بھوکے بچوں کی بھوک مٹانا بھی مسئلہ بن گیا

آنگن باڑی مراکز کے ذریعہ بچوں کو کیا خوراک دی جائے کہ ان کی غذا سے متعلق ضرورتیںپوری ہوجائیں؟ اس سوال کو لے کر نیتی آیوگ اور خواتین و بچوں کی فلاح و بہبود کی وزیر مینکا گاندھی میںاختلاف ہے۔گزشتہ دنوںیہ خبر آئی تھی کہ وزیر موصوفہ گھر لے جانے والے راشن کی بجائے کھانے کے پیکٹ مہیا کرانے کے حق میںہیں۔ ان سے پہلے کے وزیر بھی سینٹرلائزڈ فوڈ ڈسٹری بیوشن سسٹم کوغذا اور صاف صفائی کے نام پر صحیح ٹھہراتے آئے ہیں۔ اب لگ رہا ہے کہ یہ تنازعہ ختم ہوگیا ہے۔ نیتی آیوگ نے ہندوستان کے تغزیہ سے متعلق چیلنجوں پر نیشنل کونسل کی میٹنگ میں اس تجویز کو خارج کردیا ۔ اس نے کہا ہے کہ نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ 2013 اور انٹی گریٹیڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروس پروگرام کے تحت اضافی غذا کے لیے 2017 میںجو قوانین جاری کیے گئے ہیں،ان پر دھیان دیا جائے اور کھانا بنانے میںماؤںکو شامل کیا جائے۔ فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے تحت چھ مہینے سے چھ سال کے بچوں کو اور حاملہ خاتون و دودھ پلانے والی ماؤں کو ہر روز ایک بار کا کھانا آنگن باڑی مراکز کے ذریعہ دیا جانا ہے۔ یہ مستفید ہونے والے کی کٹیگری پر انحصار کرے گا کہ اسے بنا بنایا کھانا ملے گا یا گھر لے جانے کے لیے راشن۔ آئی سی ڈی ایس کے تحت بھی یہ پروویژن ہے کہ سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعہ اضافی غذائیت کی ضرورتیںپوری کی جائیںگی۔
طویل عرصہ سے آئی سی ڈی ایس کے تحت گھر لے جانے والے راشن کی سپلائی بڑے ٹھیکیدار کر رہے تھے۔ اس سسٹم میں بدعنوانی اور لیکیج کافی زیادہ تھی۔ اسے دیکھتے ہوئے 2004 میںسپریم کورٹ نے آئی سی ڈی ایس کے تحت سپلائی کرنے کے لیے نجی ٹھیکیداروں پر روک لگادی اور سرکار کو یہ کہا کہ اس کام میں مقامی دیہی تنظیموں، خواتین منڈل اور سیلف ہیلپ گروپس کو شامل کیا جائے ۔ لیکن کئی ریاستوں میںدیکھا جارہا ہے کہ یہ ٹھیکیدار کبھی اصل پیداوار کے نام پر تو کبھی مہیلا منڈل کے نام پر اب بھی ٹھیکہ لے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ مقرر کیے گئے ڈپٹی کمشنروں نے اس پورے سسٹم میں لیڈروں، افسروں اور ٹی ایچ آر سپلائروں کے گٹھ جوڑ کو اجاگر کیا ہے۔ ان لوگوں نے یہ مانگ کی تھی کہ مہاراشٹر میں سپلائی کر رہے مہیلا منڈلوں کی جانچ ہو کیونکہ یہ پہلے کے ٹھیکیداروں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کے بعد مہاراشٹر سرکار نے مقامی مہیلا منڈلوںکوکام دینا شروع کیا۔ لیکن اس میںبھی ٹھیکیداروں کا ہی بول بالا ہے۔ اب بھی اس سے متعلق کئی معاملے سپریم کورٹ میںچل رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش سرکار نے حال ہی میں فوڈ سپلائی کے ٹھیکے منسوخ کیے ہیں اور سینٹرلائزڈ ڈسٹری بیوشن سسٹم قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ فیصلہ بھی تنازعوں میں ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایسا اندازہ ہے کہ آئی سی ڈی ایس کے تحت اضافی غذائیت پر ہر سال 15000 کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ یہ بڑی رقم ہے اور اس میں کئی لوگ اپنا حصہ چاہتے ہیں۔ دوسری طرف یہ رقم ٹھیک سے تب استعمال ہو پائے گی جب سپلائی ڈی سینٹرلائزڈ ہو۔ اس سے نہ صرف مقامی پیداوار کی مانگ بڑھے گی بلکہ مقامی سطح پر روزگار بھی پیدا ہوںگے۔ جب لوکل فوڈ آنگن باڑی سینٹرز کے ذریعہ بانٹے جائیںگے تو اس سے قبولیت بھی بڑھے گی اور نوزائیدہ و چھوٹے بچوں کی غذائی ضرورتیں بھی پوری ہوںگی۔ حالیہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے یہ بتاتا ہے کہ دو سال سے کم عمر کے صرف 9.6 فیصد بچوںکو کافی کھانا مل پارہا ہے۔ صاف ہے کہ اچھے کھانے کی دستیابی اور رسائی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بچوں کے کھان پان کو لے کر بیدری بڑھانے کی ضرورت ہے اور زچگی کے فائدے اور بچوں کی دیکھ بھال میںتعاون کی ضرورت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پیکیجڈ کھانے اور تازہ کھانے کی بحث بند کرکے متنوع مقامی کھانا دستیاب کرانے کی طرف بڑھا جائے۔ ڈی سینٹرلائزیشن سے مقامی لوگوں کی نگرانی بھی بڑھے گی اور ماؤں کی کمیٹی کی حصہ داری سے کھانے کی کوالٹی یقینی بنائی جائے گی۔ فوڈ سیکورٹی ایکٹ کو پوری طرح سے لاگو کیا جانا چاہیے تاکہ مقامی لوگ مضبوط بن سکیں اور چھوٹے بچوںکو وافر کھانا مل سکے۔
آئی سی ڈی ایس کے تحت اضافی غذائیت کی مصنوعات کی سپلائی کے پروویژن کو بے پٹری کرنے کی کوشش بھی چل رہی ہے۔ حالانکہ نیتی آیوگ نے قابل ستائش کردار نبھاتے ہوئے اسے بچانے کی کوشش کی ہے لیکن اس کی بھی خواہش یہ ہے کہ فوڈ سپلائی کی جگہ نقد ٹرانسفر کیا جائے۔ دس ضلعوں میںاس کا پائلٹ پروجیکٹ چلانے کی منظوری بھی نیوٹریشن کونسل کی میٹنگ میںدی گئی۔ حالانکہ اس کے نفاذ میںکئی مشکلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ خواہ وہ بنیادی ڈھانچے کی بات ہو یا بینکنگ سروسز کی دستیابی کی۔ نقد ٹرانسفر فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے پروویژن کی خلاف ورزی بھی ہوگی، جس میںکہا گیا ہے کہ کھانا دستیاب کرانا ہے۔ لیکن اگر نقد ٹرانسفر لاگو کرنے کی ہی جلدی ہے تو پھر 6000روپے کا زچگی فائدہ ہر کسی کو مہیا کرایا جانا چاہیے۔ یہ بھی فوڈ سیکورٹی ایکٹ میںہے اور اس کا اعلان وزیر اعظم نے سال بھر پہلے کیا تھا۔ ایسا نہیںہونا چاہیے کہ پہلے کا غذائی نظام تباہ ہوجائے ۔
(اکانومک اینڈ پالیٹکل ویکلی)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *