ناگپور:پرنب مکھرجی نے سنگھ کے بانی ہیڈگوار کو بھارت ماں کا عظیم بیٹاقرار دیا

pranab
راشٹریا سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈکوارٹر ناگپورپہنچ کر خطاب کرتے ہوئے سابق صدر جمہویہ پرنب مکھرجی نے قوم پرستی پر ایک لمبا بھاشن دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مذہب، دشمنی یا عدم تشدد کے ذریعہ اگر ملک کی حد بندی کی گئی تو ملک کا وجود کمزور ہوجائے گا۔پرنب مکھرجی نے اپنے خطاب کے آغاز میں ہی واضح کیا کہ وہ نیشن (ملک)، نیشنلزم (قوم پرستی) اور پیٹروٹیسم (محب وطن) پر بات کرنے آئے ہیں۔انہوں نیمزید کہا کہ قوم پرستی کسی مذہب یا زبان میں تقسیم نہیں ہوئی ہے۔
قبل اس کے کہ سابق صدر اور کانگریس کے قد آور لیڈر ڈاکٹر پرنب مکھرجی جمعرات کو یہاں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے پروگرام میں اپنا خطاب دینے سے تقریباً ڈھائی گھنٹے پہلے آر ایس ایس بانی ڈاکٹر کے بی ہیڈ گوارکی جائے پیداش پرگئے۔وہاں ان کا سر سنگھ چالک ڈاکٹر موہن راو بھاگوت نے استقبال کیا۔ اس دوران سابق صدر جمہوریہ نے ڈاکڑر ہیڈ گوار کو خراج عقیدت پیش کیا انہوں نے وہاں ویزیٹرس بک میں لکھا ڈاکٹر کے بی ہیڈ گوار بھارت ماں کے عظیم بیٹے تھے ۔

 

پرنب مکھرجی راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے تعلیمی شعبہ کے سالانہ تقسیم اسناد پروگرام سے خطاب کرنے پہنچے تھے، انہوں نے کہا کہ قومیت ذات، مذہب اور زبان سے بالا ہے اور ہندوستان ایک مذہب یا زبان کا ملک نہیں ہے، اس ملک میں 122سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومیت کسی بندھن میں نہیں بندھی ہے، تمام مذاہب سے ملک کی تعمیر ہوئی ہے ، مزید کہا کہ ہندو ،مسلمان، سکھ ، عیسائی تمام سے مل کر ملک بنتا ہے۔ مکھرجی نے کہا کہ ہندوستان پوری دنیا کو ایک کنبہ مانتا ہے اور وہ پوری دنیا میں خوشحالی اور امن چاہتا ہے۔ رواداری ملک کی طاقت ہے اور ہم تنوع کا احترام کرتے ہیں۔ آگے کہا کہ قوم پرستی کسی بھی ملک کی شناخت ہوتی ہے اور قوم کے لئے خود سپردگی ہی حب الوطنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر ملکی حکومتوں کے راج کرنے کے باو جود ملک کا کلچر محفوظ ہے۔
واضح رہے کہ پرنب مکھرجی کے سنگھ کے پروگرام میں شامل ہونے کو لے کر ایک بڑا سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا، بہت سے کانگریس رہنماؤں نے مکھرجی کو سنگھ کے پروگرام میں شامل نہ ہونے کی صلاح دی تھی. پرنب مکھرجی کی بیٹی اور کانگریس رہنما شرمشٹھا مکھرجی نے بھی کچھ ایسی ہی اپیل کی تھی. ان سب کے باوجود، مکھرجی پروگرام میں شامل ہوئے اور حب الوطنی پر ایک طویل لیکچر دیا. سنگھ کے پروگرام میں موجود سیوم سیوکوں کو مخاطب کرتے ہوئے، سابق صدر نے کہا کہ آپ لوگ نہایت تربیت یافتہ ہیں لہٰذا ملک میں امن اور ہم آہنگی کے لئے کام کریں۔
سابق صدر اور سینئر کانگریس کے رہنما پرناب مکھرجی نے صاف طور پر کہا کہ دھرم، بھید بھاؤ اور عدم تشدد سے ہندوستان پر اپنی من مانی چلانا ہندوستانی پہچان کو کمزور بنادے گا۔مکھرجی نے کہا کہ آزادی کے بعد ہمیں جو جمہوریت ملی ہے وہ ہمارے لئے تحفہ نہیں ہے اوریہ آئین صرف انتظامیہ کے لئے نہیں بنا ہے بلکہ ہمارا آئین کروڑوں لوگوں کی خواہشات کی نمائندگی کرتا ہے ۔ 26 جنوری، 1950 میں ملک کا ا?ئین وجود میں آیا. ہم خود مختار جمہوری ریاست میں یقین رکھتے ہیں. ہمارے پاس آئینی دیش بھگتی ہے. مکھرجی نے کہا کہ ا?ج ملک میں لوگوں کا غصہ بڑھ رہا ہے لیکن بات چیت سے ہر مسئلہ کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ مکھرجی نے کہا کہ آج ہندوستان میں معیشت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور ملک کو خوشحال بنانے میں تمام لوگوں نے تعاؤن کیا ہے، مگر شہری خوش نہیں ہیں۔انہوں نے آئے روز تشدد کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ نظریات کی یکسانیت کے لئے بات چیت ضروری ہے۔
قابل اعتماد ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ہیڈ گوار کو خراج عقیدت سے جڑی مکھرجی کا یہ دورہ انکے مقررہ پروگرام کا حصہ نہیں تھا۔ سابق صدر جمہوریہ نے اچانک ہوا جانے کا فیصلہ کیا۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر ہیڈ گوار کا آبائی مکان ناگ پور شہر کے شکر واری علاقے میں ہے ۔ اسی مکان میں ڈاکٹر ہیڈ گوار نے 27ستمبر1925کو وجے دشمی کے دن آر ایس ایس کے قیام کو لے کر پہلی میٹنگ کی تھی ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *