تشدد کشمیر کے لئے اب ایک نیو نارمل ہے

6 مئی کو کشمیر کے لئے یہ ایک اور خونی اتوار تھا۔اس دن 10 نوجوان کشمیری، جس میں پانچ ملی ٹینٹ تھے، مارے گئے۔ مرنے والوں کی لسٹ اور لمبی ہو گئی۔کشمیر کے لئے یہ نیو نارمل ( عمومی ) ہے۔ یہ یکم اپریل کی تکرار کی طرح تھا ،جس دن 17لوگ مارے گئے تھے۔ اتوار کا سانحہ وادی کی تنائو سے بھری صورت حال کو بتاتا ہے۔ایک دن پہلے ، 8 لوگوں کو بے رحمی سے مارا گیا تھا۔ کچھ نامعلوم بندوق برداروں نے یہ کام کیا۔ کسی نے اس کی ذمہ داری نہیں لی تھی۔ حالانکہ سبھی نے اس سانحہ کی مذمت کی۔ کشمیر نے اس طرح کے تشدد پہلے نہیں دیکھا ہے، جب ملی ٹینٹ کے خلاف فوج کی کارروائی کے دوران شہریوں کو لائن آف فائر (گولی باری کے بیچ ) میں رکھ دیا جاتا ہے۔ بالاخر جو بھی مارے جاتے ہیں ۔2008,2010 اور 2016 کی تباہی کے باوجود جب گولیاں پتھروں کا جواب بن گئیں، تقریبا 300 لوگ مارے گئے،ہزاروں زخمی ہوئے اور سینکڑوں اندھے ہوئے۔ تشدد کے اس نئے سائے نے ایک اندھیرے مستقبل کی تعمیر کردی ۔
پریشان کرنے والی بات یہ ہے کہ شہری آبادی کے بیچ اس کے شکار زیادہ تر نوجوان ہیں۔ یہ نوجوان دہشت گردوں کے خلاف سرکاری کارروائی کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب فوج، نیم فوجی دستہ اور پولیس دہشت گرد کی تلاش کرنے کے لئے ایک علاقے کی گھیرا بندی کرتے ہیں تو شہریوں کی مزاحمت ہوتی ہے اور آخر میں دہشت گرد اور شہری مارے جاتے ہیں۔ ایک معاملے میں پچھلے مہینے کلگام میں، شہریوں نے دہشت گردوں کو بچاتے ہوئے مرنا پسند کیا۔ تین دہشت گردوں کو بھاگنے کے دوران چار شہریوں نے اپنی جان گنوا دی۔یہ سبھی شہری دہشت گرد نہیں ہیں،پھر بھی سرکار اس علاقے میں نارمل حالات بحال کرنے کے لئے ان قتلوں کو جائز ٹھہراتی ہے۔ اتوار کے سانحات نے وادی میں مایوسی پیدا کردی ہے۔
کون ان نوجوانوںکو یہ قیمت چکانے کے لئے مجبور کررہا ہے اور کیوں؟اس سوال کا جواب چاہئے۔ سرکار کو جواب دینا چاہئے کہ یہ قتل کیسے ہو رہے ہیں۔ یہ کشمیری مایوسی کو ختم کرنے میں موجود کوششوں کی ناکامی ہے۔ ساتھ ہی کشمیری سماج کو یہ بتانا چاہئے کہ کیوں نوجوان جو بندوق نہیں پکڑ رہے ہیں، اخیر میں تشدد میں پستے ہیں۔کیا کوئی متبادل نہیں ہے؟
سڑکوں پر بکھرا ہوا خون ہندوستانی حکومت کے خلاف احتجاج کے لئے اکسانے والا ہو سکتاہے لیکن ہم اسے کب تک برداشت کرسکتے ہیں اور وہ بھی بغیر کسی مناسب سمت کے ؟ جوائنٹ ریسسٹنٹ لیڈر شپ ( جے آر ایل ) لیڈروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتجاج کو ایسی سمت میں لے جائیں جہاں تشدد نہ ہو ۔ وہ یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے نہیں مکر سکتے کہ صرف ہندوستانی سرکار ہی اس کے لئے ذمہ دار ہے۔دہلی میں پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ ان کے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ کشمیر پر موجودہ رخ سے بی جے پی کو 2019 کے عام انتخابات میں مدد ہی ملے گی۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بی جے پی کو اپنا ہدف حاصل کرنے میں مدد کررہے ہیں؟

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کشمیر میں آج کا نیا ریسسٹنٹ نوجوانوں سے حوصلہ پاتا ہے اور شاید حریت لیڈروں کے ذریعہ مشاورت نہیں ہوتی۔ریاست کے خلاف ان کا غصہ ایسی جگہ پہنچ گیا ہے جہاں قتلوں کا چکر شروع ہو گیاہے لیکن یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کیا تشدد اکلوتا اور آخری حل ہے؟
سب سے تشویشناک ہے کشمیر یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع کا حادثہ۔ رفیع پہلے سے دہشت گرد نہیں تھے اور شاید کچھ دن پہلے ہی ملی ٹینٹ گروپ میں شامل ہوئے تھے۔ وہ اچھی تعلیم والے پہلے ایسے نوجوان آدمی نہیں ہیں جنہوں نے سیاسی دلیل کے مقابلے بندوق چنا ہے۔ ایسے کئی ڈگری ہولڈر ہے جو ملی ٹینٹ رینک میں شامل ہوئے ہیں۔ رفیع کے پاس ایک باوقار نوکری تھی اور انہوں نے پھر بھی اس راستے کو چنا۔ ڈاکٹر رفیع کے ملی ٹینٹ میں شامل ہونے سے وہ دلیل بھی جھوٹی ثابت ہوتی ہے جس کے ذریعہ یہ کہا جاتاہے کہ کشمیر کا مسئلہ بے روزگاری کی وجہ سے ہے۔
حالانکہ ملی ٹینٹ تقرری سینٹروں کے باہر لمبی قطار دیکھی جاسکتی ہے۔یہ بتاتا ہے کہ کشمیر کو سیاسی ایشو ماننے سے انکار کرنا اور مخالفین کی آواز کو سیاسی جگہ نہ دینا ہی نوجوان لڑکوں کو تشدد میں دھکیل رہا ہے۔ ہندوستانی سرکار کی نوکریوں ، کھیل کی سرگرمیوں اور دیگر ذرائع سے کشمیری نوجوانوں تک پہنچنے کی قواعد ناکام رہے ہیں۔ ماضی میں ہزاروں نوکریاں پید اکی گئیں، بنیادی ڈھانچے کی تشکیل ہوئی، سڑکیں بنیں، لیکن اس کا سیاسی حقیقت پر بہت کم اثر پڑا۔ دراصل پچھلے چار سالوں میں کشمیرمیں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے، جس میں ہندوستان مخالف جذبے ہندوستان کے تئیں نفرت میں بدل گئی ہے۔یہی چیز تعلیم یافتہ نوجوانوں کو دہشت گردی کے قریب کھینچ رہی ہے۔ دہشت گردوں کی سیکورٹی کے لئے نوجوانوں کا آگے آنا تشدد کے لئے سماجی منظوری کو دکھاتا ہے۔
آ ج کشمیری اس تشدد پر دھیان دینے کے لئے عالمی برادری کی طرف دیکھتے ہیں۔ یہ دھیان رکھنا اہم ہے کہ تشدد سیاسی لڑائی کو ختم کرنے کے لئے صحیح راستہ نہیں ہے۔ دہلی کے ذریعہ ایک سیاسی تنازع کی شکل میں جموں و کشمیر کو دیکھے جانے سے انکار کرنا ہی تشدد کی ایک نئی تشریح کو کھولتا ہے، جسے 1990 کی دہائی کے وسط میں کشمیریوں نے بہت پہلے چھوڑ دیا تھا۔
اس پیٹرن کو بدلنے کا کام اکیلے دہلی پر ہے، حالانکہ اس میں دیگر کا بھی کردار ہے ۔ آج کے حالات پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی اور بی جے پی کے بیچ گٹھ بندھن پر پھر سے تشریح کی بھی مانگ کرتی ہے۔ بی جے پی نے لگاتار لوگوں کو اکسایا ہے اور سیاسی حقائق کو مسترد کرنے کی کوشش کی ہے۔ آج چیلنج ہے کہ اس شیطانی دائرے کو ختم کیا جائے اور لوگوں کو بچایا جائے۔ ساتھ ہی انہیں انصاف بھی فراہم کرایا جائے۔ اسپانسر اصولوں کے ساتھ دہلی خود کو بے قصور نہیں ثابت کرسکتی۔ اسے ذمہ داری لینی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *