’ عورت کی بدلتی ہوئی حیثیت اور حالی کی شاعری‘ پر غالب توسیعی خطبہ

syeda-hamid
نئی دہلی : غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام غالب توسیعی خطبہ جوکہ ’ عورت کی بدلتی ہوئی حیثیت اور حالی کی شاعری‘ پرمنعقد کیاگیا جس میں ڈاکٹر سیدہ حمید ، سابق چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی وسابق ممبرپلاننگ کمیشن آف انڈیانے کہاکہ ایسے وقت میں جب عورتوں کے تعلق سے ہندوستان کے خلاف رپورٹ آرہی ہے،ان حالات میں اس موضوع پر بات کرنا میرے لئے اہم ہے،عالمی سطح پر مولانا حالی سے بڑا تانیثی شاعر شاید کوئی نہیں۔ مجالس النسا میں مولانا حالی نے عورتوں کی ترقی کے لئے آواز اٹھائی۔ لڑکیوں کی پیدائش پر پیداہونے والے حالات پر حالی نے اس وقت اپناردعمل درج کرایاجب عورتوں کے مسائل کم گفتگو ہوتی تھی۔مجالس النسا میں مولانا نے عورتوں کے مختلف حالات بھی بیان کیے ہیں۔ حالی نے اس وقت اپنی بیٹی کو لکھنا سکھایا ،جب عورتوں کو لکھنا نہیں سکھایا۔ حالی نے اسلام کی تعلیم کو اپنے لیے حرز جاں بناکر عورتوں کے حقوق کے لیے کام کیا۔ حالی نے پانی پت جیسی جگہ میں لائبریری قائم کی اور نوجوانوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ ڈاکٹر سیدہ حمید نے مزید کہاکہ حالی نے اپنی نظموں میں کم سن بیوہ عورتوں کے جذبات بھی بیان کیے ہیں۔ یہ بڑا انقلاب تھا کہ کمسن بیوہ عورتوں کے جذبات کا اظہار مولانا حالی اس دور میں کررہے تھے۔ مولوی عبدالحق بھی حالی سے بے انتہا متاثر تھے اور انہوں نے گاندھی جی کوحالی کی شہرہ آفاق نظم مناجات بیوہ پڑھنے کا مشورہ دیاتھا۔ حالی نے اپنی نظم چپ کی داد میں ہندوستانی عورتوں کی حالت اور ان کی خاموشی کو بیان کیا ہے۔چپ کی داد میں حالی نے جتنی باریکیوں پر قلم فرسائی کی ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حالی اپنی نظموں میں جس طرح عورتوں کی خوبیاں بیان کرتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی نظمیں پوری دنیا کی عورتوں کا اینتھم ہے۔ سیدہ حمید نے مولانا حالی کی نظم مسدس مدوجزر اسلام کاجو انگریزی ترجمہ کیا تھااس کا بھی انہوں نے اس موقع پر ذکر کیا۔آخر میں آپ نے یہ بھی کہاکہ مولانا کی تانیثی نظموں کو پوری دنیا تک پہنچاناوقت کی ضرورت ہے اورہمیں خوشی ہوگی اگر اس کام کو کوئی مرد کرے۔مولانا حالی کی شاعری میں تین چیزیں بہت مستحکم ہیں حب الوطنی، اسلام اور تانیثیت ۔
اس خطبے کے صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے سیدشاہد مہدی، سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ یہ عنوان بہت حساس اور دلچسپ تھا۔ شاعری میں پہلی بار مولانا حالی نے عورتوں کو ان کی صحیح حیثیت دی، حالی نے خواتین کے حوالے سے سرسید کی تقلید نہیں کی اور انہوں نے دردمندانہ انداز میں عورتوں کے حالات پیش کئے۔ عمومی طور پر حالی کی شاعری کے حوالے سے عورتوں پر ان کی خدمات کو ہم پیش کرتے ہیں مگرہمیں ان کی نثر پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر سیدہ حمیدکو ان کے عالمانہ خطبہ پر سید شاہد مہدی نے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس خطبے میں سیدہ نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی کہ آج بھی حالی ہمارے لئے کتنے اہم ہیں۔جہاں تک میں سمجھتاہوں کہ اس خطبے سے متاثر ہوکر اس سلسلے کوآگے بڑھایا جائے گااور مزید کام کئے جائیں گے۔ آج حالی جیسے عظیم شاعر کی ضرورت صرف ایک مکتبہ فکر کے لوگوں کے لئے نہیں ہے بلکہ حالی کی ضرورت پورے ہندوستانی سماج کو ہے۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا کہ سیدہ حمیدکانام بہت نمایاں ہے۔ وہ بہت متحرک وفعال ہیں۔آج کے خطبے میں جس طرح سے ڈاکٹر سید ہ حمید نے حالی کونئے زاویہ سے متعارف کرایاہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ کی یہ تمام باتیں مدتوں تک ہمارے حافظے میں محفوظ رہیں گی۔حالی پر بے شمار مضامین لکھے گئے،کئی کتابیں آئیں مگرسیدہ حمید نے اپنی گفتگو میں جن باتوں کی طرف اشارہ کیاوہ تمام باتیں اچھوتی اورنئی تھیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ آنے والے دنوں میں حالی کے افکار و خیالات کو سمجھنے والے نئے انداز میں حالی پر تحقیق و تنقید کریں گے۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے ڈاکٹر سیدہ حمید کاتعارف کراتے ہوئے کہاکہ آپ ایک مفکر،ماہر اقتصادیات،مصنفہ اوراپنی عالمانہ گفتگو کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ عالمی سطح پر جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔آپ جس ادارے سے بھی وابستہ رہیں آپ نے اپنی صلاحیت،وژن اور اپنی قابلیت سے اُس ادارے کو بلند مقام پر پہنچایا۔یہ بات ہم سبھی جانتے ہیں کہ آپ کا تعلق حالی کے خانوادے سے ہے اورجب ہم آپ سے گفتگو کرتے ہیں توایک معنی میں حالی سے ہم کلام ہونا بھی ہے۔میں اس موقع پرڈاکٹر سیدہ حمید اورسید شاہد مہدی دونوں کاشکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس پروقار لیکچر سے ہمیں مستفید کیا،یقیناًآپ دونوں حضرات کی موجودگی سے غالب انسٹی ٹیوٹ کے وقار میں اضافہ ہوا۔ اس موقع پر دہلی کے معززین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد موجود تھے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *