کشمیر: شہادت کے لیے ہر گھر سے ایک نوجوان

جنوبی کشمیر ،کشمیر کا سب سے مشہورعلاقہ ہے۔ جنوبی کشمیر کو ملی ٹنٹس کے گنجان علاقے کے طور پر جانا جاتا ہے۔یہاں پر فوج کی سرگرمیاںزیادہ چل رہی ہیں۔ فوج کا آل آؤٹ آپریشن بھی اسی علاقے میںہو رہا ہے۔ اس علاقے کے زیادہ تر حصے ملی ٹنٹ کے اثروالے علاقے مانے جاتے ہیں اور یہاںکے لو گ اکثر ملی ٹنٹ کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس علاقے میںجانے سے لوگ ہچکچاتے ہیں۔ مقامی باشندے بھی شام چھ بجے کے بعد اکیلے نہیںگزرتے ،دو یا تین کے جھنڈ میں ہی گزرتے ہیں۔ انھیںڈر ہوتا ہے کہ کہیںسیکورٹی فورسیز انھیں ملی ٹنٹ کا ساتھی یا ان کا ہمدرد نہ سمجھ لیں اور ان پر کوئی مصیبت نہ آجائے۔
کیسے بنا جنوبی کشمیر کاسفر؟
اسی جنوبی کشمیر کے ایک ڈگری کالج کے سیمینار میںشریک ہونے کے لیے سری نگر سے بشیر اسد کا فون آیا تھا۔ بشیر اسد نے تجویز رکھی کہ جنوبی کشمیر کے اسٹوڈنٹس میرے ساتھ انٹریکشن چاہتے ہیں۔ کیا میںایک دن کے بعد سری نگر آسکتا ہوں؟ میرے لیے بشیر اسد کا فون آنا حیرت انگیز بھی تھا اور ایک موقع بھی تھا۔ 2016 میںجب کشمیر سلگ رہا تھا،تب سب سے پہلے وہاںپہنچنے والوں میں میں، ابھئے دوبے اور اشوک وانکھیڑ ے تھے۔ ہم نے وہاں جا کر سماج کے ہر طبقہ کے لوگوں سے بات چیت کی تھی۔ کشمیر کے لوگوںکا درد سمجھا تھا اور اسے کھل کر ہم نے سارے ملک کو بتایا بھی تھا۔ تب سے میرا کئی بار کشمیر جانا ہوالیکن طلباء سے کبھی منظم طور پر ملاقات نہیںہو پائی۔ کشمیر یونیورسٹی کے کچھ طلباء مجھ سے سری نگر میںملے تھے لیکن جہاںجانے کی مجھے پیش کش ہوئی تھی، وہ میرے لیے کشمیر کے نوجوانوں کا د ماغ سمجھنے کا ایک موقع تھا۔ اسے میں نے گنوایا نہیں اور وہ وقت آیا کہ میںاس ڈگری کالج کے سیمینار روم میںبیٹھا تھا۔ سیمینار روم میںآنے سے قبل کالج کے پرنسپل نے مجھ سے کہہ دیا تھا کہ بچے ہیں اور یہ بچے سوال بھی کر سکتے ہیں اور کچھ شرارت بھی کر سکتے ہیں۔
میں توقع کر رہا تھا کہ مجھے کچھ نعرے بازی سننے کو ملے گی، کافی تلخی دیکھنے کو ملے گی، اس لیے سیمینار روم میںجب سب سے پہلے مجھے کچھ کہنے کے لیے کہا گیا تو میںنے انھیںاپنی اسٹوڈنٹ لائف کے کچھ تجربے سنائے۔ جیسے کس طرح ہم ٹیچروں کو پریشان کرتے تھے۔ اس تجربے نے تناؤ تھوڑا کم کیا۔ اس کے بعد انھیںمیں نے لاہور کے مشہور گرلز کالج کے کچھ قصے سنائے کہ جب میںوہاں گیا تو کس طرح وہاںکی لڑکیوںنے سوالوں کے گولے داغے۔ ایسا لگا جیسے ہندوستان اور پاکستان کے بیچ اس کالج کے ہال ہی میں جنگ ہونے والی ہے۔ لیکن جب میںاس ہال سے باہر نکلا تو ایک کونے پر لڑکیوںکا جھنڈ تھا۔ اس جھنڈ نے مجھے بلایا اور مسکراتے ہوئے کہا ، سر آپ تو ہمارے ہی جیسے لگتے ہیں۔ میںنے اس ڈگری کالج کے طلباء اور طالبات کو بتایا کہ میری زندگی کا وہ اب تک کا سب سے بہترین کمنٹ تھا، میںایسا مانتا ہوں۔
ماحول تھوڑا نارمل ہوااور اپنے آنے کی وجہ بتا کر میںنے ان سے کہا کہ میں یہ جاننے اور سمجھنے آیا ہوں کہ آپ کشمیری نوجوانوں کا دماغ کیا کہہ رہا ہے، کیا چل رہا ہے، آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے ان ہی سے بولنے کے لیے کہا اور تب پہلے بولنے والے ’اسپیکر‘ (جو شاید 19-20 سال کے ہوں گے) نے بہت صفائی اور منطقی ڈھنگ سے کشمیر کے درد کو سامنے رکھا۔ اس نے بتایا کہ نوجوان صرف جذبات سے ایکسائٹیڈ نہیںہیں،خیالات کے ساتھ بھی ایکسائٹیڈ ہیں۔ وہیںبیٹھی ایک طالبہ نے بھی بتایا کہ کشمیر میںکیا ہورہا ہے اور کتنی پریشانیاں ہیں۔ پھر تو وہاںبولنے والوںکی قطار لگ گئی۔ تقریباً آٹھ یا دس طلباء اور طالبات نے اپنی باتیںسامنے رکھیں۔
تب مجھے لگا کہ حکومت ہند اپنی کوششوںمیںکیسے چوک کر رہی ہے۔ حکومت ہند کے پاس ایسا کوئی بھی پلان نہیںہے کہ وہ کشمیر کے نوجوانوں کو منطقی ڈھنگ سے اپنی بات سمجھا پائے۔ اتنی بڑی سرکار جو 125 کروڑ لوگوں کی نمائندگی کرنے کا دم بھرتی ہے، کشمیر کے 60 لاکھ لوگوںمیںسے کچھ ہزار نوجوانوںکو اپنی بات نہیںسمجھا پارہی ہے۔ کشمیری نوجوانوںکے درداور جوش نے مجھے یہ تاثر دیا کہ حکومت ہند روزانہ موقع کھوتی جارہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کشمیری نوجوانوں سے بات نہیں کرنا سرکار کی چوک
اس کے بعدوہاںسے مجھے تقریباً 30 کلومیٹر دور ایک ہائر سیکنڈری اسکول لے جایا گیا۔ مین روڈ سے تقریباً چھ کلومیٹر اندر بسے اس گاؤں کے ہائر سیکنڈری اسکول کے ایک کمرے میں لڑکے اور لڑکیوںکا جھنڈ تھااور یہ سارے ہائر سیکنڈری کے شاید سب سے سمجھدار طلباء رہے ہوںگے۔ یہاںبھی جب مجھ سے بولنے کے لیے کہا گیا تو میںنے ان سے یہی گزارش کی کہ آپ بولیے، میںتو آ پ کو سننے کے لیے آیا ہوں ۔ میںآپ کو بتادوں کہ ڈگری کالج میںسب نے انگریزی میں بات کی اور اس ہائر سیکنڈری اسکول میںبھی سب نے انگریزی میںبات کی۔ میںنے ڈگری کالج کے لڑکوں سے بھی پوچھا تھا اور یہاں بھی ہائر سیکنڈری اسکول کے بچوں سے پوچھا کہ کیا آپ اپنے گھروں میںانگریزی میںبات کرتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میںچھوٹا ساٹھہاکہ ملا۔ میںنے کہا کہ میں آپ کی اردو سننے آیا ہوں۔ پھر سب نے خوبصورتی سے اردو میںبات چیت کی۔ ہائر سیکنڈری اسکول کے پانچ چھ بچوں نے اپنی باتیں کہیں۔ انھوں نے بھی اسی احساس کو سامنے رکھا کہ کشمیر کا درد کسی کو سنائی کیوں نہیںدیتا۔ لڑکے لڑکیاں اپنا، اپنے پڑوسیوں کا، رشتہ داروں کا،دوستوں کا درد بیان کررہے تھے اور میںان کے چہرے پر چھائی ہوئی بے بسی اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ دیکھ کر یہی سوچ رہا تھا کہ حکومت ہند کشمیری نوجوانوںسے بات نہیںکرکے کتنی بڑی چوک کر رہی ہے۔ اس سے پہلے، ڈگری کالج میںمیرے آنے کی خبر پھیل گئی تھی۔ اس لیے مقامی نیوز چینل ای ٹی وی، زی نیٹ ورک اور گلستان نیوز کے رپورٹر وہاں پہنچ گئے تھے۔ انھوں نے بھی مجھ سے بات چیت کی۔ میںنے ان سے کہا کہ ایک صحافی کے ناطے میںدیکھ رہاہوں کہ سرکار کی کوششوں میںاور نوجوانوں کی سمجھ میںکتنا فرق ہے۔ اس لیے میںسرکار سے اپیل کروں گا کہ وہ فوراً بات چیت کی شروعات کرے اور بات چیت کی شروعات کشمیر کے نوجوانوںسے کرے۔ رپورٹروں کے پوچھنے پر میںنے کہا کہ سرکار کو تین چار پانچ گروپ بنانے چاہئیں اور ان گروپس کو یونیورسٹیوں میں،ڈگری کالجوں میں اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں بھیجنا چاہیے۔ یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کشمیر کے نوجوان کیا چاہتے ہیں؟
رپورٹروںنے مجھ سے کہا کہ آپ کو کشمیر میںلوگ چاہتے ہیں۔ آپ کا چہرہ کشمیر میں بہت شناسا ہے ا ور سبھی لوگ آپ کی عزت کرتے ہیں۔ آپ کے اخبار کی وجہ سے اور نیوز چینلوں پر آپ انسانیت کے حق میںجو بات کرتے ہیں، اس کا یہاں بہت اثر ہے۔ رپورٹروں نے ہی مجھ سے کہا کہ آپ ترال ضرور جائیے۔ میںان سے پوچھتا رہ گیا کہ ترال کیوںجاؤں؟ تو انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیںدیا۔
ہائر سیکنڈری اسکول سے میںیہ سوچتے ہوے باہر نکلا کہ یہ سولہ ، سترہ، اٹھارہ سال کے لڑکے لڑکیاں مایوسی کے کس مقام پر پہنچ رہے ہیں۔ دونوںجگہ اجتماعی بات چیت کے بعد مجھے لگا کہ یہاںکے نوجوان زندگی اور موت کے بیچ کافرق بھول چکے ہیں۔ انھیں موت کا ڈر نہیںستاتا۔ وہ سوچتے ہیںکہ ہم جتنا اپنے آس پاس دیکھ رہے ہیں، جو ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں،اس سے بہتر موت ہے۔ یہ احساس مجھے اپنے پورے جنوبی کشمیر کے دورے میںدکھائی دیا۔ ایسا جینا بھی کیا جینا، اس سے تو بہادری کی موت اچھی۔ اگر یہ احساس نوجوانوں کے بیچ پھیل جائے تو یہ ان کے لیے شرم کی بات ہے جو حکومت چلاتے ہیں، جنھیںلو گ چنتے ہیں یا جنھیںاپنے مسئلوںکے حل کی ذمہ داری سونپتے ہیں۔
جنوبی کشمیر میںتھوڑا اور گھومنے کا فیصلہ ذہن میںلیے میںواپس سری نگر لوٹ آیا۔ راستے میں فوج کے جوان دکھائی دیے۔ تقریباً ہر دس منٹ کے بعد فوج کے جوانوںکاجھنڈ گاڑیاں روک رہا تھا، چیکنگ کر رہا تھا اور چیکنگ کے بعد ہی لوگوںکو جانے دے رہا تھا۔ لیکن ایک کمال کی بات تھی کہ جنوبی کشمیر میں، جہاںلوگ جانے سے ڈرتے ہیں یا آس پاس بھی نہیںگھومتے، وہاں صرف ایک طبقے کو کوئی ڈر نہیںتھا اور وہ تھا سیاح۔ سیاحوںکو ہر طرف جانے کی آزادی تھی۔شاید فوج کے لوگ بھی انھیںدیکھ کر پہچان لیتے ہیں اور پوشیدہ طور پر ملی ٹینٹ بھی انھیںآنے جانے کی آزادی دے دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں غلطی سے ایک سیاح پتھر بازی کے بیچ پھنس گیا تھا جہاں اس کی موت ہوگئی تھی۔ سب نے اس کی موت پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
واپس آتے ہوئے میںسوچ رہا تھا کہ ڈگری کالج اور ہائر سیکنڈری اسکول میںپڑھنے والے لڑکے اور لڑکیاں کتنے سمجھدار ہیں۔ دنیا کے سارے سبجیکٹس سے ان کا رشتہ ہے سب کے دل میںکچھ نہ کچھ بننے کی خواہش ہے۔ کوئی انجینئر، ڈاکٹر، آئی پی ایس، افسر بننا چاہتا ہے لیکن وہ سسٹم سے ناراض ہیں اور سسٹم چلانے والی سرکار سے تو بے حد ناراض ہیں۔ سرکار اس ناراضگی کو کیوںنہیںسمجھ رہی ہے اور کیوں نہیںاس ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کرر ہی ہے؟ اس کے پیچھے کیا دلیل ہوسکتی ہے،کیا حکمت عملی ہوسکتی ہے؟ کافی دماغ لگانے کے بعد بھی اس دن مجھے جواب نہیںملا۔
اگلے دن صبح حریت کے سینئر لیڈر پروفیسر عبدالغنی بٹ سے میری ملاقات ہوئی اور ان سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بات چیت ہوئی۔ پروفیسر بٹ کے خیالات بہت صاف ہیں۔ وہ کشمیر کے درد کو بھی سمجھتے ہیں اور بین الاقوامی صورت حال کو بھی۔ انھوںنے مجھ سے صاف طور پر کہا کہ ہندوستان، پاکستان اور یہاںکے لوگ کئی ساری سچائیاں نہیںسمجھ پارہے ہیں۔ ان میںایک سچائی یہ ہے کہ چین پاکستان میںگھس گیاہے اور وہاں اس کا بڑا انویسٹمنٹ ہے۔ امریکہ کا انویسٹمنٹ پاکستان میںبھی ہے اور ہندوستان میںبھی ہے۔
روس افغانستان میں اپنی ہار کا درد اور غصہ لئے ہوئے نظر رکھ رہاہے اور امریکہ کو جیتنے نہیں دینا چاہتا۔ اس حالت میں دونوں ملکوں کے بیچ جنگ تو ہو نہیں سکتی،صرف بات چیت ہو سکتی ہے۔بات چیت چاہے آج ہو یا ایک سال بعد ہو۔ بات چیت تو ہندوستان اور پاکستان کے بیچ ہوگی ہی۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھ رہا ہوں کہ اس میں اب امریکہ ، چین اور روس بھی شامل ہوں گے۔ کیونکہ کشمیر عالمی طاقتوں کا سب سے اہم اور پرکشش مرکز بن چکا ہے۔ پروفیسر عبد الغنی بٹ نے صاف طور پر کہا کہ ہمارے یہاں آج سے چالیس سال پہلے جو درد اور غصہ تھا، وہ اگلی نسل میں منتقل ہوا۔ آج وہ نفرت اور غصہ آنے والی نسل میں مکمل طریقے سے منتقل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی سرکار بات چیت میں جتنی تاخیر کررہی ہے اتنا ہی وہ غلط کررہی ہے۔ پروفیسر بٹ کی باتوں میں پوری سچائی تھی۔ کشمیر کے جتنے لوگوں سے میری ملاقات ہوئی ،وہ سارے لوگ’ مثبت بات چیت شروع ہو‘، اس کی بات کرتے دکھائی دیئے۔
کیوں نڈر ہو گئے ہیں کشمیری؟
پروفیسر غنی بٹ کے بعد میر ی ملاقات سری نگر کے سات کاروباریوں سے ہوئی۔ ان کاروباریوں سے مجھے جو پتہ چلا، اس سے میں تھوڑا کانپ گیا۔ کاروباریوں کے لیڈر نے مجھ سے کہا کہ وہ تین دن پہلے شوپیاں میں ایک میٹنگ میں گئے تھے۔ شوپیاں کشمیر کے سب سے افراتفری والے علاقوں کا مرکز ہے جہاں ابھی بھی ہڑتال چل رہی ہے۔انہیں وہاں کاروباریوں کے بیچ تقریر کرنا تھا لیکن اور بھی نوجوان وہاں آگئے۔ اس بھیڑ میں ملی ٹینٹ بھی تھے۔کاروباریوں کے اس لیڈر نے اپنی بات رکھی اور کہا کہ کشمیرمیں کاروبار ختم ہو گیاہے، طرح طرح کی پریشانیاں ہیں۔ اسکول نہیں چل پا رہے ہیں،طلباء نہیں پڑھ پارہے ہیں۔ اس پر بھیڑ میںشامل لوگوں نے کہا کہ نہ چلے کاروبار، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، جس اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے ،وہ اگر ہمیں زندہ رکھ رہا ہے تو وہ ہمارے لئے کھانے کا انتظام بھی کرے گا۔ لیکن اگلی بات جو ان کاروباریوں نے بتائی وہ بات اب تک ملک میں کہیں نہیں آئی ہے۔
وہاں موجود ملی ٹینٹ نے عوامی طور سے کہا کہ ہماری آزادی کی لڑائی اس مقام پر پہنچ گئی ہے، جہاں پر ہمیں ہر گھر سے ایک نوجوان چاہئے اور بھیڑ میں موجود لوگوں نے کہا کہ ہاں ہم اپنے گھر سے ایک نوجوان دیںگے۔ سائوتھ کشمیر میں ملی ٹینٹس کی اس لئے عزت ہے، کیونکہ وہ آزادی کی لڑائی لڑنے والے عظیم سپاہی مانے جاتے ہیں۔ جس گھر میں نوجوان ہاتھ میں ہتھیار لے کر جنگلوں اور پہاڑوں میں نکل جاتاہے، اس گھر کی کافی عزت کی جاتی ہے۔ اسی لئے جب کسی ملی ٹینٹ کی موت ہوتی ہے تو کشمیر میں اسے موت نہیں شہادت کہتے ہیں اور اس کے جنازے میں 20 سے 40 ہزار تک کی بھیڑ شامل ہوتی ہے۔ ان کاروباریوں نے کہا کہ ہم سے لوگوں نے صاف کہا کہ ہمیں کسی چیز کی فکر نہیں ہے۔ لڑتے ہوئے موت آجائے، وہی بڑے فخر کی بات ہے ۔وہاں موجود لوگوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو اللہ کے راستے پر ڈال دینا چاہتے ہیں۔ یعنی ماں ،باپ کو بھی اپنے بچوں کی ممکنہ موت کا کوئی ڈر نہیں رہا۔ انہوں نے صاف کہا کہ سرکار بات چیت کا دکھاوا بند کر کے حریت کے لوگوں سے سیدھی بات چیت کرے، لیکن بات چیت سنجیدہ ہونی چاہئے، بات چیت کا دکھاوا نہیں ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مذاکرات کار کی جب تقرری ہوئی تھی تو ان کا کافی استقبال ہوا لیکن اب انہیں لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
ڈوبھال کی پالیسی ناکام ہو گئی ہے
کاروباریوں کے بعد میری ملاقات سول سوسائٹی کے لوگوں سے ہوئی، جس میں قلمکار، پروفیسر، ریٹائرڈ سول سروینٹس تھے۔ ان لوگوں نے کہا کہ کم سے کم بات چیت شروع ہو تو اس سے پتہ چلے گا کہ سرکار ہماری تکلیف کو اتنے دنوں کے بعد کچھ سمجھی بھی ہے یا نہیں؟ انہیں اس بات کا دُکھ تھا کہ پچھلی سرکار کے مذاکرات کار رہے تینوں اراکین کی رپورٹ کو پچھلی منموہن سرکار نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور مودی سرکار نے پچھلے چار سال میں کشمیر مسئلے کو حل کرنے کی سمت میں نصف قدم بھی نہیں بڑھایا۔
سول سوسائٹی کے لوگ بھی کہنے لگے کہ ابھی تو پھر بھی حریت کا ایک نام ہے اور حریت میں کشمیر کے زیادہ تر لوگوں کا بھروسہ ہے۔ اگر ان سے سرکار بات چیت کرتی ہے تو بات کہیں پہنچے یا نہ پہنچے،لیکن دونوں طرف تنائو میں کمی آئے گی اور کشمیر کے لوگوں کو لگے گا کہ سرکار نے ایک قدم آگے بڑھایا ۔ سول سوسائٹی کے لوگوں کو اس بات کی بھی فکر تھی کہ جس طرح حریت کی ساکھ سرکار کے ذریعہ کم کی جارہی ہے، پھر جب کبھی بات چیت کاموقع آئے گا تو سرکار کس سے بات چیت کرے گی؟
سول سوسائٹی کے لوگوں نے ایک بات اور کہی۔ ان کا کہنا تھاکہ ڈوبھال صاحب کی تھیوری یا ڈوبھال صاحب کی پالیسی کشمیرمیں بے کار ثابت ہو چکی ہے۔ ان لوگوں نے بتایا کہ یہ ڈوبھال صاحب کی پالیسی تھی کہ کشمیر کے لوگوں کو جتنا کرش کرو، جتنا دبائو، جتنا ختم کرو، اتنا ہی ملی ٹینسی پر لگام لگے گی۔ لیکن پچھلے چار سالوں میں جتنے ملی ٹینٹ مارے گئے،ان سے زیادہ ملی ٹینٹ پیدا ہوگئے اور برہان وانی کی موت نے تو کشمیر میں سرکار کے خلاف اور ملی ٹینٹ کے حق میں ایک آندولن ہی کھڑا کردیا۔ اب ڈوبھال صاحب کی پالیسی ناکام ہو گئی ہے اور خود سیکورٹی دستے مانتے ہیں کہ کشمیر میں مقامی نوجوان ملی ٹینسی میںشامل ہو رہے ہیں۔
حالانکہ زیادہ تر کی زندگی چھ مہینے یا سال بھر سے زیادہ نہیں ہے، اتنے میں ہی ان کی کسی نہ کسی طرح مڈبھیڑ میں موت ہو جاتی ہے۔ اس کے باوجود جس طرح سے 18-22 سال کے نوجوان ملی ٹینٹ بن رہے ہیں یا ملی ٹینسی کو سپورٹ کررہے ہیں، وہ بتاتا ہے کہ سرکار کی سوچ میں بنیادی دشواری ہے۔ سول سوسائٹی کے لوگوں نے ایک بہت ہی اہم بات بتائی، ان کا کہناتھا کہ پہلے تو جموں کے لوگوں کی مانگ ہوتی تھی کہ جموں اور کشمیرکو دو حصے میں بانٹ دیا جائے،یعنی جموں کو کشمیرسے الگ کر دیاجائے۔ لیکن اب یہی مانگ کشمیر کے مقامی لوگ کرنے لگے ہیں۔ اب کشمیری لوگ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کو جموں سے الگ کر دیا جائے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کشمیریوں کے خلاف زہر اگلتے نیوز چینل
ایک مشہور خاتون پروفیسر نے بات چیت میں کہاکہ کشمیرکے لوگوں کو لے کر سارے ہندوستان میں اتنا زہر پھیلا دیا گیاہے کہ کیا کہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک دن پہلے نیوز چینل دیکھ رہی تھیں۔ تمل ناڈو میں پولیس کے ذریعہ پیلٹ گن استعمال کرنے پر ایک خاتون نے ٹی وی پر کہا کہ یہ کشمیر نہیں ہے، جہاں تم لوگوں پر پیلٹ گن چلائو۔ حالانکہ دو سیکنڈ کے بعد انہوں نے اسے سدھارا اور کہا کہ کشمیر میںبھی پیلٹ گن نہیںچلنی چاہئے۔ خاتون پروفیسر نے کہا کہ نیوز چینلوں نے کشمیر کو لے کر زیادہ زہر پھیلادیا ہے۔
سول سوسائٹی کو اس بات سے بھی کافی غصہ تھا اور وہی غصہ مجھے طلباء کے بیچ بھی دیکھنے کو ملا کہ دہلی کے نیوز چینل اور ان کے اینکر کشمیر مسئلے کو بگاڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کشمیر کا ماحول بگاڑنے میں ان کا 90فیصد حصہ ہے۔ جس طریقے سے نیوز چینلوں پر بحث ہوتی ہے، اینکر جس طریقے سے عنوان کو اٹھاتے ہیں اور جس طرح سے ریمارک کرتے ہیں، وہ کشمیر کے لوگوں کے جذبات پر سیدھی چوٹ ہوتی ہے۔ تب کشمیر کے لوگ سوچتے ہیںکہ کیا یہی کشمیر کے ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہونے کا ثبوت ہے؟ہماری روز توہین کرنا ، ہمیں روز گالیاں دینا ، ہمیں روز ملی ٹینٹ بتانا، پاکستان حامی بتانا جاری رہے تو پھر ہم کیوں رہیں آپ کے ساتھ؟پھرتو وہ زیادہ صحیح ہیں، جو آزادی مانگتے ہیں۔ انہوں نے سارے چینلوں کو اس کا حصہ بتایا۔ صرف ایک این ڈی ٹی وی کے لئے انہیں تھوڑی ہمدردی تھی، لیکن این ڈی ٹی وی بھی جب یہاں کے نوجوانوں کی تنقید کرتا ہے تو پھر کچھ بچ ہی نہیں جاتا ۔
جب میں برہان کے گھر پہنچا
ٹی وی چینل کے صحافیوں نے مجھے ترا ل جانے کی صلاح دی تھی۔ ترال سائوتھ کشمیر کا وہ مشہور علاقہ ہے ، جو شوپیاں کے بعد سب سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ ترال برہان وانی کے علاقے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وانی یہیں کا تھا۔2016 میں برہان وانی کے جنازے میں 5 لاکھ سے زیادہ لوگ شامل ہوئے تھے۔ برہان اس علاقے میں بہت مقبول تھا۔ مقامی لوگ اسے اپنے دُکھوں کے خلاف لڑنے والا سپاہی مانتے تھے۔
ترال کے راستے میں مجھے بنکر دکھائی دیئے، فوج کے سپاہی دکھائی دیئے۔ لوگ بے خوف گھومتے دکھائی دیئے۔ حالانکہ مجھے سری نگر میں کہا گیا کہ میں ترال سنبھل کر جائوں اور وہاں سے 5 بجے تک واپس آ جائوں۔ برہان وانی کے نام اور ان ڈرائونے انتباہات کی وجہ سے میرے اندر کے حوصلے نے مجھے نڈر بنا دیا۔ میں نے طے کیا کہ میں سب سے پہلے برہان وانی کے گھر جائوں گا۔ برہان وانی کا گھر ترال کے شروع میں ہی ہے۔ برہان کے والد اپنے گھر کے لان میں اکیلے بیٹھے تھے۔ ان سے تعارف ہوا، دھیرے دھیرے بات چیت شروع ہوئی۔ میں بالکل خاموش تھا اور وہ بول رہے تھے۔ ان کے دو بیٹے قربان ہوگئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح سے نوجوان ملی ٹینسی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ وہ جو دیکھتے ہیں، محسوس کرتے ہیں اور جب انہیں اس کا کوئی نتیجہ نہیں ملتا تو ہاتھ میں بندوق لے کر موت کو گلے لگانے نکل پڑتے ہیں۔
برہان وانی کے گھر میں گائوں کی عورتیں، مرد برتن لے کر پانی بھرنے آرہے تھے۔ میں نے پوچھا کیا گائوں میں پانی نہیں آتا یا صرف آپ کے گھر میں ہی نل ہے۔تب برہان وانی کے والد نے بتایا کہ یہاں پر ایک چشمہ ہے، جو شاید ہزاروں سال سے ہے۔ وہاں سے مسلسل پانی آتا رہتاہے۔ اس میں کیلشیم کی مقدار زیادہ ہے۔ اس لئے علاقے کے لوگ اس چشمے سے پانی بھرتے ہیں۔ مجھے وہاں سکھ کمیونیٹی کے لوگ بھی پانی بھرتے ہوئے دکھائی دیئے۔ وہ ترال میں ہی رہتے ہیں اور مقامی آبادی کے ساتھ رچ بس گئے ہیں۔مقامی لوگوں اور خاص طور پر سکھ کمیونیٹی کے لوگوں نے برہان وانی کے مزاج کی کافی تعریف کی۔ تب مجھے سمجھ میں آیا کہ شاید برہان وانی کا سلوک ، طرز عمل کا ہی اثر رہا ہوگا کہ اس کے جنازے میں 5 لاکھ سے زیادہ لوگ شامل ہوئے۔ برہان وانی کے بھائی خالد کا بھی انکائونٹر ہوا تھا۔ جب میں نے برہان وانی کے والد سے برہان اور خالد کے انکائونٹر کے بارے میں پوچھا تو وہ خاموش ہو گئے۔
میں نے پھر ترال کے اور لوگوں سے جانکاری لی تو پتہ چلا کہ برہان وانی 2010 میں ہی ملی ٹینسی میںشامل ہو گیا تھا۔ اس کا بھائی خالد ایک بار اس سے ملنے پہاڑوں میں گیا۔اسے لوٹتے وقت سیکورٹی دستوں نے پکڑ لیا اور جب پتہ چلا کہ وہ برہان کا بھائی ہے تو اسے مارا پیٹا اور کہا کہ ہمیں وہاں لے چلو جہاں برہان ہے۔ خالد سیکورٹی دستوں کو لے کر اس جگہ گیا، لیکن تب تک برہان وانی وہاں سے جا چکا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق،خالد کے سر کے پچھلے حصے پر زور سے رائفل کے بٹ سے ہٹ کیا گیا۔ خالد نے جیسے ہی ہاتھ پیچھے کئے، اسے زمین پر گرا کر اس کے سارے دانت توڑ دیئے گئے۔لوگوں نے بتایا کہ اس کے جسم پر کوئی نشان نہیںتھا، منہ پر پٹی بندھی تھی، صرف ناک دکھائی دے رہی تھی، کیونکہ اس کے سارے دانت شاید پیر کی ٹھوکر سے یا رائفل کی بٹ سے توڑ دیئے گئے تھے۔ لوگوں نے بتایا کہ برہان وانی کا پولیس کے ساتھ کوئی انکائونٹر ان کے جانتے ہوئے نہیں ہوا ہے۔
برہان وانی کی موت کے بارے میں بھی مقامی لوگوں نے ایک واقعہ بتایا۔ برہان وانی کو یہ پتہ چلا کہ سیکورٹی دستے امر ناتھ یاترا پر آنے والے لوگوں پر حملے کی اسکیم بنا رہے ہیں، اس سے برہان وانی پریشان ہو گیا۔ اس نے ترال کے اپنے دو متعلقہ ذرائع سے کہا کہ وہ اس کی بات چیت ترال کے ایم ایل اے سے کرائیں۔ وہ لوگ ایم ایل اے کے پاس گئے۔ ایم ایل اے نے برہان وانی سے بات چیت کی۔ برہان وانی نے ان سے کہا کہ ہم لوگ کبھی بھی امر ناتھ یاتریوں پر حملہ نہیں کریںگے، لیکن ہمارے نام پر کچھ لوگ حملہ کرسکتے ہیں۔ ایم ایل اے نے فوراً وہیں سے محبوبہ مفتی کو فون ملایا اور ان سے ملنے کی اجازت مانگی۔ محبوبہ مفتی نے انہیں فوراً بلا لیا۔ ایم ایل اے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر پہنچے اور محبوبہ مفتی کو ساری بات بتائی۔ محبوبہ مفتی نے ڈی جی پی کو بلایا اور ساری جانکاری دی۔ ڈی جی پی وہاں سے نکل کر گئے اور ایم ایل اے ترال کا فون نگرانی پر لگا دیا۔ اس سے پتہ چلا کہ کن دو لڑکوں کے فون سے ایم ایل اے کو فون جا رہا ہے۔ انہیں پکڑ لیا گیا۔ ان دونوں لڑکوںکو تھرڈ ڈگری ٹریٹمنٹ دی گئی۔ ان سے کہا گیا کہ پولیس فورس کو لے کر وہاں چلو، جہاں برہان وانی کے ہونے کا امکان ہے۔ لوکل پولیس کو پتہ نہیں چلا اور ڈی جی پی کی ہدایت پر ایک اسپیشل ٹاسک فورس نے وہاں چھاپہ مارا اور برہان وانی کا انکائونٹر ہوگیا۔
ان قصوں میں کتنی سچائی ہے، میں نہیں جانتا۔لیکن یہ دونوں قصے ایسے ہیں، جو ترال کے ہر آدمی کی زبان پر ہیں۔ ترال اور شوپیاں ملی ٹینسی کے بڑے مراکز ہیں اور یہاں آرمی کا موومنٹ بھی بہت زیادہ ہے۔
فوج، گولی ، موت کا ڈر نہیں
مقامی لوگ یہ بھی بتاتے ہیں کہ فوج کے لوگ رات میںگھروں کے اندر آجاتے ہیں، مردوں کو باہر نکال دیتے ہیں، کھانا بنواتے ہیں ،رات میں وہاں سوتے ہیں۔یہ سچ ہے یا جھوٹ، پتہ نہیں۔لیکن اس طرح کے قصوں کی بھرمار پورے سائوتھ کشمیر میںہر جگہ بکھری ملتی ہے۔ ہوسکتاہے ایکادکا قصے ہوئے ہوں یا بہت سارے قصے ہوں۔ لیکن یہ تو پتہ چلتا ہے کہ فوج کا رشتہ مقامی لوگوں سے بہت اچھا نہیں ہے۔ ترال کے سفر سے میرے سامنے یہ صاف ہوا کہ جب تک مقامی لوگوں کی حمایت ملی ٹینٹ کو ملتی رہے گی تب تک ملی ٹینسی کا خاتمہ کم سے کم گولی سے ممکن نہیں ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ آج کتنے لوگ ملی ٹینٹ بننے گئے ہوئے ہیں۔ یہ سب 20 سے 25 سال کے نوجوان ہوتے ہیں۔ ابھی تک کسی لڑکی کے ملی ٹینسی میںشامل ہونے کا ثبوت نہیں ملا ہے لیکن جس طرح لڑکیوں کے تیور مجھے دکھائی دیئے، اس سے لگا کہ بہت جلد ہمارے سامنے یہ خبر بھی آئے گی کہ لڑکیاں بھی ملی ٹینٹ بن رہی ہیں۔
سرکار نے کہا کہ سری نگر میں پتھر بازی کم ہو گئی ہے، کیونکہ این آئی اے کا آپریشن حریت لیڈروں کے خلاف ہوا۔ لیکن لوگوں نے مجھے بتایا کہ پتھر بازی اور خطرناک ہوگئی ہے۔ پہلے پتھر بازی پولیس یا سی آر پی ایف کے جوانوں پر ہوتی تھی، لیکن اب وہاں ہو رہی ہے، جہاں فوج کا ملی ٹینٹوں کے خلاف آپریشن ہوتا ہے۔ 500 سے 1000 لوگ نکل کر فوج پر پتھر بازی کرتے ہیں۔ کچھ قصے تو ایسے سامنے آئے کہ پتھر بازی کی وجہ سے فوج کا آپریشن ناکام ہو گیا یا فوج کو اپنا آپریشن روکنا پڑا۔ فوج کا ڈر نہیں ،گولی ، موت کا ڈر نہیں ، سیدھے سیدھے ملی ٹینٹ کی حمایت میں پتھر بازی ۔ جنرل راوت کے اس بیان کا کوئی اثر نہیں کہ وہ پتھر بازوں کو بھی ملی ٹینٹ کی طرح ٹریٹ کریں گے۔
ترال سے واپس لوٹتے ہوئے یہ سمجھ میں آگیا کہ کشمیر ، خاص کر سائوتھ کشمیر میں کہیں ویتنام کی تاریخ نہ دوہرائی جائے ۔کئی جگہ نوجوانوںنے مجھ سے کہا کہ امریکہ ویتنام میں اس لئے ہار گیا تھا،کیونکہ مقامی لوگ کچھ اور چاہتے تھے اور امریکہ جیسی عظیم طاقت کچھ اور۔ کچھ جگہ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ روس افغانستان میں ہارا اور روس اس ہار کے نتیجے میں ٹوٹ گیا۔ یو ایس ایس آر سے وہ صرف روس رہ گیا۔ اس بات نے مجھے یہ لکھنے کو مجبور کیا کہ سرکار کو اپنی کشمیر پالیسی کے بارے میں دوبارہ سوچنا چاہئے اور وزیر اعظم کو اپنے اس بیان کا لحاظ رکھنا چاہئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بات گولی سے نہیں بنے گی، بات بولی سے بنے گی۔
کشمیر کے بی جے پی لیڈر بھی بات چیت چاہتے ہیں
سائوتھ کشمیر کے سفر کے بعد مجھے لگا کہ بی جے پی کے ان لوگوں سے ملنا چاہئے ، جنہوں نے کشمیر میں یا سری نگر میں بی جے پی کے لئے جگہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ایک شام میری ملاقات درخشاں اندرابی سے ہوئی۔ ان سے لمبی بات چیت ہوئی۔ درخشاں جی کا ماننا ہے کہ نوجوانوں کو بھٹکایا جارہا ہے، بھرمایا جارہاہے۔ کیسی آزادی ،کہاں کی آزادی، آزادی لے کر کیاکریںگے، آزادی کا کوئی کانسپٹ کسی کے سامنے صاف نہیں ہے۔ وہ اس بات پر بالکل خاموش ہو گئیں کہ آخر سرکار کشمیر کے لوگوں سے بات چیت کیوں نہیں کرتی؟ ان کا کہناتھا کہ وہ پارٹی میں ہیں، لیکن پارٹی میںرہتے ہوئے سرکار سے یہ ہمیشہ اپیل کرتی ہیں کہ کشمیر کے لوگوں سے بات چیت شروع ہونی چاہے اور ان کے شکوک کو دور کرنا چاہئے۔
اگلے دن میری ملاقات حنا بٹ سے ہوئی۔ حنا بٹ میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ ان کے والد رکن پارلیمنٹ اور ایم ایل اے رہے ہیں۔ حنا بٹ خود اس بار انتخاب لڑ کر اسمبلی جانا چاہتی تھیں ،لیکن وہ انتخاب جیت نہیں پائیں۔حنا بٹ وزیر اعظم کی قریبی ہیں اور وزیر اعظم ان سے لگ بھگ ہر دو مہینے میںملتے رہتے ہیں۔حنا بٹ سے بھی کافی لمبی بات چیت ہوئی کشمیر کے سوالوںپر۔ شروع میں ان کا نظریہ کافی تلخ تھا اور وہ کشمیر مسئلے کا قصور کامیابی کے ساتھ پھیلائے جارہے بھرم اور شکوک و شبہات کو دیتی رہیں۔ لیکن اس سوال سے ان کے چہرے پر فکر کی لکیریں آگئیں کہ کیوں کشمیر کا نوجوان زندگی سے مایوس ہوکر موت سے محبت کرنے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، کہیں ہم سے بات چیت میں چوک ہو رہی ہے یا لوگوں کو جس زبان میں سمجھانا چاہئے، اس کی کوشش نہیں ہو پارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود وزیراعظم سے مل کر سنجیدہ اور مثبت بات چیت شروع کرنے کے لئے گزارش کریں گی۔
کشمیر میں بڑھتی بدعنوانی
سری نگر سے واپس آتے وقت میں ایک آر ٹی آئی ایکٹوسٹ سے ملنے کے لئے رکا۔ ان کے یہاں سات، آٹھ لوگ بیٹھے تھے۔ جب بات چیت شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ سری نگر میں کس قدر بدعنوانی کا بول بالا ہے۔یہ سارے لوگ اپنے اپنے حلقہ کے ماہر لوگ تھے۔ ان کے لئے کشمیر میں مواقع نہیں ہیں، کشمیر میںمواقع ان کے لئے ہیں جو بدعنوانی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سرکاری اسپتالوں میں میٹریل سپلائی کرنے کے لئے ٹینڈر انہیں نہیں ملتا جو اس کے لئے کوالیفائی کرتے ہیں بلکہ انہیں ملتا ہے جو مستری ہوتے ہیں، میکنک ہوتے ہیں۔ الگ الگ علاقوں کے نوجوان ، جو ایم ای ایس کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ان سے کس طرح پیسے کا لین دین ہوتاہے، دوائوں کی سپلائی میں کیسے پیسہ چلتا ہے، تعلیمی محکمہ میں کس طرح سے بدعنوانی چل رہی ہے، کوآپریٹیو میں پروموشن کس غلط طریقے سے ہو رہے ہیں،یہ سارے سوال بدعنوانی سے متاثر نوجوانوں کے گروپ نے مجھے بتایا۔
اگر ان کی الگ الگ کہانیاں لکھی جائیں توکوئی بھی کہانی تین ہزار لفظوں سے کم میں بتائی ہی نہیں جاسکتی ۔آر ٹی آئی کارکن جموں و کشمیر کے لوگوں کو آر ٹی آئی ( قانون حق اطلاعات ) کی طاقت بھی بتاتے ہیں اور اس کے حساب سے لڑائی بھی لڑتے ہیں لیکن ان کا بھی ایک درد ہے کہ سری نگر میںبد عنوانی کی بات اس لئے دبا دی جاتی ہے کیونکہ یہاں سب کا پسندیدہ موضوع سیاست ہے اور سیاست کی آڑ میں جموں و کشمیر میںبدعنوانی کا بول بالاقائم ہے۔ حنا بٹ نے یہ بھی کہاکہ جموں و کشمیر کو باقی ریاستوں سے زیادہ پیسہ ملتا ہے لیکن اس پیسے کا اب تک کوئی استعمال ہی نہیں ہوپاتا تھا، پیسہ لوٹ جاتا تھا۔ابھی بھی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس جتنی تیزی سے چلنے چاہئے ، نہیں چل رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اسکولوں کے سامنے پولیس پیکیٹ کیوں؟
اب سوال پھر سرکار کا ہے۔ کیا سرکار کو ان ساری باتوں کے بارے میں نہیں پتہ؟میرا ماننا ہے کہ سرکار کو سب پتہ ہے، لیکن سرکار کے لئے کام کرنے والی ایجنسیاں ایسی پالیسی بناتی ہیں، جس سے سرکار پریشانی میں آجائے۔ مثال کے طور پر ،اسکول کے لئے پولیس پیکیٹ رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟جب سرکار کو معلوم ہے کہ لوگ پولیس کی موجودگی سے چڑِھتے ہیں، تو اسکول کے دروازے کے پاس پولیس پیکیٹ رکھنے کا مطلب صرف تنائو کو بڑھاوا دینا ہے۔
جمعہ کو میر واعظ عمر فاروق جامعہ مسجد میں نماز پڑھانے گئے۔ نماز کے بعد لوگ باہر نکلے اور انہوں نے پولیس کو دیکھ کر نعرے لگائے اور پتھر چلائے، جس کے جواب میں پولیس نے پیلیٹ گن چلائی ۔دس لوگوں کی آنکھوں میں چھڑے لگے۔ جیسے ہی مجھے پتہ چلا، میں نے اپنے شناسا لوگوں کو فون کیا۔ ان میں سے ایک نے مجھے ایک واقعہ بتایا کہ اسی جمعہ کو دن میں بارہ بجے وہ ایک جگہ سے گزر رہے تھے۔ اسکول میں چھٹی ہوئی تھی ۔ چار بچے باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ بائیں طرف ایک گھر کے پاس ہی سی آر پی ایف کے کچھ سپاہی بیٹھے ہیں۔ انہوں نے پتھر اٹھائے اور ان سپاہیوں پر پھینکنا شروع کر دیا اور پھر بھاگ گئے۔ اگر سرکار اسکولوں اور مسجدوں کے پاس سے پولیس پیکیٹ ہٹا لے تو ایسے واقعات نہیں ہوںگے۔ لیکن مقامی آفیسر جان بوجھ کر اسکول اور مسجد کے پاس سیکورٹی دستہ تعینات کر دیتے ہیں جہاں کسی طرح کے تشدد کا امکان نہیں ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک اہم سوال سول سوسائٹی کے لوگوں نے اٹھایا ۔انہوں نے کہا کہ مان لیجئے کسی گھر میں ملی ٹینٹ چھپے ہوئے ہیں، جب انہیں پانچ سو سپاہی نہیں مار پاتے یا انہیں مار بھی دیتے ہیں تو اس خدشہ میں اس گھر کو اڑا دیتے ہیں کہ کہیں کوئی اور اس میں چھپا ہوا تو نہیں ہے۔ وہ گھر ملی ٹینٹ کا نہیں ،کسی بے بس آدمی کا ہوتاہے۔
مرکزی سرکار کو کیا کرنا چاہئے؟
مجھ ایسا لگتاہے کہ کشمیر کو لے کر ہندوستانی سرکار کو نئے ڈھنگ سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ دس لاکھ لوگوں کو مارنے سے امن آجائے گا تو یہ دن میں خواب دیکھنے جیسا ہی ہے۔اس کا حل صرف ایک ہے کہ وزیر اعظم اپنی کابینہ میں سے کسی سمجھدار معاون کو کشمیرمیں بات چیت کے لئے لگائیں۔ وہ سب سے بات کریں۔ حریت سے بھی بات کریں، کشمیر کے طلباء سے بھی بات کریں۔ کیا ہوگا اگر طلباء نعرہ لگا دیںگے، کیا ہوگا اگرہندوستان مردہ باد یا پاکستان زندہ آباد کا نعرہ لگا دیں گے۔ کیا اس سے ہندوستان مردہ باد ہوجائے گا یاپاکستان زندہ ہو جائے گا؟ نہیں ہوگا۔ لیکن یہ بھڑاس ہے، جو نکل جائے گی۔ ہندوستانی سرکار کو چڑھانے کے لئے ایک وقت کشمیر کے ہر گھر میں پاکستانی جھنڈا لگ جاتا تھا۔ جب سرکار پاکستانی جھنڈے سے نہیں چڑھی تو گھروں میں پاکستان اور چین دونوں کے جھنڈے لگنے لگے۔ سرکار اس سے بھی نہیں چڑھی تو اب چڑھانے کے لئے پتھر بازی ہو رہی ہے۔یہ پتھر بازی ملک کے ہر حصے میں پہنچ رہی ہے، جہاں لوگوں کے دل میں غصہ پید اہوتا ہے۔ مغل سرائے کا ایک واقعہ ہے۔ وہاں پچھلے دنوں ایک گاڑی چھ گھنٹے سے کھڑی تھی۔ راجدھانی ٹرین وہاں سے گزری ،لوگوں نے پتھر اٹھایا اور راجدھانی پر برسا دیئے، راجدھانی کے شیشے ٹوٹ گئے۔ گاڑی چھ گھنٹے سے کیوں کھڑی تھی، کسی کو نہیں پتہ اور نہ کوئی بتانے کو تیار تھا۔ جب لوگوں نے پتھر پھینکے تو ہر جگہ خبریں آنے لگیں۔ نیوز چینلوں کو کشمیر کے بارے میں بولنے سے پہلے اپنے شہری فریضہ پر دھیان رکھنا چاہئے۔ ان کی زبان ، طرز اور لفظوں سے لوگوں کے من کو ٹھیس پہنچتی ہے ،وہ اپنے ہی ملک کے لوگ ہیں۔
جنوبی کشمیر کے اس سفر نے اور طلباء کے ساتھ ہوئی بات چیت نے مجھے تھوڑا سا ڈرا دیا ہے۔ لیکن کشمیر کے لوگ چاہتے ہیں کہ شمالی ہندوستان کے لوگ کشمیر جائیں اور وہاں کی صورت حال کو دیکھیں۔ وہ خود محسوس کریں کہ ٹیلی ویژن چینل جو صورت حال بتاتے ہیں، ویسی صورت حال ہے یا نہیں ہے۔
سری نگر میں کرشنا ڈھابہ ہے، ویجیٹرین ڈھابہ ہے۔یہ سیاح اور مقامی لوگوں سے بھرا پڑا رہتا ہے، چاہے ہندو ہوں یا مسلمان ۔اس ڈھابے میں مَیں کھانا کھانے گیا۔ وہاں مقامی لوگ ملے، انہوں نے بتایا کہ دیکھئے ہم سب لوگ یہاں پیار ومحبت سے رہتے ہیں۔ دہلی کے ٹیلی ویژن چینلز چاہتے ہیں کہ ہم پیارو محبت سے نہ رہیں۔ وہ ہمارے اوپر جھوٹے الزام ، جھوٹی تہمتیں لگاتے رہتے ہیں۔ یہاں کوئی کسی سے نہیں لڑتا۔ سب آپس میں پیار سے رہتے ہیں۔ کشمیر کے میرے اس سفر نے صاف کر دیا ہے کہ سرکار کو کشمیر کو لے کر فوراً آنکھ کھولنی چاہئے ۔سرکار کو انسانی طریقے سے نفیساتی زبان کا استعمال کرتے ہوئے کشمیر کے لوگوں سے فوری طور پر بات چیت شروع کرنی چاہئے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *