکھئے ۔
مجھے لگتا ہے کہ کشمیر کو لے کر ہندو پاک کے بیچ مدعا حل ہوگیا ہے۔ دونوںکے بیچ ایک لائن کھنچی ہوئی ہے۔ آدھا کشمیر ان کے پاس ہے، آدھا ہمارے پاس۔ تیسری کلاس کا ایک طالب علم بھی بتادے گا کہ کوئی بھی اپنی زمین ہمیں نہیںدے گا۔ اب بس اس کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ صرف نیشنل فورم میںاپنی اپنی باتیں کہتے رہنے سے صورت حال کا حل نہیں ہوگا۔ ایوب خاں نے تو 1965 میںاعلان کردیا تھا کہ اتنے دن میںسری نگر لے لیںگے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ہندو بزدل ہیں،لڑ نہیںسکیںگے، لیکن ایسا ہوا نہیں۔ 1971میںان ہی کا آدھا ملک ٹوٹ گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔
آج سرکار کی کشمیر پر کیا پالیسی ہے؟ میںتو کشمیر جاکر آگیا اور اتنی اچھی جگہ کو ہم نے جیسا بنا رکھا ہے، اسے لے کر مجھے افسوس ہے ۔ ہم نے اپنا ہی گلشن کیوں اجاڑ رکھا ہے؟ گجرال صاحب کے دور میںایک لاہور کلب تھا، جہاں کشمیر مسئلے پر مثبت بات چیت ہوتی تھی۔ آج بھی ایسے صحافی ہیں،جو مانتے ہیںکہ ہندو پاک کے رشتے ٹھیک ہونے چاہئیں۔ کلدیپ نیر اس مسئلے کو لے کر فکرمند ہیں اور یہ صرف ان کا مسئلہ نہیںہے۔ 15 اگست 1947 کو پہلے تو ہندوستان پاکستان ایک ہی تھا۔ تب دہلی میں زمین کا کوئی تنازعہ ہوتا تھا تو اس کا فیصلہ لاہورہائی کورٹ کرتاتھا۔ اس زمانے میںدہلی ہائی کورٹ نہیںتھا۔
یہاں ہندوتو کو لے کر بحث کرنے والے لوگ ہیں،وہ ایک دن ہندوستان کو پاکستان بنا دیںگے۔ بنانا ہے تو ہندوستان کو کشمیر بنائیے۔ کشمیریت سے کچھ سیکھئے۔ اٹل جی نے تو کہا تھا کہ کشمیریت ، انسانیت اور جمہوریت کے دائرے میںکشمیر کا حل کریںگے۔ آج کی سرکار کم سے کم اٹل جی کے راستے پر چل کر تو دکھائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *