فلسفۂ روزہ اور مذاہب عالم کا تقابلی جائزہ

’روزہ‘ کو عربی زبان میں ’صوم کہا جاتاہے، جس کے لفظی معنی رکنے اورچپ رہنے کے ہیں ۔ بعض مفسرین نے اِس کے معنی صبر کے بھی لئے ہیںجس کی رو سے اِس کے معنی ضبط نفس، ثابت قدمی اور استقلال کے بھی بنتے ہیں۔روزہ کی نسبت جب رمضان کی طرف کی جائے تو اِس کامطلب یہ بنتا ہے کہ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جو روزہ دار آدمی کے گناہوں کو جلاکر اُسے معاصی اور گناہوں سے بالکل پاک صاف کردے اور آدمی اِس ماہِ مبارک کے ذریعے اپنی خواہشات نفسانیہ اور حرص و ہوا کا شکار بننے سے محفوظ رہے۔ کیوں کہ رمضان عربی زبان کا لفظ ہے جورمض سے بنا ہے اور اِس کے معنی عربی لغت میں جلنے اورجلانے کے آتے ہیں۔ اِ س لفظ کی وجۂ تسمیہ حدیث شریف میں بھی یہی آئی ہے کہ اِس مہینہ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ مہینہ روزہ داروں کے گناہوں کو جلاکر اُنہیں معاصی اور گناہوں سے بالکل پاک صاف کردیتا ہے بشرطیکہ اِس کے حقوق و آداب کی پوری رعایت رکھی جائے۔اِس لئے اِس مہینہ کورمضان کہا جاتا ہے۔
اسلام کی بنیاد جن پانچ ارکان اور ستونوں پر رکھی گئی ہے۔ رمضان المبارک کا روزہ اُن میں سے اسلام کا تیسرا اہم ترین رکن اور اُس کاستون ہے۔ اِن تمام معانی و مطالب سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اسلام کی زبان میںدر حقیقت اپنے آپ کو خواہشاتِ نفسانی اور حرص و ہوا کی پھسلن میں مضبوط اور ثابت قدم رکھنے کا نام روزہ ہے۔
انسان کی روز مرہ کی زندگی میں عام طور پر کثرت سے استعمال ہونے والی خواہشاتِ نفسانیہ اور حرص و ہوا تین قسموں کی ہیں: ایک کھانا۔ دوسرے پینا اور تیسرے مرد و عورت کے باہمی جنسی تعلقات۔ان تینوں خواہشاتِ نفسانیہ سے ایک مدت معینہ ( یعنی مکمل ایک ماہ ) تک رکے رہنے کا نام شرعاً روزہ ہے۔
’روزہ‘ کی مشروعیت اسلام کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ زمانہ قبل از اسلام اِس کی مشروعیت دیگر مذاہب میں پہلے سے چلی آرہی ہے۔اِس حقیقت کا ثبوت اِس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اِس وقت دُنیا کے تقریباً تمام ہی مذاہب میں روزہ رکھنے کا رسم و رواج پایا جاتا ہے۔ اِن مذاہب میں روزہ رکھنے کے اُصول و آداب، قواعد و کلیات اور اِس کے طور طریقے اگرچہ مختلف قسم کی آب و ہوا، قومیت و وطنیت ، تہذیب و تمدن اور آس پاس کے حالات و واقعات کے اعتبار سے بہت کچھ مختلف ہیں ، لیکن ایسے میں شاید ہی کسی ایسے مذہب کا نام لیا جا سکتا ہو کہ جس کے مذہبی نظام تعلیم میں ’روزہ‘ مطلقاً تسلیم نہ کیا گیا ہو، بلکہ روزہ فی الجملہ دُنیا کے تمام تر مذاہب میں ایک رسم کی حیثیت سے آج بھی ہر قوم میں، ہر علاقہ میں اورہر جگہ رکھنے کا رواج پایاجاتا ہے۔
زمانہ قبل از اسلام’ روزہ‘ کی مشروعیت کی کوئی متعین تاریخ تو معلوم نہیں ہوسکی ، البتہ قدیم زمانہ کے چند وحشی قبائل کی تمثیل و استقراء کی بناء پر قیاس آرائی کرتے ہوئے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کی ابتداء در اصل اِس طرح سے ہوئی ہوگی کہ وحشت کے زمانہ میں لوگ خود بھوکے رہتے ہوں گے اور یہ سمجھتے ہوں گے کہ ہمارے بدلے ہمارا کھانا اِس طرح دوسرے محتاج اوربھوکے لوگوں کو پہنچ جاتا ہے۔ لیکن یہ قیاس آرائی اربابِ خرد کی نگاہ میں سند کا درجہ حاصل نہ کرسکی۔
دیگر ادیان و مذاہب میں روزہ کی ابتداء اور مشروعیت کے اسباب و علل جوکچھ بھی ہوں، وہ مذہب اسلام میں روزہ کی مشروعیت کے سبب کا کسی بھی صورت ہم سری کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ اسلام تو یہ کہتا ہے کہ روزہ کی مشروعیت اور اِس کی غرض یہ ہے کہ اِس کے ذریعہ اِنسان متقی و پرہیزگار بن جائے ، اُس میں خشیت و للہیت پیدا ہوجائے، وہ عاجزی و مسکنت کا پیکر بن جائے، اور اُس کے دل و دماغ میں مخلوقِ خدا کے لئے ایثار و ہمدردی کا چراغ رُوشن ہوجائے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ترجمہ: اے ایمان والو! پہلی قوموں کی طرح تم پر بھی اِس لئے ’’روزہ‘‘ فرض کیا گیا ہے تاکہ تم متقی اورپرہیز گار بن جاؤ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

روزہ کی اصل حقیقت اور حقیقی روح صحیح معنوں میں اگرچہ اِس وقت مذہب اسلام کے علاوہ دوسرے کسی بھی دین اور مذہب میں نہیں پائی جاتی تاہم رسمی حیثیت سے روزہ رکھنے کا رواج فی الجملہ روئے زمین پر بسنے والی تقریباً تمام ہی اقوام عالم میں پایاجاتا ہے۔ چنانچہ عیسائی مذہب میں روزہ رکھنے کو اللہ تعالیٰ کا ایک اہم ترین فریضہ تصور کیا جاتاہے۔ کیوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چالیس دن تک جنگل میں روزہ رکھنا ثابت ہے۔ اسی طرح حضرت یحییٰ علیہ السلام جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے پیغمبر گزرے ہیں اُن کے مذہب میں بھی روزہ فرض تھا اور اُن کی اُمت کے لوگ روزہ رکھتے تھے۔ اسی طرح یہودیوں کے مذہب میں بھی روزہ کو فرائض الٰہیہ میں سے شمار کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کوہِ طور پر چالیس روز تک بھوکے پیاسے رہ کر روزہ رکھنا ثابت ہے ۔
چنانچہ یہودی عام طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اسی پیروی میں چالیس دن تک روزہ رکھنے کو نیک خیال کرتے ہیں اور اسے ثواب کا درجہ دیتے ہیں ۔ یہودی مذہب میں روزہ رکھنے کا مہینہ اُن کے مقرر کردہ ساتویں مہینہ (تشرین) کی دسویں تاریخ کو شروع ہوتا ہے، جسے وہ لوگ ’عاشورہ‘ (یعنی دسواں) کہتے ہیں۔عاشورا کا یہی وہ دن ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات کے دس احکام عنایت ہوئے تھے اور اسی کی اہمیت و افضیلت کے پیش نظر تورات میں اِس دن کے روزہ رکھنے کی بڑی ترغیب و تاکید آئی ہے۔
شریعت موسویہ میں در اصل یہودیوں پر چالیس دن کے روزے فرض تھے ، لیکن بعد میں یہودیوں نے مختلف حالات و واقعات کی یادگار میں مذہب موسوی میں اپنی طرف سے اور بہت سے روزے بڑھادیئے اورشریعت کے حکم میں اضافہ کردیا جن میں اکثر و بیشتر روزے غم کے تھے جس کے اظہار کے لئے یہودی اپنی ظاہری شکل و صورت بھی غمگین اور اُداس بنالیتے تھے ، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آکر اپنے زمانے میں غم کے اِن مصنوعی روزوں کے رکھنے سے یہودیوں کو منع فرمادیاتھا۔
اسی طرح ہندو مذہب میں بھی روزہ رکھنے کو عبادت تصور کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہر ہندی مہینہ کی گیارھویں اور بارھویں تاریخ کو برہمن ہندو ’اکاشی‘ کا روزہ رکھتے ہیں، جس کے حساب سے اِن کے سال میں 24 روزے بنتے ہیں۔ بعض برہمن ہندو ’کاتک‘ کے مہینہ میں ہر سوموار کو روزہ رکھتے ہیں ۔ اسی طرح ہندو جوگی جو چلہ کشی کرتے ہیں اس چلہ میں بھی پورے چالیس دن تک وہ روزہ رکھتے ہیں اور کھانے پینے سے بالکلیہ پرہیز کرتے ہیں۔ ہندوستان کے تمام مذاہب میں ’جینی دھرم‘ میں روزہ کی سخت اور کڑی شرائط ہیں ، یہاں تک کہ پورے چالیس دن تک کا اُن کے یہاں ایک روزہ رکھا جاتا ہے۔
دکن اورگجرات میں ہرسال جینی کئی کئی ہفتوں کا روزہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح قدیم مصریوں کے یہاں بھی روزہ خاص طور پردیگر مذہبی تہواروں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔ یونان میں صرف عورتیں تھمو فیریا کی تیسری تاریخ کو روزہ رکھتی ہیں۔ پارسی مذہب میں عام پیروؤں پر گوروزہ فرض نہیں، لیکن اُن کی الہامی کتاب کی ایک آیت سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ روزہ رکھنے کا حکم اُن کے مذہب میں بھی پہلے سے موجود تھا، بالخصوص اُن کے مذہبی و روحانی پیشواؤں کے لئے تو پنج سالہ روزہ رکھنا ضروری تھا۔
اسی طرح زمانہ قبل از اسلام میں مشرکین اہل عرب میں بھی فی الجملہ کچھ نہ کچھ روزہ رکھنے کا رواج تھا، جیساکہ زمانۂ جاہلیت میں قریش مکہ میں عاشورہ (دسویں محرم) کو روزہ رکھنا مستحسن سمجھا جاتاتھا ، اِس لئے کہ اُس دن خانہ کعبہ کا غلاف تبدیل کیا جاتا تھا اور اُس پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا۔ مدینہ منورہ کے یہودی اپنا عاشورہ الگ مناتے تھے یعنی ساتویں مہینہ کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھتے تھے۔
بہرحال روزہ رکھنے کا فلسفہ اور اُس کا اصلی مقصد اور حقیقی غرض دیگر تمام اقوام عالم و ملل میں کچھ بھی ہو، مذہب اسلام میں اِس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ اِس سے انسان کی جان اور مشام روح معطر ہوجائے ، اُس کی خواہشات نفسانیہ اور حرص و ہوا کو سکون نصیب ہوجائے اور اُس کے دل و دماغ میں مخلوقِ خدا کے لئے شفقت و نرمی اور ایثار و ہم دردی کے غیر معمولی جذبہ کا دیا رُوشن ہوجائے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *