مدھیہ پردیش میں امت شاہ کا نیا گیم پلان کتنا عملی ،کتنا مفید

بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ پچھلے سال اگست مہینے میںجب بھوپال آئے تھے تو انھوں نے اعلان کیا تھا کہ 2018 میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی طرف سے شیو راج سنگھ چوہان چہرہ ہوںگے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے نام پر غور نہیںکیا جائے گا۔ مدھیہ پردیش میں اس سال کے آخیر تک الیکشن ہونے والے ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ اس کو لے کر بی جے پی نے اپنی حکمت عملی بدل ڈالی ہے۔ گزشتہ 4 مئی کو جب امت شاہ بھوپال میںمنعقد کارکنوں کے جلسے میں کچھ گھنٹوں کے لیے آئے تھے تو اس باران کا سُر بدلا ہوا تھا جس میں انھوں نے صاف طور پر کہا ہے کہ مدھیہ پردیش میں آئندہ الیکشن کے لیے پارٹی کی طرف سے کوئی چہرہ نہیں ہوگا اور اسے تنظیم کے دم پر لڑا جائے گا۔ بعد میںریاستی صدر راکیش سنگھ نے بھی امت شاہ کی اسی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کا کوئی انتخابی چہرہ نہیںہوگا،تنظیم الیکشن لڑے گی۔ جبکہ یہ وہی شیوراج سنگھ ہیںجن کے نام پر بی جے پی سال 2009 اور2013 کا الیکشن لڑکر جیت حاصل کرچکی ہے۔
وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا ایشو
دراصل پچھلے کچھ عرصہ سے مدھیہ پردیش میں گاہے بگاہے وزیر اعلیٰ کے بدلنے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔پچھلے دنوںایک پروگرام کے دوران خود شیو راج سنگھ نے ’’میری کرسی خالی ہے، جو چاہے وہ بیٹھ سکتا ہے‘‘ کہہ کر سنسنی مچادی تھی، جس کے کئی معنی نکالے گئے۔ دہلی سے آتے ہی شیوراج کا ’’کرسی خالی ہے‘‘ والا بیان دینا اور بھوپال آکر امت شاہ کا یہ کہنا کہ اس بار اسمبلی الیکشن تنظیم کے دم پر لڑاجائے گا،بہت کچھ اشارے دیتے ہیں۔اس بیچ ایسی افواہیںبھی چل رہی ہیںکہ الیکشن سے قبل بی جے پی قیادت کے ذریعہ مدھیہ پردیش میںبھی نائب وزیر اعلیٰ کا فارمولہ اپنایا جاسکتا ہے جس سے شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب کو نمائندگی دیتے ہوئے اقتدار کا توازن سادھا جاسکے۔
دراصل مدھیہ پردیش میں سنگھ اور آئی بی کے اندرونی سروے اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس بار شیور اج اور ان کی سرکار کے خلاف عدم اطمینان ہے اور نئی ٹیم بن کر کانگریس جس طرح سے کمر کس رہی ہے، اس سے بھی سخت ٹکر ملنا طے ہے۔ ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ امت شاہ اور مودی کی بی جے پی میںشیو راج سنگھ چوہان ان چنندہ بچے لیڈروںمیںسے ایک ہیں جن کی اپنی خود کی زمین ہے او ر جو پوری طرح سے اپنے پیروں پر کھڑے ہیں۔ ایک طرح سے مدھیہ پردیش شیوراج کا ماڈل ہے۔ اگر یہاں بی جے پی ان کے نام سے الیکشن لڑکر تیسری بار بھی سرکار بنانے میںکامیاب ہوجاتی ہے تو پھر ان کی حالت پارٹی میں انگد کے پیر کی طرح ہوجائے گی اور وہ چیلنج دینے کی حالت میں آسکتے ہیں۔ سیاست غیر یقینیوں کا کھیل ہے اگر مستقبل میںمودی، امت شاہ کے لیے پارٹی کے اندر کوئی الٹی حالت بنتی ہے تو پھر شیوراج سنگھ بڑی آسانی سے ایک متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آسکتے ہیں۔ آج بھی مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ بی جے پی کے لیے مترادف کے طور پر بنے ہوئے ہیں اور یہاں ہر چیزپر ان کی چھاپ ہے۔ ہر ہار یا جیت انہی کے کھاتے میںدرج ہوتی ہے ،اس لیے اگر اس بار شیوراج سنگھ چوہان کو چہرے کے طور پر پیش نہیںکیا جاتا ہے تو پھر مودی اور امت شاہ کے لیے یہاںکا راستہ کھل جائے گا اورایک طرح سے مدھیہ پردیش میںبھی ان کا پورا کنٹرول ہوجائے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کیا ہے گیم پلان
4 مئی کو بھوپال میںریاست بھر سے آئے کارکنوں کومخاطب کرتے ہوئے امت شاہ نے جو باتیںکہی تھیں، اس سے مدھیہ پردیش میں آئندہ اسمبلی الیکشن کے لیے ان کے گیم پلان کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ پہلی بات جو صاف طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہے، وہ یہ ہے کہ اس بار الیکشن کے دوران شیوراج کو فری ہینڈ نہیں ملنے والا ہے اور اس پر اصلی کنٹرول امت شاہ کا رہے گا۔ ان ہی کے بنائی گئی حکمت عملی کی بنیاد پر بی جے پی الیکشن لڑ ے گی۔دوسرے صاف لفظوں میںکہیںکہ اس بار مدھیہ پردیش میںکانگریس کا مقابلہ شیوراج سے نہیں مودی اور امت شاہ سے ہوگا اور سندھیا یا کمل ناتھ کی جگہ راہل گاندھی کو سامنے آنے کے لیے اکسایا جائے گا،جس سے مسئلہ مودی بنام راہل کا بن سکے۔ یہ ایک ماسٹر پلان ہے، جس میںاس ایک تیر سے دو شکار کیے جائیںگے۔ پہلا تو یہ کہ ایک ہی چہرے سے پیدا ہوئی اوب سے دھیان ہٹایا جاسکے گا اور دوسرے بہت ہی ’نربادھ‘ طریقے سے شیوراج سنگھ سے ان کی زمین چھین لی جائے گی۔
دوسرا گیم پلان مائیکرو لیول بوتھ مینجمنٹ کا ہے جس میںامت شاہ کو مہارت حاصل ہے۔ اس بار مدھیہ پردیش میںبی جے پی بوتھ لیول پر سب سے زیادہ توجہ دینے جارہی ہے۔ مدھیہ پردیش میںبی جے پی تنظیم بہت ہی مضبوط ہے۔ بی جے پی دعویٰ کرتی ہے کہ یہاں اس کے 65 لاکھ فعال ممبرہیں۔ اسکیم انھیںہی سرگرم کرنے کی ہے، جس کے تحت کرناٹک کے طرز پر مدھیہ پردیش میں بھی بوتھ لیول پر آدھا صفحہ پرمکھ (ہاف پیج انچارج) مقرر کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس فارمولے کے تحت ووٹر لسٹ کے ہر آدھے صفحے میں جتنے ووٹر آتے ہیں،ان سے ہاف پیج کو رابطے میں رہنا ہوتا ہے اور ان میں سے بھی خاص ان ووٹروں پر فوکس کرنا ہونا ہوتا ہے جو بی جے پی کے روایتی ووٹر نہیںہیں۔ مدھیہ پردیش میںقریب 65200پولنگ بوتھ ہیں، اس حساب سے 35 لاکھ ہاف پیج انچارجوں کی ضرورت پڑے گی۔
امت شاہ کا تیسرا گیم پلان دگوجے سنگھ کے بھوت کو واپس لاکر شیور اج سرکار کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا ہے۔ جس کے تحت بی جے پی کے پندرہ سال کی مدت کار کے مقابلے 2003 تک کی’ دگوجے دور حکومت‘کو سامنے رکھ کر الیکشن لڑنیکی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ کارکنوں کی کانفرنس کے دوران امت شاہ بی جے پی کے کارکنوں کو یہ ہدایت دے چکے ہیںکہ وہ گاؤں گاؤںجاکر 2003 سے پہلے ’’دگوجے کال‘‘ کے دور کی ریاست کے حالات اور آج کے حالات کا تقابلی بیورا دیں۔ کارکنوں کی کانفرنس کے دوران 2003 اور 2018 کے تقابلی ترقی کا بیورا دینے والی نمائش بھی لگائی گئی تھی اور اب الیکشن کے دوران جاری ہونے والے پرچار کے سامان میں بھی بی جے پی کے ذریعہ اپنے پندرہ سال کی حصولیابیوںکے ساتھ دگوجے دور حکومت ‘ کا موازنہ پیش کیا جائے گا۔ دراصل اپنی حصولیابیوںکو بتانے کے بجائے خود کو اپوزیشن میںپیش کرتے ہوئے اپوزیشن پر ہی سوال اٹھانا اس کی خامیوںکو گننا مودی اور امت شاہ کا پرانا نسخہ ہے، جسے وہ گجرات کے دور سے ہی کامیابی کے ساتھ استعمال میںلاتے رہے ہیں۔ شاید کانگریس کو بھی بی جے پی کے اس گیم پلان کا اندازہ ہوگیا ہے ، اس لیے نرمدا یاترا سے واپس لوٹنے کے بعد دگوجے سنگھ نے جو سیاسی سفر شروع کرنے کا اعلان کیاتھا اسے منسو خ کردیا گیا ہے۔ اس بارے میںدگوجے سنگھ نے کہا ہے کہ’’میں ودھان سبھا وار یاترا نکالنے والا تھا لیکن اب میںضلعوں میں میٹنگیںاور بات چیت کروں گا۔
ظاہر ہے کہ مدھیہ پردیش کو چوتھی بار فتح دلانے کے لیے بی جے پی کی طر ف سے امت شاہ کا تازہ گیم پلان تیار ہے، جسے بھیدنا کانگریس کے لیے آسان نہیںہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *