کرناٹک انتخابات سپریم کورٹ نے بچایا ملک کا وقار

کرناٹک میںجو ہوا، ٹھیک ہی ہوا۔ عوام کے ووٹ کا وقار بچ گیا۔ مان لیجئے، جو ایم ایل اے جس ٹکٹ پر منتخب ہوا تھا،وہ اس پارٹی کے خلاف ووٹ دیتا تو عوام کے ووٹ کی کیا اہمیت رہ جاتی؟ میںنے توپہلے بھی کہا تھا کہ اگر کوئی ایم ایل اے ایسا کرتا ہے تو اس کے علاقے کے لوگ ، جب وہ اپنے حلقے میں جائے، اس کا منہ کالا کرکے گدھے کی سواری کرائیں۔ نوجوانوںکو اپنے لیڈروںسے کہنا چاہیے، ان پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ آپ ہمارا ووٹ مانگ کر جاتے ہیںاور جو وعدے کرتے ہیں،انھیں پورا کیجئے۔ یہ کیا کہ الیکشن جیتتے ہی پیسہ لے کر دوسری پارٹی میںچلے جائیںگے تو آپ پٹائی کے حقدار ہیں۔
یہ الگ قسم کی جمہوریت ہے۔ لیکن اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ تو جمہوریت کا مذاق ہوگیا ۔ پھر الیکشن کی ضرورت کیا ہے؟ جمہوریت ہندوستان کے لیے ایک بہت مہنگا نظام ہے۔ ہمارا غریب ملکہے لیکن اس کا ایک وقار ہے۔ اس وقار کو بکاؤ ایم ایل اے اور سیاسی پارٹیاںختم کررہی ہیں کیونکہ وہ الیکشن جیتتے ہی بکاؤ ہوجاتے ہیں۔
عدالت عظمیٰ کو مبارکباد
مجھے خوشی ہے کہ کرناٹک میںیدی یورپا کے خطاب کے بعد ووٹ کی نوبت ہی نہیںآئی۔ انھوںنے استعفیٰ دے دیا۔ سپریم کورٹ کی ذہانت سے ووٹنگ ٹل گئی۔ سپریم کورٹ نے سمجھ لیا کہ وقار گر رہا ہے ملک کا، جمہوریت کا، گورنر کا۔ گورنر نے تو اور زیادہ وقار گرا دیا۔ اگر سپریم کورٹ بھی کچھ نہیںکرتا تو سپریم کورٹ کا بھی وقار گرجاتا۔ سپریم کورٹ نے بہت عقل مندی کا کام کیا۔ گورنر کے دائرہ اختیار کو چھوئے بغیر، کورٹ نے کہا کہ ہم حلف برداری نہیںروک سکتے۔ میرے حساب سے تو حلف برداری بھی روکنا چاہیے تھی۔ لیکن سپریم کورٹ نے بہت عقل مندی دکھائی۔ گورنر کے دائرہ اختیار کو چھوئے بغیر انھوںنے کام بنا لیا۔ انھوں نے کہا کہ پندرہ دن میں نہیں، 24گھنٹے میں پاور ٹیسٹ کر لو۔ بی جے پی کا منصوبہ تھا، خاص طور سے یہ یقین تھا کہ خریدو فروخت کر لیں گے، ڈرا دھمکا دیںگے، یدی یورپا سی ایم کی کرسی پر ہیںتو پولیس بھی ان کے ہاتھ میںہے، وہ سب ختم ہوگیا۔
تو سب سے پہلے سپریم کورٹ کو مبارکباد۔ سپریم کورٹ کا ریکارڈ گزشتہ چھ مہینے میںاچھا نہیںرہا۔ دیپک مشرانے سپریم کورٹ کا کافی وقار گرایا ہے۔ جسٹس لویا کا کیس نظیرہے۔ ابھی بھی سپریم کورٹ کو چاہیے کہ جسٹس لویا کے کیس میںکورٹ کی نگرانی میںاسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم بٹھاکر کورٹ اس کی جانچ کرائے۔ تب لوگوںکو بھروسہ ہوگا کہ جسٹس لویا کی موت فطری تھی یا وہ مرڈر تھا۔ لیکن ملک کو سچ جاننے کا حق ہے۔صرف اس لیے جانچ نہیںکہ آج کی سرکار سچ کو چھپانا چاہتی ہے۔ یہ تو کوئی بات نہیں ہے۔ ابھی بھی سپریم کورٹ کو کچھ کام کرنا باقی رہ گیا ہے۔ لیکن کرناٹک کیس میںجو قدم سپریم کورٹ نے اٹھایا،اس کے لیے مبارکباد۔ میںایک عام شہری ہوں او راسی حیثیت سے مبارکباد دے رہا ہوں کیونکہ اس سے ایک جمہوریت کا بچاؤ ہوا۔
المیہ دیکھئے، امت شاہ کہتے ہیں ارے ایم ایل اے کو باہر نکلنے دیجئے (ریسورٹ سے)، میںسرکار گرادوں گا۔ یعنی کھلے عام کہہ رہے ہیںکہ پیسے کا ننگا ناچ کریںگے۔ جمہوریت کا یہ کیا مذاق اڑا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کو اس پر بھی تبصرہ کرنا چاہیے۔ سیاسی لیڈر اس طرح کے بیان نہیںدے سکتے۔ کم سے کم آپ کچھ مریادہ تو رکھئے۔ یہ سرکار کیسے چلے گی، پتہ نہیں۔ ایک بات صحیح ہے کہ کانگریس اور جے ڈی ایس بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑے تھے۔ وہ سوال نہیںہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم لوگ مہذب جمہوریت چاہتے ہیں یا غنڈہ گیری۔ ملک کو کتنا نیچے لے جانا چاہتے ہیں۔
مودی جی کانگریس کی تنقید کرتے ہیں۔ جواہر لعل نہرو جیسے مہذب شخص کی تنقیدکرتے ہیں۔ آپ کیا ہیں ان کے سامنے؟ جو لوگ نہرو کی تنقید کرتے ہیں، وہ نہرو کے سامنے حقیر اور گھٹیا لوگ ہیں۔ بی جے پی والے کہتے ہیںکہ کانگریس نے 52 بار صدر راج لگایا۔ 52 بار کیا 60 سال میں۔ بی جے پی نے چار سال میںکتنی بار یہ کام کیا، یہ بھی بتائیے۔ ارونا چل،کرناٹک، ہر جگہ اپنے اقتدار کا غلط استعمال کیا یا نہیںکیا، یہ بتائیے۔ ایک سابق سی ایم نے تو خود کشی کرلی۔ بی جے پی نے جو دہشت پھیلادی چار سال میں، یہ اس ملک میںکبھی نہیں تھا ، ڈیڑھ سال کی ایمرجنسی کے علاوہ۔ اندرا گاندھی نے بہت غلط کیا تھا لیکن انھوں نے ایمر جنسی ہٹاکر،الیکشن کراکر اور پاور چھوڑکر اسے سدھار لیا تھا۔ہار گئی تھیں وہ۔ کم سے کام انھوںنے اپنی غلطی کا ’پرائشچت‘ کر لیا۔ آپ (بی جے پی) کیا کریںگے بتائیے؟

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

50 فیصد سے زیادہ ووٹ کی لازمیت
لوک سبھا کے بہت کم اراکین پارلیمنٹ ہیں، جنھیں اپنے حلقے میںپچاس فیصد سے زیادہ ووٹ ملتے ہیں۔ تو پہلے دن ہی سے سمجھ لینا چاہیے کہ حدود ہیں کہ جس دن میںمنتخب ہوا ہوں، میں30فیصد کا نمائندہ ہوں، 70 فیصد میرے خلاف تھے۔ اسے ذمہ داری کو سمجھنا چاہیے کہ 100 فیصد میرے حلقے کے لوگ ہیں،ان کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ چاہے تو الیکشن میںجو پہلے دو امیدوار آتے ہیں،ان کا پھر سے الیکشن کرا لیا جائے تاکہ جیتا ہوا امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹروںکے ووٹ حاصل کرسکے۔
کچھ انتخابی سدھار لانا ضروری ہے لو گوںکو ذمہ دار بنانے کے لیے۔ اب تو یہ جس ڈھنگ سے، مجھے معاف کریں لیکن کہنا پڑے گا کہ مودی اور شاہ جو بیان دے رہے ہیں ، وہ افسوسناک ہیں۔ کس طرح کی ٹپوری زبان کا استعمال کر رہے ہیں یہ لوگ۔ اس سے تو ملک برباد ہو جائے گا۔ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہندوستان بہت ترقی کر رہا ہے، غلط۔ جو سسٹم ہے، آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس، برٹش چھوڑ کر گئے تھے۔ سرکاریں بدلتی رہتی ہیں لیکن سسٹم چلتا رہتا ہے۔ ان چار سالوںمیںاس سسٹم کے ساتھ چھیڑ خانی ہوئی ہے۔ میںنے پڑھا کہ اب سول سروسیز میںکیڈر کے الاٹمنٹ کے ساتھ بھی یہ سرکار چھیڑ خانی کرنا چاہتی ہے۔ کیا سمجھتی ہے سرکار؟ کیا یہ سرکار جواہر لعل نہرو ، سردار پٹیل، مولانا آزاد، نیتا جی سے زیادہ انٹیلی جنٹ ہے۔ اس غلط فہمی کے شکار بہت لوگ ہیں۔ ہر لڑکا جو کلاس میںفیل ہوتا ہے، وہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ عقل مند ہے لیکن ہوتا نہیںہے۔
میںمانتا ہوںمودی راج گزر گیا۔ وزیر اعظم آج بھی ہیں۔ آپ وہ وزیر اعظم تھوڑے ہی ہیں جو 2014 میںمنتخب ہوئے تھے۔ اس وقت تو عوام آپ کے ساتھ تھے۔ ہر ایک کو آپ سے امید تھی کہ آپ کچھ کریںگے۔ نئی صنعتیںکھلوائیںگے، نئے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے، دام کم ہوںگے۔ اب تو سمجھ میںآگیا ہے کہ آپ توپہلی والی سرکاروںسے بدتر ہی ہوںگے۔ کوئی آپ سے یہ نہیںکہہ رہا ہے کہ ہندوستان جنت کیوںنہیں بن گیا ۔ یہ امید بھی آپ سے نہیں ہے۔ آپ نے امید دی تھی لوگوںکو کہ رام راجیہ آجائے گا،اگر آپ اقتدار میںآئے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس ملک میںسوا سو کروڑ لوگ ہیں۔ وسائل محدود ہیں۔ اسی میںکام کرنا پڑے گا۔ لیکن سماجی وضعداری تو برقرار رکھیے۔
میںدعوے کے ساتھ کہتا ہوںکہ ہندوستان اکیلا ملک ہے دنیا کا، جہاںاتنی عدم مساوات کے باوجود،اتنی غریبی کے باوجود، کرانتی نہیںہے، گولی باری ، مارکاٹ ، لوٹ مار نہیں ہے، کیوں؟ ہماری چار ہزار سال کی ثقافت ہے ۔ 70 سال کا آئین نہیں ہے ہمارا۔ چار ہزار سال کی ثقافت ہے ہماری۔ جو ہے، اس سے خوش رہیے اور اسی کو بڑھانے کی کوشش کریے۔ دوسری کی طرف مت دیکھئے۔ چھینا جھپٹی ہمارے کلچر میںنہیں ہے۔ یہ ملک اپنے چار ہزار سال کے سنسکار سے چلا رہا ہے۔ اس کی عزت کانگریس کرتی تھی۔ کانگریس نے کبھی لکشمن ریکھا کراس نہیںکی، ایمرجنسی کے علاوہ۔ ایک بار غلطی کی، اسے صحیح کرلیا، تجاوز نہیںکیا۔ بی جے پی تو روز تجاوز کرتی ہے، کس کو چھوڑا ہے بی جے پی نے۔
چوکھمبا راج پر حملہ
چوکھمبا راج کی بات لوہیا جی کرتے تھے۔ عدلیہ، عاملہ ، مقننہ اور پریس چوتھا کھمبا۔ بی جے پی نے تو چوتھے کھمبے پر پہلے حملہ کردیا۔ اتنا پیسہ اس کے منہ میںٹھونس دیا کہ وہ چپ ہے۔ صحافت ایک پیشہ ہے۔ پبلشنگ بزنس ہے۔ اب وہ پبلشنگ کر رہے ہیں، جرنلزم نہیںکر رہے ہیں۔ اخبار مالک خود کہتے ہیں کہ وہ ہم اشتہار کے دھندے میںہیں۔ اشتہار جمع کرتے ہیں۔ ہماری آ مدنی کا اہم ذریعہ اشتہار ہے۔ اس سرکار نے سیدھے انھیںپیسہ دینا شروع کیا۔ جو اشتہار کے لیے محنت کرتے تھے، اسے سیدھا ہی پیسہ دے دیا۔ شرط یہ کہ چپ رہیے آپ۔ ہم جو جرم کریں، اس کے خلاف مت لکھیے۔ ہم ایک رائی بھر اچھا کام کریںتو اسے پہاڑ بنا دیجئے۔ یہ کام آج میڈیا کر رہا ہے۔ این ڈی ٹی وی نے کچھ کوشش کی تو اس کے خلاف انکم ٹیکس دوڑا دیا۔ سرکاری نظام کا پورا استعمال اب تو پارٹی کے مفاد میںبھی نہیںہے۔
سرکار آج بس ایک شخص کے مفاد میں ہے، جن کا نام نریندر مودی ہے اور ان کے معاون امت شاہ۔ آج ان کے پاس سب کی فائل ہے۔ سب کو ڈرا دیتے ہیں۔ جج بھی کوئی بھگوان کے اوتار تو نہیں ہیں۔ ہر ایک کی کمزوری ہے۔ ہرایک کا خاندان ہے۔ کسی کو بھی ڈرانا آسان ہے اور راء یا آئی بی یا سی بی آئی کیا کرتی ہے؟ اصلی چوروں کو تو سی بی آئی پکڑتی نہیں۔ سیاسی حریفوں کو پکڑتی ہے۔ پھر بی جے پی والے جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ آپ لالو پر حملہ کر رہے ہیں، جیل میںڈال دیا۔ ایمس میںعلاج کرانے آئے تو دہلی سے واپس بھیج دیا۔ کیا سرکار اسی کو اپنا معیار بنانا چاہتی ہے۔ اگر مودی جی صحیح ہیںتو پھر الیکشن میںلالو کی ضمانت ضبط ہو جانی چاہیے تھی سب جگہ۔ بہار میںایسا رخ نہیںہے۔ ہر جگہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ ہیں اور سرکار کو ہر جگہ کی سب خبر مل رہی ہے۔ سرکا رجانتی ہے کہ جو باتیں وہ کرتی ہے اس کا کوئی استعمال نہیں۔ جب تک آپ (نریندر مودی) پاور میںہیں،پیسہ اکٹھا کرلیجئے اور بڑے بڑے بھاشن دے دیجئے۔ ارون جیٹلی بیمار ہیں۔
آپ نے پورٹ فولیو دے دیا پیوش گوئل کو۔ پیوش گوئل دو دن سے بول رہے ہیںکہ بھوشن اسٹیل کمپنی کو ٹاٹا نے لے لیا۔ نیا عمل شروع ہوا ہے۔ یہ پہلی کامیابی ہے اس عمل کی اور 34 ہزار کروڑ روپے بینکوںکے پاس آگئے جو دوسروں کو قرض دینے میںمدد کریں گے۔ اب بدقسمتی سے میںبھی بزنس کی دنیا سے ہوںتو میںکئی دنوںسے کہہ رہاہوںکہ یہ بات صحیح نہیںہے۔ آج اسٹیٹ بینک کے چیئرمین کا بیان آگیا۔ پریس والوںنے پوچھ لیا کہ 34ہزار کروڑ روپے جو پیسہ دے رہے ہیں، آپ کو کتنا مل رہا ہے۔ کیا جواب دیا انھوںنے؟ انھوںنے جواب دیا کہ 1500 کروڑ۔ ایک ہزار پانچ سو کروڑ مل رہے ہیں ان کو۔ باقی اس عمل میںاین پی اے ریکور نہیںکیا گیا ہے۔ کمپنی ٹرانسفر کردی ہے۔
بھوشن اسٹیل سے ٹاٹا کو، ان بینکوںکو سرکار کو ٹاٹا پر زیادہ بھروسہ ہے۔ وہ این پی اے ہوگا کہ نہیں۔ وہ سات سال بعد معلوم پڑے گا۔ میںبھوشن کو جانتا نہیں،ذاتی طور پر بھی نہیںجانتا ہوں اور ملا بھی نہیںہوں۔ پھر بھی ایک آدمی نے محنت سے کمپنی بنائی۔ آپ نے (سرکارنے) اسے دوسرے کو دے دی۔ کئی لوگوںکی نوکری گئی۔ ایک کا گلا کاٹ کر دوسرے کو دے دیا۔ یہ مناسب نہیں ہے۔ یہ کون سا طریقہ ہے بینک چلانیکا ۔ یہ کون سا طریقہ ہے قرض دینے کا۔ سرکار اس کمپنی کولیتی تو دوسری بات تھی۔ لیکن آپ میری کمپنی لے کر دوسرے صنعت کار کو دے دیں، یہ تو منطقی بات ہے ہی نہیں۔ پھر ہم تو بنانا ریپبلک بن جائیں گے۔ ٹاٹا ملک کا سب سے بڑا گروپ ہے۔ صحیح بات ہے۔ بینکوںکو آسانی ہوگی۔ پھر عام آدمی کو، ٹیکسی چلانے والے کو لون کون دے گا؟

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

سرکار گمراہ ہے
ایک بات مجھے بولنی پڑے گی سرکار کے حق میں۔ میںنہیںسمجھتا ہوںکہ یہ سرکار جان بوجھ کر کوئی کام کر رہی ہے۔ اس سرکار کو پتہ نہیںہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ پیوش گوئل جیسے چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ ہیں۔ پیوش گوئل کا بیان سنئے۔ ہماری سرکار آئی ہے، ہم لوگ ٹیکس ٹیررزم ختم کر دیںگے۔ یعنی انکم ٹیکس والے تنگ کرتے ہیں، سیلس والے ٹیکس والے آکر تنگ کرتے ہیں۔ یہ ٹیکس ٹیررزم ہے۔ ٹیررزم لفظ ان کا ہے، میر انہیں۔ آج زیادہ ٹیررزم ہے۔ چار سال میںٹیررزم آپ نے بڑھا دیا ہے۔ اور یہ بینک ٹیررزم ہے کہ میری اتنی سال کی محنت ، میری کمپنی چھین کر آپ کسی دوسرے کو دے دیںگے اور مجھے آپ راستہ دکھا دیں گے۔ اگر پورا روپیہ، جتنا بقایا تھا، وہ ٹاٹا دیدیتی تو الگ بات تھی، ان کو بھی آپ نے کم میںدے دیا ہے۔
انڈسٹری آج ٹھیک چل رہی ہے۔ انڈسٹری کا نفع مارکیٹ سے تعلق رکھتا ہے۔ آج کے مارکیٹ میںتو کوئی بھی دھندہ چلا لے گا۔ ایسے ہی وجے مالیا کا کیس ہے۔ بی جے پی نے وجے مالیا کو دو بار راجیہ سبھا میںجانے میںمدد کی۔ مالیا نے ایک ایئرلائن چلائی، جب پیٹرول کی قیمت زیادہ تھی۔ روپے نہیںچکا پایا۔ پنچ ہزار کروڑ کے قریب۔ وہ چکانے کو تیار تھالیکن وزیر اعظم کا حکم ہوا سبق سکھاؤ۔ کیا ہوا؟ وجے مالیا غیر ملک بھاگ گیا۔ مالیا سے ذاتی دشمنی اور نفرت کی سیاست کا نمونہ ہے یہ۔ یہ لوگ کسی کو بھی دھوکہ دے سکتے ہیں۔ ہندو مسلمان تو چھوٹی سی چیز ہے ۔ جب یہ ہندو بزنس مین، جن سے روپے بھی لیے ہیںپارٹی کے لیے، سے بھی نفرت کر سکتے ہیں۔ انھیں بھی دھوکا دے سکتے ہیں تو مسلمانوں کی حیثیت کیا ہے مودی راج میں۔ یہ راج ختم ہورہا ہے۔ عوام نے دیکھ لیا ۔ کرناٹک میںکچھ نہیںکر پائے۔
ای وی ایم کا سوال زندہ ہے
میںتو ہندو ہوں، ہندوتو نہیںہوں۔ کرشن نے کہا ہے کہ جب دھرم کا زوال ہوگا تو میںآؤں گا۔ کبھی کسی روپ میں، کبھی کسی روپ میں۔ ابھی سپریم کورٹ کے تین ججوںکے روپ میںآگئے اور کرناٹک میںجمہوریت کو بچا لیا۔ گورنر صاحب کو تھوڑی بھی شرم ہوتو استعفیٰ دے کر چلے جانا چاہیے تھا۔ نہیںتو کم سے کم گھر بیٹھ جانا چاہیے ۔ اس ملک میںاستعفیٰ دینے کی روایت تو ہے ہی نہیں۔ جس کو جو سکھ بھوگنے کا موقع ملتاہے ، وہ چھوڑتا تو نہیںہے۔ تو مجھے وجو بھائی والا سے امید نہیں ہے، جو نو سال وزیر مالیات تھے مودی جی کے۔ ان کے خاص آدمی ہیں وہ۔ استعفیٰ نہیںدیںگے۔
کرناٹک میںلوک سبھا کی 28 سیٹ ہیں۔ وہ یو پی اور بہار نہیںہے۔ اس لیے اس کو میںزیادہ اہمیت سیاسی نقطہ نظر سے نہیںدیتا ہوں۔ لیکن جو واقعہ ہوا ہے ، اس سے امید جاگی ہے کہ الیکشن کمیشن ہے اور سپریم کورٹ بھی ہے۔ اب اگلا مسئلہ ای وی ایم مشینوںکاہے۔ الیکشن کمیشن اڑا بیٹھا ہے کہ مشینوںمیںکوئی خرابی نہیںہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی شکایت ہوتی ہے اس مشین کی، پوچھ تاچھ ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہاںوہ جو تکنیکی گڑبڑ ہوئی، اس کی وجہ سے فائدہ بی جے پی کو ہوا۔ اوسطاً اگر مشینوںمیںگڑبڑ ہوسکتی ہے اور مان لیجئے کہ کوئی جان بوجھ کر نہیںکرتا ہے تو کبھی کسی کے فیور میںجانا چاہیے کبھی کسی کے۔ ہر بار بی جے پی کے فیور میںجارہا ہے تو انگلی اٹھے گی ہی۔ کہیںکچھ گڑ بڑ ہے۔ سب ملکوںنے ٹرائی کرکے چھوڑ دیااور ہم چپک کر بیٹھے ہیں کیوں؟ رزلٹ ایک دن میںآئے، چار دن بعد آئے گا تو کیا ہوگا۔ اگلا الیکشن بیلیٹ پیپر پر کرائیے۔ ای وی ایم مشین اور یہ آدھار کارڈ ٹیکنا لوجی کا فائدہ مت اٹھائیے۔ کسی کو آپ نے ایک کنٹریکٹ دے دیا ای وی ایم مشین بنانے کا تو پھر جمہوریت چلی جائے گی۔
بزنس مین ڈرے ہوئے ہیں
میںخود بزنس کی دنیاسے آتا ہوں۔ بہت چھوٹا سابزنس مین ہوں۔ لیکن جو بڑے کاروباری ہیں، جن پر حملہ ہورہا ہے، ہزاروںکروڑ کا معاملہ دعوے پر ہے، کوئی بول نہیںرہا ہے۔کیوں؟ ڈر گئے ہیںسب۔ آج بھوشن کے فیور میںکوئی بولے گاتو اس پر حملہ کریںگے۔ انگریزوںکے وقت ایسوچیم تھی، جس میںزیادہ تر کمپنیاںبرٹش تھیں۔ انڈین ٹریڈ ایسوسی ایشن نے سوچا کہ اس میںہمارا حق مارا جائے گاتو اس وقت فکی بنا۔ یہ آزادی سے پہلے کی بات ہے۔ وہ برٹش سے ڈرے نہیں۔ بعد میںآزادی آئی۔ تب فکی، ایسوچیم اور چیمبر آف کامرس سب سرکار کے پاس جاتے تھے ہر سال اور یہ تجویز دیتے تھے کہ ہماری یہ دقتیںہیں۔ آج تو وہ عمل ہی بند ہے۔ کسی کو یہ بولنے کی طاقت نہیںہے کہ ہماری دقت یہ ہے۔ ایک بڑے صنعت کار اڈانی کے ذریعہ مودی صاحب سے ملنے گئے تھے،مل لیے۔ اپوائنٹمنٹ دینے والے کو مودی صاحب نے اس صنعت کار کے سامنے ہی فون کرکے کہا کہ یہ جب اپوائن منٹ مانگے ،تو فوراً دے دیا کرو۔ خوش ہو گئے وہ۔ ان سے غلطی یہ ہو گئی کہ جاتے جاتے بول دیا کہ انڈسٹری کو بہت دشواری ہے آپ کے ہی قانونوںسے۔ مودی صاحب سے انہی کے سامنے پھر فون کرکے کہا کہ یہ وقت مانگے گا تو مت دیجئے گا۔یہ ایروگینس کی حد ہے۔ مغل بادشاہ بھی نہیں کرتے تھے ایسا۔ آپ ہیں کون؟آپ جیسے کئی آئے اور مٹی میںمل گئے۔ ایسا مت کیجئے۔ صرف نہرو کو گالی دینا اور اندرا گاندھی کا قصور نکالنا، متبادل سیاست کیا ہے؟
آپ کا فلسفہ کیا ہے؟
چلئے آپ ہندو ہیں آپ بتائیے آپ کا کیا فلسفہ ہے۔ ہندوئوں کے لئے کیا کررہے ہیں آپ؟ 93 سال میں آر ایس ایس نے ہندوئوں کے لئے کیا کیا؟مسلمانوں سے نفرت پیدا کی، اس سے کوئی مطلب نہیں۔ ہندوئوں کا بھلا ہوا؟ ہندوئوں کا کوئی بھلا نہیں کرپائے اور کر پائیں گے بھی نہیں،کیونکہ ہندو آپ پر منحصر نہیں ہیں۔ ہندو آپ کو اپنا نمائندہ مانتے نہیں ہیں۔ 18فیصد کے علاوہ، جو اندھے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ مودی بھکت ہیں۔ آپ کا تو نیریٹیو یہ ہے کہ یا تو مودی کی تعریف کیجئے یا پاکستان جائیے۔ وقت آ رہا ہے، جب ہمارے جیسے ہندو یہ کہیں گے آپ کو ہمارے آئین پر بھروسہ نہیں ہے تو نیپال ہندو ملک ہے، آپ وہاں چلے جائیے۔
آپ کو ہندو ملک چاہئے۔یہ سیکولر ملک ہے۔ ہندو ملک ہے۔ ہندو فلسفہ سیکولر ہے،غیر جانبدار ہے۔مذہبی غیر جانبداریت ہے ۔ہندو ایک ایسا مذہب ہے جو سب کو لے کر چلتا ہے۔ آپ تو ہندو نہیں ہیں۔ آپ تو نفرت، دوریاں ، غلط بیانی ، دھمکی میں یقین کرتے ہیں۔ اس سے بڑی گندی بات کیا ہوگی کہ رولنگ پارٹی کا صدر بولتا ہے کہ ایم ایل ایز کو کھلا چھوڑیئے، میںکام کرواتا ہوں۔ یعنی کاروباری ہیں آپ۔ کاروبار کیجئے نہ۔ آپ کے بیٹے کی کمپنی میں بہت کمائی ہوتی ہے ،اس کو جوائن کیجئے آپ۔ پبلک کی تو جان چھوڑیئے ۔ آئین کی پٹری پر واپس لے آئیے سیاست کو۔ مجھے بھروسہ ہو گیا ہے کہ آپ اسی سیاست پر چلیںگے اگلے الیکشن تک۔ اب راجستھان، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش کے انتخابات آرہے ہیں۔ وہاں ے عوام آپ کو کچھ سبق سکھائے ، یہ مجھے امید ہے۔ دیکھئے کیا ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *