آسٹریا :7 مساجد بند اور متعددائمہ برخاست

masjid
آسٹریلیانے کہاہے کہ وہ غیرملکی اقتصادی مددلینے کے باعث ملک کی 7مسجدوں کوبندکرے گا اوراماموں کوبرخاست کرے گا۔آسٹریلیاکے چانسلرسیباسٹین کورز نے کہاہے کہ یہ کارروائی مسجدوں کے سیاسی استعمال کے خلاف کی جارہی ہے۔بہرحال آسٹریا میں سات مساجد کو بند کیا جارہا ہے۔ ان مسجدوں کے اماموں کو بھی برخاست کردئے گئے ہیں۔ حکومت نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ملک میں ایسے کئی اماموں کی ملک بدری کا فیصلہ کیا گیا ہے، جنہیں باقاعدگی سے غیر ممالک سے مالی معاونت حاصل رہی ہے۔ اسی طرح یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسی سات مساجد کی تالہ بندی کر دی گئی ہے، جہاں سے ملکی سلامتی کو خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔آسٹریا کے چانسلر سیباستان کْرس کریک ڈاون مذہب اسلام کے خلاف نہیں بلکہ بعض افراد کی جانب سے اسلام کے سایے میں جاری سیاسی ایجنڈے کے خلاف کیا گیا ہے۔چانسلر کے مطابق یہ فیصلہ مذہبی معاملات کے نگران ادارے کی کئی ہفتوں سے جاری تفتیشی عمل کے بعد کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت ویانا میں ایک ایسی مسجد کو بند کردیا گیا ہے، جو ترک قوم پرستوں کے زیر انتظام تھی۔وہیں ایک مذہبی گروپ ’ عرب کمیونٹی‘ کو بھی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ مذہبی گروپ کم از کم چھ مساجد کا انتظام و انصرام رکھتا تھا۔ اب تک دو ائمہ کے معاہدے منسوخ کر دیے گئے اور پانچ دیگر کے معاہدوں کی تجدید نہیں کی گئی ہے۔
دوسری طرف مسجدکے خلاف کارروائی کی ترکی نے مذمت کی ہے۔ترکی کے صدردفترکابھی کہناہے کہ آسٹریلیاکی یہ حرکت’اسلام سے ڈرپیداکرنے والی، نسلی تشدد اوربھیدبھاؤ سے بھری ہے‘‘۔ترکی صدرطیت رجب ادرغان کے ترجمان ابراہیم کلیم نے ٹویٹرپرلکھاہے کہ ’’اوچھی سیاست کیلئے مسلمانوں کونشانہ بنایاجارہاہے‘‘۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *