اقلیت کے بغیر ہندوستان کا تصور ادھورا

ہندوستان میں مسلمانوں کا وجود اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی چمن کے لئے پھول ۔لیکن اسے کچھ لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے ہیں۔ایسے لوگ اپنے ذاتی مفاد کیخاطر مادر وطن ہندوستان کی شناخت دھندلی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔دانشوران اور ماہرین اس بات کا انتباہ بار باردیتے آرہے ہیں کہ ملک میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا ہے، وہ ملک کی سا لمیت کے لئے اچھا نہیں ہے۔ابھی گزشتہ ہفتہ کانسٹی ٹیوشن کلب میں ’’چار سال :ہندوستان بے حال، مودی حکومت میں آئینی، جمہوری ، تعلیمی اداروں پر حملے ‘‘ کے عنوان سے سہ روزہ پرگرام منعقد ہوا تھا۔تینوں دن کے پروگرام میں دانشوروں نے جو باتیں کہیں، اس کا لب لباب یہی تھا کہ ملک میں قانون کی بالادستی دھندلی پڑ رہی ہے اور موجودہ سرکار میں شدت پسند عناصر خود کو قانون و آئین سے بالا تر سمجھنے لگے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ جب چاہتے ہیں، اقلیتوں کو خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنالیتے ہیں۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان چار برسوں میں سیاسی طور پر جو زوال آیا ہے اس کے پیچھے سیاسی عناصر کارفرما ہیں لیکن جمہوریت کا چوتھا ستون کہی جانے والی صحافت بھی ان برسوں میںاپنے اقدار سے دور ہوئی ہے ۔چنانچہ کئی ایسے شعبے جن میں حکومت کے منصوبے ناکام ہوئے ہیں ، وہاں میڈیا حکومت کی تعریف کے پل باندہ رہا ہے۔اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے مشہور ماہر قانون راجدیپ سار دیسائی نے بطور خاص صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ عوام کوحقیقت کا آئینہ دکھائیںاور سچائی پیش کریں ۔
ممتاز صحافی پرنجئے گوہا تھاکرتا نے بڑے جذبات سے کہا کہ اس حکومت سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے جس نے اپنی ناکارہ پالیسیوں کی وجہ سے اقتصادیات کو چرمرا دیا،وجہ صرف یہ ہے کہ یہ حکومت اپنی ہر پالیسی کے پیچھے اپنا مفاد تلاش کرتی ہے۔کچھ لوگوں کو ترقی کے مواقع دے کر اکثریت سے ان مواقع کو چھین لیا گیا۔مدھوریش کمار کہتے ہیں کہ پالیسی میں مضبوطی نہ ہونے کے سبب بزنس ٹھپ ہوگیا اور سماج میں افراتفری پیدا ہوئی،اقلیتوںمیںخوف اور کاروباریوں میں مایوسی پیدا ہوئی،یہی صلہ ملا ہے لوگوں کو موجودہ سرکار سے۔سٹیزن وہپ سائٹ کی ایڈیٹر انچیف سیما مصطفی اور سماجی کارکن رضا حیدر نے ہندوستان میں گنگا جمنی تہذیب پر اپنے تاثرات میںجو باتیں کہیں وہ عقل کھولنے کے لئے کافی ہیں۔سیما مصطفی نے کہا کہ سیاسی تفریق آفس اور انتظامیہ میں برتی جارہی ہے جو کہ حکومت کی طرف سے ہورہی ہے۔اس کی وجہ سے عوام میں عدم توازن پیدا ہواہے۔یہاں ’’پھول والوں کی سیر‘‘ جیسا ماحول ہونا چاہئے جس میں ہر ذات برادری کے لوگ مذہبی تفریق سے اٹھ کر ایک دوسرے کے ہاتھ میںہاتھ ڈال کر زنجیر بناتے تھے۔ یہ تقریب دہلی میں منائی جاتی تھی ،جس سے ہماری گنگا جمنی تہذیب کا اشارہ ملتا ہے۔مگر حکومت ہمیں جس طرح کا ماحول دے رہی ہے،ہماری یہ گنگا جمنی تہذیب مٹتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

جے این یو کے سابق اسٹوڈنٹس یونین صدر کنہیا کمار نے کہا کہ بہت سی ایسی اہم باتیں ہیں جو اس سرکار نے عوام کی نظروں سے اوجھل کر رکھا ہے ،ہمیں ان تمام چیزوں کو اپنے مذاکرات کے ذریعہ سڑک پر لانے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں جو سوالات پیدا ہورہے ہیں،ان سوالوں سے ملک کے کونے کونے کے لوگوں کو واقف کرانا ہے ۔ الٰہ آباد دیونیورسٹی کی سابق یونین صدر رچا سنگھ نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کو گزشتہ چار سال میں بھگوا بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور جب اس کے خلاف طلباء نے آواز بلندکی تو انہیں جیل میں بھیجنے کا کام کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ طلبا کی تحریک نے ہی ملک میں اپوزیشن کو زندہ کیا ورنہ ہر طرف خاموشی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں آر ایس ایس، بی جے پی اور وی ایچ پی کو روکنا ہوگا۔اس موقع پرماہر سماجیات فہد احمد نے کہاکہ دلتوںاور مسلمانوں پر جو حملے ہو رہے ہیں اس کو متحد طورپر ختم کرنا ہوگا اور جس مقصد کے لئے سب یہاں جمع ہوئے ہیں،اس کو استقلال کے ساتھ آگے لے جانا ہوگا۔
ڈاکٹر ہرش وردھن سینئر آرتھوپیڈک سرجن نے کہا کہ ہم دانشوروں کو باہمی اختلاف کو بھلا کر موجودہ وقت میں جوافراتفری مچی ہوئی ہے ،اس کے خلاف لڑنے کئے لئے لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔سماج کے اندر جو ذات برادری اورمذہب کے نام پر جو زہر گھولا گیا ہے ،یہ ہمارے سماج کو دیمک کی طرح کھوکھلا کررہاہے۔اس کو ختم کرنے اور جمہوریت کو بحال کرنے کی شدید ضرورت ہے۔پروگرام میں افتخار چودھری ریٹائرڈ ایسو سی ایٹ پروفیسر، برودہ یونیورسٹی بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کے کئی ریاستوں میں غیر آئینی ،غیر جمہوری عمل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن اپنی زبان بند رکھتے ہیں۔ ہماری یہ خاموشی غلط کرنے والوںکو حوصلہ دیتی ہے۔ہمیں جمہوریت کی بحالی کے لئے اپنی خاموشی توڑنی ہوگی ۔ویمن رائٹس اکٹویسٹ جاگ متی سنگھ کہتی ہیں کہ ہمیں گزشتہ چار سال کا گہرائی سے جائزہ لینا چاہئے کہ ملک کے عوام ان چار برسوں میں کس طرح سے اپنے شہری حقوق سے محروم ہوتے جارہے ہیں اور کس طرح سے ان کی آزادی کو ان سے چھینا جارہا ہے۔ دستاویزی فلم ساز صبا دیوان نے کہا کہ اس وقت آنر کلینگ اور مذہبی عدم رواداری کے خلاف متحد ہوکر لڑنے کی سخت ضرورت ہے۔
ملک کے اندر چار برسوں میںجو افراتفری کا ماحول پیدا ہوا ہے، اس پر ملک کی مختلف ہستیاں مختلف مواقع پر تشویشات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ چاہے وہ سدھارت وردھ راجن ہوں، اوشا رام ناتھن ہوں،راج دیپ سار دیسائی ہوں، ڈاکٹر ابھا دیو حبیب ہوں،کو ل پریت کول ہوں ،یا پھر شبنم ہاشمی جیسی شخصیت ہوں۔ ان سب نے اپنے بیان و تحریر سے ملک کے ان چار برسوں پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس فسطائی طاقت سے لڑنے کے لئے سیکولر اور غیر جانبدار طاقتوں کو متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا ۔
ملک میںاقلیتوںکو دبانے اور ہراساں کئے جانے کے جو واقعات ہورہے ہیں ،ان پر ماہر سیاست اور مشہور دانشور ہرش مندر کہتے ہیں کہ ان چار برسوںکا ایک مختصر جائزہ لیجئے تو اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح سے منصوبہ بند طریقے سے ایک مخصوص طبقے کو نفسیاتی طورپر ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔کبھی لو جہاد کا شوشہ چھوڑ کر، کبھی گائے کشی کی پالیسی اپنا کر ،کبھی مساجد اور چرچوں کی مسماری کی مہم کو آگے بڑھا کر، ملک میں پولرائزیشن کی بھرپور کوشش کی گئی۔ایسے ایسے ایشو ز سامنے لائے گئے ،جس کی سچائی اور حقیقت کا کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ فلم پدماوتی اس کی واضح مثال ہے ۔تیستا سیتلوار نے بالکل سچ کہا کہ ماضی میں جب بھی تاریخ میں بے جا چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے تو اس کا نقصان قوم کو اٹھانا پڑا ہے۔اس بے جا چھیڑ چھاڑ سے مفاد پرست عناصر کو فائدہ ملتا ہے۔

 

 

 

 

 

ملک میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم اور ملک میںمسلمانوں کی اہمیت و ضرورت کے تئیں ایک افطار پارٹی کے موقع پر منی شنکر ایر نے جو پیغام دیا ہے ،یقینا وہ پیغام ملک کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے ہندوستان میں مسلمان رہتے آئے ہیں ،وہ اسی مٹی کا حصہ ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی ہے کہ اس کے بغیر ہندوستان کا تصور ادھورا ہے ، ہندوستان کا تصور مسلمانوں کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے مشترکہ تہذیب کی ہندوستان میں اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہاکہ مشترکہ تہذیب ہندوستان کی شناخت ہے اور مسلمان بھی اس کااہم حصہ ہیں،اس لئے مسلمانوں کے بغیر ہندوستان کاتصور نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اس مشترکہ تہذیب و ثقافت کا خوا ب ملک کے عظیم رہنمائوں نے دیکھا تھا۔
شنکرمنی ائر نے ہندوستان کے بدلتے سیاسی منظر نامہ اور نفرت پھیلانے کی ناپاک کوشش پر بھی بات کی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں کچھ ایسی طاقتیں برسراقتدار آئی ہیںجو چاہتی ہیں کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک سے ہندو راشٹر بن جائے۔ سابق وزیر نے اپوزیشن کے اتحاد کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اس کو روکنے کے لئے ہم ایک ساتھ متحد ہوکر اور کندھے سے کندھا ملا کر کام کریں تاکہ ایسی طاقتوں کوروکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جس ہندوستان کا خواب مہا تما گاندھی، پندت جواہر لال نہرو اور مولاناآزاد نے دیکھا تھا ،آج اس کو بچانے کی ضرورت ہے ۔ ہم نے گزشتہ 70برسوں سے اس کو بچا رکر رکھا تھا لیکن گزشتہ چار برسوں میں اس کو مٹانے کی بڑی کوشش کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک پر خطرہ ہے اور اس خطرہ کو ختم کرنے کا ہمارے پاس وقت آنے والا ہے۔ انہو ں نے الزام لگایا کہ جو صورت حال گزشتہ چار سال سے جاری ہے ،اس سے سب متاثر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اختلافات کو فراموش کرکے آگے قدم بڑھانے کی بات کہی اور کہا کہ جتنی بھی سیکولر طاقتیںہیں،ایسی طاقتوں کا مقابل متحد ہوکر کرکے اسے ناکام بنائیں گے ۔ہائی کورٹ کے سابق جسٹس کولسے پاٹل نے اس موقع پر دلتوں اور قبائلی اور مسلمانوں کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس وقت تک صورت حال میںتبدیلی نہیں آئے گی جب فسطائی طاقتوں کے مد مقابل سیکولر طاقتیں اور ملک کے دانشوران و ماہرین سماجیات و تعلیمات وغیرہ کھل کر سامنے نہیں آتے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *