جب چندر شیکھر نے ذوالفقار ناصر کو پیش کرکے ہاشم پورہ معاملے کونیا رخ دیا

آج بہت کم لوگوںکویہ بات معلوم ہے کہ 31 سالہ ہاشم پورہ قتل عام کے چشم دید گواہ، پی اے سی کی گولیوں سے بھونے جانے کے بعد زندہ جاوید بچنے والے اور دہلی کی عدالت میں چل رہے متعلقہ مقدمہ کے اصل روح رواں ذوالفقار ناصر کو سب سے پہلے منظر نامہ پر لانے والے سابق وزیراعظم چندر شیکھر ہیں۔ ہاشم پورہ قتل عام کے وقت یہ جنتا پارٹی کے صدر تھے اور سید شہاب الدین جنرل سکریٹری۔ سید شہاب الدین ، ذوالفقار ناصر کو اپنے ایم پی فلیٹ 1، فیروز شاہ روڈ پر حفاظت کے نقطہ نظر اور علاج کی غرض سے مراد نگر سے لے آئے تھے۔ انھوں نے جب چندرشیکھر کو اس پورے سانحہ کی تفصیل بتائی تو وہ آبدیدہ ہوگئے اور پھر یکم جون کو جنتا پارٹی کے ہیڈ کوارٹر پر ایک ہنگامی اور غیر معمولی پریس کانفرنس بلائی اور اس میںان دنوں 17 سالہ ذوالفقار ناصر کو اخباری نمائندوں کے سامنے پیش کردیا۔
اس تاریخی پریس کانفرنس میںذوالفقار ناصر کی دردناک کہانی سن کر راقم الحروف سمیت تمام اخباری نمائندے ششدر رہ گئے۔ ان کی روداد سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ پی اے سی کے جوانوں نے اس گناہ عظیم کو انجام دیا ہے۔22 مئی کو جمعہ کی نماز کے بعد 42افراد کو میرٹھ کے گلمرگ سنیما کے سامنے ٹرک پر ہاشم پورہ محلے سے نکال کر دیگر افراد کے ساتھ گھٹنے ٹیکوایا گیا اور پھر انھیںٹرک میں سوار کراکے مراد نگر میں گنگ نہر کے پاس پل کے نزدیک ابو پوربستی کے شروع میں ایک ایک کرکے سب کو گولیوںسے مارکر پانی اور جھاڑی میں پھینکا جانے لگا۔ پھر جب ابو پور بستی کی طرف جارہی ایک گاڑی کی روشنی دکھائی دی تو باقی افراد کو ٹرک میں لے کر پی اے سی جوان غازی آباد میںہنڈن ندی کی طرف چلے گئے تاکہ باقی کام وہاں انجام دیا جاسکے ۔ اور پھر یہی کیا بھی گیا۔ دوسری طرف ذوالفقار ناصر کو گنگ نہر میںگولیوں سے مارے جانے کے کچھ دیر بعد جب ہوش آیا تب وہ رات کے اندھیرے میں قریب کے پل تک بچتے بچاتے خون سے لت پت پہنچے اور مقامی تھانہ کے پاس ایک پیشاب خانے میںپناہ لی۔ کئی گھنٹے کے بعد یہ کسی طرح وہاںکے مشہور حکیم ذاکر حسین کے بیٹے نوجوان طبیب خالد ہاشمی کے پاس آئے۔ انھوں نے اپنی فرسٹ ایڈ دی۔ اسی دوران راقم الحروف سے ان کی ملاقات ہوئی۔ پھر یہ سید شہاب الدین کے ربط میںآگئے اور بغرض علاج ان کے دہلی میںایم پی فلیٹ میںمنتقل ہوگئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

دراصل چندر شیکھر نے انھیں منظر عام پر لاکر ملکی سیاست میںتہلکہ پیدا کردیا تھا۔ ان دنوں حکومت ہند اور وزیر اعظم راجیو گاندھی پارلیمنٹ میں اعلانیہ کہہ رہے تھے کہ ہاشم پورہ والا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں ہے اور جو لوگ ایسی بات کہہ رہے ہیں وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور حکومت پر الزام لگا رہے ہیں۔ اس لحاظ سے چندر شیکھر کا یہ قدم بہت ہی حقیقت پسندانہ اور جرأت مندانہ تھا ۔ ہاشم پورہ سانحہ کو لے کر پورے ملک میں چہ میگوئیاں تو ہورہی تھیں مگر کوئی سیاسی پارٹی اس سلسلے میں بولنے کی ہمت نہیں کر رہی تھی۔ ویسے انفرادی طور پر بھارتیہ لوک دل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سبرامنین سوامی اور نائب صدر محمد یونس سلیم نے راقم الحروف کے ساتھ جائے وقوع پر جاکر اس معاملے میںبہت دلچسپی لی تھی اوردہلی کے مقامی ہفتہ وار ’ریڈئینس‘ کو انٹرویوز دیے تھے مگر کسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے چندر شیکھر کا یہ پہلا جرأت مندانہ کارنامہ تھا۔ اس نے ارباب اقتدار کوبے چین کرکے رکھ دیا جس کے نتیجے میںدوسرے روز میرٹھ میں اس وقت کے مقامی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آر ایس کوشک نے ایک خصوصی پریس کانفرنس میں چندر شیکھر کے بیان کو نکارتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’’ذوالفقار ناصر ہاشم پورہ میرٹھ کا باشندہ نہیں ہے، لہٰذا چندر شیکھر کا الزام بالکل غلط ہے اور ایسا کوئی واقعہ یہاں ہوا ہی نہیںہے۔‘‘ تب راقم الحروف نے میرٹھ کینٹ کے سینٹ جوزف انٹر کالج کے ذوالفقار ناصر کی پروگریس رپورٹ کی کاپی انھیں ہوا میں لہرا کر دکھائی جس میںان کا پتہ وغیرہ لکھا ہوا تھا۔ عیاںرہے کہ ذوالفقار ناصر ہاشم پورہ محلے کے بزرگ عبدالباری کے پوتے اور عبدالجبار کے بیٹے تھے اور مذکورہ انٹر کالج سے دسویں کا امتحان دیاتھااور رزلٹ کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ ہاشم پورہ میںباغیچہ محمد حسین گلی میںواقع مکان نمبر 37 کے باشندہ تھے۔ اس وقت ان تفصیلات کو دیکھ کر میرٹھ کے ڈی ایم لاجواب ہوگئے تھے۔
دراصل کوشک نے چندر شیکھر کے بیان کو جھوٹا اور گمراہ کن بتایا تھا جبکہ حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ آج 31 برس بعد جب پولیس ڈائری مل گئی ہے جس میںتمام پی اے سی جوانوںکے نام درج ہیں تو چندر شیکھر بے ساختہ یاد آتے ہیں جنھوں نے ہاشم پورہ قتل عام کے سچ کو پریس کانفرنس میں اس کے چشم دید گواہ اور متاثر کے ذریعے لاکر اس غیر انسانی اور بربر واقعہ کو بے نقاب کیا تھا۔
آج ذوالفقار ناصر 48 برس کے ہوچکے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ یہ اس سانحہ کے وقت محض 17 برس کے تھے اور انھیںداڑھی بھی ٹھیک سے نہیںنکلی تھی جبکہ یہ اب لمبی کالی داڑھی والے ہیں۔ دہلی کی عدالت میںان کی عرضی کے دوبارہ دیے جانے سے یہ مقدمہ پھر سے کھل گیا ہے اور توقع ہے کہ پولیس ڈائری کے گمشدہ باب کے مل جانے سے پورا مقدمہ یوٹرن لے لے گا۔ چند ر شیکھرجی کو ذوالفقار ناصر یاد کرتے ہوئے تھکتے نہیںہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ہی کی بدولت یہ معاملہ منظر عام پر آیا اور پھر بعد میں اس نے مقدمہ کی شکل اختیار کی۔ ـٓٓٓٓ

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *