بمبئی مرکنٹائل بینک گھوٹالہ مودی نرم یوگی گرم

اترپردیش سرکار نے مرکزی سرکار کی کارگزاریوں کے خلاف تال ٹھونک دی ہے۔جس جعلساز بینک کو مرکزی سرکار کھلے عام تحفظ دے رہی ہے، اس بینک کے خلاف اترپردیش سرکار نے لکھنو میں مقدمہ ٹھونک کر مرکز کو سکتے میں لا دیا ہے۔ بینکوں کے فراڈ پر عوامی طور پر تشویش کا اظہار کرنے والی مرکزی سرکار پس پردہ انہی بینکوں کو اپنا تحفظ فراہم کرتی ہے اور اہم سرکاری لین دین سے جوڑ کر اسے فائدہ پہنچاتی ہے۔حقائق اور دستاویزات کی بنیاد پر ’’چوتھی دنیا ‘‘ اس کا خلاصہ کررہا ہے۔
جس بینک پر منی لانڈرنگ کا الزام ہو، جس بینک پر دھوکہ دھڑی اور فرضی واڑے کے تمام معاملے چل رہے ہوں، جس بینک پر بھارتیہ ریزرو بینک جرمانہ ٹھونک چکا ہو اور جس بینک پر سخت قانونی کارروائی کی آر بی آئی کی سفارشوں اور عرضیاں سیاسی گلیارے میں دھول کھا رہی ہوں، ایسے بینک کو دیا جارہا ہے کھلا تحفظ یقینی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے انجان نہیں ہے۔بمبئی مرکنٹائل کو آپریٹیو بینک لمیٹیڈ جو بمبئی مرکنٹائل بینک کے نام سے جانا جاتا ہے، اپنی بد نظمی کی وجہ سے پورے ملک میں پہلے سے بدنام ہے۔ لہٰذا ایسے متنازعہ بینک کو سرکاری لین دین اور اسکیموں میں شامل کرنا بینک کے ساتھ اقتدار کے علمبرداروں کی ملی بھگت کی سند ہے۔
نوٹ بندی کے وقت بینک کی کارگزاریاں
نوٹ بندی کے وقت اور اس کے بعد ،جب پورے ملک میں نوٹوں کے تبادلے تیزرفتاری سے چل رہے تھے، اس وقت بمبئی مرکنٹائل بینک بھی تیز رفتاری سے نوٹوں کے تبادلے میں لگا تھا۔ اس میں کئی بڑے لیڈروں اور سرمایہ داروں کے پیسے بدلے گئے۔مرکزی وزیر مختار عباس نقوی ، بی جے پی رکن پارلیمنٹ جگ دمبیکا پال، کانگریس لیڈر سراج مہندی اور کرپا شنکر سنگھ کی اس بینک پر خاص مہربانی ہے۔بینک کے تعلق سے کرم کی نظر رکھنے والوں میں سینٹرل واٹر ریسورسیز اینڈ پارلیمنٹری ورکس منسٹر ارجن رام میگھوال کا نام بھی ہے۔میگھوال پہلے مرکزی سرکار میں فنانس اسٹیٹ منسٹر تھے۔ فنانس منسٹری کے ایک آفیسر نے کہا کہ میگھوال بمبئی مرکنٹائل بینک کے پروگراموں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ میگھوال کو بمبئی مرکنٹائل بینک کے نزدیک لانے کا سہریٰ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کو جاتاہے۔
مرکنٹائل بینک کے گھوٹالوں اور فرضی واڑوں کی بے شمار تہیںہیں۔ان میں سے کئی کھل چکی ہیں اور کئی نئی تہیں ہم کھولیں گے۔جتنی تہیں کھل چکی ہیں، اتنی ہی جانکاری مرکزی سرکار کو محتاط ہو جانے کے لئے کافی تھی۔ پھر بھی مرکز نے بمبئی مرکنٹائل بینک کو سرکاری لین دین اور اسکیموں سے باہر کرنے کے بجائے اسے اور اندر تک کیوں گھسنے دیا۔ صاف ہے کہ مرکزی سرکار کے وزیر ، نوکر شاہ اور بڑے لیڈروں کی بینک کے ساتھ سانٹھ گانٹھ اس سوال کا درست جواب ہے۔ بینک کے گورکھ دھندے کا لیڈر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وجے مالیہ، نیرو مودی اور ان جیسے تمام سرمایہ داروں کے بینکوں سے لون لے کر غیر ملک بھاگ جانے کے پیچھے ایسی ہی ملی بھگت ہے ،اس میں کوئی لاپرواہی یا چوک جیسی بات نہیں ہے۔

 

 

 

 

 

بااثر لیڈروں کی سرپرستی
مرکزی سرکار کے قدآور وزیروں اور با اثر لیڈروں کے تحفظ میں بمبئی مرکنٹائل بینک نے کیسے کیسے کارنامے کئے ہیں، اس کی تفصیل میں جانے کے پہلے آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ اتر پردیش سرکار نے کافی غور و فکر اور جانچ پڑتال کرنے کے بعد گیارہ جون 2018 کو بمبئی مرکنٹائل بینک کے چیئرمین ذیشان مہندی، مینجنگ ڈائریکٹر ایم شاہ عالم خاں، اسسٹنت ڈائریکٹر جنرل بدر عالم خان، بینک کے ایف ڈی محکمہ کے انچارج آفیسر طارق سعید خان اور لکھنو برانچ کے انچارج مینیجر نور عالم کے خلاف مجرمانہ خلاف ورزی یعنی کرمنل بریچ آف ٹرسٹ (406)، بے ایمانی، جعلسازی ، فریب اور دھوکہ دھڑی سے دولت ہتھیانا (420)، سیکورٹی یا مچلے کے سرکاری دستاویزوں میں مجرمانہ پھیر بدل کرنا، فرضی سرکاری دستاویز بنوا نا یا سرکاری دستاویزوں میں چھیڑ چھاڑ کرنا (467,468)اور فرضی دستاویزوں کا سوچ سمجھ کر استعمال کرنا (471) جیسی سنگین دفعات میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ اتر پردیش سرکار کے مائنارٹی فائننس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی طرف سے لکھنو کے قیصر باغ تھانے میں یہ مقدمہ (نمبر 0142/2018) درج کرایا گیا ہے۔
سرکار کی عدم توجہی
مالی بحران سے گزر رہے مائنارٹی فنانشیل اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن مرکنٹائل بینک مینجمنٹ سے بار بار یہ اپیل کر رہا تھاکہ بینک کے فکسڈ ڈپازٹ میں جمع اس کے دو کروڑ 67 لاکھ 60 ہزار روپے اسے دے دیئے جائیں۔ لیکن بینک ٹال مٹول کر رہا تھا۔ بینک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کارپوریشن کا پیسہ بینک میں جمع ہی نہیں ہے۔ سرکار کا یہ محکمہ سرکار سے ہی مداخلت کی اپیل کرتا رہا، لیکن سرکار نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ مرکزی سرکار کے قدآور وزیر کی سرپرستی کی وجہ سے کسی نے بینک پر ہاتھ ڈالنے کی حماقت نہیں کی۔ مجبور ہوکر کارپوریشن نے 25جون 2018 کو قیصر باغ کوتوالی میں بینک کی اس دھوکہ دھڑی کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کرنے کی باضابط اپیل کی۔مائنارٹی فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے انچارج ڈی کے مشرا کے باضابطہ درخواست سے لکھنو پولیس کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ لکھنو کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپک کمار نے فورا محکمہ داخلہ کے چیف سکریٹری اروند کمار سے بات کی،کارپوریشن سے کہا گیا کہ لازمی چھان بین کے بعد ہی ایف آئی آر درج کی جائے گی جبکہ کارپوریشن کی تحریر میں سارے ضروری حقائق منسلک کئے گئے تھے۔ معاملہ ٹھنڈے بستے میں جاتا دیکھ کر کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شیش ناتھ پانڈے نے 29 مئی 2018 کو لکھنو کے ایس ایس پی کو خط لکھ کر ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی، لیکن کچھ نہیںہوا۔
ادھر اس قواعد کی اطلاع فوری طور سے مرکزی سرکار میں بیٹھے بینک کے خیر خواہ وزیر اور ممبئی میں بیٹھے بینک کے سینئر آفیسروں تک پہنچ گئی۔ پیش بندیاں تابڑتوڑ شروع ہو گئیں لیکن اس بار یوگی سرکار نے اپنے کان بند کر لئے۔ اس پر بینک مینجمنٹ نے کارپوریشن کے فکسڈ ڈپازٹ کو فرضی بتاتے ہوئے پینل کوڈ کی دفعہ 156(3) کے تحت جوڈیشیل مجسٹریٹ سے بینک کے ہی سابق ملازم سید رضا اور ایس ایم کے حیدر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم حاصل کر لیا۔ لیکن اس بار بینک مینجمنٹ کی چالاکیاں کام نہیں آئیں، سرکار نے اندرونی چھان بین کے بعد لکھنو پولیس کو بمبئی مرکنٹال بینک کے مینیجر اور مینیجنگ ڈائریکٹر سمیت پانچ سینئر افسروں کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کرنے کی رضامندی دے دی اور11 جون کی دیر رات کو قیصر آباد کوتوالی میں ایف آئی آر درج ہو گئی۔ پولیس نے بتایا کہ بمبئی مرکنٹائل بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی سمیت پانچ عہدیداروں نے بینک میں جمع اترپردیش مائنارٹی فناننس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے دو کروڑ 67 لاکھ 60 ہزار روپے فرضی واڑہ کرکے نکال لئے۔
لکھنو پولیس نے صاف ساف کہا کہ جانچ میں پتہ چلا کہ بینک کے مذکورہ افسروں نے ایف ڈی میں جمع کاروپویشن کا پیسہ نکال کر ذاتی استعمال کر لیا۔ اسی لئے پانچ ملزموں ذیشان مہندی، ایم شاہ عالم خاں، بدر عالم خاں، طارق سعید خاں اور نور عالم کے خلاف معاملہ درج کیا گیاہے۔ لکھنؤ پولیس نے کہا کہ بینک کی تمام کارگزاریوں کی چھان بین کی جائے گی۔
حج کا مانیٹری ٹرانزیکشن
اترپردیش سرکار کی اس کارروائی سے ریاستی سرکار کے کام کاج میں ہی سنگین قانونی اڑچنیں کھڑی ہونے والی ہیں،کیونکہ مرکزی سرکار نے اسی متنازع بینک کو کئی اسکیموں سے جوڑ رکھا ہے۔ ان میں سب سے اہم ہے حج کے سفر سے جڑے ہوئے سارے لین دین سے بمبئی مرکنٹائل بینک کا جوڑا جانا۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی بہبود مختار عباس نقوی سے جڑے بینک کو حج کے لین دین سے تو جوڑ دیا گیا لیکن ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کی بدلی ہوئی صورت حال میں اترپردیش سرکار اس بینک سے کیسے کام لے گی اور اگر کام لے گی تو اس کا اعتماد کیارہے گا،یہ ایک بڑ سوال ہے۔بڑا سوال یہ بھی ہے کہ تمام نیشنلائز بینکوں کے ہوتے ہوئے سرکار نے حج کے انتظام کو بمبئی مرکنٹائل بینک سے کیوں جوڑا؟14جولائی سے شروع ہو رہے سفر حج کو لے کر اترپردیش حج کمیٹی کا جو سرکاری ایجنڈا جاری ہوا ہے ، اسے دیکھنا بھی دلچسپ ہے۔ایجنڈا میں بمبئی مرکنٹائل بینک کے ساتھ دو اور بینکوں کے نام شامل ہیں۔ لیکن جب سیکشن وائز کام کی تفصیل میں جائیں تب آپ کو اصلی کھیل سمجھ میں آئے گا۔ بینک سے متعلق کام میں حج سفر سے جڑے تمام اہم کام بمبئی مرکنٹائل بینک کو ہی دیئے گئے ہیں۔ حج پر جانے والوں کے لئے غیر ملکی کرنسی کا سارا لین دین بمبئی مرکنٹائل بینک ہی کرے گا۔ حج ہائوس میں اسٹیٹ بینک کو عارضی موبائل اے ٹی ایم کھولنے کی اجازت دے کر سرکار نے دوسرے بینک کو بھی کام دینے کی رسم ادائیگی کی ہے۔
بمبئی مرکنٹائل بینک کے تمام شیئر ہولڈروں نے بھی مرکزی سرکار کو بار بار لکھا ہے کہ بینک کے گورکھ دھندوںکو قابو میں کرے۔یہ بینک کوآپریٹیو کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ لہٰذا مرکزی اگریکلچرل اینڈ کوآپریٹیو وزیر رادھا موہن سنگھ کو بھی خط لکھا گیا۔ ایک خط تو بہت ہی سنگین ہے جو مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کو لکھا گیاہے۔ بینک کی ایک شیئر ہولڈر راج شری بھٹناگر مختار عباس نقوی کو لکھتی ہیں کہ نوٹ بندی کے دوران بمبئی مرکنٹائل بینک نے پرانے نوٹ بدلنے کا دھندہ خوب کیا۔ دو کروڑ روپے کے پرانے نوٹ بدلے جانے کے ایک خاص معاملے کا ذکر کرتے ہوئے خط میں کہا گیا ہے کہ بینک مینجمنٹ نے بورڈ آف ڈائریکٹوریٹ کو بتایا کہ پرانے نوٹ مختار عباس نقوی کے ہیں، جبکہ پرانے نوٹ بینک کو کنٹرول میں رکھنے والے سرکاری (رجسٹرار کو آپریٹیو ) محکمہ کے سینئر آفیسر کے تھے۔ شیئر ہولڈر نے مختار عباس نقوی کو ہوشیار کرتے ہوئے لکھا کہ بینک کی ان حرکتوںسے ان کی شبیہ خرب ہو رہی ہے۔ بینک کے شیئر ہولڈروں نے مرکز کو یہ باضابطہ طور پر بتا رکھا ہے کہ بینک کے چیئر مین اور مینیجنگ ڈائریکٹر سمیت کئی اعلیٰ افسروں کے خلاف ملک بھر میں جعلسازی اور دھوکہ دھڑی کے درجنوں معاملے درج ہیں لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ۔یہاں تک کہ بھارتیہ ریزرو بینک (آر بی آئی ) نے بھی مانا ہے کہ بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی اور مینیجنگ ڈائریکٹر شاہ نواز عالم نے بینک سے کروڑوں کے گھپلے کئے ہیں۔
آر بی آئی نے بمبئی مرکنٹائل بینک پر 75 لاکھ روپے کا جرمانہ ٹھونکا اور سینٹرل رجسٹرار کو آپریٹیو کو آگے کی کارروائی کرنے کے لئے لکھا۔ لیکن پھر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔سینٹرل رجسٹرار کوآپریٹیو آشیش بھوٹانی اور بمبئی مرکنٹائل بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی کی دوستی کے چرچے عام ہیں۔ آر بی آئی کی رپورٹ پر بھوٹانی نے شو کاز نوٹس دے کر رسمی کارروائی پوری کر لی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

آر بی آئی کی جانچ کا خلاصہ
آر بی آئی کی جانچ میں پایا گیا کہ بمبئی مرکنٹائل بینک مینجمنٹ کے سینئر آفیسر ہی بینک کو کھوکھلا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی نے ہندوستان ٹریڈنگ کارپوریشن اور اسٹیل انڈیا کمپنی کا تین کروڑ کا سود معاف کر دیا۔ ذیشان مہندی خود ہی ان کمپنیوں کے پارٹنر ہیں۔اس کے علاوہ چیئر مین نے شان ٹریڈرس اور یونیورسل انٹرپرائزیز نام کی دو کمپنیوںکو 15 کروڑ روپے کا قرض دیا، جوقرض لے کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ اسی طرح بینک کے آفیسر ارشد خان کے ذریعہ انیس انٹر پرائزیز کو 24 گھنٹے کے اندر ساڑھے سات کروڑ کا قرض دے دیا گیا۔ جتنی تیز رفتاری سے اسے قرض ملا،اتنی ہی تیز رفتاری سے وہ پیسہ لے کر بھاگ گیا۔ بمبئی مرکنٹائل بینک کے مینیجنگ ڈائریکٹر محمد شاہ عالم خاں 2003 میں بینک سے نکال دیئے گئے تھے، لیکن بینک مینجمنٹ نے انہیں پھرسے قبول کرلیا۔جانچ میں پایا گیا تھا کہ شاہ عالم نے 8مختلف کھاتوں میں بینک کے پانچ کروڑ 32 لاکھ روپے ڈلوائے ، بعد میںوہ کھاتے ہی غائب ہ وگئے۔ انہی صاحب نے بالا جی سنفونی کو 50 لاکھ اور شیجان کنسٹرکشن کمپنی کو 45 لاکھ کا قرض دیا، یہ جانتے ہوئے کہ شیجان کنسٹرکشن کا ایکسس بینک میں کھاتہ ضبط کیا جاچکا ہے اور ممبئی کے بھیونڈی تھانے میں معاملہ بھی درج ہے۔ بینک کا یہ پیسہ بھی ہضم ہوگیا۔ شاہ عالم خان کے خلاف ممبئی کے پائے دھونی تھانے میںبھی جعلسازی اور دھوکہ دھڑی کا معاملہ درج ہے۔
بھارتیہ ریزرو بینک نے ممبئی ہائی کورٹ میں باقاعدہ حلف نامہ داخل کر کے کہا ہے کہ بمبئی مرکنٹائل بینک کے چیئر مین ادارہ کے لئے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے بینک میں بوگس کھاتے کھول کر بینک کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ اس کام میں بینک کے ایم ڈی شاہ عالم بھی شامل ہیں۔ آر بی آئی نے یہ بھی بتایا کہ سینٹرل رجسٹرار کو خط لکھ کر سخت کارروائی کرنے کے لئے پہلے ہی کہا جاچکا ہے۔ آر بی آئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل (کو آپریٹیو بینکس ) ششی کانت مینن نے اپنے حلف نامے میں بتایا کہ بینک کے دو بوگس این پی اے اکائونٹ 10کروڑ 30لاکھ کے تھے۔ ان کھاتوں کو بند کرنے کے لئے چیئر مین ذیشان مہندی نے شان ٹریڈرس اور یونیورسل انٹر پرائزیز کے نام پر دو اور بوگس کھاتے کھولے اور اس کے ذریعہ بمبئی مرکنٹائل بینک کا پیسہ الٰہ آباد بینک میں پَرپل ٹریڈرس کے نام سے کھولے گئے کھاتے میں ٹرانسفر کردیا۔ مہندی پَرپل کمپنی کے بھی پارٹنر تھے۔
اسی طرح یونین بینک میں لکی انٹر پرائزیز نام سے بوگس اکائونٹ کھولا گیا اور بمبئی مرکنٹائل بینک کے ایک بوگس کھاتے میں جمع 15 کروڑ کی رقم ٹرانسفر کر کے اسے بھی ہڑپ لیا گیا۔ آر بی آئی نے کہاکہ ملٹی اسٹیٹ کو آپریٹیو سوسائٹیز ایکٹ کی دفعہ (ڈی ) کی خلاف ورزی کرنے کے معاملے میں بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی اور دیگر ملوث افسروں پر سخت قانونی کارروائی ہونی چاہئے ۔
ستم ظریفی
ستم ظریفی یہ ہے کہ پنجاب نیشنل بینک اور کینارہ بینک کی طرف سے بمبئی مرکنٹائل بینک کے چیئرمین ذیشان مہندی، مینیجنگ ڈائریکٹر شاہ عالم خاں اور ڈائریکٹر صلاح الدین نجمی کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے، دھوکہ دھڑی کرنے اور مجرمانہ رویہ اختیار کرنے کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود قومی سطح پر بی جے پی لیڈر کے دبائو میں16مئی 2016 کو ذیشان مہندی کو بینک کا چیئر مین اور محمد شاہ عالم خاں کو مینیجنگ ڈائریکٹر چن لیا جاتاہے۔جبکہ انہیں آر بی آئی اور سینٹرل کو آپریٹیو کی طرف سے بھی نااہل ٹھہرایا جا چکا تھا۔ محض چیئرمین کا انتخاب لڑنے کے لئے ذیشان مہندی نے سارے قانون اور آر بی آئی کے تجاویز طاق پر رکھ کر بمبئی مرکنٹائل بینک کی لکھنو برانچ سے ساڑھے سات سات کروڑ روپے کے دو قرض اپنے شناسا کے نام سے جاری کر دیئے۔ اس 15 کروڑ روپے کا استعمال بورڈ کے الیکشن میں ہوا اور اس رقم کو بینک کے نان پرفارمینگ اسیٹس (این پی اے ) میں ڈال دیا گیا۔ چیئر مین پر بینک کے ملازموں کے دیئے گئے فنڈ کا پیسہ غیر لسٹیڈ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے کا بھی الزام ہے۔ ممبئی پولیس کی ایکانومک اوفنس ونگ ( ای او ڈبلو) کے انچارج پولیس ڈپٹی کمشنر پراگ منیرے نے دہلی میں سینٹرل رجسٹرار آف کو آپریٹیو سوسائٹیز کے چیف کو خط لکھ کر بمبئی مرکنٹائل کوآپریٹیو بینک ہی دھاندلیاں اور گھوٹالوں کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا تھا، لیکن پولیس ڈپٹی کمشنرکا خط بھی کوڑے دان میں ڈال دیا گیا۔ منیرے کے پہلے ای او ڈبلو کے انچارج ایس جے کمار نے بھی بینک پر کارروائی کے لئے رجسٹرار کو خط لکھا تھا۔ اس سلسلے میں شیو سینا رکن پارلیمنٹ گجا نن کرتیکر کے ذریعہ مرکز کو لکھا گیا خط بھی ڈھاک کے تین پات ہی ثابت ہوئے۔
گھوٹالے بازوںمیںبڑا نام ہے
گھوٹالے میں بمبئی مرکنٹائل بینک کا بڑا اور کافی پرانا نام ہے۔ آپ کو ہرشد مہتا کا شیئر گھوٹالہ یاد ہوگا۔ 1990 کی دہائی کا وہ گھوٹالہ بڑا مشہور ہوا۔ یہ قریب پچاس ہزار کروڑ کا گھوٹالہ تھا۔ ہرشد مہتا نے بینک آف کرا ڈ اور بمبئی مرکنٹائل بینک کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرکے بینکرس رسید (بی آر ) حاصل کرلیا تھا اور ان فرضی بی آر کے ذریعہ مختلف بینکوں سے 50 ہزار کروڑ روپے نکال لئے۔ اس زمانے میں شیئر کاروبار بینکوں کے ذریعہ جاری ٹوکن اور بی آر سے ہوتا تھا۔ تب شیئروں کے کاروبار کے لئے ڈی میٹ کھاتہ یعنی شیئر کا ڈیجیٹل کھاتہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ ہرشد مہتا کے شیئر گھوٹالے میں بینکوں کا پیسہ ڈوبنے میں بھی بمبئی مرکنٹائل بینک کا ہی کردار رہا۔
چور کو ہی دی گئی چوکیداری
بمبئی مرکنٹائل بینک پر مرکزی سرکار کی مہربانیوںکا حال یہ ہے کہ بیرون ملک سے فنڈنگ کے ذریعہ آنے والے مشتبہ پیسے کی روک تھام کے لئے مرکزی سرکار نے جن بینکوںکو پہریدار بنایا، ان میں بمبئی مرکنٹائل بینک جیسے متنازعہ بینک کو بھی شامل کر دیا۔ غیر ملکی فنڈنگ پر مرکزی سرکار کی سختی کا سچ یہی ہے ۔آپ یاد کریں کہ مرکزی سرکار نے بیرون ملک سے فنڈ لینے والے سبھی این جی او، کمپنیوں، اداورں اور لوگوں کو 32 مقرر بینکوں میں سے کسی ایک میںاکائونٹ کھلوانے کا سخت حکم جاری کیاتھا، تاکہ فورا فنڈنگ کا استعمال کسی بھی طرح ملک مخالف سرگرمیوں میں نہ ہو۔ وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اعلیٰ سطح کی شفافیت کو یقینی کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے جبکہ مرکز ی سرکار کی یہ بہت ہی گھٹیا سطح کی شفافیت اور قوم پرستی تھی کہ اسے بمبئی مرکنٹائل بینک جیسے گھوٹالے باز بینک کو 32 چوکیدار بینکوں میں شمار کرتے ہوئے شرم نہیں آئی ۔مرکزی سرکار نے فورا فنڈنگ حاصل کرنے والے 18,868 این جی او کے رجسٹریشن تو رد کر دیئے، لیکن کرنسی کا بے جا دھندا کرنے والے بینک پر سرکار نے کوئی دھیان نہیں دیا۔ بمبئی مرکنٹائل بینک کو 32 چوکیدار بینکوں میںشامل کرکے مرکزی سرکار نے فورا فنڈنگ پانے والے مشتبہ اداروں، ایجنسیوں اور لوگوں کو دھندہ جاری رکھنے کا بالواسطہ موقع دے دیا ۔فارن فنڈنگ پانے والے تمام ایف سی آر اے رجسٹرڈ اداروں اور ایجنسیوں نے 21 جنوری 2018 تک بڑی تعداد میں اپنے کھاتے ( فارن کنٹی بیوشن اکائونٹس) کھلوا لئے ہیں، اب وہ بے خوف اپنا دھندہ چلائیںگے۔
گھوٹالے کی وجہ سے ہوا خسارہ
ہے نہ یہ عجیب بات لیکن سچ ہے ۔بڑے گھوٹالوں کی وجہ سے بمبئی مرکنٹائل بینک کا این پی اے بڑھتا رہا، لیکن گھوٹالے بازوں نے اس این پی اے کو ختم کرنے کے لئے بھی گھوٹالہ کیا۔ اس گھوٹالے کو بینک کے شاطر افسروںکے ساتھ ساتھ کئی اور شاطر دماغ ہستیوں نے انجام دیا۔ ان ہستیوںمیں ممبئی کے سابق پولیس کمشنر سمیت کئی ایسے بڑے آفیسر شامل ہیں، جو پہلے وزیر مالیات ، ریزرو بینک، سینٹرل رجسٹرار کو آپریٹیو اور سرکاری میڈیا میںاونچے عہدے سنبھالتے رہے ہیں۔بمبئی مرکنٹائل بینک نے جب دو سو کروڑ روپے کا این پی اے کلیئر کر لینے کا دعویٰ کیا تب اس چمتکار پر لوگوںکا دھیان گیا ۔بعد میںپتہ چلا کہ مبئی مرکنٹائل بینک کے 117 کروڑ روپے کے این پی اے کی دینداری انوینٹ نام کی کمپنی نے خرید لی۔ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر ایم این سنگھ انوینٹ کمپنی کے چیئر مین ہیں۔ انوینٹ کمپنی اور بمبئی مرکنٹائل بینک نے مل کر ایک ٹرسٹ بنایا، جس میں بینک نے 99.50 کروڑ روپے سرمایہ کاری کئے اور انوینٹ کمپنی نے اس ٹرسٹ میں 17.50 کروڑ روپے سرمایہ کاری کئے۔ این پی اے کی اضافی 83 کروڑ کی رقم بینک کے ریزرو فنڈس میںایڈجسٹ کر دی گئی۔ اس طرح این پی اے کی رقم ڈبونے کے لئے بہت ہی شاطرانہ کھیل کھیلا گیا، جس میں ممبئی کے سابق پولیس کمشنر این این سنگھ کی انوینٹ کمپنی بھی شریک رہی۔
اب انوینٹ کمپنی کا بھی پروفائل دیکھیں، جس میں خود ممبئی کے سابق پولیس کمشنر این این سنگھ چیئرمین ہیں۔ کارپوریٹ اور بینکنگ معاملوں کے مہارتھی پنکج کمار گپتا انوینٹ کمپنی کے وائس چیئرمین ہیں۔ ان کے علاوہ ایل آئی سی اور سیبی کے سابق چیئر مین گیانندر ناتھ واجپئی ،وزیر مالیات کے سابق آفیسر راج نارائن بھاردواج ،کئی اہم میڈیا گھرانوںکے سی ای او اور سرکاری میڈیا کے اعلیٰ آفیسر رہے آر کے سنگھ، ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا کے بڑے آفیسر رہے اے کے ڈوڈا، بھارتیہ ریزرو بینک کے سینئر آفیسر رہے ایس سی گپتا اور جی گوپال کرشن جیسی ہستیاںانوینٹ کمپنی سے جڑی ہیں۔
یو پی مائنارٹی فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن
اترپردیش سرکار میں بیٹھے ناکارہ نوکر شاہ کی وجہ سے ریاست کے مائنارٹی فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی خود کی مالی حالت خستہ ہے۔ اوپر سے بمبئی مرکنٹائل بینک اس کا قریب تین کروڑ روپے دبائے بیٹھا ہے۔ چیف سماجی کارکن اور آل انڈیا مسلم کونسل کے صدر علامہ ضمیر نقوی مرکزی سرکار سے لے کر ریاستی سرکار تک مائنارٹی فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی خستہ حالت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور مہم چلا رہے ہیں۔ ضمیر نقوی کہتے ہیں کہ سرکار کی بھید بھائو کی پالیسی کی وجہ سے مائنارٹی فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی حالت خراب ہو رہی ہے اور کارپوریشن کی حالت خراب ہورہی ہے اور کارپوریشن کے ملازمین بے حد مشکل حالت میں ہیں۔ دوسرے سارے کارپوریشنوں کے ملازمین کو باقاعدہ ساتویں پے کمیشن کی سفارش کے مطابق تنخواہیں مل رہی ہیں۔ لیکن مائنارٹی فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ملازمین کو اب بھی چوتھے پے کمیشن کی تنخواہ مل رہی ہے۔ نقوی پوچھتے ہیںکہ یہ کہاں کا انصاف ہے۔
شیڈولڈ کاسٹ فنانس ڈیولپمنٹ کارپوریشن یا ایسے دیگر کارپوریشنوں کے ملازمین اونچی تنخواہ پائیں اور مائنارٹی فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ملازمین نیچی تنخواہ پر کام کریں ، ایسا بھید بھائو سرکار کیوں کر رہی ہے۔ ضمیر نقوی اتر پردیش میں اقلیتی بہبود محکمہ کی چیف سکریٹری ایس سنیتا گرگ پر سیدھا الزام لگاتے ہیں کہ سرکار کی شہہ پر وہ مائنارٹی فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو ہی ختم کردینے پر آمادہ ہیں۔ ضمیر نقوی کہتے ہیں کہ یہ افسوس کا موضوع ہے کہ کارپوریشن کو ختم کرنے میں مرکزی اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی بھی کردار ادا کررہے ہیں۔ انہیں بار بار خط لکھ کر اس بارے میں آگاہ کیا جاتارہا لیکن انہوں نے ایک بھی مناسب ریمارکس نہیں کیااور نہ ہی کارپوریشن کے لئے کچھ کیا۔ مائنارٹی فنانس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ملازموں کو پچھلے 16 مہینے سے تنخواہ نہیں ملی ہے اور بمبئی مرکنٹائل بینک کارپوریشن کو پچھلے 16 مہینے سے تنخواہ نہیں ملی ہے اور بمبئی مرکنٹائل بینک کارپوریشن کے تین کروڑ روپے دبائے بیٹھا ہے۔
مرکزی وزیر نے یہ بھی کوشش کی کہ بینک کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے پائے۔ ضمیر نقوی کہتے ہیں کہ پچھلے دنوں جب مجھے پتہ چلا کہ ممبئی مرکنٹائل بینک کے چیئر مین ذیشان مہدی ان کے روم میں بیٹھے ہیں تو میں نے انہیں فون لگایا لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔ پھر میں نے انہیں ایس ایم ایس بھیج کر ان سے اپیل کی کہ وہ بینک سے کارپوریشن کا پیسہ دینے کے لئے کہیں۔ لیکن پیغام ملنے کے باوجود مرکزی وزیر نے کچھ نہیں کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *