رمضان کریم:چانددیکھنے کااہتمام،عیدکی تیاریاں اورخوشیاں

chand
رمضان المبارک کا پاک مہینہ بس ختم ہی ہونے والا ہے۔ روزے داروں کواب بس عیدکے چاندکے دیدارکا انتظارہے۔رمضان کے پاک مہینے کے بعد یکم شوال المکرم کوعیدکا تہوارمناتے ہیں۔آج سے چاندسے چانددیکھنے کا سلسلہ شروع ہوگا۔ اگرچاندکی تصدیق ہوجاتی ہے توہندوستان میں جمعہ کوعیدمنائی جائے گی ۔وہیں سعودی عرب میں بھی آج چانددیکھاجائے گا اورجمعہ کوعیدمنائی جاسکتی ہے۔بہرحال عیدکب منائی جائے یہ آج شام چانددیکھنے پرہی طے کیاجائے گا۔یادرہے کہ عید الفطر ایک اہم مذہبی تہوار ہے جسے پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہونے پر مناتے ہیں۔ عید کے دن مسلمانوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ مسلمان رمضان کے 29 یا 30 روزے رکھنے کے بعد یکم شوال کو عید مناتے ہیں۔ کسی بھی قمری ہجری مہینے کا آغاز مقامی مذہبی رہنماؤں کے چاند نظر آجانے کے فیصلے سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں عید مختلف دنوں میں منائی جاتی ہے۔ ہر مسلمان خواہ وہ کسی ملک اور کسی شہر میں ہو اپنی حیثیت کے مطابق عید کی خوشیاں مناتے ہیں۔عید الفطر کے دن نماز عید جامع مسجد یا کسی کھلے میدان یعنی عیدگاہ میں ادا کیا جاتا ہے۔عیدکاتہوارانعام اورعبادت کا دن ہے عیدالفطر۔مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اسلام میں انھیں حکم دیا گیا ہے کہ رمضان کے آخری دن تک روزے رکھو۔ اور عید کی نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرو۔
بہرکیف عیدکے پیش نظربازارسج چکے ہیں،یوں توپورے مہینے لوگ رمضان وعیدکی خریداری کرتے ہیں۔ عیدگاہ تیارکئے جارہے ہیں۔ بچوں اورخواتین عید کی خریداری میں لگ چکے ہیں۔ ہرطرف خوشی کا ماحول ہے۔ عیدمنانے کا جذبہ اورجوش زوروں پرہے۔اسی کے ساتھ موبائل پربھی دوستوں اوراہل خانہ ، اعزواقارب میں مبارکباد دینے کی شروعات ہوچکی ہے۔اللہ ، افطار، سحری قرآن ، مسجدوغیرہ کی تصاویروں کے ساتھ مبارکبادکہی جارہی ہے۔اس کے علاوہ شعروشاعری بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوگیاہے۔
اس مبارک مہینہ اورعیدالفطرمیں خصوصی طور اعلیٰ ،اوسط سرمایہ داروں کے ساتھ ادنیٰ طبقے کے لوگوں کوچاہئے کہ جہاں پنے غلاموں ،باندیوں ،مزدوروں اورنوکروں کے بوجھ کوکم کردیتے ہیں وہیں ان غریبوں اوریتم بچوں کوعیدکی خوشیوں ،عیدکی جوڑوں اورعیدی دینے میں بھی شامل کرناچاہئے۔یادرہے کہ عید منانے کا مقصد اللہ کی خوش نودی ہے ،اللہ کا شکر ادا کرنا جو اس نے ہم کو نعمتیں دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کر کے عید کی خوشیاں منائیں۔کوئی بھی خوشیوں سے محروم نہ رہے اسی طرح ہم کو عید کی حقیقی خوشی ملے گی۔
عیدکے موقع پرنئے ،پرانے دوستوں ملتے ہیں ،عید کے دن مسلمان ایک دوسرے سے سابقہ تمام رنجشیں ختم کر دیتے ہیں ،جو اپنوں سے دکھ ملیں ہوں ان کو اس دن بھول جاتے ہیں۔دل صاف کر لیتے ہیں،گلے ملتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔عیدالفطر کے پر مسرت موقع پر جو آپس میں کسی وجہ سے ناراض ہیں ان کو ایک دوسرے سے صلح کر لینی چاہیے اور عید کے دن ایک دوسرے سے بغل گیر ہونا چاہیے۔ عید کے دن دل میں کوئی رنجش نہ رکھیں کیونکہ عید آتی ہے اور خوشیاں دے کر چلی جاتی ہے۔
بہرصورت اس رمضان جیسی نعمت ہے کہ اس نعمت کی وجہ سے ہرروزے داراورغیرروزے داروں کے جیب روپے سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اورہرقسم کے امیروغریب اورفقیروغیرہ عمدہ جوڑا بنواتے اورخریدتے ہیں اورعیدکے روزاس عمدہ قسم کے لباس سے زیب تن ہوتے ہیں اورطرح طرح کے خوشبو عطرلگاتے ہیں پھرعیدگاہ تشریف لے جاتے ہیں اورایک دوسرے کوسینے سے لگاتے اورعیدمبارک دیتے ہیں جس سے کہ محبت میں اضافہ ہوجاتاہے اوراس میں سب سے زیادہ خوشی معصوم ننھے منھے بچے بچیوں کوہوتی ہے کیوں کہ انہیں عیدی ملتی ہے جسے وہ بچے قارون کا خزانہ سمجھتے ہیں اورمیلے جاکر قسم قسم کے کھلونے خریدتے ہیں۔
آئیے آج ہم ایک دوسرے سے عہد کریں کہ ایک دوسرے سے پیار اورمحبت سے رہیں گے۔ کسی کو دکھ اور تکلیف نہیں دیں گے۔غرباء کی مدد کریں گے اوراپنی خوشیوں میں سب کوشامل کریں گے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *