نفرت کی مہم لینچنگ کا سلسلہ ہنوز جاری

ملک میں اس وقت ایک مخصوص کمیونیٹی کے خلاف نفرت کی مہم چل رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ گروپ روزانہ مسلمانوں سے نفرت پیدا کرنے والی مخصوص ویڈیوز اور پیغامات پوسٹ کرتے ہیں جو کروڑوں لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ بعض سرکردہ ٹی وی چینلز اسلام اور مسلمانوں کے خلاف باقاعدگی کے ساتھ نفرت پھیلا رہے ہیں۔ یہ غیر معمولی قسم کا ایسا فتنہ لگ رہا ہے جو مختلف شکلوں میں ملک کی سا لمیت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
قانون سے پرے؟
گئو رکشک اتنے دیدہ دلیر ہوچکے ہیں کہ حکومت، قانون اور انتظامیہ تک کو چیلنج کرنے لگے ہیں۔اس کی مثال دہلی کے رام لیلا میدان میں راجستھان گئو رکشا کمانڈو فورس کے ایس ایس ٹائیگر کے بیان سی دی جاسکتی ہے جس میں انہوں نے برجستہ کہا تھا کہ جہاں بھی گائے کٹتی ہوئی ملے گی، فوراً قصائی کو بھی گولی ماردی جائیگی۔ انہوں نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی قانون یا دستور کی پروانہیں،جہاں گائے کٹے گی، وہیں قصائی بھی کٹے گا۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ گائے کے نام پرلنچنگ اور پرہجوم قتل و غارتگری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو گئو رکشا کی بات، گائے کی محبت میں نہیں بلکہ سیاسی مفاد اور مسلم دشمنی میں کی جارہی ہے اور اس دشمنی کی وجہ سے یکے بعد دیگرے ایسے ایشوز اٹھائے جارہے ہیں جس سے مسلمان اذیت اور پریشانی کے شکار ہوں ۔ گائے کے گوشت کے علاوہ بیل و دیگر جانوروں پر پابندی اور مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہراکر انہیں ذلیل کیا جانا، پھر غیر قانونی سلاٹر ہاؤسز کے نام پر بھینس اور بکرے کے گوشت کا کاروبار محدود کر دیا گیا۔ مویشیوں اور گوشت کا کاروبار کرنے والے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہوئی ہے۔ ان حالات میں مسلمانوں کے خلاف بیانات بھی آتے رہے اور ہجومی حملے بھی وقتاً فوقتاً ہوتے رہے۔
ملک کی تقسیم کے بعد مسلمانوں میں غالباً پہلی بار اس طرح کا خوف اور ڈر پیدا ہوا ہے۔ اس خوف کا سبب یہ بھی ہے کہ ایک طرف ایک ایسی حکومت ہے جسے عموماً مسلمان اپنا مخالف سمجھتے ہیں اور دوسرے ملک میں اس وقت کوئی موثر اپوزیشن بھی نہیں ہے جو حکومت کو چیلنج کر سکے۔یہ ڈر صرف مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ سماج کے بہت سے حلقوں میں ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی چار برس کی کارکردگی ایسی کوئی خاص نہیں رہی ہے جسے ماضی کی حکومتوں سے الگ کیا جا سکے(مودی حکومت کے چار برس کی مکمل تفصیل ’چوتھی دنیا‘ اپنے گزشتہ شمارہ میں شائع کرچکا ہے)۔
جب گئو رکشکوں کی بربریت حد سے بڑھنے لگی اور ملک کے حالات افراتفر ی کا میدان بننے لگے تب وزیر اعظم کا دھیان اس طرف گیا اور انہوں نے نقلی گئورکشکوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی، ساتھ ہی گئورکشا کے نام پر ظلم کرنے والوں پر ریاستوں سے سخت کارروائی کرنے کیلئے بھی کہا۔ وزیر اعظم کے بیان کے بعد کچھ دنوںکے لئے حالات نارمل ہوئے ۔ لیکن یہ نارمل صورت حال زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رہ سکی۔ کیونکہ شرپسند عناصر نے ایک مرتبہ پھر وہ ننگا کھیل شروع کردیا ہے جو کھیل وہ ملک کی مختلف ریاستوں میں کھیلتے رہے ہیں۔
ابھی حال ہی میں ایک خبر مدھیہ پردیش سے موصول ہوئی کہ گئو کشی کے نام پر ایک مسلمان کو پیٹ پیٹ کر مارڈالا گیا اور دوسرے نوجوان کو شدید زخم دیئے گئے۔ یہ معاملہ مدھیہ پردیش میں ستنا کے کوا گمرا گائوں میں پیش آیاہے۔پیشے سے سلائی کا کام کرنے والے درجی سراج (45) اور شکیل (38) پر گائے کو مارنے کا شک تھا، جس کے بعد دونوں پر بھیڑ نے لاٹھی ڈنڈوں سے حملہ کر دیا۔ اس حملے کی وجہ سے سراج اور شکیل بری طرح زخمی ہوگئے۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق پولیس پون کی شکایت پر شکیل اور ریاض کے خلاف مدھیہ پردیش گئو قتل پابندی دفعہ 2004 اور مدھیہ پردیش زرعی جانوروں کے تحفظ ضابطہ 1959 کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یہ واقعہ بتاتاہے کہ چاہے حکومت کے دعوے جو بھی ہیں، مگر گئو رکشک کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔بلکہ حیرت تو یہ ہے کہ وزیر اعظم نے جب ماضی میںفرضی گئو رکشکوں کی بات کی ،تو کئی ہندو تنظیموں نے ان کے اس بیان پر تنقیدکرنا شروع کردیا جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک میں کچھ ایسے عناصر ہیں جو سماج کو ہندوتو کی طرف لے جانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے وہ تشدد کی راہ اپنائے ہوئے ہیں۔ آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے قومی جنرل سکریٹری منا کمار شرما نے وزیر اعظم کے اس بیان کوگئورکشکوں اور گوسیوکوں کی توہین قرار دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں گائے کی حفاظت اور گئو کشی پر مکمل پابندی لگانے کا جو انہوں نے ہم وعدہ کیا تھا ، اس سے مکمل طور سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ بہر کیف گئو رکشکوں کو تشدد کی راہ چھوڑنے کے لئے وزیر اعظم کی معمولی نصیحت بھی انہیں منظور نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے بیان پر مشتعل ہوگئے اور اب یہی عناصر ایک مرتبہ پھر سرگرم ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں ساتنا سانحہ پیش آیا۔
کسان سبھا اور جماعت اسلامی کا رد عمل
مدھیہ پردیش کے اس سانحہ پر آل انڈیا کسان سبھا اور جماعت اسلامی ہند نے اس ظالمانہ طرز عمل کی سخت لفظوں میں مذمت کی اور ہجومی تشدد میں شامل لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سزا دینے اور سراج کی بیوہ کو ایک کروڑ روپے اور بچوں میں سے ایک کو سرکاری نوکری اور شدید طور پر زخمی شکیل کو 25 لاکھ روپے اور مکمل علاج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے کہا کہ محض بیل کو ذبح کئے جانے کے شبہ میں ایک انسان کی جان لے لی گئی جو کہ یقینا شرمسار کرنے والی بات ہے۔اس سلسلہ میں مکمل محاسبہ ہونا چاہئے تاکہ ہجومی تشدد میں جو نوجوانوں کو جان سے مارنے کا جو سلسلہ چل پڑا ہے ،اس پر روک لگ سکے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جمہوریت کی پاسدار عوامی تنظیمیں تو اس حادثے پر اپنے دکھ درد کا اظہار کررہی ہیں مگر کسی سرکاری ادارے کی طرف سے اب تک کوئی رد عمل نہیں آیا ہے ۔اس سے تو یہی اشارہ سمجھا جائے گا کہ حکومت سخت گیر ہندوتو کو ڈھیل دے رہی ہے۔اس سلسلہ میں جماعت کے رہنمائو ں نے مرکزی اور ریاستی حکومتو ں سے اپیل کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں کیونکہ یہ نہ صرف شہریوں کی جان و مال کی حفاظت بلکہ شہری حقوق کے تحفظ کے زمرے میں آتا ہے جو کہ حکومتوں کی ذمہ داریاں ہیں۔
اشوک ڈھاوالے صدر آل انڈیا کسان سبھا نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم گزشتہ کئی برسوں سے دیکھتے آرہے ہیں کہ ہجومی تشدد کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس حملے کے پیچھے پولرائزیشن کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ ان طاقتوں کو سنگھ پریوار کی طرف سے طاقت ملتی ہے اور قاتلوں کو تحفظ اور قانونی طور پر مدد دے کر بچانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس میں بی جے پی کی مرکزی اور ریاستی حکومتیں ان کو موقع فراہم کرتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *