موجودہ صحافت کو درپیش چیلنجز

آج کے دور میںصحافت کو کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ چیلنجز عام طور پر تکنیکی ترقی کی وجہ سے پیدا ہورہے ہیں۔ مغرب میںاخبارات کے پرنٹ ایڈیشن اپنے وجود کے لیے کافی جدو جہد کر رہے ہیں۔ کئی اخباروںکے پرنٹ ایڈیشن بند بھی ہوگئے ہیں۔ تکنیکی ترقی نے جس طرح عام آدمی کی زندگی کو متاثر کیا ہے،اسے دیکھتے ہوئے ان تبدیلیوںکو سمجھنا مشکل نہیںہے۔ آج صحافت کو اپنی ریلیونسی کی خاطر اس لیے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر ایک اوسط قاری بھی آسانی سے معلومات نشر کرکے صحافی بننے کی اپنی خواہش کو پورا کر سکتا ہے۔ لیکن وقف صحافی ، جو طویل عرصے سے اس پیشے میںرہے ہوں اور دنیا کے الگ الگ حصوںمیںاخبارات کے کامیاب ماڈل کا آپریشن کیا ہے ، اس طرح کی صحافت سے متفق نہیں ہیں۔ ایسے صحافیوں کے لیے حقیقی صحافت کا کوئی متبادل نہیںہے۔
لسبن (پرتگال) میںہوئے اس سال کے گلوبل ایڈیٹرز نیٹ ورک سمٹ میں صحافت کے تعلق سے سوشل میڈیا سے پیدا ہوئے خطروں اور قارئین کے اس پر انحصار پر گہرا منتھن کیا گیا ۔ اس کانفرنس میںسوشل میڈیا خاص طور پر فرضی خبروں کی اشاعت سے جڑے چیلنجز کے مدنظر اخبارات کو ڈجیٹل اور ڈیٹا پر مبنی نئے ماڈل میںمربوط کرنے کی ضرورت پر بحث کی گئی ۔ شرکاء نے اعتماد ظاہر کیا کہ سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا کے اس ’دوند‘میںجیت روایتی صحافت کی ہی ہوگی کیونکہ قاری سچی خبر پڑھنا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اکثر طنز کا نشانہ بننے والی فر ضی خبر(فیک نیوز) پر بھی بات چیت ہوئی۔ کچھ نے فرضی (فیک) لفظ سے پرہیز کیا اور ایسی خبروں کو’’ جھوٹی (فالس) خبر‘‘کہا۔ ایک نے کہا کہ خبر کبھی فرضی ہو ہی نہیں سکتی، ہاں انفارمیشن ضرور فرضی ہوسکتی ہے۔
گوگل، فیس بک اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اجلاس میں چرچا کا مرکز بنے رہے۔ ان ہی پلیٹ فارموں پر زیادہ تر میٹریل اَپ لوڈ کیا جاتا ہے جن میںنہ تو حقیقت کی جانچ کی جاتی ہے، نہ ایڈیٹنگ ہوتی ہے اور نہ ہی کسی کی کوئی ذمہ داری طے ہوتی ہے۔ اجلا س میںایک عام خیال یہ بھی تھا کہ فیس بک اور گوگل دونوںکو اپنے پلیٹ فارم سے جاری انفارمیشن کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے کیونکہ وہ بھی ہمارے جیسے ہی پبلیشر ہیں لیکن وہ اپنی ذمہ داری نہیںاٹھاتے ہیں۔ مغرب میںفیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔ غلط استعمال کم ہوتا ہے لیکن ترقی یافتہ دنیا میںاس کا استعمال ایک شخص دوسرے کے خلاف کرتا ہے۔ یہا ں فرضی اکاؤنٹ کو کنٹرول نہیں کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس حقیقت کے باوجود کہ سوشل میڈیا کو اظہار کی آزادی کے لیے ایک وردان کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن فرضی اکاؤنٹ اور فرضی انفارمیشن کو کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے اس کی شبیہ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

ڈاٹا لیک معاملے میںپہلے سے ہی دباؤ میںچل رہی فیس بک کو اپنی معتبریت بحال کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ ٹاوو سینٹر فار ڈجیٹل جرنلزم کے ایک سروے میںکہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم فرضی نیوز کو کنٹرول کرنے اور اور اسے نمٹانے کے معاملے میںلوگوں میںاپنا اعتماد بحال نہیںکر پائے ہیں۔ اس سروے میں شامل 76 فیصد نے فیس بک ، 71 فیصد نے ٹویٹر اور 65 فیصد نے گوگل کے لیے کہا کہ کہ فرضی نیوز روکنے کے لیے زیادہ کوشش نہیںکر رہے ہیں جبکہ 14فیصد نے فیس بک، 17 فیصد نے ٹویٹرا ور 21 فیصد نے گوگل کے بارے میںکہا کہ وہ کافی کوشش کر رہے ہیں۔ وہیںنیوز روموں نے کئی حکمت عملیاں اپناکر سوشل میڈیا پر شک کے باوجود اپنی رسائی بڑھانے کے لیے اسے ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر دیکھنا شروع کر دیاہے ۔
امریکہ اور کناڈا کے 1000 سے زیادہ نیوز روم میںٹاوو سینٹر ڈجیٹل جرنلزم کے ذریعہ کرائے گئے سروے میںیہ صاف ہوگیا ہے کہ سوشل میڈیا کے تئیںان کی سوچ میںتبدیلی آئی ہے۔ سروے میںشامل 41 فیصد نیوز روموں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی باڑھ کی وجہ سے انھوں نے نیوز پروڈکشن میںبڑے بدلاؤ کیے ہیں جبکہ 42 فیصد نے معمولی بدلاؤ کی بات کہی۔ سوشل میڈیا کی تمام تنقیدوں کے باوجود 50 فیصد شرکاء نے کہا کہ سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے آڈینس (قارئین و ناظرین) سے ان کا رشتہ مضبوط ہوا ہے۔ 56 فیصد نے کہا کہ ان پلیٹ فارمس کو صحافت کی مالی مدد کرنی چاہیے اور 86 فیصد کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان پلیٹ فارمس نے صحافت میںاعتماد کو کم کیا ہے۔
کانٹار کے ذریعہ کرائے گئے ایک اور سروے میںدکھایا گیا ہے کہ فیک نیوز کی وجہ سے سوشل میڈیا اور آن لائن نیوز پورٹل کی معتبریت میںگراوٹ آئی ہے۔ تقریباً 8000لوگوںکے بیچ کرائے گئے سروے میںانھوںنے پایا کہ اخبارات، میگزینوں اور ٹی وی نے ڈجیٹل میڈیا کے مقابلے میںعام اعتماد کو بنائے رکھا ہے۔ سروے میںشامل لوگوںمیںسے 58فیصد لوگوں نے کہا کہ فرضی خبروں کے تئیںان کی بیداری نے انھیںسیاست یا انتخابات کے بارے میںسوشل میڈیا پر شائع خبروں پر بھروسہ کم کیا ہے۔ مین اسٹریم میڈیا کے لیے یہ اعداد و شمار 24 فیصد تھے۔ ٹرمپ کے ذریعہ مین اسٹریم میڈیا کو فیک نیوز کہے جانے کے تعلق سے کانٹار نے نتیجہ نکالا ہے کہ’’ مین اسٹریم میڈیا کو فرضی خبر قراردینے کی کوششیںکافی حد تک ناکام رہی ہیں۔
میڈیا کے سامنے کئی دیگر مدعوں کے علاوہ سوشل میڈیا کے خطرے اور اس کی ریلوینسی کو کم کرنے کی کوشش پر کھلی بحث ہوئی۔ مثال کے طور پر ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے کالم نویس مارگریٹ سولیون نے کہا کہ ’’صحافیوںکو اپوزیشن پارٹی بن کر جمہوری اصولوں کی وکالت نہیںکرنی چاہیے اور نہ ہی چپ چاپ اپنا منہ بند کرکے جوچل رہا ہے،اسے چلتے دیکھنا چاہیے۔ ‘‘’نیومیڈیا‘ کے ذریعہ روایتی میڈیا کا ریونیو اور اس کے دائرہ کار میںسیندھ مارنے کے بعد روایتی میڈیا میںتبدیلی کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈجیٹل پلیئر، ڈیٹا منیجرز، روایتی ایڈیٹروں اور تکنیکی دگجوں کا ایک مکس نیوز روم میںعام ہو رہا ہے۔ ان دونوں کے بیچ کا رشتہ اب تیزی سے ایک حقیقت بن رہا ہے اور یہ شاید بازار کی مانگوں کی وجہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میںسستے ’سنچار‘ ذرائع کی دستیابی کی وجہ سے سوشل میڈیا کے پھیلاؤ اور ان کی رسائی کے باوجود ، روایتی میڈیا نے اپنی چمک نہیںکھوئی ہے جبکہ مغرب میںشائع اخباروںکی کاپیاںبازار سے غائب ہو رہی ہیں اور آن لائن / ڈجیٹل ایڈیشن ایک نئی حقیقت بن رہا ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میںپرنٹ میڈیا لمبے وقت تک بنا رہے گا۔
لیکن ’بریکنگ نیوز‘ سنڈروم کے ساتھ مقابلہ (جو روایتی میڈیا کو فرضی خبر کے ساتھ کھڑا کر دیتا) سے اپنا دامن بچانا روایتی میڈیا کے لیے چیلنج ہے۔ حقائق کی جانچ ، ریفرنس اور ایکوریسی وہ سامان ہیںجن کی پیروی کرنا بہت اہم ہے۔ نیوز رپورٹنگ اور اوپینین رپورٹنگ کے بیچ کہیںبھٹک جانا صحافت کے لیے ایک لعنت ہے۔ دراصل ہمیںایک ایسی صحافت کی ضرورت ہے جو تشریح تو کرے، لیکن اس تشریح میںیہ دیکھنا اہم ہے کہ غیر جانبداری نہ چلی جائے۔ سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا کے بیچ فرق کو واضح کرنا ضروری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *