ہندوستان کی پہلی ریکارڈنگ سپراسٹارگلوکارہ گوہرجان :گوگل انڈیانے ڈوڈل بناکرانہیں یادکیا

gauhar-jaans-145th-birthday
ہندوستان کی پہلی ریکارڈنگ سپراسٹارگوہرجان کے 145ویں جنم دن پرسرچ انجن گوگل انڈیانے ڈوڈل بناکرانہیں یادکیاہے۔26جون 1893کوپیداہوئیں ہندی سنیماکی مشہورگلوکارہ کا اصلی نام اینجلنا یوورڈ تھا۔ وہ ہندوستان کی پہلی گلوکارہ تھیں، جنہو ں نے ہندوستانی میوزک کی تاریخ میں اپنے گائے گانوں کی ریکارڈنگ کرائی تھی۔یہی وجہ ہے کہ انہیں’ہندوستان کی پہلی ریکارڈنگ سپراسٹار‘ کادرجہ ملاہے۔
گوہر جان معروف ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ اور رقاصہ تھیں۔ وہ گراموفون کمپنی آف انڈیا کے 78 آر پی ایم ریکارڈ پر کے لیے گانا ریکارڈ کروانے والی پہلی ہندوستانی گلوکارہ ہیں۔ انہوں نے ‘کلکتہ کی پہلی رقاصہ’ کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔ انہوں نے بنگالی،ہندی،گجراتی، تامل، مراٹھی، پشاوری، عربی، فارسی، پشتو، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں اور متعدد اصناف موسیقی میں اپنی گائیکی ریکارڈ کروائی۔ گوہر جان بادشاہ جارج پنجم، نواب واجد علی شاہ اور کرشنا راجا واڈیار چہارم والئی میسور سمیت متعدد امرا کے دربار کے ساتھ وابستہ رہیں۔
Gauhar-Jaan
ابتدائی زندگی
26 جون 1873ء میں اعظم گڑھ میں پیدا ہونے والی گوہر جان کا پیدائشی نام انجلینا ییوارڈ تھا، جو آرمینی نسل کے ایک ڈرائی آئس فیکٹری انجنیئر ولیم رابرٹ ییوارڈ کی بیٹی تھی۔ انجلینا نے اعظم گڑھ کے ایک میتھڈسٹ چرچ میں بپتسمہ لیا۔ اس کی ماں وکٹوریہ ہیمنگز بھی ایک کلاسیکی رقاصہ اور گلوکارہ تھی۔ 1879ء4 میں وکٹوریہ کی اپنے شوہر سے علیحدگی ہوئی تو وہ اپنی بیٹی کے ساتھ بنارس کی مسلم اشرافیہ کے ایک شخص خورشید کے ساتھ رہنے لگی۔ خورشید فنون لطیفہ کا دلدادہ تھا، اس دوران میں دونوں ماں بیٹی نے اسلام قبول کر لیا اور وکٹوریہ نے اپنا نام ملکہ جان رکھا، جبکہ اپنی بیٹی انجلینا کو گوہر جان کا نام دیا۔ بنارس ان دنوں ایک مقدس شہر ہونے کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ کا ایک اہم مرکز تھا، ملکہ جان نے گائیکی اور رقص کا پیشہ اختیار کیا اور رقص و موسیقی میں تربیت کے آٹھ سال گزارنے کے بعد بائی جی کہلوانے لگی۔ اپنے معاصروں میں بہت سی ہم نام فنکاراؤں (مثلا ملکہ جان آگرے والی، ملکہ جان ملک پکھراج والی اور ملکہ جان آف چلبلی) میں ممتاز مقام کی وجہ سے اسے بڑی ملکہ جان کے نام سے پکارا جاتا تھا۔گوہرجان نے 17 جنوری 1930کودنیاکوہمیشہ کیلئے الوداع کہہ دیا۔
فنی زندگی
1883ء4 میں گوہر جان اپنی ماں اور خورشید کے ہمراہ کلکتہ چلی آئی۔ ان دنوں بنارس، لکھنؤ اور آگرہ کی بائیاں کلکتے کے باؤ بازار میں اپنی معاش تلاش کرتی تھیں۔ تین برس کے عرصے میں بڑی ملکہ جان نے کلکتہ میں ایک ممتاز مقام حاصل کر لیا اور اپنے رہنے کے لیے 24 چت پور روڈ پر 40,000 روپے میں ایک بہت بڑی عمارت خریدی۔ نوعمر گوہر جان کے گنڈ بندھن کی رسم کے بعد اس کی فنی تربیت کے لیے یکتائے زمانہ اساتذ? فن کو مامور کیا گیا۔ گوہر جان نے ہندوستانی کلاسیکی گائیکی اور کچا گانا کی تربیت استاد کالے خاں آف پٹیالہ(کالو استاد)، استاد وزیر خاں آف رامپور اور استاد علی بخش (پٹیالہ گھرانہ کے بانی) سے حاصل کی، کتھک کی تربیت بریندادین مہاراج (برجو مہاراج کے چچا دادا) سے ،دھرپد دھمار کی تربیت سریجن بائی سے پائی اور بنگالی کیرتن، چرن داس سے سیکھا۔ ان کے علاوہ اس نے اپنے معاصر فنکاروں مثلا موج الدین خاں، بھیا گنپت راؤ اور پیارا صاحب سے بھی اکتساب فن کیا۔ گوہر جان ایک غزل گو شاعرہ بھی تھی اور شاعری میں ہمدم تخلص کرتی تھی۔ اس نے ٹیگور کے لکھے ہوئے متعدد گیت بھی گائے، جو بعد ازاں بنگالی گائیکی میں ‘رابندر سنگیت’ کے اصطلاحی نام سے معروف ہوئے ہیں۔
اپنی رسمی تربیت مکمل ہونے کے بعد گوہر جان نے اپنے فن کا سب سے پہلا مظاہرہ ریاست دربھنگا میں پندرہ سال کی عمر میں کیا۔ 1896ء4 میں وہ کلکتے کے امرا کی محفلوں سے باقاعدہ متعارف ہوئی اور اس کی مقبولیت عوام الناس تک پہنچنے لگی۔
گوہر جان نے راگداری سنگیت، ٹھمری، دادرا، بھجن، کجری، چیٹی اور ترانہ گائیکی میں کمال اور بے پناہ شہرہ پایا۔ اس نے پورے ہندوستان کا سفر کیا اور ملک کی سب سے مؤقر موسیقی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ 1911ء4 میں اسے1000 روپے کے عوض پریاگ سنگیت سمیتی میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ بادشاہ جارج پنجم کی تاجپوشی کے موقع پر اسے دہلی دربار مدعو کیا گیا جہاں اس نے جانکی بائی الہ آباد والی کے ساتھ مل کر تاجپوشی کا مجرا گایا؛ یہ ہے تاجپوشی کا جلسہ، مبارک ہو، مبارک ہو۔ اس مجرے پر انہیں بادشاہ کی طرف سے بھاری انعامات سے نوازا گیا۔
1903ء4 میں ہی اس کے ریکارڈز نے مقامی خرایداروں کی ایک بڑی تعداد کو مائل کر لیا تھا۔ گوہر جان نے 1902 سے 1920 تک 600 کے لگ بھگ گانے ریکارڈ کروائے۔ یہ ریکارڈز ابتدا میں جرمنی کے شہر ہانوور سے پریس کروا کر منگوائے جاتے تھے، تاوقتیکہ کلکتہ میں سیالدہ ریلوے اسٹیشن کے قریب ریکارڈز فیکٹری کا افتتاح ہوا، جس میں گوہر جان کو گراموفون پر متعارف کروانے والے گراموفون کمپنی لندن کے ولیم گیسبرگ کو بھی مدعو کیا گیا، جس نے اس موقع پر گوہر جان کے مزید گانے بھی ریکارڈ کیے۔
مائی نیم از گوہر جان: گراموفون پر پہلی ہندوستانی آواز
بیسویں صدی کے اوائل تک انگلستان، امریکا، فرانس اور جرمنی کی متعدد گراموفون کمپنیاں مقامی صنعتوں سے باہر ایشیائی اور خاص طور پر ہندوستان میں گراموفون ریکارڈ کی ممکنہ صنعت کی طرف متوجہ ہو رہی تھیں۔ 1898ء4 میں گراموفون کمپنی لندن نے اپنی پہلی مشرق بعید گراموفون ریکارڈنگ مہم کے آغاز پر ایک مقامی ایجنٹ کو مامور کیا لیکن اس نے چند اینگلو ہندوستانی آوازوں کی ریکارڈنگ پر اکتفا کرتے ہوئے کسی ہندوستانی فن کار کی آواز کو اس ریکارڈنگ مہم کا حصہ نہیں بنایا۔ لیکن اس مہم کے آغاز سے تین ہفتے پہلے ہی گراموفون کمپنی لندن کے فریڈرک ولیم گیسبرگ کلکتے پہنچ چکے تھے۔ گیسبرگ گراموفون ریکارڈنگ کے باواآدم ایمیلے برلینر کے معاون تھے۔ گیسبرگ نے موسیقی کی مقامی محافل اور تھئیٹروں تک رسائی کے لیے مقامی پولیس سپرنٹنڈنٹ کی مدد حاصل کی۔ بالآخر وہ ایک ایسی فنکارہ کو منتخب کرنے میں کامیاب ہو گئے جو ہندوستان کی مقامی صنعت میں پہلے سے ہی ہر خاص و عام کی پسند تھی۔ گوہر جان نے 3000 روپے کے معاوضے پر راگ جوگیا میں گائے گئے ایک خیال سے اس ریکارڈنگ کا آغاز کیا۔ 14 نومبر 1902ء4 کو کلکتے کے ایک ہوٹل میں صبح 9 بجے 30 سالہ گوہر جان قیمتی زیورات میں لدی پھندی، اپنے سازندوں کے ٹولے کے ساتھ پہلی ریکارڈنگ کروانے آئی۔ بھیروی میں گائے گئے تین منٹ دورانیے کے اس ریکارڈ کے آخر پر وہ انگریزی میں یہ کہتی ہوئی سنائی دیتی ہے؛ “مائی نیم از گوہر جان”۔ اس زمانے میں ریکارڈ پر لیبل لگانے میں آسانی کے لیے یہ طور اپنایا گیا، جو گوہر جان کے متعدد ریکارڈز کے آخر پر سننے میں آتا ہے۔
نجی زندگی اور موت
گوہر جان نے ایک شاہانہ زندگی بسر کی، لیکن اس کی نجی تعلقات کے حوالے سے متعدد تلخیاں بھی اس کی زندگی کا حصہ رہیں۔ وہ گھڑ سواری کی رسیا تھی، اس کے دن کا زیادہ تر حصہ انجانی بائی مالپیکر کے ساتھ مہالکشمی ریس کورس میں گھڑ سواری میں گزرتا جبکہ شامیں اور راتیں عوامی اور خواصی مواقع پر اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں۔ وہ چار گھوڑوں کی بگھی میں سفر کرتی اور ایک دفعہ غیر محتاط سواری کی پاداش میں اسے وائسرائے کو 1000 روپے جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ وہ اپنی شاہ خرچی کے حوالے سے بھی ایک گونہ شہرت رکتھی تھی، مثلا ایک بار جب اس کی بلی نے بچے جنے تو اس خوشی میں اس نے 20,000 روپے خرچ کر کے ایک بہت بڑی دعوت کا اہتمام کیا۔ اس نے گاندھی جی کے ‘سوراج فنڈ’ کے لیے چندہ دینے کی ہامی بھری، لیکن جب گاندھی جی اس کے چندہ کنسرٹ میں وعدے کے باوجود نہ آئے تو اس نے طے شدہ رقم کا نصف چندے کے لیے دیا۔
معروف ہندوستانی گائکہ ہیرا بائی (19051501989) اپنے طفولیت کے زمانے میں جب اپنے والدین کی علیحدگی کے بعد پریشان حال زندگی گزار رہی تھی، گوہرجان نے اس کے والد عبد الکریم خاں سے درخواست کی کہ وہ ہیرابائی کو گود لینا چاہتی ہے۔ جب ہیرابائی کی ماں اپنے پانچ بچوں کے ساتھ پونے منتقل ہوئی تو گوہر جان نے ہیرا بائی اور اس کی بہن سندر بائی کو موسیقی کی تربیت دی اور گراموفون ریکارڈز کے ذریعے انہیں متعارف کروانے کا اہتمام کیا۔
اس کی شادی پشاور کے ایک جوان سید غلام عباس کے ساتھ ہوئی، جو اس کا سیکرٹری اور عمر میں اس سے دس برس چھوٹا تھا۔ لیکن یہ شادی کامیاب نہیں ہو سکی اور خانگی چشمکوں سے ہوتی ہوئی عدالتی تنازعوں اور علیحدگی پر منتج ہوئی۔ علیحدگی کے بعد اس نے بمبئی میں گجراتی تھئیٹر سے وابستہ اداکارامرت کیشو نائک کے ساتھ رہنا شروع کر دیا۔ تعلق کے اس عرصے میں اس نے متعدد مشہور گانے لکھے اور گائے۔ اس کا مشہور دادرا ‘ان بن جیا میں لاگی’ اسی عرصہ سے یادگار ہے۔ تین چار سال پر محیط اس رفاقت کا انجام امرت کی موت پر ہوا، جو گوہر جان کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ اس واقعے کے بعد اس کے اقارب اسے واپس کلکتے آ جانے پر اصرار کرتے رہے، لیکن وہ ہمیشہ اپنے اقارب کی بے وفائی کا گلہ کرتی رہی۔ وہ کچھ عرصہ ریاست دربھنگہ میں قیام کے بعد میسور چلی گئی، جہاں وہ مہاراجا کرشناراجہ واڈیار کے دربار سے وابستہ رہی۔ یہیں میسور میں مکمل تنہائی اور اداسی کے عالم میں اس کی موت واقع ہوئی۔
ریکارڈز کی بازیافت
گوہر جان نے 150 کے قریب ریکارڈ چھوڑے ہیں۔ ان تاریخی اہمیت کے حامل ریکارڈز کی بحالی اور دوبارہ اجرا کے لیے متعدد اقدام ہوئے ہیں۔ سارے گاما انڈیا (سابقہ گراموفون کمپنی آف انڈیا یا’ہز ماسٹر وائس’ ایچ ایم وی) نے گراموفون کمپنی لندن کے تعاون سے ان ریکارڈز کے دوبارہ اجرا کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ 1994 میں گراموفون کمپنی نے گوہر جان کے 18 ریکارڈز ‘چیئرمین وائس’ کے نام سے آڈیو کیسٹ اور آڈیو سی ڈی میں جاری کیے۔ 2006ء4 میں جاری ہونے والے البم ‘ونٹیج میوزک آف انڈیا’میں بھی ان ریکارڈز کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریکارڈ جمع کرنے والے شائقین موسیقی کے نجی ذخیرے بھی ان ریکارڈز کی عوامی اشاعت کا ایک ذریعہ بنتے رہے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *