بی جے پی کانگریس سے آگے نکل گئی

ایک الیکشن جیتتے ہی بی جے پی سوچتی ہے کہ پتہ نہیں اس کے ہاتھ کیالگ گیا ہے ، اگر اس کا 10 فیصد اہنکار بھی کانگریس میںہوتا تو یہ ملک کب کا برباد ہو چکا ہوتا۔ جواہر لعل نہرو کی جو مقبولیت تھی اور جس طرح 1952کے بعد کانگریس لگاتار جیتتی رہی ، اس دور میں اگر کانگریس ، بی جے پی جیسا نظریہ رکھتی، تو پھر یہ ملک بہت پہلے پاکستان بن چکا ہوتا۔
یہ ملک کسی کے ڈنڈے سے نہیںچل سکتا۔ بھلے ہی وہ ڈنڈا بائیںبازو کا ہو یا آر ایس ایس کا یا کسی اور کا۔ آج آر ایس ایس کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کا کیا ہے۔ بی جے پی تو ایک سیاسی پارٹی ہے۔ کچھ لوگ وزیر بنیںگے، پیسے کمائیں گے او ر چلے جائیںگے۔ آر ایس ایس تو گزشتہ 93 سال سے کام کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چار سالوںمیںبی جے پی نے دکھا دیا کہ وہ تو کانگریس سے بھی بدتر ہے۔ کانگریس کو بدعنوان اور خراب ہونے میںکئی سال لگے لیکن بی جے پی چار سال میںکانگریس سے آگے نکل گئی۔ نریندر مودی اور امت شاہ نے جتنا پیسہ گزشتہ چار سال میںجٹایا ہے، میںنہیںسمجھتا کہ اُتنا پیسہ کانگریس نے 25 سالوں میںبھی جمع کیا ہوگا۔ کرناٹک الیکشن میںبی جے پی نے کتنا پیسہ خرچ کیا، یہ میںنہیں کہتا، لیکن جب اکثریت نہیںآئی تو بی جے پی نے کہا کہ ہم خرید لیںگے اراکین اسمبلی کو۔ خریدنا لفظ کا استعمال نہیںکیا لیکن امت شاہ نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو کھلا چھوڑیے، ہم سرکار بنا لیںگے۔ جن چیزوں کے لیے بی جے پی یا سنگھ کانگریس کی تنقید کرتے ہیں، وہ کام تو انھیںنہیںکرنا چاہیے۔
اتر پردیش میںلگاتار تیسری سیٹ بی جے پی ہارگئی۔ پہلے پھول پور ، گورکھپور اور اب کیرانہ۔ اس ہار پر کبھی پارٹی نے غور کیا؟ ووٹروں کی خواہشات اور امیدوں کے خلاف بی جے پی نے اتر پردیش میںیوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ بی جے پی کو پسماندہ طبقہ کے لوگوں نے ووٹ دیا تھا۔ اس امید میںکہ کیشو پرساد موریہ وغیرہ میںسے کوئی وزیر اعلیٰ بنے گا،لیکن یوگی وزیر اعلیٰ بن گئے، جو اونچی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا نام اجے سنگھ بشٹ ہے۔ وہ ٹھاکر ہیں۔ لہٰذا آج وہاں پسماندہ طبقہ کے لوگ یہ محسوس کرتے ہیںکہ بی جے پی ٹھاکروں اور برہمنوں کی پارٹی رہ گئی ہے۔
بی جے پی کے سنگٹھن منتری سنیل بنسل ہیں۔ لکھنؤ میںوہ آر ایس ایس کے نمائندے ہیں۔ وہاںسب کو پتہ ہے کہ اگر آپ کو کوئی سرکاری کام کرانا ہے تو پہل سنیل بنسل کے یہاں جائیے، جو فیس ہے، وہ دیدیجئے۔ اگلے دن آپ کا کام ہونا شروع ہو جائے گا۔ یہ گورننس کا نیا نقشہ ہے کہ سرکار کہیںہے ، کنٹرول کہیں اور ہے۔ اب وہاں الیکشن میںہار کے بعد بحث چل رہی ہے کہ غلطی کس کی ہے۔ بنسل کی ہے یا یوگی کی۔ فی الحال وہاں ایک دوسرے پر الزام لگانے کا دور چل رہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

دراصل اب ہم چھوٹی سطح کی سیاست پر آگئے ہیں۔ ملک کی بات تو بھول جائیے۔ مودی سرکار نے پچھلے چار سال میںجو کیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے تو اب کانگریس اچھی لگنے لگی ہے۔ ہر معاملے میں اس سرکار نے کانگریس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مثال کے طور پر کشمیر۔ کشمیر میںکانگریس نے کبھی بھی صحیح پالیسی نہیںاپنائی۔ کبھی مسئلے کا سیاسی حل نہیںتلاش کیا۔ خود مختاری کو کمزور کردیا۔ لیکن بی جے پی تو کانگریس سے بھی آگے نکل گئی۔ پی ڈی پی کے خلاف بولنے والی بی جے پی نے مل کر سرکار بنا لی ۔ کشمیر میں جیب گرم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ میںابھی نو دن تک کشمیر رہ کر آیا ہوں۔ وہاںہر کوئی کہہ رہا ہے کہ اگلے الیکشن میںعمر عبداللہ پھر سے وزیر اعلیٰ بن جائیںگے۔ وہاں بی جے پی کی کوئی ساکھ نہیںہے ۔ یہاں تک کہ جموں میںبھی بی جے پی کو نقصان ہونے والا ہے۔ وہاں سبھی مایوس ہیں،خواہ ہندو ہوںیا مسلمان۔
بدعنوانی میں تو کانگریس سے آگے ہے ہی بی جے پی۔ اندرا گاندھی چار پانچ صنعتی گھرانوں کی طرفداری کرتی تھیں، مودی سرکار بھی چار پانچ گھرانوں کی طرفداری کر رہی ہے۔ ابھی انسالوینسی قانون کے بعد جو سلسلہ شروع ہوا، اس میں بھی بدعنوانی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ابھی بنانی سیمنٹ کی نیلامی ہورہی ہے۔ اس کمپنی کو بڑلا اور ڈالمیا خریدنا چاہتے ہیں۔ ڈالمیا بی جے پی کے قریبی ہیں، اس لیے بڑلا کی اونچی بولی کے باوجود کوشش ہورہی ہے کہ ڈالمیا کو بنانی مل جائے۔
دراصل ایسے لوگوں کے ہاتھوںمیںسرکار چلی گئی ہے، جنھیںسرکار چلانا تو آتی ہی نہیں ، سرکار کی سنجیدگی بھی نہیںسمجھ پارہے ہیں۔ نریندر مودی جیت کر آئے ہیں، اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا ہے لیکن جو جیت کر بڑا عہدہ سنبھالتا ہے، وہ شائستہ ہوجاتا ہے اور اہم مدعوںپر تجربہ کار لوگوںکی صلاح لیتا ہے۔ لیکن وزیر اعظم نے خود کی پارٹی کے سینئر لوگوںجیسے اڈوانی جی ہیں، مرلی منوہر جوشی، سے کبھی صلاح نہیںلی۔ کمیونکیشن کے سسٹم پر سرکار کا پورا کنٹرول ہے۔ پرائیویٹ ٹی وی اور اخبار مالکوں کو یا تو ڈرا دیا ہے یا پیسہ دے دیا ہے ، اس لیے سب سرکار کی زبان بول رہے ہیں۔ لیکن عوام پر اس کاکوئی اثر نہیںہے۔ اگر ایسا کرنے سے اقتدار پر بنے رہنا آسان ہوتا تو اندرا گاندھی کبھی ہارتی ہی نہیں۔ اس وقت ٹی وی چینلز نہیںتھے، اخباروںپر سینسر تھا لیکن عوام نے انھیںہرایا۔ مودی جی کو ایک بار شائستہ ہونا چاہیے اور جمہوریت کو بچانا چاہیے۔ اگر اندرا گاندھی کی طرح ایک بار ہارنا پڑ ے تو ہارنا بھی چاہیے۔ ان کے پاس پارٹی ہے، سنگٹھن ہے، لیڈر ہیں، پھر سے اقتدار میںآجائیںگے۔ لیکن مودی جی اور امت شاہ کی جو جسمانی زبان ہے،وہ باہر جانے کا راستہ بناتی ہے۔ اقتدار بچانے کا راستہ نہیںبناتی ہے۔ بی جے پی کے اندر ایسا ماحول بن گیا ہے کہ ان کے اراکین پارلیمنٹ ہی ان سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بی جے پی جیتے لیکن کم سیٹوں سے تاکہ مودی اور امت شاہ کی اجارہ داری ختم ہو۔ یہ کیسی صورت حال آگئی۔ سرکار کے وزیر جو بھاشن دے رہے ہیں، اسے سن کر لوگ ہنس رہے ہیں۔
میرے جیسے لوگوں کو بڑی امید تھی ۔ لوگ کہتے تھے کہ مودی آیا ہے تو کچھ نیا کرے گا۔ اگر نیا کرنا ہے تو کلچر کو بدلتے۔ مودی جی خود کہتے تھے کہ کانگریس مکت بھارت کا مطلب ہے کہ کانگریس کے کلچر سے آزادی۔ کانگریس کا کلچر کیا تھا، کہ سب کام دہلی سے ہو، پیسہ لے کر ہو۔ آج بھی تو وہی ہو رہا ہے۔ جی ایس ٹی کانگریس کی پالیسی تھی۔ یہ وفاقی ملکوں کے لیے ٹھیک نہیںہے۔ امریکہ نے جی ایس ٹی نہیںاپنائی ہے۔ کیونکہ اس نے اپنی ہر ریاست کو اپنا ٹیکس لگانے کی آزادی دی ہوئی ہے۔ اسے چدمبرم لانا چاہتے تھے لیکن مودی سرکار نے اسے انتہائی جوش کے ساتھ لاگو کرنا شروع کردیا۔ اس کا کوئی فائدہ نہیںہوا، سوائے چند لوگوںکے۔

 

 

 

 

 

دراصل سرکار کو غریبوںکے بارے میںسوچنا چاہیے۔ آج امبیڈکر ان کے ہیرو ہو گئے ہیں تو پھر آپ دلت کا نام وزیر اعظم کے لیے کیوں نہیںپیش کر رہے ہیں؟ دراصل یہ آئی ،می، مائی سیلف (میں،میںاور میں) میںیقین رکھتے ہیں۔ اس سے ملک نہیںچلتا۔ مودی کی جیت یا ہار سے مجھے کوئی مطلب نہیںہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج نے بتادیا کہ بے ضابطگی کیے بغیر آپ کا جیتنا مشکل ہے۔ پال گھر میں70ہزار فرضی ووٹروں کے نام درج کیے گئے ، تب بی جے پی جیتی۔ کانگریس کیوںجیتتی تھی؟ اس وقت تو پیسوں کا چلن بھی اتنا نہیںتھا۔ کانگریس اس لیے جیتتی تھی کہ کانگریس میںہر طبقے کے لوگ تھے۔ کانگریس اپنے آپ میںایک گٹھ بندھن تھی۔ اس میںراجا مہاراجا بھی تھے، زمیندار بھی تھے، بے زمین مزدور بھی تھے، ٹریڈ یونین لیڈرس بھی تھے، صنعت کار بھی تھے، اونچی ذات والے بھی تھے، تو پچھڑے ، دلت، آدیواسی بھی تھے۔ پھر کانگریس کا وہ گٹھ بندھن ٹوٹ گیا، کمیشن لاگو کردیا، تو ملائم سنگھ یادو، لالو یادو، مایاوتی ابھر کر سامنے آگئے اور اقتدار میںآگئے۔ یہ سب آج اپنے آپ میںایک طاقت ہیں۔
یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ مودی جی نہیں تو پھر کون وزیراعظم بنے گا؟ میںکہتا ہوں مایا وتی بنیںگی۔ خرابی کیا ہے ان میں؟ جب مودی ملک چلا سکتے ہیں تو وہ بھی چلا سکتی ہیں۔ وہ تو لوگوں سے صلاح لے کر بھی چلائیںگی۔ وزیر اعظم کا کام لکھا پڑھی کرنے کا نہیں ہے۔ اس کا کام ہے عوام کا اعتماد جیتنے کا، ملک کی عظمت بڑھانے کا۔یہ کام کوئی بھی کرسکتا ہے۔ ہمارے ملک میںدس اپوزیشن لیڈر ہیں جو وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ امریکہ ، برطانیہ اور ترقی یافتہ ممالک میںبھی غریب ہیں لیکن سرکاریں انھیںکم سے کم ضروری سہولتیںتو دیتی ہیں۔ یہاںبھی سرکار کو غریبوں کے بارے میںسوچنا چاہیے۔ جولوگ امیر ہیں، وہ اپنے بارے میںتو سوچ ہی لیںگے۔ سرکار قانون سے چلنی چاہیے۔ سرکار آئین سے چلنی چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *