بلیٹ ٹرین پی ایم مودی کا ڈریم پروجیکٹ پھنس گیا لینڈ ایکویزیشن کے چکر میں

وزیر اعظم مودی کے خوابوں والا احمد آباد- ممبئی بلیٹ ٹرین پروجیکٹ زمین کے ایکوائر کرنے کے جھمیلے میں پھنس گیا ہے۔گجرات اور مہاراشٹر کے ہزاروں کسان بلیٹ ٹرین پروجیکٹ کے لئے زرعی زمین کے ایکوائر (تحویل ) کئے جانے کے سرکاری فیصلے کے خلاف احمد آباد سے ممبئی تک جگہ جگہ احتجاج کررہے ہیں۔یہی نہیں، احتجاج کرنے والے کسان ایکویزیشن کی گئی زمین کے بدلے میں ملنے والے معاوضے اور اس کے لئے لینڈ ایکوائزیشن ایکٹ میں بدلائو کئے جانے کی بھی زبردست مخالفت کررہے ہیں۔ کسانوں کی اس مخالفت کی وجہ سے 15 اگست 2022 کو شروع ہونے والی بلیٹ ٹرین پروجیکٹ کے وقت پر پورا ہونے کو لے کر ہی سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔
دراصل 1.1 لاکھ کروڑ کی لاگت والی 508 کلو میٹر لمبے اس پروجیکٹ کے لئے گجرات ، مہاراشٹر اور دادر اور ناگر حویلی کے 312 گائوں کی تقریباً 1400 ہیکٹئر زمین ایکوائر کی جانی ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ 850 ہیکٹئر زمین گجرات کے 8اضلاع کے کسانوں کی ہے۔ بلیٹ ٹرین پروجیکٹ کی نوڈل ایجنسی نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن (این ایچ ایس آر سی ) کے مطابق دونوں ریاستوں کے پانچ ہزار سے زیادہ کسان زمین ایکوائر سے متاثر ہوں گے۔ پچھلے ستمبر میں وزیر اعظم مودی نے جاپان کے وزیراعظم شنجو آبے کے ساتھ بلیٹ ٹرین پروجیکٹ کا زورو شور سے افتتاح کیا تھا لیکن8 ماہ گزر جانے کے بعد ابھی تک اس کے لئے ضروری زمین ایکوائر کا کام بھی ٹھیک سے شروع نہیں ہو پایا ہے۔ البتہ زمین ایکوائر کی خبر سے بھڑکے کسان لگاتار احتجاج کر کے اپنی مخالفت ظاہر کررہے ہیں۔
گزشتہ 17مئی کو مہاراشٹر کے تھانے، رائے گڑھ، ناسک ، پال گھر ، جل گائوں، دھولے، گڑھ چیرولی اور کونکن کے ایک ہزار سے زیادہ آدیواسی کسانوں نے اپنی زمینیں ایکوائر کئے جانے کے خلاف ممبئی کے آزاد میدان میں جم کر دھرنا دیا۔ احتجاج اور دھرنے کی قیادت ’’ بھومی ادھیکرن آندولن‘ ‘ نام کی ایک مقامی تنظیم نے کی۔ مظاہرہ کرنے والے کسان زمین ایکوائر قانون میں مہاراشٹر سرکار کے ذریعہ کی گئی ترمیم کو بھی رد کرنے کی مانگ کررہے ہیں جس کے لئے زمین ایکوائر کے لئے متعلقہ گرام سبھا کی رضامندی کو غیر ضروری بنا دیا گیا ہے۔ سینٹرل لینڈ ایکوائزیشن قانون میں یہ واضح تجویز ہے کہ نوٹیفائڈ علاقے کی گرام سبھا کی رضامندی کے بغیر کسانوں کی زمین کو ایکوائر نہیں کیا جاسکتا ۔لیکن 14نومبر 2017 کو مہاراشٹر کے گورنر سی وددھا ساگر رائو نے ایک نوٹیفکیشن جاری کر کے اس تجویز کو ہی رد کردیا۔ کسانوں کا غصہ اس ترمیم کے خلاف بھی ہے۔کسانوں کو خدشہ ہے کہ بلیٹ ٹرین پروجیکٹ کے بعد ان کی بچی ہوئی زمینیں بھی پہلے سے مجوزہ ممبئی ناگ پور سپر ایکسریس وے کے لئے ایکوائر کر لی جائیں گی ۔پال گھر کے دہانو گائوں کے کسانوں کا درد اس سے الگ ہے۔ دہانو کے گرامن ایک مقامی باندھ پروجیکٹ کے سبب اس سے پہلے بھی بے گھر ہو چکے ہیں۔ بلیٹ ٹرین پروجیکٹ کے سبب اب انہیں دوبارہ بے گھر ہونا پڑے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

زمین ایکوائر کے کام کو رفتار دینے کے مقصد سے حال ہی میں این ایچ ایس آر سی نے ودودرااور بھروچ میں احتجاج کرنے والے کسانوں کے ساتھ مشترکہ میٹنگوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔یہ میٹنگیں تعلقہ سطح پر کی جارہی ہیں، جس سے کسانوںکو پروجیکٹ سے ہونے والے نفع و نقصان کے بارے میں سمجھا کر سمجھوتے کا کوئی راستہ نکالا جاسکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پچھلے دنوں بڑودرا کے ٹائون ہال میں منعقد ایسی ایک میٹنگ میں ہی کسانوں نے ہنگامہ کردیا۔ اس سے ایک بار تو میٹنگ کے منتظمین کے ہاتھ پائوں پھول گئے، لیکن بعد میں کسی طرح انہوں نے احتجاج کرنے والے کسانوں کو منایا۔ پال گھر اور تھانے میں بھی منعقد ایسی میٹنگیں ناکام رہیں۔ متاثر کسانوں کا الزام ہے کہ انہیں نہ تو مناسب وقت رہتے ان میٹنگوں کی اطلاع دی گئی اور نہ ہی ایکوائر اور معاوضے کو لے کر کوئی رضامندی لی گئی۔ آخر یہ کہاں کا انصاف ہے ؟زمین ایکوائر کی مخالفت کررہے ’ ایکتا گرامن پرجا وچار منچ ‘ نے بلیٹ ٹرین پروجیکٹ کو لاگو کرنے کے طور طریقوں پر بھی سوال کھڑے کئے ہیں۔ منچ کا کہنا ہے کہ اس پورے پروجیکٹ کے سماجی اقتصادی اثرات کا تجزیہ کئے بغیر ہی اسے لاگو کر دیا گیا ہے۔ زمین ایکوائر کے لئے اتنی جلد بازی کی گئی کہ کسانوں کو معاوضے کے ریٹس کے بارے م میں بھی اندھیرے میں رکھا گیا۔ اب سرکار جس ریٹ پر معاوضہ دینے کا لالی پاپ تھما رہی ہے، ریاستی سرکار نے اس ریٹ کو 2011 سے نظر ثانی نہیں کیا ہے۔
حال ہی میں گجرات سرکار کے ریونیو ڈپارٹمنٹ نے اس سے جڑے 165 معاملوں میںزمین ایکوائر قانون کی دفعہ 11 کے تحت کسانوں کو نوٹس جاری کئے ہیں۔ نوٹس میں کسانوں سے کہا گیاہے کہ ایکوائر کے لئے نشان زد زمین کو نہ تو اب وہ بیچ سکتے ہیں ،نہ ہی گروی رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس زمین پر کوئی پروفیشنل سرگرمی انجام دے سکتے ہیں۔ اس نوٹس سے کسانوں میں ہڑکمپ مچا ہوا ہے۔ گجرات کھیدوت سماج کے سکریٹری اور کسان لیڈر ساگر رباڑی کا الزام ہے کہ بلیٹ ٹرین کے نام پر سرکار کسانوں کی زمینیں جبراً چھین رہی ہیں۔ اس کے لئے نہ تو ان کی رضامندی لی جارہی ہے اور نہ ہی بازار ویلو کے ریٹ پر کسانوں کو ان کی زمین کا معاوضہ ہی دیا جارہاہے۔ کسانوں کے ساتھ ہو رہے اس ناانصافی کے خلاف ہم فیصلہ کن جنگ کے لئے تیار ہیں۔
پی ایم مودی کا ڈریم پروجیکٹ
دوسری طرف سرکاری نمائندوں کا کہنا ہے کہ بلیٹ ٹرین پروجیکٹ وزیر اعظم مودی کا ڈریم پروجیکٹ ہے۔ وزیر اعظم دفتر اس کی سیدھی نگرانی کررہاہے۔ اس لئے پروجیکٹ کے لئے ضروری زمینوں کے ایکوائر کا کام ہر حال میں آئندہ دسمبر ماہ تک پورا کر لیا جائے گا۔ اسی مقصد سے سرکار نے ان کسانوں کو معاوضے کی رقم کے 25 فیصد کے برابر رقم بطور انسیٹیو دینے کا فیصلہ کیا ہے جو ایکوائر کی جانے والی زمین کے بارے میں اپنی تحریری رضامندی دیں گے اور ایکوائر کے خلاف عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹائیں گے۔
گجرات سے راجیہ سبھا ممبر اور سینئر کانگریس لیڈر احمد پٹیل نے بھی پچھلے دنوں وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر کسانوں کی زمینوں کے جبراً ایکوائر کے معاملے میںفوری طور پر مداخلت کرنے کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ گجرات کے کسانوں کے آئینی اختیارات کو درکنار کرکے انہیں ان کی زمینوںسے زبردستی بے دخل کیا جارہاہے۔ انہوں نے مانگ کی ہے کہ بلیٹ ٹرین پروجیکٹ کے لئے بھی زمینوںکی ایکویزیشن ، یو پی اے سرکار کے ذریعہ پاس لینڈ ایکوائر اینڈ رہابلیٹیشن ایکٹ2013 کی تجاویز کے تحت ہی کیا جانا چاہئے۔
بلیٹ ٹرین مودی کے نیو انڈیا کا سہاناخواب ہے۔ 320 کلو میٹر فی گھنٹے کی سنسنی رفتار سے چلنے والی یہ جاپانی ٹرین احمد آباد سے ممبئی کے درمیان 508 کلو میٹر لمبا سفر محض دو گھنٹے سات منٹ میں طے کرے گی۔ وہ بھی آنند، بڑودرا، بھروچ، سورت، واپی، تھانے جیسے 12اسٹیشنوں پر ٹھہرتے ہوئے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ ملک کے لئے ابھی بلیٹ ٹرین ضروری ہے بھی یا نہیں۔ ملک میں ابھی ریلوے کی بنیادی ڈھانچے ہی بے حد خراب ہیں۔ پٹریوں کی گڑبڑی سے آئے دن حادثات ہو رہے ہیں۔ خراب ٹریک اور سنگنل کے طریقہ کار کے سبب ٹرینیں گھنٹوں لیٹ چلتی ہیں اور سواری گاڑیوں اور عام کوچوں میں جانوروں کی طرح بھرے رہتے ہیں لیکن شاید اب یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس سے زیادہ ضروری ہو گیاہے دنیا کو یہ دکھانا کہ کیسے مودی راج میں ہندوستان بدل رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *