عراقی عام انتخابات کے حیرت انگیز نتائج

عراقی انتخابات کے نتائج آچکے ہیں اور حیرت انگیز طور پر اس میں مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کے سیاسی اتحاد نے جیت درج کی ہے۔ دوسرے نمبر پر ایرانی حمایت یافتہ ہادی العامری جبکہ تیسرے نمبر پر وزیر اعظم حیدر العبادی کا سیاسی اتحاد ہے۔ 2003 میں امریکی عسکری مداخلت پر عسکری جدوجہد کرنے والے عراقی فوجی کمانڈر مقتدیٰ الصدر نے اس الیکشن کی مہم میں بدعنوانی کے خلاف مہم شروع کی تھی اور چونکہ عراق کے عوام بدعنوانی سے پریشان تھے، اس لئے مقتدیٰ الصدر کا نعرہ موقع کی مناسبت سے بالکل فٹ بیٹھا اور وہ جیت گئے۔
بتایا جاتا ہے کہ مقتدیٰ الصدر جس وقت البعث اور صدام کے خلاف لڑرہے تھے تو اس وقت انہیں ایران کی مکمل حمایت حاصل تھی،لیکن بعد میں ایران کی مداخلت زیادہ ہونے لگی جسے انہوں نے پسند نہیں کیا اور خود کو ایران سے دور کر لیا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب ایران سے دوری اختیار کی تو خطہ میں ایران کے حریف سعودی عرب سے وہ قریب ہوتے چلے گئے۔بہر کیف عراق میں اسلامک اسٹیٹ کی مکمل پسپائی کے بعد پہلی مرتبہ منعقد ہونے والے اس الیکشن میں اب مقتدیٰ الصدر کی کامیابی پر گفتگو ہونا شروع ہو گئی ہے۔
اس الیکشن میں دوسرے نمبر پر سابق جنگجوؤں پر مشتمل سیاسی اتحاد ہے جس کی قیادت ہادی العامری کر رہے ہیں۔ اس گروہ نے عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جنگ میں اہم کردار کیا تھا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق اس اتحاد کو چار صوبوں میں برتری حاصل ہے اور آٹھ صوبوں میں یہ دوسرے نمبر پر ہے۔
اس الیکشن میں ایک خاص بات یہ ہے کہ مقتدیٰ الصدر بطور امیدوار میدان میں نہیں اترے تھے، اس لیے وہ ملک کے وزیر اعظم نہیں بنیں گے۔ تاہم ناقدین کے مطابق وہ ’بادشاہ گر‘ ضرور ثابت ہوں گے۔لیکن اتنا طے ہے کہ اس وقت عراق کی جو حالت ہے، اس میں حکومت بنانا اور پرامن چلالینا اتنا آسان نہیں ہوگا۔بننے والی حکومت کو قدم قدم پر پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اسلامک اسٹیٹ کی تباہ کاریوں کی وجہ سے عراق میں جہاں بنیادی شہری ڈھانچہ تباہ ہوا ہے، وہیں اس ملک کی معیشت بھی زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہے۔ نئی حکومت کو ملک کی تعمیر نو اور بحالی کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر بٹے ہوئے معاشرے کو بھی متحد کرنا ہو گا۔ساتھ ہی امریکا اور ایران کے مابین نئی کشیدگی کے باعث عراق کی داخلی سیاست بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ کئی سیاسی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین محاذ آرائی کے نتیجے میں عراق ایک نئی مشکل کا شکار ہو سکتا ہے۔
پچھلی مرتبہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے وقت العبادی عوام میں ایسی توقعات کا باعث بنے تھے کہ وہ نسلی اور فرقہ وارانہ تقسیم کو ختم کر سکیں گے۔ تاہم ان کا سنی اقلیت کی طرف جھکاؤ زیادہ دیکھا گیا جبکہ کردوں کی آزادی کی تحریک انہوں نے کچل ڈالی۔ علاوہ ازیں العبادی نہ تو کرپشن کا انسداد کر پائے اور نہ ہی ملکی اقتصادی صورتحال میں کوئی بہتری لا سکے۔
2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق مسلح تنازعات، اقتصادی مسائل اور بد عنوانی جیسے مسائل کا شکار رہا ہے۔ سیاسی اور جغرافیائی عوامل کے علاوہ عراق کو شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف تین سالہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی تاحال کئی دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ موصل جیسے چند بڑے شہر ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں جبکہ نسلی بنیادوں پر تفریق کے سبب سلامتی کی صورت حال اب بھی انتہائی غیر مستحکم ہے۔ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے سے متعلق ڈیل سے امریکا کی دستبرداری کے فیصلے کے تناظر میں عراقی عوام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ کہیں ان کا ملک واشنگٹن اور تہران کے مابین مسلح تنازعے کا میزبان نہ بن جائے۔
حالیہ عام انتخابات میں ملک کے اٹھارہ صوبوں میں تقریباً سات ہزار امیدوار پارلیمانی نشستوں کے لیے لڑ رہے تھے۔ عراق کی لگ بھگ 37ملین کی آبادی میں سے تقریبا ً 24 ملین شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔
عراق میں تین بڑے مذہبی گروپ ہیں۔ وہاں اکثریت شیعہ عرب مسلمانوں کی ہے جبکہ سنی اور کرد اقلیتی گروپ بھی کافی بڑے ہیں۔ اگرچہ داعش کے خلاف یہ تینوں گروپ متحد ہو کر لڑے تھے تاہم نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تفریق اب بھی موجود ہے۔ وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے تینوں مرکزی امیدوار شیعہ ہیں۔ حیدر العبادی، نوری المالکی اور شیعہ ملیشیا کے کمانڈر ہادی العامری۔ انتخابات میں کامیابی کے لیے ایران کی حمایت لازمی ہے کیونکہ خطے کی بڑی شیعہ قوت کے طور پر ایران کا عراق میں اقتصادی اور عسکری اثر و رسوخ بھی ایک حقیقت ہے۔بہر حال حکومت جس کی بھی ہو لیکن دیگر پارٹیوں سے حمایت لینی ہی پڑے گی کیونکہ اکثریت کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *