اے ایم یو میں نینو ٹکنالوجی سنٹر آف ایکسیلنس کا وائس چانسلر نے افتتاح کیا

Prof-Tariq-Mansor
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے یونیورسٹی کے انٹرڈسپلنری نینوٹکنالوجی سنٹر (آئی این سی) میں ’سنٹر آف ایکسیلنس آن ٹرانسلیشنل ریسرچ آن بایو انسپائرڈ نینو میٹیریلس اینڈ ڈرگس فرام اِنڈوفائٹس‘ کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے ڈین پروفیسر بی ایچ خاں، آئی این سی کے بانی ڈائرکٹر پروفیسر ابصار احمد اور دیگر معززین موجود تھے۔ پروفیسر طارق منصور نے افتتاحی تقریر میں کہاکہ گرچہ کہ نینو ٹکنالوجی حالیہ برسوں میں وجود میں آنے والی سائنس ہے اور اے ایم یو میں انٹرڈسپلنری نینوٹکنالوجی سنٹرکا قیام حال ہی میں ہوا ہے، ان کا یقین ہے کہ نینو ٹکنالوجی پر بھرپور توجہ دینے سے اے ایم یو کی شان میں مزید اضافہ ہوگا اور اسے شہرت ملے گی۔ انھوں نے سنٹر آف ایکسیلنس کی گرانٹ کے لئے پروفیسر ابصار احمد کی ستائش کرتے ہوئے اساتذہ اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔
وائس چانسلر نے آئی این سی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے یونیورسٹی کی دیگر فیکلٹیوں اور شعبوں سے درخواست کی کہ وہ نئی ابھرنے والی سائنس نینوٹکنالوجی کے ساتھ علمی اشتراک کے امکانات تلاش کریں۔ انھوں نے کہاکہ سبھی اچھی چیزوں کے پروان چڑھنے اور چمکنے میں وقت لگتا ہے اور انھیں اس بات پر فخر ہے کہ اپنے قیام کے پہلے سال ہی آئی این سی کو مذکورہ گرانٹ مل گئی، نیشنل بورڈ آف ایکریڈٹیشن نے ایم ٹیک نینوٹکنالوجی کورس کی توثیق کی اور نینو ٹکنالوجی میں پی ایچ ڈی اور دیگر ریسرچ سرگرمیوں کی شروعات ہوگئی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں   کناڈا میں ہندستانی ریسٹورینٹ میں دھماکہ ،18 افرادزخمی

 

قابل ذکر ہے کہ وزارت سائنس و ٹکنالوجی ، حکومت ہند کے بایو ٹکنالوجی محکمہ نے آئی این سی کے ڈائرکٹر پروفیسر ابصار احمد کو مذکورہ سنٹر آف ایکسیلنس کے پانچ سالہ پروجیکٹ کے لئے 4؍کروڑ روپئے دئے ہیں ۔ اس کے تحت انٹرڈسپلنری نینوٹکنالوجی سنٹر ایک نوڈل لیب کے طور پر کام کرے گاجہاں بایو اِنسپائرڈ نینو میٹیریلس کا ماس فیبریکیشن اور دیگر کام کئے جائیں گے اور سنٹر کے شریک کار نیشنل کیمیکل لیباریٹری ، پونے اور ایس جی پی جی آئی ،لکھنؤ خاص طور سے ذیابیطس، ملیریا، امیجنگ، ڈائیگنوسِس اور ڈرگ ڈلیوری میں ان کے استعمال کے امکان کا مطالعہ کریں گے۔ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے سنٹر کافیتہ کاٹنے کے بعد سبھی لیب ، کلاس رومس اور لان کا معائنہ کیا جہاں نینو ٹکنالوجی سنٹر آف ایکسیلنس کا’کلین روم‘قائم کیا جائے گا۔
پروفیسر ابصار احمد نے اپنے استقبالیہ خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کا اس بات کے لئے شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے انٹرڈسپلنری نینوٹکنالوجی سنٹرکو بھرپور تعاون دیا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ وائس چانسلر کی فعال قیادت میں بنیادی ڈھانچہ بہتر ہوا ہے، صنعتوں سے اشتراک کیا گیا ہے اور ڈی بی ٹی، ڈی ایس ٹی، یوجی سی اور دیگر فنڈنگ ایجنسیوں سے خطیر ریسرچ گرانٹس حاصل ہوئی ہیں۔ پروفیسر ابصار نے کہا کہ سنٹر آف ایکسیلنس کا قیام ہمارے لئے فخرو مسرت کی بات ہے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جدید علم و تحقیق کے شعبوں کے قیام کے تعلق سے سرسید احمد خاں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس پروجیکٹ کی مدت میں تربیت یافتہ مین پاور کی ٹیم تیار ہوگی، پیٹنٹ حاصل کیا جائے گا اور اس کے کامرشیل فوائد بھی ہوں گے۔
پروفیسر بی ایچ خاں نے اپنے خطاب میں کہاکہ سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے ایک بار کہا تھا کہ ہمارا مستقبل نینو ٹکنالوجی میں ہے۔ ماضی قریب میں اس کا تصور مشکل تھا مگر بارہ سالوں کے بعد یہ ایک ناقابل انکار حقیقت بن چکا ہے۔ انھوں نے کہاکہ آج ساری اختراعات کی توجہ کا مرکز نینو کانسیپٹ ہیں۔ انھوں نے پروفیسر ابصار احمد کی علمی کاوشوں کو بھی سراہا ۔ افتتاحی تقریب کی نظامت کے فرائض ریسرچ اسکالر سیمیں مطلوب نے انجام دئے۔آخر میں سمیرہ نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کے انعقاد میں ایم ٹیک، ایڈوانسڈ پی جی ڈپلوما اور پی ایچ ڈی کے طلبہ نے تعاون کیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *