کیا جنگل محل ممتا بنرجی کے ہاتھ سے نکل رہا ہے؟

مغربی بنگال پنچایت انتخابات میں 90فیصد سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے والی ترنمول کانگریس کے کارکنان جشن میں مگن ہیں مگرپارٹی کی اعلیٰ قیادت کو پنچایت انتخابات کے رجحانات اورنتائج نے پریشان کردیا ہے ۔ بالخصوص جنگل محل اور شمالی بنگال میں بی جے پی اور آزاد امیدواروں کی شاندار کارکردگی نے 2019کے پارلیمانی انتخاب کے نتائج پر سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔ 2011میں جنگل کے قبائلیوں اور مقامی آبادی کی حمایت کے بدولت ہی اس علاقے میںترنمول کانگریس نے اپنی پکڑ مضبوبنائی تھی اور اقتدار میں آنے کے بعد ممتا بنرجی نے جنگل محل کے قبائلیوں کے طرززندگی میں تبدیلی اور نوجوانوں میں روزگار دینے کا وعدہ کرتے ہوئے متعدد مرتبہ اس علاقے کا دورہ کیا اور ممتا بنرجی کی کوششوں کی وجہ سے کسی حد تک اس علاقے میں مائونوازوں کا اثر ختم بھی ہوا۔2014کے لوک سبھا کے انتخابات میں یہاں کی تمام پارلیمانی سیٹوں پر ممتا بنرجی کو کامیابی ملی او ر 2016میں میں بھی ترنمول کانگریس نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر پنچایت انتخابات کے نتائج نے یہ واضح کردیا ہے یہ قلعہ اب منہدم ہونے لگا ہے ۔پرولیا میں1,944گرام پنچایت میں سے 644اور جھاڑ گرام کے 806گرام پنچایت میں 329گرام پنچایت میں بی جے پی نے جیت حاصل کی ہے۔پرولیا کے بلرام پور میں بی جے پی نے 20پنچایت سمیتی میں سے 18پر کامیابی حاصل کرکے ترنمول کانگریس کے وجود پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر جنگل محل سے ممتا بنرجی کی پکڑ کمزور کیوں ہورہی ہے ؟ کیا مقامی آبادی کا ترنمول کانگریس سے منھ بھنگ ہوگیا ہے یا پھر بی جے پی کی تنظیمی صلاحیت اس علاقے میں مضبوط ہوئی ہے ۔ایسے مجموعی طور پر بنگال میں بی جے پی تیزی سے اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔پانچ سال قبل پنچایت انتخابات میں بی جے پی کو صرف ایک فیصد ووٹ ملا تھا مگر اب اس کا ووٹ فیصد بڑھ کر 18فیصد ہوگیا ہے ۔بایاں محاذ نے 32فیصد ووٹ حاصل کیا تھا جو گھٹ کر 5فیصد ہوگیا ہے اور کانگریس کو 11فیصد ووٹ ملے تھے مگر اب گھٹ کر 3ہوگیا ہے ۔
2011میں جنگل محل مائونوازوں سے متاثر تھا۔بایاں محاذ کی پالیسیوں کی وجہ سے مقامی آبادی میں سخت ناراضگی تھی ۔صنعت کاری کے نام پر قبائلیوں کی زمین کو تحویل میں لیے جانے کی وجہ سے قبائلیوں میں بایاں محاذ حکومت کے تئیں سخت ناراضگی تھی ۔بڑی تعداد میں سماجی کارکنان کو جیل میں بند کردیا گیا تھا ۔ممتا بنرجی نے 2011میں اقتدار میں آنے کے بعد ممتا بنرجی نے سیاسی قیدیوں کی رہائی ، ہرگھر میں صاف پانی، ہر فیملی کو پانچ کلو چاول ، نوجوانوں کو روزگار اور ہر گھر میں بجلی سپلائی دینے کا وعدہ کیا تھا ۔اس کے علاوہ مائونوازوں کا ساتھ چھوڑ کرآنے والوں کی بازآبادکاری کے وعدے کیے گئے تھے ۔2011سے اب تک 8سال کا وقفہ گزرچکے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا ممتا بنرجی نے جنگل محل کے باشندوں سے کیے وعدوں کو پورا کیا ہے؟ اگر ترنمول کانگریس کے لیڈروں کے دعوئوں پر یقین کیا جائے تو جنگل محل مسائل و مشکلات سے آزاد ہوچکے ہیں ۔مگراس کے باوجود ان کے خلاف مقامی آبادی میں ناراضگی کیوں ہے؟اس کا جواب ان کے پاس نہیں ہے ، در اصل ممتا بنرجی نے 2011میں اقتدار میں آنے سے قبل سیاسی قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا تھا ، مگر 8سال بیت جانے کے باوجود اس کیلئے انہوں نے پہل نہیںکی ۔اس کی وجہ سے مقامی آبادی میں سخت ناراضگی ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سڑکوں کی تعمیر پر ممتا بنرجی کی حکومت نے توجہ دیا اور اب دیہی سے دیہی علاقے میں پختہ سڑکیں بن چکی ہیں ،اس کا اعتراف ممتا بنرجی کے سخت سے سخت مخالف بھی کرتے ہیں مگر سوال یہی ہے کہ کیا صرف سڑکوں کی تعمیر سے مقامی لوگوں کے مسائل حل ہوجائیں گے ۔رابندر ابھارتی یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسربسواناتھ چکرورتی نے کہا ہے کہ کوئی بھی زیادہ دنوں تک پارٹی کیڈروں کی بنیاد پر انتخاب نہیں جیت سکتی ہے ۔پرولیا اور جھاڑ گرام قبائلی اکثریتی ضلع ہے ۔اس علاقے میں ترنمول کانگریس نے مقامی آبادی کی بازآبادکاری پر توجہ دینے سے زیادہ اپنی طاقت مضبوط کرنے پر مرکوز کی ۔قبائلیوں سے وعدہ کیا گیا انہیں ہرمہینے پانچ کلو چاول سبسیڈی پر دیا جائے گا مگر یہ اسکیم صرف 30فیصد مقامی آبادی تک پہنچ رہی ہے اور وہ بھی صرف دو کلو چاول مل رہے ہیں ۔دوسرے یہ کہ گزشتہ 8سالوں میں قبائلیوں کے طرززندگی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے ۔بیک ورڈ کلاسیس کی ترقی کے وزیر اور ترنمول کانگریس کے مقامی رکن اسمبلی چورامانی مہتو بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ قبائلیوں کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔سرکاری اسکیمیں نیچے تک نہیں پہنچ رہی ہے ۔سماجی کارکن اور ماہر معاشیات پرسین جیت بوس کہتے ہیں کہ ترنمول کانگریس اوربی جے پی کے بعد سب سے زیادہ 1946سیٹوں پر آزاد امیدوارو ں نے کامیابی حاصل کی ہے اور اس میں زیادہ ترنمول کانگریس کے باغی لیڈران ہیں ۔2019کے پارلیمانی انتخاب ترنمول کانگریس کیلئے ایک بڑا چیلنج رہے گا ۔ممتا بنرجی کے سامنے پارٹی کے باغی لیڈروں کو منانا اور آپسی گروہ بندی کو ختم کرنا کسی بھی چیلنج سے کم نہیں رہے گا ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ اس علاقے میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں کی وجہ سے ترنمول کانگریس کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔سیاسی تجزیہ نگارامان کلیان لہری کہتے ہیں کہ بی جے پی ریاست کے قبائلی علاقے میں حال ہی میں جیل سے رہا ہونے والے ’’سوامی اسیمانند‘‘ سے خدمات حاصل کرنے پر سوچ رہی ہے ۔آر ایس ایس نے اس علاقے میں بڑے پیمانے پر اسکول قائم کیے ہیں جو بی جے پی کیلئے کیڈر کام دے رہے ہیں ۔اس کے علاوہ قبائلی علاقے میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔
جھاڑ گرام کے گوپی بالو پور اسمبلی حلقے سے ترنمول کانگریس کے ممبر اسمبلی چورا مونی مہتو نے کہا کہ ہم نے پنچایت انتخابات کا تجزیہ کیا ہے ۔یہ بات سچ ہے کہ گرام پنچایت اور پنچایت سمیتی میں بی جے پی کا ووٹ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مقامی باشندے پارٹی کے ورکروں سے ناراض ہیں اور اس لیے انہوں نے بی جے پی کیلئے ووٹ دیا ہے تاہم ضلع پریشد کی سطح پر ہمارے نتائج اچھے رہے اور ہم نے تمام سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ہم نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو رپورٹ سونپ دی ہے اور انہیں کچھ اقدامات کرنے کی سفارش کرنے کے ساتھ ہی پارٹی کی گروہ بندی ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔
ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ ریاست کے کچھ علاقوں میں بالخصوص جنگل محل ، پرولیا کے بلرام پور، سالبونی اور جھاڑ گرام کے گوپی بالوپورمیں امیدوں کے خلاف نتائج آئے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں ممبران اسمبلی نے اچھے کام نہیں کیے ہیں ۔ جھاڑ گرام ضلع میں بی جے پی کے سبھا پتی سوکھ موئے ستھپاتی نے کہا کہ ’’جنگل محل علاقے میں ترنمول کانگریس نے جھوٹے وعدے کیے ہیں ۔ترنمول کانگریس کے دور حکومت میں اس علاقے میں کچھ بھی اچھا کام نہیں ہوا ہے ۔مقامی لوگوں کی حالت میں کچھ بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔اس علاقے کے محض 20فیصد آبادی کو ہی 2روپیے فی کلوچاول مل رہے ہیں ۔دوسری طرف ترنمول کانگریس کے لیڈروں کی دولت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے ۔اس کی وجہ سے ترنمول کانگریس کے تئیں لوگوں میں شدید ناراضگی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی و پارلیمانی انتخابات میں ترنمول کانگریس کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور بی جے پی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی ۔بی جے پی لیڈر نے کہا کہ بی جے پی نے پرولیا، جھاڑ گرام ، مغربی مدنی پور اور بانکوڑہ میں 30فیصد پنچایت سمیتی اور 38فیصد گرام پنچایت میں کامیابی حاصل کی ہے ۔سیاسی تجزیہ نگار معیدالاسلام نے کہا کہ جنگل محل علاقے میں بی جے پی کی طاقت میں اضافہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ممتا بنرجی قبائلیوں کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں ۔گزشتہ60سالوں سے مقامی لوگوں کے طرز زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ریاستی حکومت نے ہتھیار ڈالنے والے سابق مائونوازوں کی بازآبادکاری خصوصی پیکج دینے کا اعلان کیا تھا ۔مگر جن لوگوں نے سی پی ایم کے خلاف بغاوت کی تھی ان قبائلیوں کی مدد کیلئے ترنمول کانگریس نے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔اس علاوہ ترنمول کانگریس کی آپسی گروہ بندی نے بھی شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ترنمول کانگریس کے سیکریٹری و پارلیمانی امور کے وزیر پارتھو چٹرجی نے کہا کہ ہم نے جنگل محل کی رپورٹ کا تجزیہ کیا ہے کہ ہماری کاکردگی اچھی نہیں رہی ہے ۔ہم جلدہی اس کے لئے اقدامات کریں گے اور قبائلیوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *