کیا ہندوستان ایک غیر محفوظ ملک بننا چاہتا ہے

آسام سمیت شمال مشرق کی ساتوں ریاست اس وقت ایک بڑے آندولن کے دروازے پر کھڑی ہیں۔ خود آسام کے وزیر اعلیٰ سونووال بھی آندولن کرنے والوں کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں۔آندولن مرکزی سرکار کے ایک فیصلے کو لے کر ہورہا ہے، جس کی وجہ سے 1955 کا سٹیزن شپ ایکٹ بدلا جانے والا ہے۔
1971 یں آسام آندولن کے نام سے مشہور اسٹوڈنٹس آندولن جب اپنی انتہا پر تھا، تب اس وقت کے وزیر اعظم نے آسام کے طلباء کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا۔ اس سمجھوتے کا لب لباب یہ تھا کہ 1971 تک جو لوگ آسام میں یا شمال مشرق میں آچکے ہیں، انہیں ہندوستان کا شہری مان لیا جائے گا۔ اس کے بعد جو بھی ہندوستان میں آیا ہے، وہ ہندوستان کا شہری نہیں مانا جائے گا۔ اس سمجھوتے کے نتیجے میں آندولن شانت ہوا اور آسام میں پرفل مہنتا کی سرکار بنی۔ آسام کے موجودہ وزیر اعلیٰ اس آندولن کے سرگرم لیڈر تھے اور وہ آسام کے لوگوں کے تئیں پابند عہد ہیں کہ یہ قانون نہ بدلا جائے۔ ویسے پرفل کمار مہنتا بی جے پی کی قیادت والی سرکار میں حصہ لے رہے ہیں اور ان کی پارٹی کے دو ایم ایل اے، وزیر بھی ہیں۔ وہ اس وقت آسام میں چاروں طرف گھوم کر عوام بیداری مہم چلارہے ہیں۔
مرکزی سرکار نے ممکنہ طور پر 2019 کے انتخابات کے لئے ایک نیا ایشو کھڑا کرنا شروع کردیا ہے۔ مرکزی سرکار 1971 کی جگہ 2014 کو کٹ آف ڈیٹ بنانا چاہتی ہے اور چاہتی ہے کہ جتنے بھی ہندو بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان میں ہیں، وہ ہندوستان آجائیں۔ صرف بنگلہ دیش سے آنے والوں کی تعدادکا دو کروڑ کے آس پاس اندازہ لگایا جارہا ہے۔ پہلی بار مذہب کی بنیاد پر پڑوسی ملکوں سے شہریوں کو مدعو کرنا ،کیا بتاتا ہے؟ کیا ہندوستان کی حالت اس لائق ہے کہ ہم دو کروڑ لوگوں کو اپنے ملک میں سما سکیں ۔ان کے کھانے پینے کا انتظام کر سکیں اور انہیں نوکریاں دے سکیں، انہیں جگہ دے سکیں۔
ہم تو ہمارے ملک کے لوگوں کو نوکریاںنہیں دے پارہے ہیں۔ موجودہ وقت کی پوری آبادی تعلیم، صحت، سڑک ، مواصلات، روزگار اور مہنگائی سے جڑے مسائل سے دوچار ہے اور سرکار سے مانگ کر رہی ہے کہ وہ ان مسائل سے ملک کو چھٹکارا دلائے۔ سارے وعدوں کے باوجود ،ہم اپنے ملک کے صرف 70 یا 75 لاکھ لوگوں کے لئے آدھی ادھوری نوکریوں کا انتظام کر پائے ہیں۔ اب اگر یہ دو کروڑ لوگ ہمارے ملک میں آسام کے راستے ، نارتھ ایسٹ میں یا سارے ملک میں آجاتے ہیں ، تو ہم انہیں کیسے جینے لائق سہولیات دے پائیںگے۔یہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اسی لئے پورا آسام اور شمال مشرق آندولن کے دروازے پر کھڑا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہندوستان میں سرکار چلانے والے شاید ایک ایسی جگہ کھڑے ہیں، جہاں انہوں نے سارے ملک کے لوگوں کے من میں فرقہ وارانہ تقسیم کا بیج بو دیا ہے۔ اس فرقہ واران تقسیم کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ کسی کو بھی اپنے گھر کی بھوک، اپنے گھر کی بے روزگاری، اپنے گھر کی مہنگائی، اپنے گھر کی ناخواندگی ، اپنے گھر کی خراب حالت دکھائی نہیں دیتی۔ انہیں لگتا ہے کہ یہ وہ تکلیفیں ہیں، جو ہمیںبرداشت کرنی پڑیںگی، اگر اس ملک میں اکثریت کی سرکار لانا ہے تو۔شاید اسی لئے جس مسئلے سے شمال مشرق کی تمام ریاست اور وہاں کے سارے ہندو پریشان ہیں اور آندولن کررہے ہیں۔ اس آندولن کے بارے میں ایک لائن نہ تو دہلی کے اخباروں میں یا دوسری ریاستوں کے اخباروں میں چھپ رہی ہے اور نہ ہی ٹیلی ویژن پر کچھ دکھائی دے رہا ہے۔ یہ بحث کا موضوع بھی نہیں ہے، کیونکہ اگر اس وضوع پر بحث ہوتی تو یہ بات سار ے ملک میںجاتی۔لیکن مرکزی سرکا ر نے بہت ہی ہوشیاری سے اسی طرح اس مسئلے کو ایک مقامی مسئلہ میں بدل دیا جیسے انہوں نے ملک کے تمام مسائل کو مقامی مسائل میں بدل کر رکھ دیا ہے۔
دوسری طرف مرکزی سرکار اپنی اس ذمہ داری کو نہیں سمجھ رہی ہے کہ ملک کے شہریوں میں خود کو لے کر غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور اگر وہ اسے ظاہر کرتے ہیں تو بجائے ان کے مسئلے سننے کے، انہیں دھمکانے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتاہے۔ سب سے بڑا اقلیتی طبقہ مسلمان ہے۔وہ اپنے عدم تحفظ کو لے کر پریشان تھے ہی اوروہ اکثر اس پریشانی کو ظاہر بھی کرتے رہتے ہیں۔لیکن اب دوسری بڑی اقلیتی جماعت ، ،عیسائی بھی پریشان ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اپنی پریشانی ظاہر کی نہیں کہ ان کے خلاف برسراقتدار پارٹی کا حملہ شروع ہو گیا۔سبرامنیم سوامی جیسا سمجھدار آدمی بھی بیان دے رہے ہیں کہ ہمیں ویٹکن سٹی سے رشتہ توڑ دینا چاہئے، کیونکہ جن لوگوں نے ایسا بیان دیاہے، ان کا رشتہ ویٹکن سے ہے۔ کارل مارکس نے لکھا تھا کہ اگر نشہ مذہب کا ہو تو افیم کے نشے سے بھی خطرناک ہوتا ہے۔ کارل مارکس کی 200 ویں جینتی چل رہی ہے۔ کارل مارکس نے دنیا کے بڑے طبقے پر اثر ڈالا تھا اور اب اس کا اثر یا ان کے قول کو سبرامنیم سوامی جیسے سمجھدار لوگ سچ ثابت کررہے ہیں۔ کیا یہ سرکار کی ذمہ داری نہیں ہے کہ کوئی بھی اگر ڈر کا احساس کرتا ہے، عدم تحفظ کا احساس کرتا ہے، تو اس کے ڈر اور عدم تحفظ کو دور کیا جائے۔ اس کی جگہ جسے ڈر یا عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے، اسے اور ڈرانا،اسے اور غیر محفوظ محسوس کرانا ،کیا یہ مہذب سرکار کا کام ہے؟ابھی تو ایسا ہی لگ رہاہے۔
ہندوستانی سرکار اسی پالیسی پر چل رہی ہے کہ ملک کے ہندوئوں کے سامنے اپنے ہندو ہونے کا دعویٰ پیش کرے اور صرف ہندو ہونے کے ناطے 2019 کا ووٹ مانگنے کی پالیسی بنائے۔ بی جے پی کی سرکار اس اصول کو شاید نہیں مانتی کہ وہ سارے ملک کی سرکار ہے۔ اسی لئے وہ ہر دو ہفتے کے اندر ایک نیا موضوع چھیڑ دیتی ہے، جس کا رشتہ نہ بے روزگاری سے ہوتا ہے، نہ مہنگائی سے ہوتا ہے،نہ تعلیم سے ہوتا ہے، نہ صحت سے ہوتا ہے ،نہ بدعنوانی سے ہوتا ہے۔ اس کا رشتہ ایسی بحث سے ہوتا ہے جو ہندو -مسلمان ، ہندو -کرسچن ، جیسے ایشوز پر جاکر رک جاتاہے۔ تو کیا ہم مانیں کہ سرکار اپنی ذمہ داری سے دور بھاگ رہی ہے۔ اگر مسلمانوں اور عیسائیوں کے بعد بودھ بھی اس میں شامل ہو گئے، جینی بھی شامل ہو گئے، سکھ بھی شامل ہو گئے تو کیا وہ صورت حال اچھی ہوگی؟سرکار یہ نہیں سمجھ رہی ہے کہ ملک کا کوئی طبقہ جب غیر مطمئن یا غیر محفوظ محسوس کرتا ہے تو وہ ساری دنیا کے لئے خبر ہوتی ہے ۔ہمارے ملک کے لیڈر، خاص طور پر وزیر اعظم دنیا میں گھوم گھوم کر ہندوستان کے طاقتور ہونے کی دہائی دیتے ہیں ،لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دنیا کے بہت سارے ملکوں میں ہمیں لے کر مذاق کا ماحول بن جاتا ہے۔ہندوستان ایک غیر محفوظ ملک ہے، اس کی باضابطہ تجویز بھر امریکہ سے آنا باقی ہے۔ جیسے پاکستان کے لئے کہا جاتاہے کہ وہ ایک غیر محفوظ ملک ہے۔ کیا ہم بھی پاکستان کے بربار کھڑے دکھائی دیںگے؟
ایسا لگتا نہیں ہے کہ سرکار ایسا چاہتی ہوگی لیکن سرکار سرکار کا قدم نہ اٹھانا، سرکار خا خاموش رہنا اور مختلف طبقوں میں بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کے احساس کو دور نہ کرنا ملک کی عالمی شبیہ کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ اس لئے توقع کرنی چاہئے کہ یہ جو سماجی تضاد ات ہیں، سماجی عدم تحفظ کا ایسا شدید احساس ہے ،چاہے وہ کتان بھی چھوٹا طبقہ ہو، بغیر اس کادھیان رکھے سرکار ان طبقوں کی تکلیفوں کو نہ صرف دور کرے گی، بلکہ انہیں ہمت بھی بندھائے گی کہ سرکار نام کی کوئی چیز ہے اور وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *