کون چلا رہا ہے اتر پردیش سرکار؟

یوگی سرکار کون چلا رہا ہے؟اس سے جڑاہوا ایک اور سوال ہے کہ یوگی سرکار کون ہلا رہا ہے؟یوگی کیسے وزیر اعلیٰ بنے اور اچانک وہ ریاست کی سیاست کی دھوری کیسے بن گئے،یہ پارٹی کے سینئر لیڈروں کو پتہ ہے۔
کیسے ہوا یو ٹرن ؟
قومی صدر امیت شاہ سے دہلی میں ملاقات کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور چلے گئے تھے۔ 18 مارچ 2017 کی صبح امیت شاہ نے یوگی سے فون پر بات کی اور دہلی بلایا۔دہلی لانے کے لئے چارٹر طیارہ بھیجا۔ یہ ایسے ہی تھوڑے ہو گیا۔ امیت شاہ جس وقت یوگی کو دہلی بلا رہے تھے، اس وقت مودی کے پیارے مرکزی وزیر منوج سنہا خود کے وزیر اعلیٰ بننے کی وارانسی میں’ پوشٹی پوجا‘ کررہے تھے۔17 مارچ کی شام کو وہ اپنے نزدیکیوں کو شاندار پارٹی بھی دے چکے تھے۔لیکن سارا منظر اچانک کیسے بدل گیا؟ اس سوال کا جواب وہ لوگ جانتے ہیں جو یوگی کی پوری شخصیت کو ٹھیک سے پہنچانتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ یوگی سرکار یوگی ہی چلا رہے ہیں، لیکن کئی لوگ سرکار کو ہلانے کی کوشش بھی کررہے ہیں ۔
امیت شاہ وقت کی حساسیت کو سمجھتے ہیں۔2019 کے الیکشن کے پہلے پارٹی کسی ضرررساں صورت حال کا سامنا کرے،یہ شاہ کو گوارہ نہیں۔ اسی لئے وہ یوگی سرکار کو ہلانے والے لیڈروں کو آگاہ کرنے اور مطمئن کرنے کے لئے پچھلے دنوں لکھنو آئے تھے۔ امیت شاہ یوگی سرکار کو گرانا یا ہلانا اب نہیں چاہتے۔ شاہ یوگی کو مضبوط بھی نہیں ہونے دینا چاہتے۔
اس میں امیت شاہ مودی کی منشا کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسی ارادے سے ایک طرف وزیرااعظم نریندر مودی نے اپنے دفتر کے چیف سکریٹری نرپیندر مشر کے ہاتھ میں یوپی کے سینئر نوکرشاہوں کی نکیل تھما دی تو دوسری طرف قومی صدر امیت شاہ نے ریاستی بی جے پی کے سنگٹھن منتری سنیل بنسل کو اقتدار کے مساوی کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ مودی کا تجربہ تو چل گیا لیکن شاہ کا تجربہ کامیاب نہیں ہو پایا۔ شاہ تجربہ سے سنگٹھن کمزور ہوا۔ بنسل کا متوازی اقتدار بدعنوانی میں ملوث ہوگیا۔یوگی پر غیر اخلاقی اور بدعنوانی کے الزام تو نہیں لگے، لیکن بنسل ان سب سے خوب مستفید ہوئے۔ جب بنسل اپنے کردار، اپنی اہلیت اور اپنی بدسلوکیوں کی وجہ سے بدنامی بٹورنے لگے ،تب بڑے ہی منظم طریقے سے اوم پرکاش راجبھر، سوامی پرساد موریہ، رکن پارلیمنٹ چھوٹے لال کھروار، ہریش دریویدی ، ایم ایل اے ہری رام چیرو، بی جے پی لیڈر رما کانت یادو جیسے تمام لوگ کھڑے کئے جانے لگے۔ یوگی کی ناتجربہ کاری ،یوگی کی بدسلوکی ،اور یوگی کے نوکر شاہوں کی بدعنوانی،یوگی سے کارکنوں میں بے اطمینانی ، پوجا پاٹھ کرنے والے آدمی کو وزیر اعلیٰ بناناغیر مناسب، جیسے عوامی ریمارکس بنسل- بدنامی کی منصوبہ بندپیدوار ہے۔یوگی سرکار کے سینئر نوکر شاہوں کی بدعنوانی کی بات میں کچھ حقیقت ہے۔ اس کی چرچا ہم بعد میں کریں گے۔
وقف گھوٹالہ اہم فیکٹر
چلانے اور ہلانے کے برعکس بچانے کا مسئلہ بھی چرچا میں رہنا چاہئے۔ مثلاً وقف گھوٹالے سے لے کر گومتی ریور فرنٹ گھوٹالے میں شریک رہے سابق سماج وادی پارٹی لیڈر بکل نواب کو لیجسلیٹیو کونسل بھیجے جانے پر یوگی متفق نہیں تھے۔پھر بکل نواب کو کون بچا رہا ہے؟سینٹرل وقف کونسل کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ نے کہاکہ یوپی سرکار میں وزیر محسن رضا وقف گھوٹالے کے قصوروار ہیں اور ان پر مقدمہ بھی درج ہے۔ پھر محسن رضا کو کون بچا رہا ہے؟وقف گھوٹالے میں سماج وادی پارٹی لیڈر اعظم خاں ملوث ہیں۔ سینٹرل وقف کونسل نے معاملے کی سی بی آئی جانچ کی سفارش کر رکھی ہے لیکن جانچ نہیں ہو پا رہی ہے۔سماج وادی پارٹی لیڈر اعظم خاں کو کون بچا رہا ہے؟

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

معاملہ گھوٹالے میںملوث افراد کا
سوال یہ بھی ہے کہ گھوٹالوں میںملوث لیڈروں کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ قانون کے شکنجے میںلانا چاہتے ہیں تو آخر وہ ایسا کیوں نہیں کرپارہے ہیں؟ان لیڈروں میں سے ایک بی جے پی میں پہلے سے ہیں،ایک سماج وادی پارٹی چھوڑ کر آئے ہیں اور تیسرے ابھی بھی سماج وادی پارٹی میں ہیں۔ ان لیڈروں کو آخر کون طاقتور لیڈر بچا رہا ہے ؟ہزاروں کروڑ کے وقف گھوٹالے میں یو پی سرکار کے وزیر محسن رضا، سماج وادی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں آئے لیجسلیٹیو ممبر بکل نواب عرف مظہر علی خاں اور سماج وادی پارٹی لیڈر اعظم خاں کے نام ہیں۔
سینٹرل وقف کونسل ( سی ڈبلیو سی ) کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ وقف گھوٹالے کا پردہ فاش کرتی ہے۔ کمیٹی نے اس معاملے کی فوراً سی بی آئی سے جانچ کرانے کی سفارش کی، لیکن مرکزی اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے کمیٹی کی رپورٹ دبا دی اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے چیف ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی کو سینٹرل وقف کونسل سے باہر کردیا۔ مختار عباس نقوی سینٹرل وقف کونسل کے چیئر مین بھی ہیں۔
سی ڈبلیو سی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے صدرہے ڈاکٹر اعجاز عباس نقوی نے ’چوتھی دنیا ‘ سے کہا کہ وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے پہلے تو مجھ سے کہاکہ وقف گھوٹالے کی رپورٹ سے محسن رضا کا نام ہٹا دے۔ میں نے وزیر کو ڈرافٹ رپورٹ ہی بھیجی تھی۔ ڈرافٹ رپورٹ فائنل نہیں ہوتی۔ مجھے وزیر کا حکم ماننا تھا۔ لیکن وزیر نے میری ڈرافٹ رپورٹ کو ہی عوامی کردیا۔ جبکہ انہیں ایسا نہیں کرکے فائنل رپورٹ کو عوامی کرنا چاہئے تھا۔ اس کے بعد وزیر ڈرافٹ رپورٹ اور فائنل رپورٹ کے بیچ کھیلنے لگے۔اس کا سیدھا مطلب تھا کہ وہ محسن رضا کو دبائو میں لے کر ان پر احسان لادنا چاہتے تھے تاکہ محسن ان کے ہمیشہ احسان مند رہیں۔ میں نے اس کی تحریری مخالفت کی۔ اس پر انہوں نے مجھ سے یو پی کا چارج لے لیا اور چنڈی گڑھ بھیج دیا، جہاں وقف ہے ہی نہیں۔ پھر مجھے کونسل سے ہی ہٹا دیا۔ وزیر نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ دبا دی، تاکہ اس کی سی بی آئی جانچ ہی نہ ہو سکے۔ اس طرح مختار عباس نقوی نہ صرف محسن رضا کو بلکہ بکل نواب، اعظم خان اور شیعہ وقف بورڈ کے چیئر مین وسیم رضوی کو بھی بچا رہے ہیں۔
یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اپنی سرکار کے ایک وزیر کے گھوٹالے میں پھنسنے کے تنازع سے بچنا چاہتے تھے۔ خاص طور پر وہ بکل نواب کو لیجسلیٹیو کونسل بھیجے جانے کے حق میں نہیں تھے۔ بکل نواب پر وقف کے ساتھ ساتھ گومتی ریور فرنٹ گھوٹالے میں بھی ایف آئی آر درج ہے۔ ریور فرنٹ گھوٹالے کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا ہی تھا لیکن مرکز کے قدآور وزیر کی عجیب و غریب سیاست آڑے آ گئی۔ مختار عباس نقوی کو امیت شاہ کا ساتھ بھی مل گیا۔ وزیر اعلیٰ نے شیعہ وقف بورڈ کے چھ ممبروں اختر حسن رضوی، سید ولی حیدر، افشا زیدی، سید عظیم حسین ، ایڈیشنل سکریٹری نجم الحسن رضوی اور عالمہ زیدی کو ہٹا کر کارروائی کی رسم ادائیگی کر لی۔ معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مسئلہ پینچوں میں ہی الجھ کر رہ گیا۔سینٹرل وقف کونسل کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کے ساتھ ساتھ سینٹرل شیعہ وقف بورڈ کے چیئر مین وسیم رضوی بھی عوامی طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ وقف گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ ہوگیتو اس میں سب سے پہلے یو پی سرکار کے وزیر محسن رضا پھنسیں گے۔محسن رضا نے لکھنو میں چوک کی پرانی موتی مسجد کی زمین پر غیر قانونی قبضہ کرکے اپنا گھر بنوا رکھا ہے۔ اس کے علاوہ محسن رضا نے انائو کے صوفی پور میں بھی وقف جائیداد بیچی تھی جس میں قبرستان بھی شامل تھا۔ بورڈ کی جانچ میں یہ بات صحیح پائی گئی کہ محسن رضا نے وقف عالیہ بیگم صفی پور انائو کے متولی رہتے ہوئے وقف جائیداد بیچ دی تھی۔ وقف کی جائیداد تین حصوں میں پہلی 2005 میں،دوسری 2006 میں اور تیسری 2011 میں بیچی گئی۔
اعظم خاں اور ان کی اہلیہ پر بھی شکنجہ
سینٹرل وقف کونسل کی رپورٹ کے مطابق وقف گھوٹالے میں سماج وادی پارٹی لیڈر اعظم خاں اور ان کی بیوی تنظیم فاطمہ کے نام ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر نیورسٹی میں وقف کی زمین رجسٹری کرانے اور عہدہ کا استعمال کرکے اینمی پراپرٹی کو جوہر یونیورسٹی میںشامل کرنے کے معاملے میں کونسل نے سی بی آئی جانچ کی سفارش کررکھی ہے۔ سینٹرل وقف کونسل کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سماج وادی پارٹی سرکار میں وزیر رہے اعظم خاں نے مولانا جوہر علی ایجوکیشن ٹرسٹ کی تشکیل کرکے اس کے لئے وقف بورڈ کا فنڈ الاٹ کردیا ۔کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ اعظم خاں کی سرپرستی کی وجہ سے سنی وقف بورڈ نے لمبے وقت سے جائیدادوں کا سروے نہیں کرایا۔ بورڈ کے چیئرمین ظفر فاروقی نے چار سال میں 90 کروڑ روپے کی جائیداد بنائی، جبکہ انہیں کوئی ماہانہ تنخواہ نہیں ملتی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنی وقف بورڈ کی ایک لاکھ 50ہزار جائیدادیں تھیں جو گھٹ کر ایک لاکھ 30 ہزار ہو گئی ہیں۔فزیکل آبزرویشن میں سنی وقف جائیدادیں محض 32 ہزار بچی پائی گئی ہیں۔ باقی سب پر غیر قانونی قبضہ ہو چکا ہے یا بیچی جاچکی ہیں۔ایسا ہی حال اتر پردیش میں شیعہ وقف جائیدادوں کا بھی ہو اہے۔ شیعہ وقف بورڈ کی ریاست میں 8 ہزار جائیدادیں تھیںجو گھٹ کر تین ہزار رہ گئیں۔ پانچ ہزار وقف جائیدادوں پر موٹی رقم لے کر غیر قانونی قبضہ کرا دیاگیا یا انہیں بیچ ڈالا گیا۔
سینٹرل وقف کونسل نے وقف جائیدادوں کی ہیرا پھیری پر ریاستی سرکار کو وہائٹ پیپر جاری کرنے کی صلاح دی تھی اور سی بی آئی سے جانچ کرانے کو کہا تھا۔ اس سفارش پر مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے ریاستی سرکار کو کارروائی کے لئے خط لکھنے کی رسم تو پوری کی لیکن کمیٹی کی رپورٹ یو پی سرکار کو نہیں بھیجی ۔مرکز کے اشارے پر ناچنے والے ریاست کے نوکرشاہ بھی اس پر ٹھنڈے پڑ گئے۔ جبکہ ریاست کے وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود لکشمی نارائن چودھری نے یہ کہا تھاکہ پچھلی سرکار کے دور کار میں شیعہ اور سنی وقف بورڈ میں ہزاروں کروڑ روپے کے گھوٹالے ہوئے۔ اسے دیکھتے ہوئے سرکار نے شیعہ اور سنی وقف بورڈ کے گھوٹالوں کی سی بی آئی جانچ کے لئے مرکزی وزارت داخلہ کوخط لکھا ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی اس پر اپنی رضامندی کی مہر لگائی پھر بھی معاملہ اٹکا رہ گیا۔
بکل نواب کی کارگزاریاں
سماج وادی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے بکل نواب جائیدادوں کے بڑے لالچی نکلے۔ سینٹرل وقف کونسل کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ یہی کہتی ہے۔ گومتی ریور فرنٹ گھوٹالے میں بکل نواب کے خلاف وزیر گنج تھانے میں مقدمہ درج ہے۔ صدر تحصیل کی شکایت پر بکل کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 420,467,468 اور 471 کے تحت کیس درج کیا گیا تھا۔ بکل پر گومتی ریور فرنٹ پروجیکٹ کے تحت زمین دینے اور عوض میں غلط طریقے سے کروڑوں روپے کا معاوضہ لینے کا الزام ہے۔ بکل نے زیادہ معاوضہ لینے کے لئے گومتی ندی کی زمین کو اپنا بتایا اور اپنے دعوے کو صحیح ٹھہرانے کے لئے جالی دستاویز تیار کرائے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ کے حکم پر بنی اعلیٰ سطحی جانچ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر تحصیلدار صدر نے یہ مقدمہ درج کرایا۔
جانچ کمٹی نے کہا کہ بکل نواب نے گومتی ندی کے ضیا مئو میں زمین کو اپنا بتانے کے لئے 22 اگست 1977 کے جس فیصلے کا سہارا لیا وہ مضحکہ خیز ہے۔ تب ریونیو محکمہ کے اس وقت کے چیف سکریٹری اروند کمار نے عدالت کے سامنے حاضر ہوکر بتایا تھا کہ اگست 1977 میں بیگم فخر جہاں کی موت کے بعد نائب تحصیلدار نے ضیا مئو گائوں کی زمین مظہر علی خان عرف بکل نواب پسر عابد علی خاں باشندہ شیش محل کے نام کر دیا تھا لیکن ہائی کورٹ کے حکم میں بنی جانچ کمیٹی نے کہا کہ اگست 1977 کا فیصلہ اور ریونیو ریکارڈ میںدرج جانکاری دونوں ہی مضحکہ خیز ہیں۔ اس کے بعد ہی اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرائی گئی، جس کے بعد شیعہ سینٹرل وقف بورڈ نے بکل نواب کو لکھنو کے وقف موتی مسجد کے متولی عہدہ سے برخاست کر دیا تھا۔ بکل پر وقف کی زمین کی پلاٹنگ کرکے اسے بیچنے کا بھی الزام ہے۔ انہوں نے اپنی بیوی مہہ جبیں آرا کو وقف کی جائیداد تحفہ میں دے دی۔ اس جائیداد کی قیمت 100 کروڑ سے زیادہ ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ انہی گھوٹالوں سے بچنے کے لئے بکل نواب نے بی جے پی کی پناہ لی۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس بوجھ کو ڈھونا نہیں چاہتے تھے، لیکن آخر کار وہ بھی بے بس ہو گئے۔
نائک کی کوشش ناکام
وقف گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کرانے میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ناکام ہوئے ہی، گورنر رام نائک بھی کامیاب نہیں ہو پائے۔ گورنر نے وقف گھوٹالے کے ملزموں پر سخت قانونی کارروائی کے لئے ریاستی سرکار کو خط لکھا، لیکن اعلیٰ کمان نے ہری جھنڈی ن نہیں دکھائی۔ گورنر رام نائک نے سماج وادی پارٹی سرکار میں وزیر رہے اعظم خاں کے خلاف سرکاری اور وقف بورڈ کی جائیداد کے بے جا استعمال کو لے کر کارروائی کرنے کی تحریری سفارش کی تھی۔ اعظم خان پر سرکاری جائیدادوں اور وقف بورڈ کی جائیدادوں پر قبضے کے ساتھ ساتھ ہیرا پھیری اور سرکاری خزانے کا بے جا استعمال کرنے کے سنگین الزام ہیں۔ مدرسہ عالیہ پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ اعظم خاں پر ان کے پرائیویٹ جوہر یونیورسٹی میںسرکاری گیسٹ ہائوس بنوانے اور اسپورٹس اسٹیڈیم کا سامان رام پور لے جانے کا بھی الزام ہے۔ رام نائک نے وزیر اعلیٰ یوگی کو خط لکھ کر کہا تھا کہ بد عنوانی کے ایسے سنگین معاملوں میں فوری قانونی کارروائی ضروری ہے۔ گورنر کا یہ خط صدر اور مرکزی سرکار کو بھی بھیجا گیا لیکن ،وہ راستے میں ہی کہیں کھو گیا۔
بیورو کریٹس کی نکیل کس کے پاس ؟
یوگی سرکار کے سینئر نوکر شاہوں کی نکیل کس کے ہاتھ میں ہے،یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے۔یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی پی ایم او نے یوپی کی نوکرشاہی کا سیٹ اپ کیسا رہے گا، اس پر قواعد شروع کر دی تھی۔ فطری ہے کہ وزیر اعظم مودی کے حکم پر ہی یہ ہوا ہوگا۔ یو پی کی نوکر شاہی طے کرنے کی ذمہ داری سنبھالی تھی وزیر اعظم کے چیف سکریٹری نرپیندر مشر نے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے راجیو بھٹناگر کو چیف سکریٹری کے طور پر جاری رکھنے کا من بنا لیاتھا لیکن نرپیندر مشر کچھ اور حساب کتاب میں لگے تھے۔پھر اچانک یوگی کو مرکز سے یہ پیغام ملا کہ وہ راجیو کمار کو یو پی کا چیف سکریٹری بنائے جانے کے حکم پر دستخط کر دیں۔راجیو کمار نرپیندر مشر کے بہت ہی خاص رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے لئے یہ غیر متوقع تھا۔ لیکن راجیو کمار کی شبیہ اور صلاحیت کو لے کر کوئی سوال نہیں تھا،لہٰذا یوگی نے اس پر اپنے دستخط کردیئے۔
راجیو کمار کے چیف سکریٹری بننے کے بعد یوگی کو بڑا جھٹکا تب لگا جب انہیں اپنے چیف سکریٹری عہدہ سے اونیش اوستھی کو ہٹانا پڑا۔ وزیر اعلیٰ کے چیف سکریٹری کی شکل میں اونیش دو مہینے کام کر چکے تھے، تب انہیں وہاں سے ہٹا کر انفارمیشن محکمہ کے چیف سکریٹری بنایا گیا۔ایسا اس لئے ہوا کہ پی ایم او کے چیف سکریٹری نرپیندر مشر نے اپنے دوسرے قابل اعتماد آئی اے ایس آفیسر ایس پی گوئل کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا چیف سکریٹری بنانے کا فیصلہ لے لیا تھا۔ ان فیصلوں کے ذریعہ وزیر اعظم مودی وزیرا علیٰ یوگی کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ یوپی بھی مودی ہی چلائیںگے، یوگی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ مودی نے یوگی کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی نرپیندر مشر کو ضروری صلاح دینے کے لئے لکھنو بھیجا اور نیتی آیوگ کے نائب صدر اروند پن گڑھیا کی قیادت میں پالیسی سازوں کی پوری ٹیم الگ سے لکھنو بھیجی تھی۔
وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ پر اپنے خاص نوکر شاہ بیٹھاکر وزیراعظم دفتر نے کوئی اچھا جمہوری پیغام نہیں دیا۔ ملک بھر میں یہی پیغام گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اترپردیش کے وزیراعلیٰ سکریٹریٹ میں اپنے جاسوس بیٹھا رکھے ہیں۔ اس طرح کی چرچا نے ریاست کی سینئر نوکر شاہی کو افراتفری کا شکار ہونے کا موقع دیا۔ یوگی کے سنت دوست نے کہا کہ جاسوسی تو اس کی ہوتی ہے جس کا کچھ چھپا ہوا ہوتا ہے، جس کی زندگی میں سب کچھ کھلا ہے ، اس کی کوئی کیا جاسوسی کر لے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہندویووا واہنی کا بڑھتا اثر
سیاسی ماہرین یہ مانتے ہیں کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر اپنے ہی لیڈروں کے پیر کھینچنے اور اپنے قد سے اوپر کسی کو برداشت نہیں کرنے کی نفسیاتی بیماری سے باہر نہیں ہوئے تو ہندو یوا واہنی اترپردیش میں ہندو وادی سیاست کا بہتر متبادل بن کر ابھر جائے گی۔ یو پی میں ایک اور شیو سینا کو طاقتور طریقے سے کھڑے ہونے سے روکنا ہے تو بی جے پی کے سینئر لیڈروں کو اپنے رویے اور اپنی پالیسیوں میں بدلائو لانا ہوگا ، کسی کو وزیر اعلیٰ بنا کر اس کی سرکار ہلانے کی حرکتوں سے باز آنا ہوگا۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ ہندو یوا واہنی کی سب سے بڑی یو ایس پی اس کے لیڈر کا بے داغ کردار ہے۔ جو عام لوگوں کو کافی متاثر کرتاہے۔ آنے والے دنوں میں مذہبی پولرائزیشن کی سیاست جیسے جیسے پروان چڑھے گی، ہندو یوا واہنی کی مانگ بڑھے گی۔
بدعنوانی کے خلاف عام لوگ کے جذبات کا اندازہ کرتے ہوئے ہی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے واہنی کارکنوں کو یہ حکم دیا کہ وہ بد عنوان نوکر شاہوں کی اسٹنگ کریں۔ بد عنوانوں کے خلاف ثبوت اکٹھا کریں ۔اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایسا کہہ کر یوگی نے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد الگ تھلگ پڑے واہنی کارکنوں کو پھر سے سرگرم کرنے کا کام کیا۔ یوگی نے گورکھ ناتھ مندر کے تلک سبھا گار میں ہندو یوا واہنی کے ڈویژنل اور محکمہ جاتی عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی اور تیار کئے گئے منصوبوں کی انہیں ذمہ داری سونپی۔ یوگی نے واہنی کے کارکنوں سے یہ بھی کہا کہ ’گرام سوراج ابھیان ‘ کے تحت چلائی جارہی سبھی 15اسکیموں کے نفاذ پر وہ نظر رکھیں اور اس میں گڑ بڑی کرنے والے افسروں اور ملازموں کو نشان زد کریں۔ اگر کہیں لاپرواہی اور بدعنوانی نظر آئے تو خود مورچہ نہ کھولیں بلکہ فوراً سرکار کے نوٹس میں لائیں۔ ضرورت پڑے تو عہدیداروں کی بدعنوانی کی اسٹنگ بھی کریں اور ثبوت جمع کریں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہندو یوا واہنی کے عہدیداروں اور کارکنوںکو غریب بیٹیوں کی شادی کے لئے بھی آگے آنا چاہئے ۔
اس کے لئے جہاں بھی 11 جوڑے تیار ہو جائیں، وہاں فوراً ہی اجتماعی شادی کا انتظام کرایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے واہنی کے کارکنوں سے دلت بستیوں میں جانے، ان کے ساتھ کھانا کھانے اور انہیں مین اسٹریم مین لانے کی کوشش کرنے کی بھی ہدایت دی اور انہیں اس بات کے لئے بھی حوصلہ دیا کہ وہ اس پر نظر رکھیں کہ دلتوں کو سرکاری اسکیموں کا فائدہ پورے طور پر مل رہا ہے کہ نہیں۔ ہندو یوا واہنی کا سرگرام ہونا بے وجہ نہیں ہے۔ اب اچانک سرگرمی دکھنے لگی ہندو یوا واہنی گورکھپور ضمنی انتخاب میں کہیں نہیں دکھائی دیئے۔ اس کا مطلب بی جے پی اعلیٰ کمان کو سمجھ میں آگیا ہے۔دوسری طرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں محمد علی جناح کی تصویر ہٹانے کے معاملے میں ہندو یو اواہنی کے کود پڑنے کا بھی اپنا سیاسی مطلب ہے۔ اس مسئلے میں کودتے ہوئے ہندو یوا واہنی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 48 گھنٹے کے اندر جناح کی تصویر ہٹا لینے کا الٹی میٹم دے ڈالا۔ واہنی نے کہاکہ مقررہ وقت میں اگر جناح کی تصویر نہیں ہٹائی گئی تو واہنی کے کارکن جبراً اس تصویر کو وہاں سے ہٹا دیںگے۔ یونیورسٹی میں جناح کی تصویر کا مسئلہ اٹھایا بی جے پی رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم نے، لیکن اسے لے اڑی ہندو یوا واہنی ۔ اب واہنی کے نائب صدر آدتیہ پنڈت کہہ رہے ہیں کہ اے ایم یو سے جناح کی تصویر ہٹانے کے لئے انہوں نے قسم کھا رکھی ہے۔
آپ کیا یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہندو یوا واہنی کی یہ سرگرمی بے وجہ ہے؟ واہنی کا بڑھتا قد بھی بی جے پی میں یوگی کے لئے مشکلیں کھڑی کر رہا ہے۔ ہندو یوا واہنی پہلے پروانچل میں متحرک تھی لیکن دھیرے دھیرے یہ پوری ریاست میں مضبوط ہوتی گئی۔ یوگی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ہندو یوا واہنی کے ممبروں کی تعداد بے تحاشہ بڑھ گئی۔ نائب وزیر اعلیٰ کیشو موریہ کی ناراضگی کا بڑا سبب یہ بھی رہا ہے۔ موریہ یہ کہہ بھی چکے ہیں کہ باہریوں کے بڑھتے اثرات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ستم ظریفی یہی ہے کہ بی جے پی کو سماج وادی پارٹی یابہو جن سماج پارٹی باہری نہیں دکھتے۔
یوگی جب وزیر اعلیٰ چنے گئے تھے تب بھی بی جے پی کچھ لیڈروں نے ہندو یوا واہنی کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ تب یہ کہا گیا تھا کہ ہندو یوا واہنی سنگھ میں ضم ہو جائے گا۔ واہنی کے بڑھتے قد سے بے چین بھاجپائیوں نے واہنی پر غنڈہ گردی میں ملوث رہنے جیسے الزام لگانے شروع کر دیے ہیں۔ اس پر یوگی کو عوامی بیان دینا پڑا۔یوگی نے کہا کہ ہندو یوا واہنی کہیں بھی غنڈہ گردی نہیں کر رہی ہے۔ ایسا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔ یوگی نے کہا کہ اگر ہندو یوا واہنی کے کارکنوں کے ذریعہ غنڈہ گردی کئے جانے کے معاملے سامنے آتے ہیں تو ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔ لیکن غنڈہ گردی کی باتیں کہنا واہنی کے خلاف محض ایک غلط تشہیر ہے کیونکہ سماج میں واہنی کا وقار اس کے عہدیداروں اور کارکنوںکے منظم رہنے کے سبب ہے۔
ہندو یو اواہنی کے ایک سینئر عہدیدا نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے اب تک واہنی خاموش رہی، لیکن صورت حال پر نگرانی اور اس کے تجزیہ کا کام تو چل ہی رہا تھا۔ ہمارے لیڈر کے ساتھ بی جے پی جیسا رویہ کررہی ہے، ہم اسے بھی دیکھ رہے ہیں اور بی جے پی لیڈروں کے بیانوں اور ریمارکس پر نظر بھی رکھ رہے ہیں۔ ہم اپنے لیڈر کے احترام کو اول ترجیح دیتے ہیں۔ خود اعتمادی ہی ہندو یوا واہنی کا خون اور اس کا کلچر ہے۔ اترپردیش کا وزیر اعلیٰ بن کر یوگی آدتیہ ناتھ نے ہندو یوا واہنی کی طاقت پورے ملک اور دنیا کو دکھا دی ہے۔ ہم اب زیادہ موثر طاقت دکھانے کے لئے تیار ہیں۔ اب ہمارا دھیان اور ہدف 2019 کے لوک سبھا انتخابات ہیں۔ ہندو یوا واہنی کے مذکورہ لیڈر کا یہ ریمارکس سرکار چلانے کیلئے خود اعتمادی کا پیغام دینے اور سرکار ہلانے والوں کو سنبھل جانے کا انتباہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *