دہلی کے آرک بشپ کی تشویش کچھ کہتی ہے

ابھی حال میں دہلی کے آرک ڈایوسز کے آرک بشپ انل کائوٹو نے ہندوستان کے کیتھولکس کو لکھے گئے خصوصی کھلے مکتوب میں ملک کی موجودہ صورت حال پر جس طرح کی تشویش کا اظہار کیا ہے، وہ یقینا توجہ طلب ہے۔ اس سلسلے میں دو طرح کی رائیں آرہی ہیں۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ ملک کی موجودہ سماجی صورت حال اور آئندہ پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں بروقت ہے اور دوسری رائے یہ ہے کہ اس طرح کے مکتوب یا بیانات حکومت وقت اور ملک کی تصویر کو دنیا میں ڈیمیج کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہند نے اس مکتوب کے منظر عام پر آتے ہی اس کا نوٹس لیا اور پھر حکومت کے ذمہ داروںکے بیانات متواتر آنے لگے کہ ہندوستان میں اقلیتیں محفوظ اور سلامت ہیں۔ وزیر داخلہ ہوں یا وزیر اقلیتی امور ،سبھی اقلیتوں کی حفاظت اور سلامتی کی دہائی دینے لگے اور آرک بشپ کے مکتوب کو کنٹروورشیل یا متنازعہ فیہ قرار دیا۔
ظاہر سی بات ہے کہ عیسائی مذہبی رہنما کا یہ مکتوب ایک ایسے وقت ملک بھر کے کیتھولکس کے نام لکھا گیا ہے جب ملک میں عدم رواداری اور عدم تنوع کا بعض جگہوں پر ننگا ناچ ہورہا ہے۔ گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کی لینچنگ کی جارہی ہے اور یہ سلسلہ بالکل رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل اس پر تشویش کا اظہار کرچکا ہے۔ اتنا ہی نہیں، خود پی ایم مودی بھی کئی بار اس کی کڑی تنقید کرچکے ہیں مگر اس قسم کی گھنائونی حرکت پر فل اسٹاپ نہیں لگ رہا ہے۔ ابھی حال میں مدھیہ پردیش کے ستنا میں اسی طرح کی لینچنگ نے صورت حال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
ان حالات میں آرک بشپ انل کائوٹو کا مکتوب صرف عیسائی اقلیت ہی نہیں بلکہ ملک کی تمام اقلیتوں کے تناظر میں اہم گردانا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا سوال جو ذہن میں اٹھتا ہے ،وہ یہ ہے کہ آخر عیسائی پادری نے کیا کہا ہے جس پر اتنا ہنگامہ ہے؟انہوں نے دراصل ہندوستان کے کیتھولکسوں سے کہا ہے کہ وہ 2019 میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے لئے روزہ اور عبادت کی مہم چلائیں۔ ان کا مکتوب یہ کہتے ہوئے شروع ہوتا ہے کہ’’ ملک اور اس کے سیاسی لیڈروں کے لئے ہمیشہ دعائیں کرنا آرک ڈیوسز میں ایک ہیلوڈ پریکٹس ہوکر رہ گئی ہے اور یہ بہت اہم ہوگیا کیونکہ ہم لوگ اب انتخابات سے قریب ہوتے جارہے ہیں۔‘‘ متنازعہ فیہ کہے جانے والے اس مکتوب میں تمام کیتھولکسوں سے آئندہ پارلیمانی انتخابات آنے تک ہر جمعہ کو روزہ اور ایک گھنٹہ روزانہ عبادت کرنے کو کہا گیاہے۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی کا آرک ڈایوسز ملک بھر میں کیتھولکس کاچہرہ مانا جاتاہے اور آرک بشپ کا ملک کے کیتھولک عیسائیوں پر بڑا ہی زبردست اور مضبوط اثر قائم ہے۔ آرک بشپ کائوٹو کا تعلق گوا سے ہے جو کہ 2013 میںدہلی کے آرک بشپ مقرر کئے جانے سے قبل جالندھر کے بشپ تھے۔
ویسے اس مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عبادات ، روزے اور توبہ ’ہمارے ملک کی روحانی تازگی ‘ کے لئے کی جانی چاہے۔ جس عبادت کا اس مکتوب میں ذکر ہے، اس میں ہمارے آئین کے بانیان کے خوابوں اور اقدار کو بڑے ہی احترام میں ہمیشہ رکھے جانے کے لئے اللہ کے فضل کو حاصل کرنے کی بات کی گئی ہے جو کہ برابری، لبرٹی اور اخوت ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ انتخابات کو لے کر دہلی کے موجودہ آرک بشپ کا یہ کوئی پہلا مکتوب نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف ریاستی انتخابات کے وقت ملک کے دیگر مقامات کے آرک بشپ اس طرح کے اظہار خیال کرتے رہے ہیں۔ گجرات انتخابات سے قبل بھی گاندھی نگر کے آرک بشپ نے ایسا ہی مکتوب بھیجا تھا جس میںعیسائیوں کو ’نیشنلسٹک فورسز ‘ سے ملک کو بچانے کوکہا گیا تھا۔ ناگالینڈ اسمبلی انتخابات سے قبل بھی ناگالینڈ بیپسٹسٹ چرچ کونسل نے بھی اپنے معتقدین سے ’ تریشول اور کراس ‘ کے درمیان فیصلہ کرنے کو کہا تھا۔ اس وقت صرف تریشول ان کا تنہا مسئلہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے یوگا کو ایک خالص ہندو پریکٹس قرار دیا تھا اور اپنے معتقدین کو اس سے دور رہنے کو کہا تھا۔ گوا انتخابات سے قبل بھی ایک کیتھولک میگزین نے ریاست میں ووٹروں سے بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے سے روکا تھا اور دعویٰ کیا تھاکہ ملک کو ’آئینی ہولوکاسٹ ‘ درپیش ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چرچ اپنی اقلیتی حیثیت کے پیش نظر اپنے تشخص کو لے کر عدم تحفظ کا شکار ہے اور ایک جمہوری ملک میں انتخابات کے موقع پر جمہوری انداز میں اس کا حل چاہتا ہے۔ مسئلہ عیسائی اقلیت کا ہو یا کسی اور اقلیت کا، حکومت کو صحیح معنوں میںاسے سمجھنا ہوگا، صرف یہ کہنے سے کوئی اقلیت مطمئن نہیں ہوجائے گی کہ ہندوستان میں اقلیتیں محفوظ اور سلامت ہیں۔
ویسے یہ صحیح ہے کہ ہندوستان میںاقلیتیں آئینی طور پر ہمیشہ سے محفوظ اور سلامت رہی ہیں۔ آئین نے انہیں خصوصی تحفظ فراہم کیا ہے، انہیں حقوق و اختیارات دیئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک کے تمام قوانین ان کے حق میں ہیں۔ اقلیتوں کے لئے پارلیمانی قانون کے تحت مخصوص قومی کمیشن ہے، ان کی مالی معاونت کے لئے مالیاتی کارپوریشن ہے، ان کے تعلیمی اداروں کی حفاظت کے لئے بھی ایک علاحدہ قومی کمیشن ہے اور ان سب کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کے حل اور ان کے امپاورمنٹ کے لئے علاحدہ وزارت ہے۔ یہ سب تو سرکاری طور پرہے۔ علاوہ ازیں مختلف سیاسی پارٹیوں نے اپنے یہاں اقلیتی سیل یا یونٹ بنا رکھا ہے۔ لیکن اسے ستم ظریفی نہیں تو اور کیا کہا جائے کہ ان سب کے باوجود عیسائی یا کیتھولک سمیت اقلیتیں اپنے آپ کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کررہی ہیں۔ویسے ایسا نہیں ہے کہ یہ احساس صرف ابھی ہورہاہے اور پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔کانگریس کے لمبے دور میں بھی اقلیتوں نے بہت کچھ جھیلا ہے۔حکومت چاہے جس پارٹی یا اتحاد کی ہو، اسے اقلیتوں کے مسائل کو الگ سے سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ یہ موضوع صرف اہم ہی نہیں، بلکہ حساس بھی ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *