اے ایم یو:وائس چانسلر نے اساتذہ اور طلبہ طالبات کو اعزاز سے نوازا

AMU-VC-Prof-Tariq-Mansoor-a

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ علم الحیوانات میں سالانہ تقریب کے دوران مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور اور شعبہ کے ریٹائرڈ ٹیچروں پروفیسر حسام الدین فاروقی اور پروفیسر ابصار مصطفیٰ خاں نے امتیازی ایوارڈ حاصل کرنے والے شعبہ کے اساتذہ اور جے آر ایف؍نیٹ، اے آر ایف اور گیٹ امتحانات میں کامیاب ہونے والے 35؍طلبہ طالبات کو اعزاز سے نوازا ۔وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے پروفیسر قدسیہ تحسین کو انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی کا فیلو منتخب کئے جانے ، ڈاکٹر ریاض احمد کو آئی سی ایم آر کا شکنتلا امیرچند ایوارڈ 2015، ڈاکٹر یاسر حسن صدیقی کو شکنتلا امیرچند ایوارڈ 2013،اور ڈاکٹر حفظ الرحمان صدیقی کو انڈین اکیڈمی آف بایو میڈیکل سائنسز کا مسز فرح دیبا ایوارڈ ملنے پر انھیں اعزاز سے نوازا ۔
پروفیسر منصور نے ڈاکٹر ریاض احمد اور ڈاکٹر یاسر حسن صدیقی کو ایس این ناہر ایکسلینٹ ٹیچر آف دی ایئر ایوارڈ مشترکہ طور سے پیش کیا ۔دونوں اساتذہ کو یہ ایوارڈ معیاری تحقیق و اشاعتوں اور طلبہ کو جدید تحقیق کے لئے متحرک کرنے پر دیا گیا ۔انھیں توصیفی سند اور یادگاری نشان کے ساتھ ہی رقم بھی پیش کی گئی ۔محکمہ کے پی ڈی ایف ڈاکٹر عبداللطیف وانی کو ڈاکٹر البرج آر رحمانی بیسٹ تھیسس ایوارڈ دیا گیا ۔ڈاکٹر وانی کو 7495؍روپئے کی رقم اور توصیفی سند پیش کی گئی۔ ان کے علاوہ شعبہ کے 35؍طلبہ طالبات کو بھی اعزاز سے نوازا گیا ۔وائس چانسلر نے شعبہ کے سربراہ پروفیسر وسیم احمد کی دو کتابوں ٹرمائٹس اینڈ سسٹینیبل مینجمنٹ کا بھی اجراء کیا۔ ان کتابوں کو بین الاقوامی پبلشر اِسپرنسر نے شائع کیا ہے۔ ایم ایس سی میں سب سے عمدہ تحقیقی مقالہ کے لئے جنیٹکس سیکشن کی علمہ شکیل ، فشریز کی عظمی وصی انصاری، نیماٹولوجی کے عشرت بشیر، پیراسیٹولوجی کی انم نصیر اور اینٹامولوجی کے مزمل سید شاہ کو انعامات سے سرفراز کیا گیا ۔
اس موقع پر اعزاز حاصل کرنے والے اساتذہ اور امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہاکہ عالمی نقشہ پر شعبہ کی شناخت قائم رکھنے کے لئے اس طرح کی علمی کاوشیں مسلسل جاری رہنی چاہئیں۔ انھوں نے انٹرڈسپلنری ریسرچ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ سائنس کے ساتھ ساتھ سماجی و انسانی علوم کے ساتھ بھی مل کر تحقیق کی جانی چاہئے اور اے ایم یو میں اس طرح کی بین موضوعاتی تحقیق آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ وائس چانسلر نے کہاکہ کسی بھی ادارے کی شناخت اس میں ہونے والی تحقیق سے ہوتی ہے اور علم الحیوانات کا شعبہ شروع سے ہی تحقیق میں آگے رہا ہے۔ پروفیسر طارق منصور نے اساتذہ اور ریسرچ اسکالروں سے اپیل کی کہ وہ مختلف فنڈنگ ایجنسیوں سے پروجیکٹ حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔ انھوں نے یونیورسٹی کی شبیہ کو بدلنے میں سبھی سے تعاون کی اپیل کی۔ انھوں نے شعبہ میں گزرے دنوں کی یادیں بھی تازہ کیں۔
شعبۂ علم الحیوانات کے سربراہ پروفیسر وسیم احمد نے کہاکہ ان کے شعبہ کا شمار اے ایم یو کے سب سے قدیم شعبوں میں ہوتا ہے۔ شعبۂ علم الحیوانات کا قیام سن 1906ء میں ہوا تھا اور مشہور ماہر علم الحیوانات پروفیسر بابر مرزا کی قیادت میں اس شعبہ نے کامیابی کی نئی بلندیاں طے کیں۔ ان کے بعد ڈاکٹر ظہور قاسم، پروفیسر وسیم احمد صدیقی، ڈاکٹر اطہر ایچ صدیقی، پروفیسر بشیر، پروفیسر ایس ایم عالم، پروفیسر عثمان ادہمی اور پروفیسر نواب ایچ خان جیسے نامور ماہرین علم الحیوانات نے اسے آگے بڑھایا۔پروفیسر وسیم احمد نے کہا کہ اس تعلیمی سال میں 90؍سے زائد تحقیقی مقالے شائع ہوئے اور 13؍طلبہ نے پی ایچ ڈی مکمل کی، جب کہ 8؍ریسرچ اسکالروں نے پی ایچ ڈی تھیسس جمع کی ۔
تقریب میں موجود حاضرین کا خیرمقدم پروفیسر محمد افضال نے کیااور شکریہ ایس ایم عباس عابدی نے ادا کیا۔ نظامت کے فرائض ہادیہ حسین اور ثوبیہ وسیم نے مشترکہ طور سے انجام دئے۔ تقریب میں فیکلٹی آف لائف سائنسز کے ڈین پروفیسر قیوم حسین اور پروفیسر عرفان احمد کے علاوہ شعبہ کے اساتذہ اور طلبہ کثیر تعداد میں موجود تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *