آدھار کی ووٹر کارڈ سے لنکنگ کتنا محفوظ رہے گا ہر ایک کا ووٹ؟

وَن ووٹ وَن ویلیو۔آئین اور ہندوستانی جمہوریت کی یہ سب سے بڑی خوبی ہے۔ امیر غریب،سب کے ایک ایک ووٹ کی یکساںاہمیت ہے۔تکنیک کے جس دور میںوہاٹس ایپ ،فیس بک کا ڈیٹا لیک ہورہا ہو، ٹیکنالوجی آپ کی ہر جانکاری کو ڈی کوڈ کر لیتی ہو،وہاںاگر ووٹر کارڈ کو آدھار سے لنک کیا گیا تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ کا ووٹ ’خفیہ‘ رہ پائے گایا کہ پھر اس کے ساتھ ہیرا پھیری نہیںکی جاسکتی۔ آدھار پر سپریم کورٹ میں سنوائی پوری ہوچکی ہے۔ اس بیچ کورٹ کے حکم سے پہلے تک، الیکشن کمیشن قریب 32 کروڑ ووٹروں کے آدھار کارڈ اکٹھا کرچکا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن یہ بتا پانے کا اہل ہے کہ ان آدھار کارڈ کو اب تک ووٹر کارڈ سے لنک کیا گیا ہے یا نہیں؟ فی الحال کچھ ہی دنوں میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے والا ہے۔ لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ اگر ووٹروں کے ووٹر کارڈ کو آدھار کارڈ سے لنک کیا جاتا ہے تو اس کے کیا نتیجے ہوسکتے ہیں؟ ظاہر ہے ، ہم یہاں امکانات اور خدشات کی بات کررہے ہیں۔ سرکار اور الیکشن کمیشن کو اپنی طرف سے یہ صاف کرنا چاہیے کہ ملک کے ہر ووٹر کا ’ووٹ‘ کیسے خفیہ اور محفوظ رہے گا، اگر ووٹر کارڈ کو آدھار کارڈ سے لنک کیا جاتا ہے؟
اس کہانی کی شروعات کرناٹک اسمبلی الیکشن سے ہی کرتے ہیں۔ ہبلی دھارواڈ سیٹ کا انتخابی نتیجہ پہلے روک دیا گیا۔ وجہ ای وی ایم میںپڑے ووٹ اور وی وی پیٹ (پرچی) کی گنتی میںیکسانیت نہیںپائی گئی۔ یعنی جتنے ووٹ ڈالے گئے اور جتنے ووٹ گنے گئے،ان میںفرق تھا۔ یہ حقیقت صرف ایک پولنگ اسٹیشن کی ای وی ایم کی وی وی پیٹ کی کیلکیشن سے سامنے آئی۔ وی وی پیٹ کے مطابق 459 ووٹ پڑے تھے اور چونکہ جیت کا مارجن 20000 سے زیادہ تھا، اس لیے آخر کار بی جے پی امیدوار جگدیش شیٹر کے فاتح ہونے کا اعلان کردیا گیا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ فرق اگر ایک پولنگ اسٹیشن پر آسکتا ہے تو سبھی پر کیوں نہیںآسکتا؟ چونکہ سبھی پولنگ اسٹیشن کے وی وی پیٹ ووٹوںکی گنتی کا پروویژن نہیںہے،اس لیے اس طرح کے زیادہ تر فرق کا پتہ ہی نہیںچل پاتا۔ لیکن ہانڈی کے ایک چاول سے پتہ چلتا ہے کہ بھات پکا ہے یا نہیں۔ اسی طرح اگر ایک ای وی ایم اوراس کے وی وی پیٹ میںگڑبڑی ہوسکتی ہے تو دوسرے میںکیوںنہیں ہوسکتی؟ کیا اس کا کوئی فول پروف جواب الیکشن کمیشن دے سکتا ہے۔
ووٹر کے ساتھ سائیکلوجیکل گیم
اس خبر سے کہانی کی شروعات اس لیے کرنے کی ضرورت پڑی کہ اس طرح کی گڑبڑیاں تب بھی ہورہی ہیں جب الیکشن کمیشن نے ساری سیاسی پارٹیوںکو ای وی ایم ہیک کرنے کا چیلنج کیا تھااور کسی پارٹی نے اسے ہیک کرنے کی نہ تو ہمت دکھائی اور نہ ہی ٹیلنٹ۔ ویسے سوال ہیکنگ سے زیادہ اہم تکنیک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا ہے اور تکنیک کی معتبریت کا بھی۔ کیا جمہوریت کی بنیاد کو تکنیک کے بھروسے گروی رکھا جاسکتا ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میںجب سیاسی پارٹیاں ووٹروں کو متاثر کرنے کے لیے سائیکلوجیکل گیم کھیل رہی ہیں۔ فیس بک ڈیٹا لیک اور کیمبرج اینالیٹکا کا کھیل یہی تو تھا۔ ہر ایک یوزر کی پوری جانکاری حاصل کرو، ٹرینڈ کا پتہ لگاؤ اور پھر اس کے حساب سے اس کے ووٹ کو متاثر کرنے کی کوشش کرو۔ یہ سب سیاسی کاروباری طریقے سے ہورہا ہے، جس کا خلاصہ ابھی کچھ ہی دن پہلے ہوا۔ اب اصل مدعے پر بات کرتے ہیں۔ اصل مدعایہ ہے کہ کیا اب تک 32کروڑ وںووٹروں کا ووٹر کارڈ ،آدھار کارڈ سے جوڑا جاچکا ہے۔پہلے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں، بعد میںیہ جانیںگے کہ ووٹر کارڈ کو آدھار کارڈ سے اگر لنک کیا گیا تو اس کے کیا ممکنہ نتائج ہوسکتے ہیں؟

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ووٹر لسٹ کے پیوریفکیشن کے نام پر
3 مارچ 2015 کو الیکشن کمیشن نے نیشنل الیکٹورل رول پیوریفکیشن اینڈ آتھنٹکیشن پروگرام (نیرپاپ ) لانچ کیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت ووٹروں کے ایپک ڈیٹا (ووٹر کارڈ ڈیٹا)کو آدھار کارڈ کے ساتھ لنکنگ اور آتھنٹکیشن کیا جانا تھا۔ یہ کام بوتھ لیول آفیسرسے لے کر اوپر تک کے افسروں کے ذریعہ کرایا گیا۔ بی ایل او ووٹروںکے گھر جاکر یہ ڈیٹا (آدھار کارڈ ڈٹیل) اکٹھا کررہے تھے۔ حالانکہ اس میںیہ بھی کہا گیا کہ ووٹروں کے لیے اپنی آھارکارڈ ڈٹیل دینالازمی نہیں ہوگی اور ڈیٹا کی حفاظت کے پختہ انتظام کیے جائیںگے۔ خیر آدھار اکٹھا کرنے کے لیے کئی طریقے اپنائے گئے۔ جیسے ڈیٹا ہب، مرکز اور ریاستی تنظیم و دیگر ایجنسیوں کے ذریعہ آدھار اکٹھا کیے گئے۔ کئی ریاستوں نے بھی اسٹیٹ ریزیڈنٹ ڈیٹاہب بنائے ہیں، جس میںمدھیہ پردیش،آندھرا پردیش، تلنگانہ، دہلی وغیرہ شامل ہیں۔ اسٹیٹ ریزیڈنٹ ڈیٹا ہب کے ذریعہ ریاستی سرکاریں اپنے شہریوں کے آدھارکارڈ کو مختلف کاموں کے لیے لنک کرتی ہیں۔ اسٹیٹ ریزیڈنٹ ڈیٹا ہب کا مطلب ہے کہ سرکار کے پاس اپنے شہریوں کی 360 ڈگری پروفائل تیار کرنا۔ 360 ڈگری پروفائل کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی کوئی بھی جانکاری، آپ کی کوئی بھی رائے، خیال جو کسی سوشل سائٹ یا اسمارٹ فون پر موجود ہے، اس کی ہر ایک جانکاری سرکار کے پاس ہوگی۔ ریاستی سرکار کے پاس یو آئی ڈی اے آئی کی طرف سے مہیا کرائی گئی ہرایک جانکاری (بایو میٹرک)ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے ایسے ہی اسٹیٹ ریزیڈنٹ ڈیٹا ہب سے بھی ڈیٹا لیے اور اس طرح سے الیکشن کمیشن تقریباً 32کروڑ ووٹروں کے آدھار ڈیٹا اکٹھا کرچکا تھا۔
ووٹر کارڈ آدھار سے لنک ہوئے
11اگست 2015کو سپریم کورٹ کا ایک حکم آتا ہے ۔ جسٹس کے ایس پُٹا سوامی (ریٹائرڈ) کی عرضی رٹ پٹیشن سول نمبر 494/2012پر سنوائی کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں واضح طور پر کہا کہ آدھار کا استعمال سوائے پی ڈی ایس (راشن) تقسیم کے کہیںنہیںکیا جاسکتا۔ عدالت نے یہاں تک کہا کہ سرکار کسی کو دباؤ کے تحت آدھار کارڈ بنوانے کے لیے زبردستی نہیںکرسکتی۔ اس حکم کے آنے کے فوراً بعد ہی الیکشن کمیشن نے سبھی ریاستوں کے چیف الیکشن آفیسرز کو 13اگست 2015کو خط لکھ کر فوری طور پرووٹروںسے آدھار ڈیٹا اکٹھا کرنے کا کام بند کرنے کو کہا۔ کمیشن نے نیشنل الیکٹورل رول پیوریفکیشن اینڈ آتھنٹکیشن پروگرام کو بھی ملتوی کردیا۔ لیکن اس بیچ قریب 32 کروڑ ووٹروں کے آدھار ڈیٹا الیکشن کمیشن کے پاس پہنچ چکے تھے۔ کمیشن نے ویسے تو بھروسہ دلایاکہ جمع کیے گئے ڈیٹا کی سیکورٹی کے پختہ انتظام ہیں لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن کی انسانی طاقت اور تکنیکی طاقت (خود کی نہ کہ آؤٹ سورسڈ) اتنی ہے،جس سے وہ اس ڈیٹا سیکورٹی کی گارنٹی دے سکے۔ غور طلب ہے کہ الیکشن کمیشن کے بہت سارے کام (خاص طورسے تکنیکی) آؤٹ سورسڈ ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اب تک 32کروڑ ووٹروں کے ووٹر کارڈ آدھار سے لنک کیے ہیںیا نہیں، ا سکی سر کاری طور پر جانکاری الیکشن کمیشن کو دینی چاہیے۔ یہاں سے واضح طور پر سمجھنا چاہیے کہ ووٹر کارڈ کا آدھارکارڈ کے ذریعہ ویریفکیشن کرنا ایک الگ بات ہے اور ووٹر کارڈ کو آدھار کارڈ سے لنک کرنا ایک الگ بات ہے۔
ووٹ پر چوٹ
ہندوستان میںخفیہ ووٹنگ کانظام ہے۔ ابھی ای وی ایم کو لے کر سوال اٹھتے رہتے ہیں۔ ہبلی ودھان سبھا سے بھی خبر آئی کہ وی وی پیٹ اور ای وی ایم میںدرج ووٹوںکی گنتی میںفرق پایا گیا۔ ای وی ایم بیسکلی ایک پری لوڈیڈ ڈیٹا کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میںاگر ووٹر کارڈ کو آدھار سے لنک کیا جاتا ہے تو ووٹنگ سے پہلے بایومیٹرک ویریفکیشن ہوگا۔ اس میں یہ گنجائش رہے گی کہ جو بوتھ کا الیکشن آفیسر ہے اور جس کے پاس کنٹرول پینل ہوتا ہے، وہ چاہے تو اس بات کا پتہ لگا سکتا ہے کہ کس ووٹر نے کسے ووٹ دیا۔ ایسا اس لیے ممکن ہے کہ ا س کے پاس ووٹر کی بایومیٹرک ویریفکیشن ڈٹیل، اس کی ٹائمنگ ہوگی۔ وہ اگر چاہے تو بعد میںا س ٹائمنگ کے حساب سے انگوٹھے کے نشان اور ای وی ایم پر دبائے گئے انتخابی نشان کا میلان کرسکتا ہے۔ حالانکہ یہ اتنا آسان نہیںہے لیکن تکنیک کی معلومات رکھنے والا شخص ایسا کرسکتا ہے۔ یہ کوئی سائنس فکشن کا حصہ نہیںہے بلکہ دنیا بھر میں جس طرح سے ہیکنگ ہو رہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے ممکن لگتا ہے۔ اگر ایسا ہونے کی رتی برابر بھی گنجائش رہتی ہے تو یہ ہمارے پورے ووٹنگ پراسیس کو بے معنی بنا دے گا۔ کیونکہ تب ہمارا ووٹ خفیہ نہیں رہ سکے گا۔ دوسری اہم حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک بار ووٹر کارڈ کو آدھار سے لنک کردیا گیا تو آنے والے وقت میںملک میں ای ۔ووٹنگ کا عمل بھی شروع کیا جاسکتا ہے۔ ایسی ایک کوشش گجرات کے مقامی نگر نگم الیکشن میں ہوبھی چکی ہے۔ اس وقت گجرات کے 8 نگر نگم میںای ۔ووٹنگ کو اپنایا جارہا ہے۔ ای ۔ ووٹنگ کا سب سے بڑا خطرہ تو یہی ہے کہ ووٹر کو یہ پتہ ہی نہیںہوگا کہ اس نے کسے ووٹ دیا۔ ووٹر اپنے اسمارٹ فون یا کمپیوٹر پر ایک نمبر دبائے گا اور ووٹ الیکشن کمیشن یا ای ۔بوتھ پر رکھی مشین میںدرج ہوجائے گا۔ اب وہ مشین کیا درج کر رہی ہے، ووٹر یہ کبھی نہیںجان پائیںگے سوائے یقین کرنے کے۔ ای ووٹ فیل ہوا یا اس کے ساتھ فراڈ ہوا ، یہ جاننے کا کیا متبادل ہوگا،اسے لے کر بھی سوال ہے۔
خدشات او رسوال
یو آئی ڈی اے آئی نے یہ قبول کیا ہے کہ سرکاری خدمات کے ساتھ آدھار لنکنگ کی کامیابی کی شرح 12 فیصد ہے۔ ٹیکنیکل ایرر الگ سے ہے۔ اگر ووٹنگ سسٹم میںبھی بایومیٹرک ویریفکیشن اپنایا جاتا ہے (جیسے ابھی ووٹ کرنے سے پہلے ووٹر کارڈ میلان اور دستخط وغیرہ کرائے جاتے ہیں،سیاہی لگائی جاتی ہے) تو ظاہر ہے کہ اس میںبھی ویریفکیشن کا سکسیس ریٹ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں جن کا بھی بایومیٹرک ویریفکیشن نہیںہو پائے گا،و ہ ووٹنگ سے محروم بھی کیے جاسکتے ہیں۔ کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں، جس میںجس شخص کا آدھار کارڈ بنا ہے، بعد میںاس کے انگوٹھے کا نشان یا آنکھ کی پُتلی میل نہیں کھاتی۔ایسے ووٹروں کا کیا ہوگا؟ کیا وہ پھر بھی ووٹ دے سکیںگے؟ پھر کسی بھی ممکنہ ٹیکنیکل ایرر (کنکشن فیل ہونے یا دیگر تکنیکی دقت) کے سبب بھی کوئی ووٹر ووٹ دینے سے محروم ہوسکتا ہے۔ کیا ووٹر پروفائل میںہیراپھیری کے خدشے سے انکا رکیا جاسکتا ہے، جس کا غیر مناسب فائدہ اٹھایا جاسکے؟ اگر اس پوری اسکیم کے نفاذ میںکہیںکوئی تکنیکی خامی رہ جاتی ہے تو کیا اس کا غلط فائدہ کوئی نہیںاٹھا سکتاہے۔ ایسے میںووٹر کی پوری حساس جانکاری غلط عناصر کے ہاتھ نہیںلگ سکتی۔ یا پھر کیمبرج اینالیٹکا کی طرز پر اس کا نامناسب طریقے سے سیاسی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ہے؟
ظاہر ہے جب ووٹر کارڈ کو آدھار سے جوڑا جائے گا تو ہمارا انتخابی نظام پوری طرح سے ہیک پروف اور محفوظ ہونا چاہیے۔ دوسر ی طرف، یہ بھی سوال ہے کہ یو آئی ڈی آئی اے نے آدھار کارڈ بنانے کے لیے کچھ نجی کمپنیوں (غیر ملکی کمپنیاں بھی) کے ساتھ سمجھوتے کیے تھے۔ جب آر ٹی آئی کے تحت جانکاری لینے کی کوشش کچھ لوگوں نے کی تو آدھی ادھوری اطلاعات دی گئیں۔ یو آئی ڈی آئی اے نے یہ کبھی نہیںبتایا کہ اس نے ایل 1-آئیڈنٹٹی سولیوشن ، ایسنچر اور دوسری غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ کیا سمجھوتہ کیا ہے؟ ا سکے علاوہ ای وی ایم چپ وغیرہ بنانے کا کام کرنے والی کمپنیوں کو لے کر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ بہرحال انٹر نیشنل ہیکنگ اور آئے دنوں پاکستان اور چین کے ہیکرس کے ذریعے ہندوستانی وزارتوں کی حساس ویب سائٹس ہیک ہوتی ہیں،اسے دیکھتے ہوئے یہ خدشہ اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ ہم کیسے اپنے ووٹروں کی لسٹ محفوظ رکھ پائیں گے؟

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پانچ سوال ، جن کا جواب الیکشن کمیشن کو دینا چاہیے
-1 2012سے جب آدھار کا معاملہ سپریم کورٹ میںتھا، تب الیکشن کمیشن نے کیوں ووٹروںسے آدھار ڈیٹا لیے؟
-2کیا اس کے لیے مرکزی سرکار کی طرف سے کوئی صلاح ملی تھی یا الیکشن کمیشن نے خود یہ فیصلہ لیا؟
-3ایسا فیصلہ لینے کی بنیاد کیا تھی؟ کیا اس کے لیے کوئی ایکسپرٹ کمیٹی بنائی گئی تھی؟
-4کیا ووٹر کارڈ-آدھار کارڈ لنکنگ (اگر اب تک کر دیا گیا ہے تو) کا کام الیکشن کمیشن نے آؤٹ سورسڈ ملازمین اور تکنیک کے ذریعہ کیا یا خود الیکشن کمیشن نے کیا؟
-5صرف 5مہینے میںہی الیکشن کمیشن نے 32 سے 38 کروڑ ووٹروں کے آدھار ڈیٹا کیسے اور کس طریقے سے اکٹھا کرلیے؟ اس ڈیٹا کی سیکورٹی کے لیے کیا قدم اٹھائے گئے۔
کوٹ1-
’’میںیہ بات آئی ٹی منسٹر نہیں بلکہ ذاتی طور پر کہہ رہاہوں کہ آدھار کو ووٹر کارڈ سے لنک نہیںکرنا چاہیے۔ اگر ہم ایسا کریںگے تو ہمارے حریف کہیںگے کہ مودی سرکار لوگوںکی زندگی میںتاک جھانک کر رہی ہے کہ لوگ کیا کھارہے ہیں، کیا دیکھ رہے ہیں۔ ‘‘
روی شنکر پرساد، آئی ٹی منسٹر(2 اپریل 2018کو بنگلورو آئی ٹی گلوبل: روڈ اہیڈ میں)
کوٹ 2-
’’کیس کا نتیجہ کیا آتا ہے،اسے دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن مناسب وقت پر ووٹر سروس کو آدھار لنک کرنے پر غور کرے گا۔‘‘
پی پی چودھری اس وقت کے وزیر مملکت (اگست 2017میںلوک سبھا میں ایک تحریری سوال کا جواب دیتے ہوئے)
کیوں خطرناک ہے آدھار؟
’چوتھی دنیا ‘ گزشتہ پانچ سا ل سے لگاتار آدھار سے جڑے خطروں کے بارے میںسوال اٹھاتا رہا ہے۔ چوتھی دنیا نے قارئین کو بتایا ہے کہ کیسے مختلف اداروں نے تکنیکی خامیاں گناکران سارے دعووں کی پول کھول دی جو نندن نیلکینی اب تک کرتے آرہے تھے اور اب بھی نئی سرکار ایسے ہی دعوے کر رہی ہے۔ یہ ملک کا اکیلا ایسا پروگرام ہے، جسے پارلیمنٹ میںپیش کرنے سے پہلے لاگو کردیا گیا۔ مودی سرکار نے اسے منی بل بناکر پاس کرایا۔ تب تک اسے مختلف اسکیموں کے لیے لازمی بنا دیا گیا۔پارلیمانی کمیٹی تک نے اس اسکیم پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی کے مطابق ’آدھار یوجنا‘ منطقی نہیںہے۔ ا سکے علاوہ سپریم کورٹ میںبھی معاملہ زیر التوا ہے، جس پر اب فیصلہ ہو چکا ہے اور فیصلہ کبھی بھی آسکتا ہے۔ آدھار کے خلاف کیس کرنے والے خود کرناٹک ہائی کورٹ کے جج رہے ہیں۔ جسٹس کے ایس پتو سوامی نے سپریم کورٹ میںایک رٹ پٹیشن دائر کی ہے ۔ اس پٹیشن کی ملک کے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے کئی ججوں نے حمایتکی ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر کیوں عوام کا بایومیٹرک ڈیٹا اکٹھا کیا گیا؟ سپریم کورٹ نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ یو آئی ڈی اے آئی عوام کا بایومیٹرک ڈاٹا کسی کو نہیںدے سکتا ہے ۔ یہ عوام کی امانت ہے اور اسے دوسری ایجنسیوں کے ساتھ شیئر کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ـلیکن ابھی کچھ دن پہلے خبر آئی کہ عوام کے آدھار ڈیٹا لیک ہورہے ہیں۔ کیا یہ جانکاریاں، یو آئی ڈی اے آئی نے دیگر اداروں(نجی،سیمی پرائیویٹ آرگنائزیشن) کے ساتھ شیئر کی ہیں؟ کیا یہ جانکاریاں غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھ لگ چکی ہیں؟
’چوتھی دنیا‘ شروع سے سرکار اور لوگوں کو آدھار کے خطرے کے بارے میں بتا تا رہا ہے۔ یہ آدھار کارڈ شہریوںکے بنیادی حق(رائٹ ٹو پرائیویسی)کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میںاس طرح کی ’یوجنا‘ نہیں چلائی جاسکتی ہے۔ پاکستان اکیلا ایسا ملک ہے، جس نے یہ غلطی کی ہے۔ کیا ہم پاکستان کی طرح بننا چاہتے ہیں؟ کیا ہندوستان اس حقیقت کو بھی نہیںسمجھے گا؟ آخر کیوں،امریکہ، برٹین،آسٹریلیا، چین ، کناڈا اور جرمنی جیسے ممالک میںبھی اس طرح کی’ یوجنا ‘شروع ہونے کے بعد ختم کردی گئی؟ آدھار کارڈ بنانے او ر اس کے آپریشن میںڈجیٹل ڈاٹا کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ کارڈ بنانے کے لیے لوگوں کی آنکھوں کی پتلیوں اور انگوٹھے کا نشان وغیرہ جیسے بایو میٹرک ڈاٹا لیے جاتے ہیں۔ پھر اسے پاسپورٹ، بینک اکاؤنٹ اور فون سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ لوگوں کی ذاتی جانکاریاں ایک سرور میںاکٹھا کی جاتی ہیں۔ ظاہر ہے اس سرور پر کبھی بھی ہیکرس اٹیک کرکے اسے ہیک کرسکتے ہیں۔
سرکار کو عوام کو یہ بتانا چاہیے کہ سپریم کورٹ میںمعاملہ زیر التوا رہتے ہوئے بھی کیوں سرکاری ایجنسیوں نے اسے لازمی بنایا؟ آخر اس ’یوجنا ‘پر کتنا پیسہ خرچ ہوا؟ لوک سبھا الیکشن سے قبل بی جے پی اس یوجنا پر نظر ثانی کرنے کی بات کہتی رہی۔ الیکشن کے بعد بی جے پی کا اسٹینڈ کیوں بدل گیا؟بی جے پی نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ ’آدھار یوجنا‘ کو لے کر سیکورٹی کا مدعا تشویش کا موضوع ہے؟ کیا اس تشویش کا حل کرلیا گیا ہے اور ہاں تو کیسے؟ پارلیمنٹری اسٹینڈنگ کمیٹی آن انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سائبر سیکورٹی رپورٹ کے مطابق، کیا آدھار یوجنا قومی سلامتی سے سمجھوتے کرنے جیسا اور شہریوں کی خود مختاری اور پرائیویسی کے حق پر حملہ نہیںہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *