بھیّو جی مہاراج عظیم سنت و سماجی کارکن

بھیوجی مہاراج کی خود کشی اس ملک کے ان لوگوںکی کہانی ہے جو بڑے لوگ ہوتے ہیں لیکن اپنے آس پاس کے لوگوںکو نہیںپہچانتے ہیں۔ ایک بار میں آپ سے کوگی کا ذکر کر چکا ہوں۔ کوگی ایک ایسا کیڑا ہوتا ہے جو انسانی جسم کے اندر پیچھے سے گھستا ہے اور پیٹ کے سارے اعضاء کو کاٹتا ہوا سر پھاڑ کر نکل جاتا ہے۔ کوگی کو پہچاننا مشکل ہے کیونکہ یہ عام کیڑوںجیسا ہوتا ہے۔ لیکن یہ انسان اور جانور کے لیے ملک الموت ہے۔ کوگی انسانی روپ میںبھی ہوتے ہیں، جس کے ساتھ لگ جائیںاسے تباہ کرکے چھوڑتے ہیں۔
بھیو جی مہاراج ایسے ہی کوگیوں کے شکار ہوگئے۔ بھیو جی مہار اج ایسے سنت تھے جنھوں نے گیروئے کپڑے کبھی نہیںپہنے۔ پتہ نہیں ان میںکیا کشش تھی کہ لوگ ان کے پاس امنڈ کر پہنچتے تھے۔ بھیوجی مہاراج لوگوں کادردوغم اور تکلیف سن کی اپنی صلاح دیتے تھے۔ میںبھیو جی مہاراج سے کافی دنوںسے واقف تھا۔ بھیو جی مہاراج مجھے شاید اپنا دوست مانتے تھے۔ میںنے جو بھی بھیو جی مہاراج سے کہا، انھوں نے کرنے کی کوشش کی۔ میںنے ان سے کہا کہ آپ ممبئی آئیے، شری مرارکا جی کی کھینچی گئی تصاویر کی نمائش ہے، اس کا افتتاح کیجئے۔ بھیو جی مہاراج وہاں آئے میںنے بھیو جی مہاراج سے جسے بھی ملنے کے لیے بھیجا، انھوںنے احترام اور صبر کے ساتھ ان کی بات سنی۔
بھیو جی مہاراج مندروںکی سیریز نہیںبنواتے تھے، بلکہ ان کی پوجا کرتے تھے، جنھیںسماج میںکوئی نہیں پوچھتا۔ مدھیہ پردیش میںایک پاردی سماج ہے، جن پر مجرم ہونے کا ٹھپہ لگا ہے۔ انکے بچوںکو کئی سماج میںساتھ نہیںرکھتا۔ بھیو جی مہا راج نے پاردی کے بچوں کی تعلیم کے لیے رہائشی اسکول کھولے۔ بھیو جی مہاراج نے لڑکیوںکی تعلیم کا انتظام کیا، شادیاں کرائیں، کسانوںکو بیج اور کھاد کی مدد کرتے تھے۔ کسان خود کشی نہ کریں، اس کے لیے مہم چلاتے تھے۔ اس کے لیے وہ کسی سے پیسہ نہیںمانگتے تھے۔
ان کے کام کو عوام عقیدت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اس لیے لوگ اپنے خود پیسے دیتے تھے۔ بھیو جی مہاراج کی اسی شخصیت سے متاثر ہوکر بی جے پی ، کانگریس، دوسری پارٹیوں کے لوگ ان کے یہاںجاتے تھے۔ مہاراشٹر کا کوئی بھی سیاستداں بغیر بھیو جی مہاراج سے ملے اپنے کو نامکمل مانتا تھا۔ بھیو جی مہاراج کے دشمنوں کی تعداد بھی کم نہیںتھی۔ ان کے اوپر کئی بار حملے ہوئے، ان کا ایکسیڈنٹ کرایا گیا۔ بھیو جی مہاراج نے دیوداسی پرتھا کے خلاف مہم چلائی۔ دیوداسی بن چکی بچیوںکو وہاںسے نکال کر ایک آشرم میں بھیجا۔ جب وہ وہاں سے آرہے تھے تو ان پر گولی باری ہوئی۔ انکی جان جاتے جاتے بچی ۔ ظاہر ہے یہ حملہ ان لوگوںنے کیا تھا جو دیوداسی پرتھا کو چلائے رکھنا چاہتے تھے۔ بھیو جی مہاراج کے خلاف وہی لوگ تھے جو سماج سدھار کے خلاف تھے۔

 

 

 

 

 

 

گزشتہ چار مہینے میںکئی بار وہاںجانے کا میرا پروگرام بنا لیکن جا نہیںسکا۔ ان کا میرے پاس کئی بار فون بھی آیاتھالیکن میںنہیںجا پایا، اس کا مجھے دکھ ہے۔ بھیو جی مہاراج ملک کے سوالوںکو لے کر بہت ہی زیادہ بیدار تھے۔ وہ اپنے پاس آنے والے لیڈروںکو غریبوں اور لوگوںکے کام کرنے کے لیے کہتے تھے۔ جب نریندر مودی جی وزیر اعلیٰ تھے تو انھوں نے ایک انشن کیادن بھر کا۔ اس انشن کو بھیو جی مہاراج نے تڑوایا تھا۔ انا ہزارے کے مشہور دلی آندولن کا انشن تڑوانے کا کام بھی بھیو جی مہاراج نے ہی کیا تھا۔
بھیو جی مہاراج کی ماں بہت بیمار تھیں۔ وہ بستر پر لیٹی رہتی تھیں۔ میںجب بھیو جی مہاراج کے یہاںجاتاتھاتو میںانکی ماںکے پیر چھوتا تھا۔ بھیو جی مہاراج ہمیشہ ماںکے پاس لے جاکر کہتے تھے کہ ماں دیکھو، سنتوش جی آئے ہیں اور ماں آشیرواد کے لیے ہاتھ اٹھاتی تھیں۔ بھیو جی مہاراج نے ان کے کمرے کو ہی اسپتال کے کمرے کی شکل دے دی تھی۔ ابھی دوسال قبل ان کے والد صاحب کا انتقال ہوا تھا۔ بھیو جی مہاراج کے گھر میںزیادہ لوگ نہیں ہیں۔ ان کی بیوی کا انتقال تین سال پہلے ہوگیا تھا۔ بھیو جی مہاراج اپنی بیٹی کی پرورش اور تعلیم کو لے کر بہت پریشان رہتے تھے۔ انھوں نے ایک بار مجھ سے کہا کہ سنتوش جی جب میںباباگیری میںآیاتب دیکھا کہ باباؤںکے ڈھکوسلے، پرپنچ کیا ہیں اور لوگوں کو کیسے ورغلاتے ہیں۔
انسان تو انسان ہے، اس کی کمزوریاںہوتی ہیں اور ان کمزوریوں کی وجہ سے کل کوئی مجھ پر الزام لگائے کہ میںنے کسی کا استحصال کیا تو یہ ٹھیک نہیںہوگا۔ اس لیے میںنے طے کیا کہ میںشادی کرلوں۔ ان کی فزیو تھیریپسٹ، جو ایکسیڈنٹ کے بعد ان کی فزیو تھیریپی کرنے آتی تھی، ان سے انھوںنے شادی کرلی۔ بھیوجی مہاراج نے کہا کہ اس فیصلے کا سب سے بڑا سبب میری بیٹی کی دیکھ بھال کرنا تھا۔ کسی لڑکی کی دیکھ بھال عورت ہی اچھی طرح کرسکتی ہے۔ لیکن بھیوجی مہاراج کوگیوںکے شکار ہوگئے۔ یہ کوگی کون ہیں؟ یہ کوگی وہ تھے جو بھیو جی مہاراج کے آس پاس رہتے تھے، بھیو جی مہاراج کے نام پر بہت سارے کام کرتے تھے۔
بھیو جی مہاراج نے اس کا اشارہ کیا تھا کہ کچھ لوگ ان کی بیوی کے کان میں پھسپساتے رہتے ہیں۔ اتنے بڑے آدمی کی بیوی ہونے کی نفسیاتی ذمہ داری شاید ان کی بیوی نہیںسنبھال پائی۔ بھیو جی مہاراج دیکھنے میںسدرشن تھے جولوگ ان کے پاس آتے تھے، ان ہی کے ہوکر رہ جاتے تھے۔ خواتین آکر بھیو جی مہاراج سے گھنٹوں باتیںکرتی تھیں۔ مرد بات کرے تو کوئی بات نہیں لیکن عورتیں بات کرتی تھیں تو شاید انھیں(بھیو جی مہاراج کی بیوی) شک ہوتا تھا۔ انھوں نے بھیو جی مہاراج کی ٹوہ لینی شروع کردی۔ بھیو جی مہاراج کی نئی بیوی کے گھر والوں کی شاید ذہنی سطح بھی ویسی ہی ہے۔ بھیو جی مہاراج کی شہرت، کام علم ان کے لیے بے مطلب تھا۔ بھیوجی مہاراج کی ذاتی پراپرٹی انکی کھیتی تھی جس کا زیادہ تر حصہ انھوںنے عوامی کام کے لیے بیچ دیا تھا۔ ان کی پراپرٹی، ٹرسٹ کس کے پاس جائے، اسے لے کر ان کے گھر میںروز جھگڑا ہوتا تھا۔ شاید انکی بیوی، بیٹی کو ساتھ نہیںرکھنا چاہتی تھی۔ بھیو جی مہاراج اس صورت حال سے بہت پریشان رہتے تھے۔

 

 

 

 

 

 

چار مہینے پہلے ان کا فون آیا کہ مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے، آپ اندور آئیے۔ بھیو جی مہاراج نے اپنی پراپرٹی ایک شاگرد ونایک کے نام پر کردی ہے۔ ان ہی ونایک نے مجھے فون کیا کہ آپ سیدھے گھر آئیے۔ میں پہلے آشرم جاتا تھا، وہاںسے گھر آتا تھا۔ اس بار میںسیدھے ان کے گھر گیا۔ وہاںوہ عام لوگوںسے مل رہے تھے۔ میںجاکر بیٹھ گیا۔ وہاںمجھے ایک فیملی بیٹھی ملی، جس کے بارے میںمجھ سے بھیو جی مہاراج نے کہا کہ یہ اس لڑکی کی ماںہیں، جس کی عصمت دری کے خلاف پورے مہاراشٹر میں مراٹھاؤں کا آندولن ہوا تھا۔ بھیو جی نے کہا کہ سرکار نے وعدہ کیا تھا کہ اس کے بھائی کو نوکری دیںگے، لیکن نہیںدی۔ اس خاندان کا کسی نے دھیان نہیںرکھا۔ اس خاندان کا بھیو جی مہاراج نے دھیان رکھا۔ بھیو جی ملک کی حالت سے بہت پریشان تھے۔بھیو جی مودی سرکار کے کام کرنے کے طریقے سے بہت اداس تھے۔
وہ اس بات سے بھی اداس تھے کہ مہاراشٹر میںآبپاشی کا مسئلہ ہے، لیکن مہاراشٹر میںریاستی سرکار کوئی پہل نہیںکر رہی ہے۔ انھوںنے مجھ سے کہا کہ انسانی دل عجیب ہے، بہت کچھ پانا چاہتا ہے لیکن جب پالیتا ہے تو تب پتہ چلتا ہے کہ اس نے جس کے لیے اتنا تیاگ کیا، وہ سب پریشان ہیں۔ تب مجھے پہلی بار اندازہ ہوا کہ یہ انسان کوگیوں کا شکار ہوگیا ہے۔ ان کا شکار ہوگیا ہے جو ان کی بیوی کے پاس جاکر ان کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ یا ان کی بیوی کو صلاح دینے والے پراپرٹی کو لے کر پیچھے پڑے ہیں۔ کئی بار بھیو جی نے مجھ سے کہا کہ آپ مہا راشٹر کی ان جگہوں پر چلیے جہاںمیںسماجی خدمت کررہاہوں۔ انھوں نے کئی بار کہا کہ ایک نیا آندولن شروع کرتے ہیں، ایک نیا سفر شروع کرتے ہیں۔ لوگوں کو حلف دلائیںگے کہ وہ سماج کے لیے کام کریں۔ آخر ایسا کیا ہواکہ جو آدمی ایک بجے تک ٹویٹ کر رہا ہے، ایک وزیر کو سال گرہ کی مبارکباد دے رہا ہے، وہ ڈیڑھ بجے خود کو گولی مار لے۔
مجھے پتہ چلا کہ کمرے میںکچھ بات چیت ہوئی اورانھوں نے کمرے سے سبھی لوگوںکو نکال کر کمرہ اندر سے بند کرلیا۔ شاید کچھ لکھا لیکن کمرہ بند کرنے اور گولی کی آواز آنے میںپندرہ سے بیس منٹ کا ہی فرق رہا۔ یہ سبھی بات میںانکے خاندان پر کوئی اعترض کرنے کے لیے نہیںکہہ رہا ہوں۔ میںبس اتنا کہہ رہا ہوں کہ جو لوگ انسانی کمزوریوں کے شکار ہوتے ہیں، ان لوگوںکے گھر میں ایسے حادثے ہوتے رہتے ہیں۔ بھیو جی مہاراج نے شاید سوچا ہوگا کہ میںکس کے سامنے کیا صفائی دوںگا۔ اگر کوئی میرا اپنا ہی میری بات نہیںمانتا ہے تو میں کہاںجاکر کیاصفائی دوںگا۔ بھیوجی مہاراج نے دنیا سے جانا بہتر سمجھا۔
اب بھیو جی مہاراج کی یادیں ہی رہیںگی۔ انھیںمیںنے کبھی غصہ ہوتے نہیں دیکھا لیکن، وہ ان کوگیوںسے ہار گئے، جنھوںنے کامیاب تنازعہ پیدا کردیا۔ یہ تناؤ ہی تھا کہ جس نے شاید یہ لکھنے کو مجبور کر دیا کہ میںہار گیا ہوں۔ بھیو جی مہا راج اس ہار کو جیت میں بدل سکتے تھے۔ بھیوجی مہاراج نے اپنی بیمار ماں کو بھی نہیںیاد کیا۔ اس بیٹی کا بھی دھیان نہیںکیا جس کے لیے انھوںنے اپنی زندگی میںنئے لوگوں کو شامل کیا ۔ بھیو جی مہاراج دوسروںکو ہمت دیتے تھے لیکن خود ہمت نہیںجٹا پائے، اس’ ناگپاش ‘ کو کاٹنے کی۔ بھیو جی مہاراج آپ نہیں ہیں لیکن مجھے آپ ہمیشہ یاد رہیںگے۔ بھیو جی مہاراج کو سلام۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *