اسرائیلکی خوشنودی کے لئے حزب اللہ قائد ین پر پابندی ؟

امریکا اور سعودی عرب کی قیادت میں قائم ٹیررسٹ فنانسنگ اینڈ ٹارگیٹنگ سینٹر(ٹی ایف ٹی سی ) کے مطابق حزب اللہ کی شوریٰ کونسل کے جنرل سکریٹری حسن نصراللہ پر پابندی لگائی گئی ہے۔پابندی کی زد میں آنے والوں میں حسن نصراللہ، ڈپٹی سیکریٹری جنرل نعیم قاسم سمیت شوریٰ کونسل کے 3 دیگر ارکان بھی شامل ہیں جس کے تحت ان کے اثاثے منجمد کردیئے جائیں گے۔اسی دوران ٹی ایف ٹی سی کے عرب ممالک سعودی عرب، بحرین، کویت، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات نے حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے دیگر 8 افراد پر پابندی کا اعلان کردیاہے۔انہیں امریکا پہلے ہی کالعدم قرار دے چکا ہے۔واضح رہے کہ ایک سال میں ٹی ایف ٹی سی کا دوسرا اجلاس ہوا ہے جس میں خطے کے امن کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا گیا۔
گزشتہ اکتوبر کو ایک گروپ نے داعش اور یمن میں القاعدہ کے اہم شخصیات پر مشترکہ پابندی کا اعلان کیا تھا۔امریکا کے وزیر خزانہ سٹیون منوچن نے اپنے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ ٹی ایف ٹی سی نے عالمی سیکورٹی کے تناظر میں خطے میں ایران اور حزب اللہ کی بڑھتی عملداری کو محدود کرنے میں بہت حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے۔واضح رہے کہ لبنانی انتخابات میں حزب اللہ کو واضح حمایت حاصل ہونے کے 10 دن بعد ہی سعودی عرب اور امریکا کی جانب سے پابندیوں کا اعلان کردیا گیا تھا۔اس پابندی کی وجہ سے ایران کے مرکزی بینک میں موجودلاکھوں ڈالر عراقی بینک کے ذریعے حزب اللہ کو ملنے کا مرحلہ تعطل کا شکار ہو جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کی قربت کی وجہ سے کئی ممالک خاص طور پر امریکہ خوفزدہ تھا اوراسی خوف کا نتیجہ ہے کہ امریکہ ایران پر جوہری افزودگی کے بہانے پھر سے معاشی پابندی لگانے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا جو بالآخر کا میاب ہوا۔اس حوالے سے خیال رہے کہ 8 مئی کو امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ کیا تھا اورتب امریکی وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ ایران اور حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں خطے میں استحکام اور امن کے لیے خطرہ ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حزب اللہ کی مالی مدد کیسے
1980میں حزب اللہ کے وجود میں آنے کے بعد سے اس کی مالی مدد ایران کی جانب سے شروع کردی گئی تھی۔ حالانکہ بعد میں حزب اللہ نے خود ہی مالی ذرائع پیدا کرلئے اور یہ ذرائع منی لانڈرنگ اور ڈرگ کی سپلائی ہیں۔ اس کے باوجود ایران کی مالی مدد ان کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے۔ایک اندازے کے مطابق ایران کے ذریعہ حزب اللہ کو سالانہ60سے100ملین ڈالر دی جاتی ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ 2002 میں ایران کی جانب سے حزب اللہ کی جو مدد کی گئی وہ 200 سے300 ڈالر تک تھی۔ 2008 میں ایران کی جانب سے حزب اللہ کی مالی مدد 400 ملین سے لے کر ایک ہزار ملین سالانہ تک پہنچ گئی تھی۔ ایران سے اتنی بڑ ی مقدارمیں مالی مدد پاکر حزب اللہ اس پوزیشن میں آگئی تھی کہ اس نے لبنان میں اپنے مخالفین اورمغربی جمہوریہ کے حامیوں اور دنیا بھر میں اعتدال پسند عرب کا خاتمہ کرنے کا اہل بنا دیا۔
ایران مختلف ذرائع سے حزب اللہ کو مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ کو ایرانی مالی مدد کا ذریعہ ایرانی خیرات بھی ہے۔ امریکہ کے مالیاتی محکمہ کے مطابق ایران کمیٹی کا استعمال لبنان کی تعمیرنو کے ذریعہ حزب اللہ کی مدد کرتا ہے۔ حزب اللہ کی مدد اس کے ڈھانچہ کی تعمیرنو اس کے مواصلاتی نیٹ ورک کو بہتر بنانے اور اس کی اسلحہ کے صنعت کو قائم کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ 1980 میں لبنان میں قائم کیا گیا امام خمینی ریلیف فنڈ بھی حزب اللہ کومالی امداد پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ یہ ادارہ حزب اللہ کے ذریعہ چلایا جاتا ہے جو لاکھوں ڈالر کی آمدنی پیدا کرتا ہے اور حزب اللہ کے نوجوانوں کی تربیت کے لئے مرکز چلاتا ہے۔ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصراللہ نے عوامی طور پر کہا ہے کہ لبنان میں واقع امام خمینی ریلیف فاؤنڈیشن لبنان میں سرگرم ہے اور اس کی مدد ایران کرتا ہے۔ فاؤ نڈیشن کے برانچ ڈائریکٹرعلی رزاق بھی عوامی طور پر کہہ چکے ہیں کہ فاونڈیشن حزب اللہ چلارہا ہے۔
ایرانی مدد اور کچھ اپنے ذرائع سے حاصل کرنے وال ذرائع کی وجہ سے حزب اللہ انتہائی طاقتور بن چکا ہے ۔اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حزب اللہ کے پاس 150 ہزار میزائل ہیں اور ان میں سے اکثر اسرائیل کے اندر تک نشانہ لگا سکتے ہیں اور حسن نصراللہ نے دھمکی بھی دی ہے کہ وہ اسرائیل کو نشانہ بنا کر اس پر قبضہ کر لیں گے۔ ظاہر ہے یہ صورت حال نہ صرف اسرائیل کے لئے خطرناک ہے بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کے نشانے پر آنے کے بعد سے ہی امریکہ پریشان تھا اور چاہتا تھا کہ اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر ان پر پابندی عائد کردے تاکہ مالی اعتبار سے وہ اتنا کمزور ہوجائے کہ پھر اس میں مزید میزئیل بنانے یا اسرائیل کو للکارنے کا دم خم باقی نہ رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *