وجئے دیوس بابو کنور سنگھ پر بھی سیاست ہورہی ہے

سیاست اور سیاستداں کے لیے کوئی بھی موقع ووٹ کی سیاست سے الگ نہیں ہوتا۔ وہ عوامی طور پر ایسا کچھ بھی نہیںکرتے، جس سے ان کے مفاد میںووٹ کی گول بندی میں کوئی پریشانی ہو۔اس ووٹ کی سیاست نے ووٹروں کو کاسٹ اور سب کاسٹ کے کنبوں میںتو تقسیم کیا ہی ہے، ہمارے جدوجہد آزادی کے ہیروکو بھی ذات برادری کی پہچان دینے کی کھلی کوششکی ہے۔ بدقسمتی سے وہ اس میں کامیاب بھی ہوتے رہے ہیں۔ پچھلی کئی دہائیوں سے بہار سمیت ہندی پٹی کی سیاست میںیہ رجحان خوب پھل پھول رہا ہے۔ بابو کنور سنگھ کا بھی ایسا ہی استعمال ڈھائی دہائی پہلے بہار کے کچھ سیاستدانوں نے شروع کیا تو اب وہ آل پارٹی ہوگیا۔ اس سال 23 اپریل کو بابو کنور سنگھ کا 160 واں’ وجئے دیوس‘ تھا اور اس موقع کو بہار سرکار ہی نے نہیں، سیاسی پارٹیوں نے بھی خوب تام جھام سے منایا۔ فیسٹول کا سلسلہ ایسا رہا کہ’ وجئے اتسو‘کے سارے ریکارڈ دھندلے پڑگئے۔
یہ مشن 2019 کا حصہ ہے
وجے اتسو کے موقع پر بہار سرکار کی طرف سے پٹنہ سے لے کر جگدیش پور تک تین دنوں کی تقریب کی گئی ۔ جگدیش پور کے اسٹیٹ فیسٹول کے پروگرام اپنی ڈائیورسٹی کو لے کر بے مثال رہے۔ اس تقریب کے اہم ہیرو جیساکہ ہر موقع پر ہوتا ہے وزیر اعظم نتیش کمار رہے۔ ان کی دیکھ ریکھ میں ہی سارا کچھ ہواتو کریڈٹ بھی ان کے کھاتے میںہی جانا تھا، گیا۔ پھر این ڈی اے کے دیگر اتحادی کیسے خاموش رہتے۔ لہٰذا بی جے پی نے بھی اپنی طرف سے پروگرام کئے۔ پروگرام میںمرکزی وزیر راجناتھ سنگھ خود موجود رہے۔ بی جے پی کے کچھ لیڈروں نے بھی اپنے تئیں پروگرام کیے۔ پھر بہار این ڈی اے کی تیسری اتحادی ایل جے پی نے بھی لگے ہاتھ تقریب کرکے موقع کافائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی۔ سپریمو لالو پرساد (جنھوں نے اپنے وزیر اعلیٰ کی مدت کار میںاسٹیٹ لیول پر ’وجئے اتسو‘منانے کی کوشش کی تھی) کی غیر موجودگی میںآر جے ڈی نے بھی اس کا انعقاد کیا۔ لب لباب یہ ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی پیچھے نہیں رہنا چاہتی تھی اور رہی بھی نہیں۔ اس سے قبل وجئے اتسو‘ کبھی اتنے بڑے پیمانے پر نہیں منایا گیاتھا۔ یہ اتفاق نہیں ہے۔ یہ مشن 2019 کا حصہ ہے۔ کہیںپر نگاہیں کہیں پر نشانہ۔ اس مہم میں بہار کی اقتداری سیاست کے دونوں دھڑے این ڈی اے اور اپوزیشن مہا گٹھ بندھن لگے رہے۔ تو کیا کنور سنگھ کے بہانے اعلیٰ ذات کے بہاری ووٹر کے خاص جارح گروپ کو متوجہ کرکے اپنے ساتھ گول بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟لگتا تو کچھ ایسا ہی ہے۔ بہار کی سیاست میںحالیہ دنوں میںکچھ خاص بدلاؤ دکھائی دینے لگے ہیں۔ گزشتہ صدی کی آخری سہ ماہی میںسیاست کی سماجی حصہ داری اور سروکار میںتبدیلی آئی لیکن 1990میں منڈل کمیشن کی سفارشوں کو لاگو کرنے کے وی پی سنگھ کے فیصلے نے اس کی پوری سماجی شکل کو بدل دیا۔ ہندی پٹی کی دیگر ریاستوں کی طرح بہار میںسیاست پچھڑا واد کے ساتھ چلنے لگی اور شروعاتی سالوں میںلالو پرساد غیر متبادل ہیرو ہوگئے۔ اس دور یعنی منڈل کمیشن کی سفارش لاگو ہونے کے ساتھ بنے پرجوش پچھڑا ابھار میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر سبھی سیاسی پارٹیوںکی پوری مہم پسماندہ پر مرکوز ہوتی رہی ہے۔ یہ سیاسی صورت حال اب بھی بنی ہے۔ آر جے ڈی اور جے ڈی یو کی سیاست میںیہ عنصر راست طور پر ہے تو کانگریس اور بی جے پی میں بالواسطہ طور پر ۔ لیکن یہ دونوں پارٹیاں بھی اپنی مہم کو ان اقدام سے الگ رکھتی ہیں جو ریاست کے پچھڑے سماجی گروپوںکو تھوڑا بھی مجروح کرے۔ پچھلی صدی کی آخری دہائی میںبہار میںنسلی تقریبات کا خوب بول بالا رہا۔ راجدھانی پٹنہ سے لے کر دور دراز کے گرامانچل تک ایسی تقریب ہوتی تھیں اور اس میںاس دور کا جنتا دل (اس میںتقسیم کے بعد آر جے ڈی) کے لیڈر حصہ لیتے، لالو پرساد کی طرف سے یقین دہانی کی جھڑی لگاتے۔ یہ کام لالو پرساد ہی نہیںکرتے ، کم و بیش زیادہ تر سیاسی پارٹیوںکی فکر میںایسے پروگرام میںتھے۔ ایسے میں دلتوںکی فکر تو کم ہوتی ہی گئی ، اعلیٰ ذات کے ووٹر گروپوںکی فکر (سروکار) بھی ریاستی سیاست کی آئیڈیالوجی سے باہر چلی گئی۔ دلتوں کو بھگوان بھروسے چھوڑنے کا رجحان سیاسی پارٹیوں کا کردار بنتا چلا گیا۔ پچھڑے طبقے کی سیاست میںبھی کچھ خاص و دبنگ سیاسی گروپوں کا غلبہ لگاتار بڑھتا چلا گیاجبکہ انتہائی پسماندہ گر وپوںکی بے اعتنائی میںاضافہ ہوتا چلا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

فیصلے کا سیاسی فائدہ
بہار میںاین ڈی اے 1- کی سرکار کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس سیاست کے سبب زمین کے نیچے لہک رہی آگ کی حرارت کو محسوس کیااور پکتی ہوئی زمین پر پانی کے چھینٹے ڈال کر اسے اپنے لیے کام کے لائق بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ انھوںنے پچھڑے طبقے اور دلت کی سیاست میںبدلاؤ کرکے اپنا ووٹ بینک تیار کرنے کی کوشش کی۔ نتیش کمار نے دو کام کیے۔ پہلا، پچھڑے طبقے کے سیاسی اور حکومتی فائدوںکو انتہائی پسماندہ سماجی گروپوںتک پہنچانے کے لیے ان کے لیے الگ سے ریزرویشن کے اندر ریزرویشن کا بندو بست کیا۔ اس کے ساتھ ہی دلتوں کے چار سماجی گروپوںسے باقی دلتوںکو مہا دلت کا زمرہ تیار کیا۔ ان کے لیے بھی کئی کام کیے۔ ریزرویشن کے اندر ریزرویشن کا انتظام کیا۔حالانکہ سیاسی سہولت کے سبب اب سبھی دلت مہا دلت ہوگئے ہیں۔ دوسرا، خواتین کے لیے پچاس فیصد کے ریزرویشن کا فائدہ ان سماجی گروپوں کی ان خواتین کو بھی دیا گیا۔ این ڈی اے 1- کے یہ فیصلے تو سرکار کے تھے لیکن سیاسی فائدہ نتیش کمار اٹھا لے گئے۔ ایسے فیصلوںکا کوئی سیاسی فائدہ حاصل کرنے میںسیاسی پارٹی کے طور پر بی جے پی ناکام رہی۔ یہ انتخابات میں صاف ہوتا چلاگیا۔ بی جے پی کا اصل سماجی حامی گروپ اعلیٰ جاتیاں ہی رہیں۔ حالانکہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میںمودی لہر میںنتیش کمار کی یہ سیاست مات کھاگئی۔ اسی طرح 2015 کے اسمبلی انتخابات میںیہ واضح ہوگیا کہ این ڈی اے 1-کے دوران انتہائی پسماندوں اور مہا دلتوں کے امپاورمنٹ کو لے کر سرکار کے فیصلے کا سیاسی فائدہ نتیش کمار ہی کو ملا، بی جے پی کے ہاتھ کچھ نہیں لگا۔ پھر بھی غیر اعلانیہ طور پر وہ پچھڑاواد کی سیاست کو ہی آگے بڑھاتی رہی۔ ریاست میںمختلف انتخابات کے لیے امیدواروں کے انتخاب میںاس کا یہ رجحان واضح ہوتا رہاہے۔ پچھلے کئی سالوں سے ریاست کی اعلیٰ ذات کے سماجی گروپوںمیں اسے لے کر عدم اطمینان تھا۔ یہ بے اطمینانی اندرونی تقریبات میںظاہر تو ہوتا تھا لیکن پبلک فورم پر اس کی چرچا سے لوگ پرہیز کرتے تھے۔ یہ کہنا تو پوری طرح صحیح نہ ہوگا کہ حالیہ کچھ واقعات نے سیاست میںایسے بدلاؤ کے اشارے دیے ہیں لیکن اس نے پارٹیوںکے کان ضرور کھڑے کردیے ہیں۔مختلف باہمی مخالف پارٹیوںکو اس مورچہ پر سرگرم کر دیا ہے۔ پرجوش اور جارح اگڑا مخالف کے طور پر نشان زد آر جے ڈی نے راجیہ سبھا کی امیدواری منوج جھا کو دے دی۔ مہا گٹھ بندھن کی دوسری بڑی پارٹی کانگریس نے راجیہ سبھا کے لیے اکھلیش پرساد سنگھ کو امیدواری دی۔ اسی پارٹی نے ودھان پریشد میںپریم چندر مشرا کو بھیجا۔ حالانکہ جے ڈی یو نے راجیہ سبھا کے لیے وششٹھ نارائن سنگھ اور مہندر پرساد (کنگ مہندر) کو امیدواری دی۔ جارح اکھلیش کے سامنے کنگ مہندر کی اپنے سماجی گروپ (بھومی ہار) میںکیا سیاسی وقعت ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیںہے۔ اسی طرح وششٹھ نارائن سنگھ راجپوت کمیونٹی میںبڑے ہی محترم ہیں لیکن سماج کی قیادت ا ن کے پاس نہیںہے۔ ان کی شبیہ جارح سماجی لیڈر کی نہیںہے۔ جے ڈی یو میںایسے کسی لیڈر کا فقدان ہے اور اگر ایسے لیڈر ہیں تو قیادت کو وہ راس نہیںآرہے ہیں۔ اس لحاظ سے آر جے ڈی آگے ہے۔ اسی طرح میتھلی برہمن کا آر جے ڈی کوٹے سے راجیہ سبھا جانا بھی سیاسی طور پر کافی اہم مانا گیا۔ پریم چند مشر کی امیدواری کو بھی مثبت ہوکر میتھلی برہمن سماج میںلیا گیا۔ ان انتخابوں کا سیاسی فائدہ مہا گٹھ بندھن کو کیا ملے گا، یہ کہنا مشکل ہے۔ ملے گا بھی نہیں، یہ بھی نہیںکہا جاسکتاہے۔ اس نے ریاست کی سیاست کے سماجی ڈھانچے میںبحث کا نیا پہلو تو دیا ہی ہے۔ مہا گٹھ بندھن بھی اعلیٰ ذات کے سماجی گروپوں کے بارے میںسوچ سکتا ہے۔ لگتا ہے، اس نے این ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں میںکچھ حد تک گھنٹی بجائی ہے۔ بابو کنور سنگھ کے’وجے دیوس‘ کو ہی واحد مثال نہ مانا جائے، جس آناً فاناً میںسینئر آئی اے ایس ششر سنہا کو رضاکارانہ ریٹائرمنٹ دے کر بہار پبلک سروس کمیشن کا چیئرمین بنایا جارہا ہے،وہ بھی کانگریس کے قدم کو بے اثر کرنے کی کوشش ہے۔ ششر سنہا اور اکھیلش پرساد ایک ہی سماجی گروپ سے آتے ہیں۔ قومی سطح پر قیادتی طاقت ہونے کے باوجود ریاست میںاین ڈی اے کی حیثیت چھوٹے بھائی کی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ اعلیٰ ذات کے مختلف سماجی گروپوںکی اب تک پہلی پسند بی جے پی ہی ہے۔ لیکن بی جے پی میںاعلیٰ ذات کو لے کر یہ سماجی کشش سب سے کم دکھائی دے رہی ہے۔ حالانکہ بابو کنور سنگھ کا ’وجیوتسو‘ اس نے بھی دھوم دھام سے منایالیکن اس کے علاوہ اس کی کوئی سیاسی سرگرمی نہیںدکھائی دے رہی ہے۔ لیکن یہ مان لینا بھول ہوگی کہ پارٹی کے اسٹریٹجسٹ کوئی پروگرام تیار نہیںکررہے ہیں۔ ویسے یہ صحیح ہے کہ وہ فی الحال دلت کمیونٹی کو لے کر زیادہ فکرمند ہے اور اس مسئلے پراپنے کچھ ساتھیوںکے بلیک میل کو بھی جھیل رہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

خصوصی ریاست کا درجہ کب تک؟
بہار میںمشن 2019کو لے کر سیاسی پارٹیوں کی عام تیاری یہیںآکر سمٹ گئی ہے ۔ ذات برادری کی جگت بھڑانے کی اس سیاسی بھیڑ چال میںریاست کے عام مسائل کھوتے جارہے ہیں۔ یہ پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ این ڈی اے کا مدعا’ کانگریس مکت بھارت‘ کے ساتھ ساتھ’ لالو مکت بہار ‘سے الگ بھی کچھ ہونے جارہا ہے۔ بہار کے خصوصی ریاست کے درجہ پر لگاتار آندولن کا دعویٰ کرنے والے نتیش کمار اور ان کے جے ڈی یو سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ یہ آندولن کس بھیڑ کا حصہ بن کر وعدوں دعووں کے جنگل میں کھوگیا۔ یہ سوال بھی بنتا ہے کہ اس مسئلے پر مرکز کی بے رخی کی ان کے پاس کیا کاٹ ہے۔ بی جے پی سے یہ سوال تو بنتا ہی ہے کہ بہار کو اعلان شدہ 1.65 لاکھ کروڑ وپے سے زیادہ کے خصوصی پیکیج میںاب تک کتنا ملا اور کیا سب کام ہوا؟ بہار کو جنگل راج کا تمغہ دینے والی اس پارٹی سے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ اس کے اقتدار میںبیٹھے رہنے کے باوجود یہاں جرائم کا گراف کیسے بڑھتا جارہا ہے؟ سوال تو آر جے ڈی سے بھی ویسے ہی ہیں۔ آخر وہ کن مدعوںکو لے کر بہار کے ووٹروں سے روبروہوگا۔ اس کے پاس لالو پرساد کو سزا و مسلم – یادو (اور اب دلت) ایکوئیشن کے علاوہ بھی کچھ ہے یا نہیں؟ لیکن ابھی کچھ انتظار کیجئے، پھر ذات برادری کی ایکوئیشن کو درکنار کرکے سلگتے سوالوںکا پٹارہ کھلے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *