ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2018 سب سے زیادہ بدحال مسلمان، دلت اور آدیواسی

’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘کا ڈھول پیٹنے والی مودی سرکار کی پالیسیوں کے چلتے خوشیوںکے معاملے میں زیادہ تر لوگوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ یہ بات ’ورلڈ ہیپی نیس‘ کی رپورٹ سے ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے ۔ گزشتہ دنوں جاری ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2018- میںیہ حقیقت ابھر کر آئی ہے کہ خوش حالی کے معیار پر آج بھی فن لینڈجیسا چھوٹا ملک پہلے اور ناروے و ڈنمارک بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر قابض ہیں جبکہ امریکہ کے بعد برطانیہ 19ویں مقام پر ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی ابھر کر آیا ہے کہ خوش حالی کے معیاروں پر ٹاپ دس ملکوں میںآٹھ ملک یوروپ کے ہیں۔ ٹاپ 20 میں ایشیا کا ایک بھی ملک شامل نہیں ہے۔ جہاںتک ہندوستان کا سوال ہے، خوشحالی کے معیاروں پر ہندوستان 156 ممالک میں 133 ویں پائیدان پر ہے اور یہ پچھلے سال کے 122 ویں مقام کے مقابلے 11 مقام نیچے آگیا ہے۔
قابل غور ہے کہ ورلڈ ہیپی نیس کی رپورٹ 2017- میںہندوستان 122 ویں پائیدان پر رہاتھا۔ تازہ رپورٹ میں چین 86 ویں اور پاکستان 75 ویںمقام پر ہے۔ خوش حالی کے معاملے میںہمارے پڑوسی ملک پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان ہم سے بہت بہتر حالت میںہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ادارے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سالیوشنس نیٹ ورک کے ذریعہ ہر سال تیار کی جانے والی ورلڈ ہیپی نیس کی نئی رپورٹ نے ایک بار پھر ثابت کردی ہے۔
خوش حالی کا کرائٹیریا
قابل غور ہے کہ خوش حالی کے اس انڈیکس کو ناپنے کے لیے کئی کسوٹیاں رکھی گئی ہیں، جن میںجی ڈی پی،سماجی تعاون،لبرلٹی، بدعنوانی کی سطح، سماجی آزادی، سوشل سیکورٹی اور زندگی کی سطح کے بدلاؤ جیسے مدعوںکو اس کے پیمانے کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ ان مورچوں پر بدترنتائج دینے کے سبب ہی ہندوستان جہاں اپنے پڑوسیوں سے بہت پیچھے رہ گیا ہے، وہیںپچھلے سال کے مقابلے میںاس بار 11 مقام نیچے بھی پھسل گیا ہے۔ خوشیوںکے معاملے میں ہندوستان کی اس حالت کی ذمہ دار ہے مودی سرکار۔ مودی راج میں اس معاملے میںبہت تیزی سے نیچے کی طرف پھسلتے دیکھا گیا ہے۔ اس بات کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس سرکار کی چار سال کی مدت کار میںچار بار خوش حالی والی رپورٹ شائع ہوئی۔ ان میںمارچ 2015 میںجاری رپورٹ میں ہندوستان 117 ویں، 2016 میں 118 ویں جبکہ 2017 میں پھسل کر 122 ویںمقام پر آگیااور آج 122 سے پھسل کر 133 پر آگیا ہے۔ رجحان صاف بتا رہے ہیںکہ مودی سرکار کی مدت کار بڑھنے کے ساتھ ساتھ صورت حال بدتر ہوتی جارہی ہے۔
بہرحال ہندوستان دنیا کی عالمی اقتصادی سپر پاور بنانے کے دعووں کے بیچ اگر یہ اپنے سے کمزور پڑوسی ملکوںسے بھی لگاتار پچھڑتا جارہا ہے، اگر خوشیوں کی جگہ دکھوں کی دلدل میں پھنستا جارہا ہے تو اس کا ٹھیکرا زیادہ تر دانشور24 جولائی 1991 سے لاگو نیو لبرل پالیسیوں پر پھوڑ رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک میں لبرلائزیشن کے بعد سے امیری اور غریبی کے بیچ فاصلہ بہت بڑھا ہے۔ سرکاری سطح پر عام آدمی کے لیے نہ تو اچھی تعلیم اور نہ ہی طبی خدمات ہو پارہی ہیں اور مینوفیکچرنگ شعبے سے جڑی چیزوں کی لگاتار بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی زندگی کی سطح تک کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ لہٰذا لوگ اپنی روز مرہ کی ضرورتوں تک کو پوری کرنے میںخود کو بے سہارا محسوس کر رہے ہیں۔ اس کا مضر اثر یہ ہورہا ہے کہ خاندان آج سماجی، اقتصادی اور ثقافتی خوش حالی سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ خاندانوں میںبڑھتی مایوسی اور ناامیدی کا ماحول لوگوںکو جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی خوش حالی سے بھی دور کرتے جارہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

سب سے زیادہ متاثر طبقات
خیر اس میںکوئی شک نہیںکہ آج ہندوستان خوش حالی کے معاملے میںدنیا کے سب سے غریب ملکوںمیںشامل ہوچکا ہے تو اس کے لیے ذمہ دار نیو لبرل اقتصادی پالیسی ہی ہے۔ لیکن اگر ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اس پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ کون ہے تو اس کا جواب ہوگا صرف اور دلت آدیواسی، پسماندہ اور اقلیت، خاص طور سے مسلمان۔ دراصل 7اگست 1990 کو منڈل کی رپورٹ کے بعد ریزرویشن کی جو توسیع ہوئی، اس سے ناراض ہوکر ہی ریزرویشن کو بے اثر کرنے کے تصور کے تحت ہی 24 جولائی 1991 کے اعلیٰ ذات کے طبقے کے پنڈت نرسمہا راؤ نے نیو لبرلائزیشن پالیسی اختیار کی۔ جس کا ہدف تھا ہندوستان کی پیدائشی اعلیٰ ذات کو پوری طرح خوش حال اور دلت، آدیواسی، پسماندہ اور مسلم طبقے کو بدحال بناکر خوشیوں سے محروم کرنا۔ منڈل وادی ریزرویشن لاگو ہوتے ہی اعلیٰ ذات کے لیڈر، دانشور، سادھو سنت، میڈیا اور سرمایہ دار طبقہ دشمنی کا جذبہ لیے ریزروڈ طبقوں کے خلاف مستعد ہوگیا۔ منڈل وادی ریزرویشن کی مخالفت کے گھوڑے پر سوار ہوکر بی جے پی یک سے زیادہ بار اقتدار میںآئی اور دیکھتے ہی دیکھتے غیر معمولی بن گئی۔
بہرحال منڈل کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد حکمرانوںکے ذریعہ بہوجنوں کو نئے سرے سے غلام بنانے کے لیے پرائیویٹائزیشن،لبرلائزیشن،ڈس انویسٹمنٹ وغیرہ کا انٹرپرائزچلانے کے ساتھ جو طرح طرح کی سازشیں کی گئیں، اس کے نتیجے میںآج ہندوستان کا بہوجن سماج ایک ایسے بدحال اور محروم طبقوںمیںتبدیل ہوتاجارہا ہے ،جس کی مثال موجودہ دنیا میںنایاب ہے۔ منڈل کے بعد بہوجنوں کو غلام بنانے کے لیے جو مختلف سازشیںہوئیں، اس کا نتیجہ اس شکل میںآیا ہے کہ آج بھی ہزاروںسال پہلے کی مانند صنعت و تجارت پر 80-90 فیصد قبضہ کاسٹ سسٹم کے استحقاق سے مزین طبقوںکا ہی ہے۔
پورے ملک میںآج جو بے شمار بلند عمارتیںکھڑی ہوئی ہیں،ان میں80-90 فیصد فلیٹس ان ہی کے ہیں۔پاش کالونیوں میںآج بھی کسی دلت، آدیواسی، پسماندہ، مسلم کو رہتے دیکھنا تعجب جیسا لگتا ہے ۔ میٹروپولیٹن شہروں سے لے کر چھوٹے چھوٹے قصبوں تک میں چھوٹی چھوٹی دکانوں سے لے کر بڑے بڑے شاپنگ مالس میں80-90 فیصد سے زیادہ دکانیں ان ہی کی ہیں۔ چار سے لے کر آٹھ آٹھ لین کی سڑکوںپر چمچماتی گاڑیوں کا جو سیلاب نظر آتا ہے، ان میںعام طور سے 90 فیصد سے زیادہ گاڑیاںان ہی کی ہوتی ہیں۔ ملک کے پبلک اوپینین میںلگے چھوٹے بڑے اخباروں سے لے کر تمام چینل ان کے ہیں۔ فلم اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر 90 فیصد سے زیادہ قبضہ ان ہی کا ہے۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوںمیںبہوجنوں کے عوامی نمائندوں کی تعداد بھلے ہی ٹھیک
ٹھاک ہو لیکن کابینہ میںدبدبہ ان ہی کا ہے۔ کابینہ کے لیے گئے فیصلوںکو عملی جامہ پہنانے والے عام طور سے 80-90 فیصد افسر ان ہی طبقوں سے ہیں۔حکومت، انتظامیہ، صنعت و تجارت،فلم میڈیا وغیرہ میں مستفید ہونے والے طبقہ کے بے حساب غلبے کے نتیجے میںآج دلت، آدیواسی، پسماندہ اور مسلم کمیونٹی میںمایوسی اور ناامیدی کی کوئی حد نہیںرہ گئی ہے۔ اور جب کسی ملک کی عمومی طور پر 80-90 فیصد آبادی مایوسی اور اناامید ی میںگھری ہوتوایسا ملک خوش حالی کے رینکنگ میںنچلی سطح پر آئے گا ہی آئے گا ، جو آج ہندوستان کے ساتھ ہورہا ہے۔
لیکن 24جولائی1991 سے نرسمہا راؤ نے بہوجنوں کی خوشیاں چھیننے کے پاگل خیال کے تحت گلوبلائزیشن کی جس معیشت کا آغاز کیا، اسے ان کے بعد اقتدار میںآئی کانگریس اور بی جے پی کے وزیر اعظموں نے شراکت کی۔ چونکہ سنگھ سب سے بڑی اعلیٰ ذا ت پرست پارٹی ہے، اس لیے سنگھ سے تربیت یافتہ واجپئی اور خاص طور سے نریندر مودی نے اس معاملے میں اضافی تعاون کیا۔ لیکن اس معاملے میںکسی شخص خاص کو خاص طور پر نشان زد کرنا ہو تو نریندر مودی سے الگ اور کوئی نہیںہوسکتا۔
بدحال بنانے میںسب سے آگے نکلے مودی
24جولائی 1991 کے بعد نرسمہاراؤ، اٹل بہاری واجپئی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اعلیٰ ذات کو خوشحال اور بہوجنوں کو بدحال بنانے کے لیے دو دہائی سے زیادہ وقت تک کام کیا۔ لیکن مودی نے اپنی صرف چار سال کی مدت کارمیںان تینوںکو پوری طرح بونا بنا دیا ۔ مودی کی پالیسیوں کے نتیجے میں اعلیٰ ذات کا جہاں پیسے کی کمائی کے ذرائع پر بہت تیزی سے غلبہ قائم ہوا، اسی تناسب میںبہوجنوں کی غلامی بڑھی۔ مودی کی اعلیٰ ذات پرست پالیسیوں ، جسے ترقی پسند دانشور کارپوریٹ پرست پالیسیاں کہہ کر گمراہ کرتے رہتے ہیں، کے سبب 2016-17 کے بیچ 1 فیصد ٹاپ کی آبادی یعنی سوا کروڑ سے زیادہ اعلیٰ ذات کے لوگوںکی دولت میںایک سال میں 15 فیصد کا اضافہ ہوگیا۔ یاد رہے کہ 2000 میںٹاپ کی ایک فیصد آبادی کے ہاتھ میں 37 فیصد دولت تھی جو 2016 میں 58.5 فیصد ہوگئی۔
لیکن مودی کی پالیسیوں کے نتیجے میں2016 کی ان کی 58.5 فیصد دولت سال بھر میں 73فیصد تک پہنچ گئی۔ مودی کی پالیسیوںکے نتیجے میں 2017 میں ار ب پتیوں ، جو عمومی طور پر اعلیٰ ذات کے ہی ہیں، کی تعداد میں13 فیصد کا اضافہ ہوگیا۔ اس بیچ پیسے کی کمائی کا واحد ذریعہ نوکریوں پر منحصر ریزروڈ طبقوں، خاص طور سے دلتوں کے غلام میںتبدیل کرنے کاکام مودی راج میںانجام دے دیا گیا۔ مودی راج میںتعلیم کے شعبے میںایسا چکاچوند نظم کیا گیا کہ ایک طرف جہاں بہوجن سماج کے نوجوانوںکے لیے اعلیٰ تعلیم کا دروازہ بند ہوگیا ہے، وہیںاس طبقے کے کسی شخص کو یونیورسٹیوں میںپروفیسر بنتے دیکھنا اب ناممکن ہوجائے گا۔
مودی راج میںپاور کے ذرائع پر اعلیٰ ذات کا اتنا زبردست دبدبہ قائم ہوگیا ہے کہ دلت اور مسلم کمیونٹی کے لوگ بے مثال عدم تحفظ سے گھر گئے ہیں۔ اگر ملک کی 80-85 فیصد آبادی پیسہ کمانے کے ذرائع سے کٹ جائے، اگر ملک کی 30-35 فیصد آبادی اپنی حفاظت کو لے کر فکر میںگھر جائے تو خوش حالی کے رینکنگ میں بدقسمت ہندوستان کو نچلے پائیدان پر آنے کے لیے ملعون ہونا ہی پڑے گا۔ اس صورت حال میںتب تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک کہ پیسہ کمانے کے سبھی ذرائع کا اعلیٰ ذات، اوبی سی، ایس سی، ایس ٹی اور مذہبی اقلیتوں کا تعداد کے تناسب میںدوبارہ تقسیم نہیںہوجاتی اور مودی سرکار کے رہتے اس کا کوئی امکان نہیںدکھائی دیتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *