ملک کے مسائل پر مودی اور راہل خاموش کیوں؟

ابھی بھی ملک میںایسے لوگوںکی بہت بڑی تعداد ہے جو الیکشن میںکس پارٹی نے کیاکیا اور کون سی پارٹی کیا کرنے والی ہے، یہ جاننے میںدلچسپی رکھتے ہیں۔ دراصل یہ ایسے لوگ ہیں،جن کے دماغ پر ابھی بھی اصولوں کا ، وعدوں کا، ایمان داری کابوجھ دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف ایسے لوگوںکی تعداد زیادہ ہے جو الیکشن کو بازیگری ، جادوگری، تکڑمی چالوں کا کھیل مانتے ہیں۔ یہ لوگ اس کھیل کو کھیلنے میںیقین رکھتے ہیں۔اس سب کے لیے ذمہ دار بھی سیاسی پارٹیاں ہیں،جنھوں نے الیکشن کو جمہوری امتحان سے ہٹاکر جھوٹے وعدوں کا اور جھوٹے سوالوںکا سنیما بنا دیا ہے۔
ملک کی سب سے بڑی پارٹیوں کے لیڈر آمنے سامنے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سپریم لیڈر نریندر مودی کرناٹک الیکشن کے چیف بن گئے ہیں انھیںاور ان کی پارٹی کو بھی یہی لگتا ہے کہ اگر نریندر مودی تشہیر نہیں کریںگے تو کرناٹک میںبی جے پی ہار جائے گی۔ دوسری طرف راہل گاندھی کو صدر بننے کے بعد راست طور پر پہلا الیکشن ملا ہے،جہاںانھیںہر حال میں اپنی جیت درج کرانی ہے۔ انھیںاور شاید ان کی پارٹی کو بھی اس بات کا ڈر ہے کہ اگر کانگریس کرناٹک نہیں جیتتی تو یہ مان لیا جائے گا کہ راہل گاندھی میںووٹ دلانے کی صلاحیت نہیںہے۔ کانگریس کو کرناٹک میںالیکشن جیتنا بھی ہے اور راہل گاندھی کی موجودگی کے ساتھ جیتنا ہے تاکہ سہرا راہل گاندھی کے سر بندھے۔ اس صورت حال کا جائزہ لیںتو ہم پائیںگے کہ ہمیں نہ تو کرناٹک کے مدعے اس الیکشن میںدکھائی دے رہے ہیں اور نہ ہی کرناٹک کے مسائل کا کوئی حل الیکشن کے بھی بعد ملتا نظر آرہا ہے۔
سب سے پہلے ملک کے لیڈر وزیر اعظم مودی کے بارے میں اگر سوچیں تو ہم پائیںگے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد انھوںنے جن پچاس مقاصد یا پچاس وعدوں کا اعلان کیا تھا، ان میںسے ایک بھی وعدہ حصولیابی کے طور پر وزیر اعظم کی تقاریر میںنظر نہیںآتا۔ کئی الیکشنہو چکے ہیں، جن میںوزیر اعظم نے وزیر اعظم کے ناتے کمان بھی سنبھالی اور وعدوں کی جھڑیا بھی لگائیں۔ لیکن کسی بھی ایک الیکشن میں انھوںنے اپنی کسی حصولیابی کو مدعا نہیںبنایا ۔ بہار، اترپردیش، آسام،تریپورہ اور اب کرناٹک۔آپ کتنا بھی کھنگال لیجئے وزیر اعظم مودی کی تقاریر میںنئے نئے وعدوں کی جھڑی ہوتی ہے،اپوزیشن پر الزاموں کے چابک ہوتے ہیں۔ اپنی پارٹی کے چھیدبھرنے کی کوشش ہوتی ہے اور مخالفین کو کس طرح توڑا جائے،اس کے تیر ہوتے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم مودی کی تقریروں میںزمین پر اتارے گئے وعدوں کے ذکر کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔
وزیر اعظم خود ہی سپہ سالار ہیں، خود ہی حکمت عملی بناتے ہیں، خود ہی پارٹی کی ناؤ کو کھیتے نظر آتے ہیں۔ خود ہی دودھاری تلوار سے دشمن کو شکست دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ بی جے پی اپنے کسی بھی دوسرے لیڈر کو کوئی قابل احترام مقام انتخابی تشہیر میںنہیںدیتی،سوائے یوگی آدتیہ ناتھ کے۔ امت شاہ پارٹی کے صدر ہیں۔ وہ ہر جگہ وزیر اعظم مودی کی تقریرکے بعد ممکنہ جیت کی ہولی کھیلتے نظر آتے ہیں۔ پارٹی میںکوئی راجناتھ سنگھ بھی ہیں، کوئی نتن گڈکری بھی ہیں،شیوراج سنگھ بھی ہیں،وسندھرا راجے بھی ہیں، ان کی جھلک کہیںنہیںدکھائی دیتی اور رمن سنگھ جیسے لوگوں کا وجود تو پارٹی کے لیے کوئی معنی ہی نہیںرکھتا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

دوسری طرف کانگریس صدر راہل گاندھی ہیں۔ راہل گاندھی وزیر اعظم مودی پر حملے کر رہے ہیں۔ بی جے پی، سنگھ پر تیر چھوڑ رہے ہیں لیکن کہیںبھی راہل گاندھی یہ پیغام نہیںدیتے دکھائی دے رہے ہیںکہ ان کے دماغ میںملک کو بدلنے کا کوئی نقشہ ہے بھی یا نہیں۔ راہل گاندھی پر پارٹی کو فعال کرنے کی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ پارٹی کو سرگرم کرنے کے لیے کیسا نظریہ چاہیے،کس طرح کی اصطلاح چاہیے اور کس طرح کا خواب چاہیے،ابھی تک تو اس کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ ممکنہ طور پر کرناٹک راہل گاندھی کے لیے بہت بڑے امتحان کی گھڑی ہے۔ کسی بھی ایک الیکشن سے کسی پارٹی کی ہار یا جیت کا پتہ نہیںچلتا لیکن پارٹی کے کارکنوں کے اندر یہ پیغام ضرور جاتا ہے کہ ان کا لیڈر انھیں ووٹ دلانے میں کتنا اہل ہے۔ لیکن پارٹی سے بڑا ملک ہوتا ہے۔ ملک کے لوگ توقع کرتے ہیںکہ راہل گاندھی الیکشن کے دوران اور الیکشن کے بعد عوام کے سامنے ملک کے مستقبل کا نقشہ کیسا ہے،اسے رکھیں۔
یہ بھی اتفاق ہی ہے کہ راہل گاندھی سے جس پالیسی کی توقع تھی،اس کے درشن ابھی تک نہیںہوئے ہیں۔ لوگ ابھی تک یہ بھی نہیںسمجھ پائے ہیںکہ کرناٹک الیکشن کے دوران ہی دہلی میں’جن آکروش ریلی‘ کی کیا ضرورت تھی۔ جو وسائل کانگریس نے ’جن آکروش ریلی‘ میںلگائے، اگر وہ وسائل کرناٹک میںلگا دیے جاتے تو شاید پارٹی کو زیادہ فائدہ ہوتا۔ اس لیے لوگ تلاش کررہے ہیں کہ کم سے کم اس ٹیم کا پتہ چلے جو راہل گاندھی کو صلاح دینے کا کام کرتی ہے یا ان کے لیے حقائق جٹانے کا کام کرتی ہے۔ راہل گاندھی اپنی کھوجی ٹیم یا صلاح کاروں کے باوجود وزیر اعظم مودی کے مقابلے میںبیس نہیںپڑ رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی اپنے انداز میںراہل گاندھی کو ہر جگہ پھنسانے میںکامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وزیر اعظم مودی کیا کہتے ہیں، اس کا پتہ ملک کے لوگوںکو بہت صاف پتہ نہیںچل پاتا ہے۔ اس کے باوجود مودی اور راہل گاندھی کی جنگ جاری ہے۔لیکن اس جنگ کی بنیاد اور جنگ کے حقائق سے ملک کے لوگ پوری طرح بے خبر ہیں۔
سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی امید رکھ سکتے ہیںکہ یہی دونوںلیڈر ملک کے اصل مسائل پر کوئی واضح رائے رکھیںگے۔ مثلاً مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، تعلیم، صحت، کرناٹک میںپینے اور آب پاشی کے پانی کی کمی،کسانوں کی خود کشی جیسے مدعوں پر کیا وزیر اعظم مودی یا کانگریس صدر راہل گاندھی آنے والے دنوں میںملک کے سامنے کوئی رائے رکھیںگے؟ لوگ سننا چاہتے ہیں لیکن دونوں ہی مقامی سوالوں سے بچتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہم یہ کہیںکہ ملک میں بے روزگاری، بھکمری، غریبی کی ایک اہم وجہ معیشت کی ساخت ہے تو ہم پاتے ہیںکہ اسی معیشت کو بنائے رکھنے کی جی جان سے کوشش منموہن سنگھ کے دور میںکانگریس نے کی۔ منموہن سنگھ کے بعد اس کی کوشش وزیر اعظم نریندر مودی کر رہے ہیں اور راہل گاندھی اس معیشت کے خلاف کچھ بولتے،سمجھتے نظر نہیںآرہے ہیں۔ میںان لوگوںمیںسے ہوں جو یہ مانتے ہیںکہ ملک کی معیشت ہی لوگوںکی خوش حالی یا لوگوںکی بدحالی کی ایک اہم وجہ ہے۔ اس معیشت کو،جسے 1991میںکانگریس نے لاگو کیا اور جس کے ’پرنیتا‘ نرسمہا راؤ اور منموہن سنگھ تھے، اس معیشت کو تیزی سے آگے بڑھانے کا کام وزیر اعظم مودی نے کیا۔ اس کی وجہ سے ہم مسائل کے انبار میںگھرے ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی کو شاید معیشت کے تضاد، معیشت کی ناکامی اور معیشت کا سفاک چہرہ نہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی انھیںسمجھ میںآتا ہے، اس لیے اب اس بات کی امید چھوڑ دینی چاہیے کہ معیشت پر کوئی مثبت بحث یا اسے لے کر کوئی تشویش یا کوئی حل نکالنے کی کوشش وزیر اعظم مودی یا راہل کریںگے۔دونوںایک ہی راستے کے راہی ہیں ۔ الگ راستہ لینے کی قوت ارادی ،جو ملک کے 80 فیصد کے حق میںہو، نہ بی جے پی میںدکھائی دیتی ہے اور نہ ہی کانگریس میں دکھائی دیتی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *