دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری حج ہاؤ س کے امام نے جمعیۃ کا شکریہ ادا کیا

دائیں سے مولانا غلام یحییٰ اورمولانا گلزار اعظمی
ممبئی:ممبئی میں واقع حج ہاؤس میں امامت کے فرائض انجام دینے والے مولانا غلام یحییٰ کو ممبئی ہائیکورٹ نے گذشتہ ہفتہ دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری کیئے جانے والے نچلی عدالت کے فیصلہ کی تصدیق کی تھی نے آج جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفتر پہنچ کر صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانامستقیم اعظمی، سکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی ، ناظم نشرو اشاعت مولانا عارف عمری،لیگل ایڈوائزرایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری و دیگر سے ملاقات کرکے انہیں بروقت قانونی امداد دینے کے لیئے جمعیۃ علماء کا شکریہ ادا کیا۔
مولانا غلام یحییٰ نے اس موقع پرکہا کہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتاری کے بعد پورے ملک میں ان کی بدنامی ہوئی تھی اور انہیں ملازمت سے معطل بھی کردیا گیا تھا، اب جبکہ جمعیۃ علماء کی مدد سے انہیں دہشت گردی کے الزامات سے ممبئی ہائی کورٹ نے باعزت بری کردیا ہے ، ان کی خواہش ہیکہ انہیں ملازمت پر فوراً بحال کیا جائے اور ان کے بقایا جات ادا کیئے جائیں ۔مولانا غلام یحییٰ نے سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی سے گذارش کی کہ وہ حج کمیٹی سی ای او سے خط و کتابت کرکے انہیں ملازت پر بحال کرنے کی درخواست کریں۔گلزار اعظمی نے مولانا غلام یحییٰ کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس گوئی اور جسٹس کوتوال کے فیصلہ کی اصل نقول موصول ہوتے ہی اس جانب کارروائی کی جائے گی۔
مولانا غلام یحییٰ کے مقدمہ کے تعلق سے ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ کو 14؍ جون 2006ء کو مولانا گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں نچلی عدالت سے مقدمہ سے باعزت بری ہونے کے بعد ہی جیل سے رہائی نصیب ہوئی تھی ، اس دوران مولانا نے ساڑھے چار سال آرتھر روڈ جیل میں گذارے۔
ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ نچلی عدالت سے رہائی ملنے کے باوجود مولانا یحیٰ کی پریشانی میں اضافہ اس وقت بڑھ گیا جب ریاستی انسداد دہشت گرد دستہ ATSنے مولانا کو نچلی عدالت سے ملنے والی راحت کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ، اس دوران مولانا کو ضمانتدار مہیا نہ کرانے کی صورت میں چار ماہ کے لیئے دوبارہ جیل میں جانا پڑا۔
واضح رہے کہ2006ء میں مہاراشٹر اے ٹی ایس نے سینٹرل حج کمیٹی آف انڈیا (حج ہاؤس) کی مسجد میں ا مامت کے فرائض انجام دینے والے غلام یحیٰ کو اس الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا کہ انہوں نے تین کشمیری دہشت گردوں کو مبینہ پنا دی تھی اور وہ ان کے مسلسل رابطہ میں تھے جو ممبئی میں دہشت گردانہ کاروائیا انجام دینے کی غرض سے آئے تھے۔مقدمہ کی سماعت کے بعد نچلی عدالت نے ایک جانب جہاں غلام یحیٰ کو مقدمہ سے باعزت بری کردیا تھا وہیں تین کشمیریوں کوغیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے کے الزامات کے تحت سات سال قید بامشقت کی سزاء سنائی تھی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *