فلم سے پارلیمنٹ اور گانے تک گووندا کا جلوہ

گووندا کی فلم خود غرض کے گانے’’مے سے نہ مینا سے نہ ساقی سے‘‘ پر ڈانس کرتے ہوئے ایک پروفیسر صاحب ویڈیو میںنظر آئے تو بلا شبہ پروفیسر صاحب سوشل میڈیا کے اسٹار بن گئے لیکن دل و دماغ کے اسکرین پر اچانک گوونداکی تصویر بھی ابھر آئی۔
کسی زمانے میںگووندابالی ووڈ کے ہیرو نمبر ون ہوا کرتے تھے ان کی کامیڈی ڈائیلاگ، کامک ٹائمنگ اور ڈانس کو لوگ خوب پسند کیا کرتے تھے۔ ان کے پرستاروںکی لائن بھی لمبی تھی۔پھر گووندا کو سیاست کا چسکہ لگا اور وہ ممبر آف پارلیمنٹ بھی بنے لیکن سیاسی دنیا میں زیادہ دیر نہیںٹکپائے۔ سوشل میڈیاپر گووندا کے گانے پر ڈانس کرتے ہوئے ان کے ایک فین کاجو ویڈیو وائرل ہواہے،وہ فین ہیںبھوپال کے پروفیسرسنجیو شریواستو، جو الیکٹرانکس کے پروفیسر ہیں اوران کی عمر 46سال کی ہے۔
گووندا کا جو گانا وائرل ہوا ہے، وہ فلم’’ خود غرض‘‘ کا ہے جو کہ 1987 میںآئی تھی۔راکیش روشن پہلی بار اس فلم میںڈائریکشن دے رہے تھے۔ فلمی دنیا میںنئے نئے آئے گووندا کے لیے بھی یہ بہت اہم فلم تھی۔ ان کی فلم ’لو 86‘ ایک سال پہلے ہی ہٹ ہوئی تھی اور گووندا فلمی دنیا میں اپنے پیر جمانے میںلگے ہوئے تھے۔
فلم کے اس ہٹ گانے کو یاد رکرتے ہوئے گووندا نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میںبتایا کہ ’’میںاپنے بھانجے کو لے کر ویشنو دیوی کی چڑھائی پر گیا تھا۔ اسے سر پر بٹھایا تھا۔ اس کے بعد میرے پیر سوج گئے تھے۔ جس کی وجہ سے فلم کی شوٹنگ ایک دن کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ اگلے دن ہم نے شوٹنگ کی اور صرف چھ گھنٹے میںنیلم اور میںنے یہ گانا شوٹ کیا جو سپر ہٹ ہوا۔‘‘انھوں نے کہا کہ میںاور نیلم نے کئی اسٹیج شو میںبھی اس پر پرفارم کیاہے۔ میںنے یہ گانا صرف راکیش روشن کے تئیںاپنے سمان کے تئیں شوٹ کیا تھا۔ فلم ’’خود غرض ‘‘شائقین کو بہت پسند آئی۔ ہندی میںیہ فلم ہٹ رہی اور دیگر زبانوںمیںاس کا ریمیک بھی بنا۔ تمل میںخود رجنی کانت نے اس میں کام کیا،جبکہ تیلگو میںوینکٹیش اور اڑیہ میںمتھن نے کام کیا۔
گووندا کے والد ارون کما رآہوجہ بھی اپنے زمانے کے بہترین اداکار تھے۔ انھوں نے 1940 کی دہائی میںتقریباً 30-40 فلموںمیںکام کیاتھا۔ محبوب خاں نے انھیںاپنی فلم ’’عورت ‘‘میںموقع دیا تھا جو بعد میں’’مدر انڈیا‘‘ کے نام سے محبوب خاں نے دوبارہ بنائی۔ گووندا کی والدہ نرملا دیوی بنارس کی رہنے والی تھیں اور وہ داکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ کلاسیکل گلوگارہ بھی تھیں۔ ایک فلم کے پروڈکشن میںگووندا کے والد کو زبردست خسارہ ہوا جس کے نتیجے میں انھیںاپنا بنگلہ چھوڑ کر ممبئی میںویرار آکر رہنا پڑا۔ یہیں سے گووندا کو’ ویرار کا چھوکرا‘ کا نام ملا۔
گووندا کامرس میںگریجویٹ تھے اور نوکری کے لیے در درکی ٹھوکریںکھار ہے تھے لیکن ان کی قسمت میںتو فلم اسٹار بننا لکھا تھا۔ چنانچہ 1980 کی دہائی میں انھیں ایلون نام کی ایک کمپنی میں اشتہار ملا اور پھر جلد ہی انھیں فلموں میں کام کرنے کا موقع مل گیا۔گووندا کے فلمی کریئر کی شروعات 1986 میں فلم ’’الزام‘‘ سے ہوئی جو باکس آفس پر سپر ہٹ ہوئی تھی۔ 1990 تک آتے آتے وہ فلم انڈسٹری میںچھا گئے۔ ان دنوں فلمی دنیا میںتینوں خانوں(شاہ رخ خان، سلمان خان اورعامر خان) کے علاوہ اگر کوئی تھا جو باکس آفس پر ان کا مقابلہ کر رہا تھاتو اس کا نام گووندا تھا۔ گووندا ان دنوں فلم انڈسٹری میںچھائے ہوئے تھے۔

 

 

 

 

 

 

ان کے نام بالی ووڈ میںایک سال میںسب سے زیادہ فلمیںدینے کا ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ بالی ووڈ کے ہر شعبے میں انھیںنمبر ایک کا تمغہ حاصل ہے۔ان کی ایک سال میں8-9 فلمیں ریلیز ہوتی تھیںاور فلمی شائقین میں خوب پسند کی جاتی تھیں۔ پیسہ بھی خوب کماتی تھیں۔ ان کی کامک ٹائمنگ، خاص ڈائیلاگ اور پنچ لائن جو ان کے لیے ہی لکھے جاتے تھے،ان کے رنگ برنگے کپڑے اور جاندار ڈانس باکس آفس پر آگ لگانے کے لیے کافی تھے۔ حالانکہ گووندا نہ تو عامر خان کی طرح چاکلیٹی ہیرو تھے، نہ شاہ رخ خان کی طرح ان کی رومانٹک امیج تھی اور نہ ہی سلمان خان کی طرح ان کی باڈی تھی، اس کے باوجود گوونداکا فلم انڈسٹری میں جادو چل رہا تھا۔انھوں نے اپنی زندگی میں اب تک 12 فلم فیئر ایوارڈ، ایک اسپیشل فلم فیئر ایوارڈاور بیسٹ کامیڈین فلم ایوارڈ اور چار زی سنے ایوارڈ حاصل کیے۔
جہاں تک نجی زندگی کا تعلق ہے، تو گووندا نے کریئر کے ابتدائی دور میںسنیتا آہوجہ سے لو میرج کرلی تھی لیکن اس راز کو وہ ایک سال تک اپنے سینے میں چھپائے رہے ۔ اپنی شادی کو راز میںرکھنے کی وجہ یہ تھی کہ انھیںلگتا تھا کہ اس سے شاید ان کی مقبولیت پر منفی اثر پڑے لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ 2004 میں انھوں نے سیاست کی دنیا میںقدم رکھااورممبئی سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ لیکن جلدی ہی ان کا سیاست سے بھی دل بھر گیا۔
گووندا نے تقریباً ہر طرح کی فلموں میںکام کیا ہے۔ خواہ کامیڈی ہو، رومانس ہو، ڈرامہ ہو، ایکشن ہو یا کوئی دیگر ، سبھی میںگووندا نے اپنی اداکاری کا لوہا منوایا ہے۔ان کی ڈانسگ اسکل کی دنیا دیوانی ہے اور وہ فلمی دنیا میںایک اچھے ڈانسر کے طور پر مشہور ہیں۔ کچھ لوگوںکو لگتا ہے کہ گووندا فلم انڈسٹری کے انڈر ’ریڈٹ ایکٹر‘ ہیں، جن کے ہنر کا استعمال ٹھیک سے نہیںہوپایاتو کچھ لوگ انھیںمحدود اداکار مانتے ہیں۔ گزشتہ دس سالوںکے دوران ان کی کئی فلمیں آئیں اور غائب ہوگئیں۔پچھلے سال ان کی آخری فلم آئی تھی ’’آگیا ہیرو‘‘جس میں وہ اپنے پرانے انداز کے آس پاس بھی دکھائی نہیں دیے۔ ویسے اگلے مہینے وہ فلم ’’فرائی ڈے‘‘ میں نظر آئیںگے۔ یہ بھی سننے میںآیا ہے کہ پہلاج نہلانی نے انھیںفلم ’’رنگیلا راجا‘‘ کے لیے بھی سائن کیا ہے۔ وہ فلم میںوجے مالیا کا رول ادا کریں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ گووندا کی فلمیںتو اب کم نظر آتی ہیں لیکن ان کے گانوں پر آج بھی لوگ تھرکتے ہوئے مل جا تے ہیں جیسے ان دنوں بھوپال کے پروفیسر کا ڈانس کرتا ہوا ویڈیو وائرل ہورہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *